Ramaad Al Hubb by Sara Shah readelle50009 Episode 23
Rate this Novel
Episode 23
دس سالوں کی اذیت گویا پھر جاگ اٹھی تھی۔۔۔وہ ناسور جس پر بڑی مشکل سے کھرنڈ آ سکا تھا پھر سے ہرا ہو گیا تھا۔۔۔۔اور اسکی اذیت اب اسکا دل لہولہان کر رہی تھی۔۔۔۔۔
اپنے باپ کو اسنے اپنی آنکھوں کے سامنے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔۔۔۔وہ وقت جب اسے اپنے بابا کی انگلی تھام کر دنیا دیکھنی تھی تب وہ اسے تنہا چھوڑ کر ایسے سفر پر روانہ ہو گئے تھے جہاں سے واپسی ناممکن تھی۔۔۔۔۔۔۔
دل میں پنپتی بدگمانی کو زبان لوگوں کی زبانوں نے دی تھی۔۔۔۔وہ یہ بات بھول بھی جاتا اگر اسے بھولنے دیا جاتا۔۔۔۔ہر کسی کی زبان پر یہی تھا کہ عصرہ بیگم ابراہیم صاحب کی موت کا انتظار کر رہیں تھیں تاکہ وہ رجب سے شادی کر سکتیں۔۔۔۔ایسے وقت میں وہ تنہا راتوں کو رو کر اپنے باپ کو یاد کرتا تھا۔۔۔تبھی گزرتے وقت کے ساتھ وہ بےحس ہوتا چلا گیا۔۔۔بچپن کا وہ حساس ذوالنون کہیں وقت کی گرد میں گم ہو گیا ۔۔اور باہر نکلا اسامہ ابراہیم۔۔۔۔
جو سب کچھ تباہ کرنا جانتا تھا۔۔۔جس میں ضبط نام کی چیز نہیں تھی۔۔۔۔۔جو صرف اجاڑنا جانتا تھا۔۔۔۔
انسان وہی کرتا ہے جو اسکے اندر ہوتا ہے۔۔۔بلکل جیسے ذوالنون اسامہ اجڑا کھنڈر تھا ویسے ہی اسنے زرنین ریحان کو اجاڑ دیا۔۔۔۔۔
لیکن اب دل کسک سی محسوس کرتا اسے مضطرب کر رہا تھا۔۔۔۔بجائے مطمئن ہونے کے وہ بے چین تھا۔۔۔تبھی تو سرخ انگارہ ہوتی آنکھوں سے وہ سامنے وال پر لگی اپنی اور ابراہیم صاحب کی تصویر کو دیکھتا سیگریٹ پر سیگریٹ پھونک رہا تھا۔۔۔۔۔
اسی بے چینی کی وجہ سے وہ آج آتش فشاں کی طرح پھٹا تھا۔۔۔سالوں کا غبار تھا جو نکلا تھا۔۔۔۔۔برسوں کی پھانس تھی جو نکلی تھی۔۔۔جس نے اس سمیت رجب اور عصرہ بیگم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔لیکن اب جو پھانس اسکے سینے میں پھنسی تھی وہ اسکیسانسیں روک رہی تھی۔۔۔۔سیاہ آنکھوں میں غضب کی سرخیاں تھیں۔۔۔۔اذیت ایک ہی تھی جو وہ تینوں اس وقت محسوس کر رہے تھے۔۔۔۔۔
” ڈیم اٹ!! جسٹ فارگیٹ اٹ اسامہ۔۔۔وہ یہی ڈیزرو کرتی تھی۔۔۔جسٹ رلیکس۔۔۔۔۔”
سیگریٹ ایش ٹرے میں مسلتے چہرہ پر ہاتھ پھیرتے اسنے خود کو تسلی دیتے پرسکون کیا۔۔۔۔لیکن اب یہ ممکن ہی کہاں تھا۔۔۔
” جو لڑکیاں بے نام منزلوں کی امید میں نامحرم کا سہارہ لے کر بھاگتی ہیں یونہی منہ کے بل گرتی ہیں۔۔۔۔۔”
تلخی سے سوچتے وہ سر جھٹکتا بیڈ کی طرف بڑھا۔۔۔۔شرٹ اتار کر پھینکتے اسنے سائیڈ ڈرا سے سلیپنگ پلز نکالیں۔۔۔فراخ سینے پر وہ سیاہ ٹیٹو بڑے پراسرا انداز میں چمک رہا تھا۔۔۔۔دو گولیاں پھانکتے بیڈ پر گرتا سائیڈ لیمپ آف کر گیا۔۔۔جانتا تھا اب وہ چاہنے کے باوجود جاگ نہیں پائے گا۔۔اور یہی تو وہ چاہتا تھا غفلت کی نیند۔۔۔۔۔۔ایک وجود خواب غفلت میں گم تھا اور ایک اذیت کی بھٹی میں پل پل سلگتا نوحہ کناں تھا۔۔۔۔۔۔
” وہ انجان ہے رجب۔۔۔وہ نہیں جانتا کہ ابراہیم نے ہمیں غلط نہیں سمجھا تھا۔۔۔۔وہ صرف اس اذیت سے رہائی چاہتے تھے جو وہ محسوس کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔”
وہ ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے جب عقب سے ابھرتی عصرہ بیگم کی دھیمی آواز پر ساکت ہوگئے۔۔۔۔وہ کل رات کمرے میں نہیں آئیں تھیں۔۔۔۔اور ناہی وہ انکا سامنا کرنے کی ہمت کر پائے۔۔۔۔رانیہ اپنے فرینڈز کے ساتھ ٹرپ پر گئی تھی اور یہ اچھا ہی تھا کہ وہ ان حالات سے انجان تھی۔۔۔۔۔اب وہ صبح صبح انکی بات پر حیران رہ گئے۔۔۔۔۔۔
” کک۔۔کیا مطلب؟؟۔۔۔۔”
بنا پیچھے مڑے وہ بھی دھیرے سے گویا ہوئے تو لہجہ ڈگمگا رہا تھا۔۔۔۔۔۔جانتے تھے اس وقت ان دونوں کا نظریں ملانا مشکل تھا۔۔۔۔کپکپاتے ہاتھوں سے وہ اخبار ٹیبل پر رکھتے سر جھکا گئے۔۔۔۔۔۔
” وہ ہم دونوں کی محبت میں مداخلت کا بوجھ لے کر جینا نہیں چاہتے تھے رجب۔۔۔۔انکی آنکھوں میں ممم۔۔میرے لیے نفرت نہیں تھا۔۔۔دکھ تھا کہ وہ میری خوشیوں کے قاتل بن گئے۔۔۔۔۔میں نے خود دیکھا تھا۔۔۔۔وہ مم۔۔۔مجھ سے محبت کرتے تھے رجب۔۔۔وہ بھلا نفرت کیسے کرتے؟؟؟۔۔وہ صرف اس اذیت کی ساتھ نہیں رہنا چاہتے تھے کہ انکی وجہ سے میں اذیت میں رہی۔۔۔۔وہ مجھ سے سچی محبت کر۔۔۔کرتے تھے۔۔۔تبھی تو خاموشی سے چلے گگ۔۔گئے۔۔۔۔لیکن سچ کہوں انکا جانا مجھے بے موت مار گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔اسامہ سوچتے ہیں کہ وہ ہم سے نفرت کرتے تھے لیکن وہ تو تم سے اپنے بچے سے بڑھ کر محبت کرتے تھے۔۔۔۔اور ممم۔۔۔میں انکی رو۔۔۔روح تھی۔۔۔۔۔وہ نفرت کر ہی نہیں سکتے تھے۔۔۔۔۔۔۔نہیں کر سک۔۔سکتے تھے۔۔۔۔”
ہچکیوں سسکیوں میں وہ بولتیں چلیں گئیں۔۔۔۔لہجہ کپکپا رہا تھا اور آنکھیں تیزی سے بھیگ رہیں تھیں۔۔۔۔اس شخص کے لیے جو انکے لیے کسی گھنے سائے سے کم نا تھا۔۔۔جن کی چھائوں میں انھوں نے 9 سال گزارے تو لگا کہ جنت میں گزارے تھے۔۔۔۔۔اب وہ نہیں تھا تو انکا عکس تو موجود تھا ۔۔۔لیکن وہ عکس ان سے نفرت کرتا تھا اور یہ چیز انھیں اندر سے کاٹ رہی تھی۔۔۔۔۔
انکی باتیں رجب صاحب کا دل درد بھر گئیں۔۔۔وہ برسوں سے خود کو انکا اور اسامہ کا مجرم تصور کرتے رہے تھے۔۔۔آئینے میں نظریں ملانے سے قاصر تھے۔۔۔۔لیکن آج جو سننے کو ملا تھا اسنے انھیں انکی ہستی سمیت خاک کر دیا۔۔۔۔کیسی محبت تھی ابراہیم جبیل کی؟؟؟ جس نے قربانی کے نئے باب سے روشناس کروایا تھا۔۔۔۔۔
وہ تو محبت نا کر سکے۔۔محبت تو انھوں نے کی تھی۔۔۔۔اور جس سے کی تھی کمال کی تھی جو انھیں انکی رگ رگ سمیت جانتی تھی۔۔۔۔جسکا تجزیہ سو فیصد سچ تھا۔۔۔۔۔۔
وہ اگر شک کرتے تو انکا کردار گھسیٹتے لیکن انھوں نے تو ایک لفظ تک نا کہا اور نا سنا۔۔۔۔۔صفائی تک نا مانگی ۔۔۔۔۔ صرف خاموشی سے چلے گئے۔۔۔۔انکی یہ خاموشی انھیں انگاروں پر گھسیٹ رہی تھی۔۔۔۔۔تبھی سختی سے آنکھیں میچیں تو کئی بے آواز آنسو انکے گالوں پر بہتے چلے گئے۔۔۔۔۔۔
سیڑھیوں کے سرے پر کھڑا وجود پورے قد سے زمین بوس ہوا تھا۔۔۔ایک غرور تھا جو پاش پاش ہوا۔۔۔ایک مان تھا جو ٹوٹا تھا۔۔۔۔کیا کر دیا تھا اسنے؟؟؟
یہ سوال کسی صور کر طرح اسکے کانوں میں گونجا۔۔۔۔دل کی دھڑکن ساکت تھی۔۔۔۔اور لب خاموش تھے۔۔۔۔آنکھیں ان دونوں کے وجود پر ساکت تھیں جنھوں نے 15 سال نفرت سہی تھی۔۔۔اور نفرت بھی وہ جو بے جواز تھی۔۔۔۔۔
کہاں گیا وہ غرور جس کے بل بوتے پر اسنے سب کچھ تباہ کر دیا تھا۔۔۔اپنی ہستی تک مٹا دی لیکن حاصل کیا ہوا؟؟ یہ سوال کسی کوڑے کی طرح اسکی پشت پر برسا تھا۔۔۔اور اسکے دل سمیت پورے وجود کو لہولہان کر گیا۔۔۔۔برسوں کے دبے سوال اگر سوال ہی رہتے تو کیا تھا؟؟؟ بعض دفعہ لا علمی بھی کیسی نعمت ہے لیکن اب یہ اگاہی اسکی جان نکال رہی تھی۔۔۔۔اب کہ ملے جواب اسے کند چھری سے ذبخ کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔بے جان قدموں سے وہ بمشکل چلتا باہر نکل گیا وہ جانتا تھا کہ اگر وہ مزید وہاں رکتا تو ضرور دماغ کی نس پھٹ جاتی۔۔۔۔۔۔۔
تبھی خالی نظروں اور بے جان ہوتے دل سے وہ نکلتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔اور وہ دونوں ہی انجان رہے کہ برسوں پہلے کی طرح آج بھی ایک وجود آگاہی کی قیامت جھیل چکا تھا۔۔۔۔۔
” میں نہیں جانتی تھی کہ میری ایک غلطی میرے لیے قیامت اٹھا دے گی حبا۔۔۔۔لل۔۔۔لیکن اب میری غلطی کا کفارہ میری فیملی نے ادا کیا ہے اور یہی ایک چیز مجھے اذیت دے رہی رہے۔۔۔۔۔”
وہ بات کے آخر تک بپھک کر رو دی۔۔۔اسکی ایسی دگرگوں حالت حبا کا دل۔دکھا رہی تھی۔۔۔۔وہ آج ہی آئی تھی اس سے ملنے لیکن آگے جو قیامت اسکی منتظر اسنے اسے تھرا دیا تھا۔۔۔۔اسامہ ایسا کر سکتا تھا؟؟؟ یہ سوال کسی بازگشت کی طرح اسکے گرد گونج رہا تھا۔۔۔۔
زری کی حساس حالت گواہ تھی کہ وہ دغا باز تھا۔۔۔۔اور اس دغا بازی کی وجہ سن کر ہی اسکے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔۔۔محض ایک تھپڑ کے لیے اسنے اسے تباہی کے سمندر میں لا پھینکا۔۔۔۔۔
اور اس سب میں اسکا ساتھ حیدر نے دیا تھا اسکا مطلب تھا حیدر بھی یہ سب جانتا تھا۔۔۔طیش کی ایک لہر اٹھی تھی اور اسکا پورا وجود جل اٹھا۔۔۔۔لب بھینچ کر اسے اپنے سینے سے لگاتے وہ اپنی آنکھیں بھیگنے سے روک نہیں پائی تھی۔۔۔۔۔کسی نامحرم پر بھروسہ ہمیشہ منہ کے بل گراتا ہے لیکن وہ یہ سب اسے کہہ نہیں سکتی تھی کہ وہ اپنی نادانی میں اپنا ہی نقصان کر بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔
” بس چپ کر جائو۔۔۔ آنٹی کو تکلیف ہو گی۔۔۔۔۔صبر رکھو اللہ پاک انصاف ضرور کرے گا۔۔۔۔۔”
اسکے بال سہلاتے وہ بھرائے لہجے میں بولی تو زری مزید تڑپ اٹھی۔۔۔۔صبر رہا ہی کہاں تھا۔۔۔۔۔۔جنت اجڑ چکی تھی اور اسے اجاڑنے میں سب سے زیادہ ہاتھ اسکا اپنا تھا صبر آتا بھی کیسے۔۔۔۔۔۔
” ہمم کیا ہوا وہ یونی کیوں نہیں آرہی تھی۔۔۔۔”
وہ اسے پک کرنے آیا تھا اب واپسی پر اسے گاڑی میں خاموش پا کر وہ پوچھے بنا نا رہ سکا۔۔۔لیکن جواب میں اسنے اتنی ملامت سے اسے دیکھا کہ وہ حیران رہ گیا۔۔۔۔۔۔
” حبا کیا ہوا ہے؟؟ از ایوری تھنگ اوکے؟؟؟؟؟۔۔۔”
گاڑی سائیڈ پر روکتے وہ حواس باختہ ہوا۔۔کیونکہ وہ اب آنسوئوں سے روتی ساکت بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
” تم جانتے تھے نا کہ وہ کھیل کھیل رہا تھا؟؟۔۔۔”
سپاٹ لہجے میں پوچھتے وہ اسے ہونق کر گئی۔۔۔۔وہ یک ٹک اسے دیکھتا رہ گیا جو تنفر سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
” کون؟؟؟؟ کس کی با۔۔۔۔۔بات ۔۔۔۔۔۔۔”
وہ حیرت زدہ سا سوال کررہا تھا کہ دفتا ذہن میں جھماکہ ہوا۔۔۔۔لمحے کے ہزاروہں حصے میں اسے سمجھ آ گیا کہ بات کس کے متلق ہو رہی تھی۔۔۔۔۔حیرت کی زیادتی سے اسکے لب ساکت رہ گئے۔۔۔۔۔۔
” بلکل تم جانتے تھے ہے نا؟؟؟ میں اسی کی بات کر رہی ہوں جس کے بنا تم سانس نہیں لے پاتے۔۔۔۔۔ اسی وحشی کی بات کر رہی ہوں جو اسکے وجود سمیت اسکی پوری خوشیوں کو نگل گیا۔۔۔۔۔کہنا اس سے کہ مبارک ہو زرنین ریحان برباد ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی ماں کو بھی کھو بیٹھی ہے۔۔۔۔۔”
وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑتے نفرت سے چلاتی حیدر کو سن کر گئی۔۔۔۔۔وہ مجسمہ بنا اسے دیکھتا رہ گیا جو اپنا پرس اور دوپٹہ سنبھالتی لاک کھول کر نیچے اتر گئی تھی۔۔۔۔۔
” میرے اور تمہارے راستے آج سے الگ ہیں حیدر نواز۔۔۔۔اگر زرا سی بھی انسانیت ہوئی مڑ کر ان راستوں کی طرف مت دیکھنا جہاں کبھی حبا ہوا کرتی تھی۔۔۔۔۔امید کرتی ہوں تم میری اس خواہش کا احترام کرو گے۔۔۔۔۔”
شیشے میں جھک کر وہ دھیرے سے بولتی اسکا دل ہزار ٹکڑوں میں تقسیم کر گئی۔۔۔۔وہ یک ٹک اسے دیکھتا رہ گیا جو مڑ کر اسکی نظروں سے اوجھل ہوتی چلی گئی تھی۔۔۔کیا اسکی محبت اتنی ازراں تھی کہ وہ اسے یوں چھور جاتی؟؟؟؟ وہ بھی بنا اسکی کوئی بات سنے۔۔۔۔۔۔دہکتی نظروں سے اسکی پشت دیکھتے وہ تلخی سے مسکراتا کار سٹارٹ کر گیا۔۔۔۔۔۔
” محبت میں اس مقام پر تم مجھ سے مایوس نہیں ہو گی حبا۔۔۔۔حیدر نواز آج سے تمہارے راستے میں نہیں آئے گا۔۔۔۔۔۔”
سامنے دیکھتے وہ مضبوطی سے بولا۔۔۔لہجہ چٹانوں کی سختی کو مات دے رہا تھا۔۔۔۔اور آنکھوں میں ٹوٹے کانچ کی کرچیاں تھیں۔۔۔۔۔۔لب بھینچتے اسنے کار کی رفتار بڑھائی اسکی منزل اسامہ ابراہیم تھا۔۔۔۔۔۔
” ہمم کیسے ہو؟؟۔۔۔”
وہ اپنے فارم ہائوس کے لائونچ میں بیٹھا ڈرنک کر رہا تھا جب حیدر وہاں آیا۔۔۔اسے دیکھ کر وہ تمسخر دے مسکراتا نرمی سے بولا۔۔۔۔جبکہ اسکی ایسی دگرگوں حلات کو نفرت بھری نظروں سے دیکھتے حیدر سرعت سے آگے بڑھ کر اسکا کالر تھام گیا۔۔۔۔۔۔
اسامہ اسکی اتنی بڑی جرآت پر حیرت سے اسے دیکھتا رہ گیا جو اپنے اندر جلتی آگ سے نبردآزما ہوتا اسے ملامت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
” میں نے کہا تھا نا کہ وہ کبھی مت کرنا جس سے تیری اپنی روح گھائل ہو جائے۔۔۔۔لیکن تو نے وہی کیا۔۔۔”
کھینچ کر مکہ اسکے جبڑے پر رسید کرتے وہ خلق کے بل چلایا تھا۔۔۔۔۔اسکے مکے کی شدت سے دہرے ہوتے وہ اسکی بات سن کر بے دردی سے ہنسا۔۔۔۔۔۔۔اسکی ہنسی نے مزید حیدر کو طیش دلایا۔۔۔۔۔
” تو نے آخر اسے برباد کر ہی دیا ۔۔۔لیکن کبھی سوچا ہے کہ اس سب سے تیرا اپنا کتنا نقصان ہوا ہے؟؟؟ “
اسے کالر سے کھینچ کر مزید اپنے قریب کرتے وہ بھڑکتے لہجے میں بولا۔۔۔۔۔جبکہ وہ ہاتھ پہلوئوں میں گرائے کھڑا اسکے چہرے پر رقم ملامت اور اذیت کے سائے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
” میرا نقصان؟؟؟کیسا نقصان حیدر؟؟ میرے پاس کچھ بچا ہوتا تو میرا کوئی نقصان ہوتا جانی۔۔۔۔میرے پاس سوائے خالی وجود کے کچھ نہیں ہے۔۔۔”
غیر مرئی نقطے پر نظریں جمائے وہ عجیب دیوانگی کے عالم میں بولا۔۔لہجہ آگ کی مانند دہک رہا تھا۔۔۔۔۔اسکی ایسی بے تکی بات نے اسے ہتھے سے اکھاڑ دیا۔۔۔۔۔دانت پر دانت جماتے اب کی بار اسنے پوری قوت سے مکہ اسکے منہ پر رسید کیا۔۔۔۔وہ بنا کوئی آواز نکالے گھٹنوں کے بل گرتا چلا گیا۔۔۔۔۔
منہ پر ہاتھ رکھا تو وہ لہو لہان تھا۔۔۔۔اذیت کی شدت سے آنکھیں میچے وہ سر جھکا گیا۔۔۔کچھ اتنی ہی بے معنونیت محسوس کر رہا تھا وہ اس وقت۔۔۔۔۔
” تیرا اپنا کیا تھا؟؟؟ سالے تیری اپنی تھی وہ جسے تو دل کی تمام شدتوں سے چاہتا تھا۔۔۔اسے ہی جہنم رسید کر کے تو کونسا خوش ہے؟؟ حالت دیکھی ہے اپنی؟؟ ابھی سے یہ حال ہے تو آگے سوچ کیا ہو گا؟؟ مان لے ذوالنون اسامہ تجھے محبت ہے زرنین ریحان سے تبھی تو یوں خاک ہوا ہے۔۔۔۔۔”
وہ بولا نہیں تھا بلکہ اسنے پگھلتا ہوا سیسہ تھا جو اسکے کانوں میں انڈھیلا تھا۔۔۔اذیت اتنی ہی تھی کہ جسم بے جان ہوا جا رہا تھا۔۔۔۔ایک اسی سچ سے نظریں چرائے وہ یوں سب سے چھپ کر بیٹھا تھا۔۔۔۔۔لیکن آج حیدر اسکا آئینہ بنا اسکے سامنے آکر کھڑا ہوا تھا تو برداشت سے باہر تھا سب کچھ۔۔۔۔۔۔
” مجھے محبت نہیں تھی حیدر اور نا کبھی ہو سکتی ہے۔۔۔اسلیے اگر تجھے زیادہ ہمدردی ہے اسے سے تو چلا جا مجھ سے دور ۔۔۔اسامہ ابراہیم کو تیری ضرورت نہیں ہے۔۔۔وہ اکیلا ہی کافی ہے ۔۔۔بہتر یہی ہے تو چلا جا۔۔۔۔چلا جا مجھ سے دور ۔۔۔۔۔۔”
اپنے اندر اٹھتے شور سے خائف ہوتے وہ خلق کے بل غراتا حیدر کو ساکت کر گیا۔۔۔۔وہ یک ٹک اسے دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔۔کیا سب کے لیے اسے چھوڑنا اتنا ہی آسان تھا؟؟؟
” ٹھیک ہے تم۔سب کے لیے حیدر نواز اتنا ازراں ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔میرا جانا اتنا غیر اہم ہے تو میں چلا جاتا ہوں لیکن اتنی بات یاد رکھنا میں واپس مڑ کر نہیں آئوں گا۔۔۔۔۔”
اپنے اندر اٹھتے درد کو دباتے وہ بمشکل بولا آنکھیں تیزی سے بھیگ رہیں تھیں۔۔۔۔لیکن وہ خود پر ضبط کیے ایک پل بھی رکے بنا صرف اسکے گھر سے ہی نہیں اسکی زندگی سے بھی نکلتا چلا گیا۔۔اسکی پشت دیکھتے اسامہ کی آنکھیں سمندر بن گئیں تھیں۔۔۔۔وہ جو کہہ گیا تھا وہ کتنا سچ تھا ۔۔۔اور اسکی بات کتنی سچی تھی آنے والے سالوں میں اسکا اندازہ ذوالنون کو اچھی طرح ہو چکا تھا ۔۔۔۔جہاں وہ زمانے بھر گرد چھان کر بھی اسکا نشان نا پاسکا تھا۔۔۔۔۔
