Ramaad Al Hubb by Sara Shah readelle50009 Episode 22
Rate this Novel
Episode 22
فرمان صاحب کی ڈیتھ کی خبر رجب پر بجلی بن کر گری تھی۔۔۔۔۔جبھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر وہ فورا پاکستان کی طرف لپکا۔۔۔۔۔ماں کو تو بچپن میں ہی کھو دیا تھا ۔۔۔لیکن اب باپ کو بے جان دیکھنا اسکا دل چیر رہا تھا۔۔۔۔
گھر کے لان میں بچھی چارپائی پر اسکا وہ باپ بے جان پڑا تھا جسے وہ آئرن مین کہتا تھا۔۔۔۔بڑے سے بڑا دکھ بھی بھی فرمان صاحب کو ڈھا نہیں سکا لیکن موت بھی کیا چیز ہے یہ نہیں دیکھتی کہ جسے لے جا رہی ہے اسکے ساتھ جڑے لوگ کیسے زندہ رہیں گے۔۔۔۔۔۔
ابراہیم کے گلے لگتے وہ ضبط کھو بیٹھا۔۔۔اور اذیت میں تو وہ بھی گرے تھے تبھی اسے سینے سے لگائے بے آواز روتے چلے گئے۔۔۔ذوالنون ماں کی گود میں بیٹھا حیرانگی سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔۔۔اسکے دوست جیسے دادا اب لوٹ کر نہیں آئیں گے۔۔۔یہ سوچ ہی دکھ دے رہی تھی۔۔۔۔
عصرہ رجب کو ایک بار پھر اپنے روبرو دیکھ کر مضطرب ہوئیں۔۔۔ اسکا سامنا کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔۔۔۔تبھی نظریں چراتے وہ آگے بڑھنے کی ہمت نا کر پائیں۔۔۔۔
جانے والے چلے جاتے ہیں پیچھے رہ جاتی ہیں تو صرف یادیں یا پھر ان سے وابستہ لوگ جو جیتے تو ہیں لیکن دل زخمی ہوتا ہے۔۔۔اور یہی سب ان سب کے ساتھ بھی ہوا تھا۔۔۔آج فرمان صاحب کو گئے 6 مہینے ہو گئے تھے ۔۔۔بہت کم ایسے لمحات آئے تھے جب رجب نے عصرہ کا سامنا کیا ہو۔۔۔۔وہ گھر میں رکتا ہی کم تھا۔۔۔اور اس پرعصرہ بھی شکرگزار تھی۔۔۔۔۔
رب نے اس آزمائش میں ڈالا تھا کہ کئی بار وہ اپنے ہی شوہر سے نظریں چرانے پر مجبور ہو جاتی تھئ۔ ۔۔
آج خلاف توقع وہ گھر پر تھا۔۔۔ابراہیم آج بزنس ڈیل کی وجہ سے آفس میں تھے۔۔۔تبھی عصرہ روم میں تھی۔۔۔لیکن ذوالنون کو کیسے روکتی جو اپنے چچا سے کافی گھل مل گیا تھا۔۔۔۔۔
اب بھی اسے گئے کافی وقت ہو گیا تھا
جب اسکی بھوک کا سوچتے وہ باہر نکلی۔۔۔جانتی تھی کہ وہ اسکے کمرے میں ہو گا۔۔۔رجب خود بھی ابراہیم کی غیر موجودگی میں کمرے سے کم ہی باہر آتا تھا۔۔۔۔
سکینہ کو ذوالنون کو لانے کا کہتے وہ لائونچ میں چلی آئی۔۔۔لیکن قسمت کو ناجانے کیا منظور تھا کہ وہ لائونچ میں ہی موجود تھا۔۔۔۔ذوالنون سو رہا تھا۔۔۔۔اور اسکا سر اپنی گود میں رکھے کسی غیر مرئی نقطے پر نظریں جمائے ساکت تھا۔۔۔۔۔
” بیگم صاحبہ۔۔۔ذوالنون بابا تو جی چھوٹے صاحب کے کمرے میں نہیں ہیں۔۔۔۔”
سکینہ کی آواز پر وہ دونوں چونکے۔۔۔۔عصرہ اسکی بات پر سر ہلا کر اسے جانے کا کہتی فورا مڑی۔۔لیکن وہ آج ناجانے کس کیفیت میں تھا فورا پکار بیٹھا۔۔۔۔
” عصرہ۔۔۔۔۔۔”
پکار تھی کہ ایک نیزہ جو سیدھا اسکے سینے میں پیوست ہوا۔۔۔۔۔لب بھینچتے انکی کپکپاہٹ روکتے وہ بمشکل مڑی۔۔۔جہاں وہ برسوں کے ہجر کا درد اپنے چہرے پر رقم کیے ہوئے تھا۔۔۔۔۔۔۔
” میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ زندگی میں یہ مقام بھی آئے گا۔۔۔۔”
اسکے شفاف چہرے کو دیکھتے وہ اذیت سے بولا۔۔۔۔۔۔اسکے لہجے کی تڑپ محسوس کرتے مقابل کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھرتیں چلیں گئیں۔۔۔۔۔۔۔
” تم میرے لیے شجر ممنوع قرار پائی ہو۔۔۔۔نظروں سے اوجھل ہوتی تو بھی میں سنبھل جاتا۔۔۔لیکن اب تو زندگی قیامت ہے میرے لیے۔۔۔۔۔”
اسکے آنسو دیکھتے وہ یاسیت سے بولا۔۔۔آنکھیں سلگ رہیں تھیں اور دل سینے کی دیواروں سے ٹکراتا زخمی ہو چکا تھا۔۔۔۔۔
” یہ سب اب بے معنی ہے۔۔۔۔”
خود پر ضبط کرتے وہ بمشکل بول پائی۔۔۔
” ہاں اب سب بے معنی ہے۔۔میری زندگی کی طرح۔۔۔۔۔۔۔”
نظریں جھکاتے وہ بے دردی سے ہنستا چلا گیا۔۔لہجہ نارسائی کی آگ میں سلگ رہا تھا۔۔۔۔۔جہاں درد ان دونوں کے وجود کو اپنی لپیٹ میں رہا تھا وہیں ایک تیسرا وجود بھی آگاہی کے عذاب سہتا ساکت ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔
” جو ہوا وہ قسمت میں لکھا تھا رج۔۔رجب۔۔۔میں اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکی ہوں۔۔۔تت۔۔تم بھی آگے بڑھ جائو۔۔۔۔۔۔”
رندھے گلے سمیت وہ دھیرے سے بولتی اسکا دل ہزار ٹکڑوں میں بانٹ گئی۔۔۔۔۔۔اور کوئی تو اپنی ہستی سمیت زمین بوس ہوتا پاش پاش ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔
” مم۔۔۔میں کیسے آگے بڑھ جائوں؟؟؟میں تو آج بھی اس وعدے کی قید سے نکل نہیں پایا۔۔۔۔۔”
وہ تڑپ کر بولا۔۔۔۔آنکھیں لال انگارہ ہو چکیں تھیں۔۔۔لہجہ درد کا عذاب سہتے ڈگمگا رہا تھا۔۔۔۔۔
” رجب!!!۔۔۔۔”
اس سے پہلے وہ کچھ اور کہتا اپنی سن ہوتی سماعتوں سے وہ اپنے آپے سے باہر ہوتے غرائے تھے۔۔۔۔۔ان کی دھاڑ پر وہ دونوں چونک کر پلٹے اور پتھر ہو گئے۔۔۔۔وہیں انکی دھاڑ پر ذوالنون بھی جاگ گیا۔۔۔۔سامنے دروازے میں استادہ وہ سلگتی نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔
” میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مجھے یہ سب دیکھنا نصیب ہوگا۔۔۔۔۔”
وہ عصرہ پر نظریں جمائے عجیب سے لہجے میں بولے۔۔۔۔۔انکی بات پر وہ دونوں تڑپ اٹھے تھے۔۔۔۔
” بھائی۔۔۔آپ یہ۔۔۔”
خبردار۔۔۔۔جو کچھ اور کہنے کی جرات کی تو۔۔۔۔میں جو سن چکا ہوں وہ کافی ہے میرے لیے۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے وہ انکی طرف بڑھتا وہ خلق کے بل چلاتے ان دونوں کو ساکت کر گئے۔۔۔۔عصرہ انکے چہرے پر چھایا جلال دیکھ کر سفید پڑ گئی۔۔۔۔۔۔کہاں دیکھا تھا ان کا ایسا روپ۔۔۔۔۔وہیں باپ کو اس قدر غصے میں دیکھ کر ذوالنون کمبل میں گھستا سخت ہراساں تھا۔۔۔۔۔اسکا ننھا ذہن کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔۔۔
” اور تم۔۔۔۔تم ہی ایک بار مجھے بتا دیتی تو میرے لیے آج اتنی ذلت و رسوائی کا وقت نا آتا۔۔۔۔۔”
طیش سے آگے بڑھ کر اسے کندھوں سے دبوچتے وہ عصرہ کی سانسیں روک گئے۔۔۔۔لہجہ اس قدر انگارے برسا رہا تھا کہ اسکا چہرہ دہک اٹھا۔۔۔سانسوں کی تپش جانلیوا تھی۔۔۔۔رجب ان دونوں کو یوں مقابل آتا دیکھ دم سادھ گیا۔۔۔جانتا تھا اسکی زبان سے نکلا ایک اور لفظ انھیں ہتھے سے اکھاڑ دے گا۔۔۔۔۔
” بولو جواب دو۔۔۔کیوں مجھے میری ہی نظروں سے گرا دیا تم نے؟؟؟۔۔۔کیا گزر رہی ہے مجھ پر یہ سوچ کر ہی کہ میری بیوی میرے ہی بھائی کی محبت میں مبتلا ہے۔۔۔۔۔۔کیوں کیا تم نے ایسا؟؟؟ایک بار بتا دیتی میں پیچھے ہٹ جاتا۔۔۔۔۔۔”
وہ اسکے کندھوں کو دبوچتے اسکی آنکھوں میں اپنی سیاہ آنکھیں گاڑتے اسے عدالت میں کھڑاکر گئے تھے۔۔۔لہجہ عجیب سی ملامت اور نفرت لیے ہوئے تھا۔۔۔۔سوال جان نکال رہے تھے۔۔۔مگر جواب دینے والی زبان بند تھی۔۔۔۔۔۔آنسو متواتر اسکے گالوں پر بہہ رہے تھے۔۔۔۔۔اور دل سینے کی دیوار توڑ کر باہر آنے کے لیے مچل رہا تھا۔۔۔۔
” ابرا۔۔ابراہیمم۔۔۔پل۔۔پلیز۔۔میری۔۔۔۔۔”
” اننف۔۔۔۔”
لڑکھڑاتے لہجے میں وہ وضاحت کر پاتی کہ وہ اسے زور سے جھٹک گئے۔۔۔۔لڑکھڑا کر سنبھلتے وہ ہراساں نظروں سے انھیں دیکھنے لگی جو اجنبی بن گئے تھے۔۔۔۔۔
” ابراہیم مم۔۔۔میری بات۔۔۔۔” وہ ہچکیاں لیتی بمشکل بول پائی لیکن وہ سرعت سے اسکی بات کاٹ گئے۔۔۔۔۔
” میں تمہیں سننا نہیں چاہتا عصرہ زبیر۔۔۔۔۔”
لہجہ کی کاٹ سے بڑھ کر لفظوں کی بےگانگی نے اسے توڑ گئی۔۔۔۔وہ کس بے دردی سے اسکا نام اپنے نام سے الگ کر گئے تھے۔۔۔۔۔دل کی اذیت حد سے سوا تھی۔۔۔۔۔لب بولنا بھول گئے تھے انھیں یوں اجنبی دیکھ کر۔۔۔۔۔
” اور تم دعا کرنا مجھے موت آجائے۔۔۔کیونکہ اس سب کے بعد میں جینا نہیں چاہتا رجب۔۔۔۔۔میرے لیے یہ مر مٹنے کا مقام ہے کہ میرے خلوت کے لمحات میں آنے والی لڑکی کے دل میں میرا اپنا بھائی بستا ہے۔۔۔۔۔”
وہ اسکی بھیگی آنکھوں میں دیکھتے عجیب سے لہجے میں بولتے رکے نہیں تھے بلکہ سرعت سے لائونچ ہی نہیں گجر سے بھی نکلتے چلے گئے۔۔۔۔۔۔پیچھے وہ انکے لہجے کی تڑپ اور نفرت پر ساکت رہ گئے تھے۔۔۔۔
عصرہ بے جان ہوتے قدموں سے زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔۔۔۔صرف ایک غلطی کی اتنی بڑی سزا۔۔۔۔۔وہیں رجب زندگی کے اتنے بڑے دھچکے پر سن رہ گیا تھا۔۔۔۔۔صرف ایک وجود تھا جس کا ننھا ذہن یہ سب سننے اور سمجھنے میں مصروف تھا۔۔۔۔۔اپنی ماں اور چچا کو گھور کر دیکھتے وہ سخت نالاں تھا کہ ان کی وجہ سے اسکا باپ گھر سے چلا گیا۔۔۔۔۔لیکن وہ ننھا وجود یہ نہیں جانتا تھا کہ اب وہ کبھی اپنے باپ کو نہیں دیکھ پائے گا۔۔۔۔۔۔
اور ہونی کو کون ٹال سکا ہے جو وہ ٹالتے تبھی تو وہ بے بسی سے انھیں دیکھتے رہ گئے جو ان سے منہ موڑ کر جا چکے تھے۔۔۔۔ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں ابراہیم اپنی جان ہار گئے۔۔۔نا عصرہ کا آہیں اور ذوالنون کی چیخیں انھیں واپس لا پائیں نا ہی رجب کے خاموش آنسو۔۔۔۔۔۔
انھیں جانا ہی تھا تبھی تو کئی لاجواب سوال پیچھے چھوڑ گئے۔۔۔۔۔جو ایک دن ایسا لاوا بن کر باہر نکلے جس نے ان سب کی زندگیوں کو تاریک کر دیا۔۔۔۔۔۔ذوالنون کا ننھا ذہن یہ مان چکا تھا کہ اسکے باپ کی موت کی وجہ وہ دونوں تھے۔۔۔۔۔لیکن عصرہ اور رجب انجان رہے کہ ذوالنون کی نفرت کے پیچھے آخر وجہ کیا ہے۔۔۔۔
عصرہ کی والدہ کا انتقال ہو چکا تھا اور بھائی بھابھی اسے تب نہیں رکھ پائے تو اب کیسے رکھتے۔۔۔۔اسلیے فرمان صاحب کے دوست اور ابراہیم کے دوستوں نے مل کر انھیں سمجھایا کہ ذوالنون کو باپ کی ضروت ہے اور عصرہ کو ایک مضبوط سہارے کی۔۔۔تبھی ان سب پہلوئوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ابراہیم کی موت کے ایک سال بعد ان دونوں کا نکاح کر دیا گیا۔۔۔۔۔اس ایک سال میں جہاں رجب اور عصرہ کی زندگی بدلی وہیں ذوالنون کا بچپن ان سوالوں کے بوجھ تلے دبا تاریکیوں میں گم ہو گیا۔۔۔اس ایک سال نے اسکی زندگی میں باپ کی کمی اور ماں کے اس اقدام نے توڑ پھوڑ مچاتے اسے ایک نئے ذوالنون میں بدل دیا۔۔۔۔۔
دل کی عمر سے اگلے پندرہ سال اسنے نفرت کی بھٹی میں سلگتے گزارے۔۔۔ رانیہ کی آمد بھی اسے بدل نا سکی۔۔۔۔عصرہ بیگم کی لاکھ کوششوں اور رجب صاحب کی منتوں نے اسے مزید ہٹ دھرم،ضدی اور بےحس بنا دیا۔۔۔۔بچپن کے وہ سوال بنا کسی جواب کے اسکے ذہن کو ایک زہریلے لاوے میں بدل گئے ۔۔۔۔
وہ ذوالنون اسامہ ابراہیم سے صرف اسامہ ابراہیم بن گیا۔۔۔باپ کو منوں مٹی کے بوجھ تلے دفن ہوتے دیکھ اسنے یہ نام اپنی زندگی سے نکال پھینکا تھا۔۔۔۔جو نام اسکا باپ لیتا تھا وہی نام وہ کسی اور کی زبان سے سننے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔۔۔۔
لیکن آج وہ اپنی نام نہاد انا کا بھرم رکھتے اس بری طرح ٹوٹا تھا کہ اب واپس جڑنا ناممکن تھا۔۔۔۔۔۔دل لہولہان تھا اور انا وہ اسکا منہ چڑا رہی تھی کہ دیکھ لو اپنی ضد اور نفرت کا انجام کیا حاصل ہوا؟؟۔۔۔کچھ بھی تو نہیں ملا تو فقط دکھ نارسائی اور اذیت۔۔۔۔اس نفرت کے کھیل وہ اسے ہی کھو بیٹھا تھا جو اول روز سے اسکے دل میں بس گئی تھی۔۔۔۔۔جس کی محبت اسکے پورے وجود میں پنجے گاڑ چکی تھی۔۔۔اب جب اسے خود سے دور کیا تو پورا وجود کھوکھلا ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔لیکن ابھی اسکی بربادی باقی تھی۔۔۔۔۔جس نے اسکے وجود کو بھی لہولہان کرنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” اپنی بکواس بند رکھیں وقاص بھائی۔۔۔۔میری آپی ایسی نہیں ہے۔۔۔۔۔”۔۔
زاہدہ بیگم کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔۔۔وہ ہاسپٹل میں ایڈمٹ تھیں۔۔۔۔کاریڈور کے بنچیز پر رابعہ بیگم کی کسی بات پر وہ زری کے کردار کی دھجیاں اڑاتا ہنس رہا تھا۔۔۔۔۔تبھی اپنے آپے سے باہر ہوتی ابیہا چلائی تھی۔۔۔۔
مڑ کر غور سے اسکا چہرہ دیکھا جو دہک رہا تھا۔۔۔۔گلابی مائل رنگت اور بھوری چمکتی آنکھیں عنابی لب اور متناسب سراپا۔۔۔۔وہ تو زری سے بھی بڑھ کر خوبصورت تھی۔۔۔۔۔۔
” اوکے فائن کچھ نہیں کہتا۔۔۔نائو ریلیکس۔۔۔۔”
خلاف توقع وہ فورا مانتا مڑ کر باہر نکلتا چلا گیا۔۔۔اسکی پشت دیکھتے وہ سر جھٹک کر رہ گئی۔۔۔۔۔دل لسی انہونی کے احساس تلے دبا سوکھے پتے کی مانند لرز رہا تھا۔۔۔۔
” آہ۔۔۔یہ تم نے کیا کیا آپی؟۔۔۔۔۔۔”
آنکھیں میچ کر وہ دھیرے بڑبڑائی تھی۔۔۔دل میں اسکی خیریت کی دعا کرتے وہ شیشے سے اندر متوجہ ہوئی جہاں زاہدہ بیگم کو نالیوں سے جکڑا گیا تھا۔۔۔۔۔آنسو ابل کر اسکے گالوں پر بہتے چلے گئے ۔۔۔۔۔
انھیں کہیں فجر کے قریب ہوش آیا تھا۔۔سب سے پہلے اندر جانے والے ماموں آصف ہی تھے۔۔۔ناجانے اندر کیا باتیں ہوئیں لیکن جو خبر اسے سنائی گئی اسنے اسے مار ڈالا تھا۔۔۔۔۔امی اسکے اور وقاص کے نکاح کی خواہشمند تھیں۔۔۔۔ وہ نہیں جانتی تھی یہ مشورہ کس کا تھا لیکن اسکی زندگی تاریکی میں گم ہونے والی تھی اس بات کا اسے پورا یقین تھا۔۔۔۔۔
نا اس سے کسی نے مشورہ مانگا اور ناہی اس سے اسکی مرضی پوچھی گئی۔۔۔۔۔۔نکاح خواں کے پوچھنے پر تڑپتے دل اور بھیگی آنکھوں سے وہ خود کو اس شخص کے نام کر گئی جس سے نفرت کا دعویدار اسکا اپنا دل تھا۔۔۔۔۔۔
وہ انھیں سوچوں میں گم تھی جب زاہدہ بیگم کا سانس اکھڑا ۔۔۔وہ سرعت سے ان پر جھکی جو گہرے سانس لیتیں روتیں اسے دیکھ رہیں تھیں۔۔۔۔۔
” امی۔۔۔۔۔امی پلیز ہمت کریں یہ مت کریں میں مر جائوں گی۔ ۔۔۔۔”
وہ تڑپ کر انکا گال چومتی روتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔اسکی بات پر وہ دھیرے سے مسکرائیں۔۔۔۔۔
” اب و۔۔۔وق۔۔۔وقت نہی۔۔۔نہیں ہے۔۔۔’
بھاری ہوتی سانسوں سے وہ بمشکل بول پائیں۔۔۔۔۔اذیت روح کاٹ رہی تھی۔۔۔۔لیکن آنکھوں میں اس معصوم کا چہرہ بسا تھا جو انکی نظروں سے اوجھل تھی۔۔۔۔۔۔۔
” آہ زری۔۔۔۔”
آخری ہچکی کی صورت زری کا نام انکے لبوں سے نکلا تھا۔۔۔۔اور پھر کلمہ پڑھتے انکے لب ساکت ہو گئے۔۔۔۔۔ابیہا چیخ اٹھی تھی انھیں یوں بے جان دیکھ کر لیکن جانے والے کو بھلا کون روک سکا ہے ۔۔۔۔۔۔
1 بجے انکا جنازہ اٹھا تھا لیکن انکا جگر گوشہ اب بھی نا پہنچ سکا لوگوں کی سرگوشیوں کو زبان مامی رابعہ نے دی تھی۔۔۔۔جو کھلے عام سب کو بتا رہیں تھیں کہ انکی بڑی بیٹی بھاگ چکی تھی۔۔۔۔۔ابیہا اور ولید ساکت و جامد اپنی جنت کو اجڑتا دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔
” ہائے سالی صاحبہ کیسی ہو؟؟؟۔۔۔”
وہ برامدے کی سیڑھیوں پر بیٹھی زمین کو گھور رہی تھی جب سامنے سے ابھرتی آواز پر چونکی۔۔۔سامنے دیکھا تو وہ شیطان لبوں پر مکرو ہنسی سجائے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
” کیسی ہو؟؟ سنا ہے مام نے کافی خاطر تواضع کی ہے تمہاری ۔۔۔۔۔”
اسکے نیلو نیل چہرے کو دیکھ کر وہ تمسخر سے بولتا ہنسا تھا۔۔۔۔زری کے اندر طیش کا طوفان اٹھا تھا۔۔۔۔۔وہ سرعت سے کھڑی ہوتی کھینچ کر تھپڑ اسکے گال پر مار گئی۔۔۔۔۔
وقاص کو اسکی امید نہیں تھی تبھی تو وہ لڑکھڑایا۔۔۔۔۔
” ہائو ڈئیر یو۔۔۔۔”
جبڑے کس کر وہ غرایا تھا کہ وہ ایک اور تھپڑ سے اسکا دوسرا گال سرخ کر گئی۔۔۔۔۔وقاص اتنی تذلیل پر سرخ پڑ گیا۔۔۔۔
” یہ اس ذلت سے بہت کم ہے جو تم نے میری ماں کے سامنے میرے کردار پر اچھالی تھی۔۔۔”
انگلی اٹھا کر اسکے چہرے کی طرف اشارہ کرتے غرائی تھی۔۔۔۔اسکا یہ روپ دیکھتے وقاص سن رہ گیا۔۔۔کہاں دیکھا تھا اسکا ایسا آتش فشاں جیسا روپ۔۔۔۔۔
” میری بہن سے دور رہنا ۔۔۔۔بہت جلد خلع کا نوٹس تمہیں مل جائے گا۔۔۔ اب دفع ہو جائو۔۔۔یہ جگہ تمہاری پراپرٹی میں نہیں آتی۔۔۔”
خونخوار نظروں سے اسے گھورتے وہ اسکی اوقات یاد دلا گئی۔۔۔۔اسکی نوٹس والی بات پر وقاص کی پیشانی پر بل پڑے۔۔۔۔۔۔جبھی بمشکل خود پر ضبط کرتے وہ مسکرایا۔۔۔۔
” ہہمم۔۔۔دیکھتے ہیں تم کیسے کوئی نوٹس بھیجنے کے قابل رہتی ہو۔۔۔۔۔”۔۔
سنجیدگی سے اسکے چہرے کو دیکھتے وہ سرسراتے لہجے میں بولا۔۔۔۔اسکے لہجے میں ان دیکھی دھمکی محسوس کرتے اسکی ریڑھ کی ہڈی سنسنائی تھی۔۔۔۔۔
” دیکھتے ہیں۔۔”
بظاہر مضبوطی سے بولتے اسکا دل لرز رہا تھا۔۔۔بھوری آنکھوں میں عجیب سا ہراس امڈ آیا جسے دیکھتا وہ طنزیہ ہنستا مڑ کر نکلتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔اسکی پشت دیکھتے زری کپکپاتی ٹانگوں سمیت بیٹھتی چلی گئی۔۔۔۔۔ایک نئی آزمائش اسکی منتظر تھی۔۔۔۔۔۔۔
