Ramaad Al Hubb by Sara Shah readelle50009 Episode 24
Rate this Novel
Episode 24
” میں ہمیشہ سب کی اذیت کا باعث بنا ہوں تیری خوشیوں کا بھی قاتل بن گیا۔۔۔۔اب تیرا سامنا میرے لیے کسی قیامت سے کم نہیں ہے حیدر۔۔۔۔۔”
راہداری میں اسکے غائب ہوتے وجود کو دیکھتے وہ ہولے سے بڑبڑایا تھا۔۔۔۔کتنے ہی آنسو آنکھوں کی دہلیز پھلانگتے گالوں پر اتر آئے۔۔۔۔دل تڑپ رہا تھا لیکن لب خاموش تھے۔۔۔۔۔۔سختی سے آنکھیں میچتے وہ ہذیانی انداز میں چیختا چلا گیا۔۔۔۔۔دکھ،درد،اذیت،ندامت اور کیا کچھ نہیں تھا اسکی چیخوں میں ۔۔۔۔لیکن اب مداوے کا وقت گزر چکا تھا۔۔۔۔۔
” تم سے محبت نہیں کرتا میں۔۔۔۔جھوٹ بولتا ہے حیدر۔۔۔محبت نہیں ہے یہ زری۔۔۔۔۔محبت نہیں ہے۔۔۔۔ عشق ہے یہ۔۔۔ایسا عشق جو ذوالنون اسامہ کو زرنین ریحان سے ہے۔۔۔ایسا عشق جسے ذوالنون اسامہ نے اپنے ہاتھوں سے لاحاصل بنا دیا۔۔۔۔۔”
آپنے ہاتھ زور سے فرش پر مارتے وہ خلق کے بل چیخا تھا۔ندامت تھی تو بلا کی تھی اور کسک تھی تو روح کو کاٹ رہی تھی۔۔۔۔۔۔اعتراف تھا تو بے مقصد تھا اور محبت تھی تو لاحاصل تھی۔۔۔کیونکہ وہ ذات اسکی قسمت میں ہجر لکھ چکی تھی۔۔۔جس پر مہر اسکے اپنے ہاتھوں نے لگائی تھی۔۔۔۔۔۔
فارم ہائوس کے درودیوار بھی اسکے غم میں شریک اداس نظر آرہے تھے۔۔۔شام کا سرمئی اندھیرا غمزدہ تھا کہ اسامہ ابراہیم نے خود اپنی زندگی جہنم بنائی تھی۔۔۔۔اپنے لیے تمام در اسنے خود اپنے ہاتھوں سے بند کیے تھے۔۔۔۔
” میں قبرستان جا رہی ہوں ابیہا۔۔دروازہ بند کر لو۔۔۔میں آجائوں گی۔۔۔کوئی بھی آئے لاک مت کھولنا۔۔۔۔”
چادر کھول کر اوڑھتے وہ ابیہا سے بولی۔۔۔اگرچہ دونوں کی بات چیت بند تھی لیکن اب کی اسکی سختی سے کی گئی تنبیہ پر وہ سر ہلا کر اسکے پیچھے بڑھی جو باہر نکل گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
نڈھال قدومں سے چلتے وہ وہاں جا رہی تھی جہاں اسکے تمام رشتے دفن تھے۔۔۔جہاں اسکی کل کائنات اور جنت دفن تھی۔۔جسے وہ آخری بار دیکھ بھی نا سکی۔۔۔۔۔اسے گیٹ سے نکلتے دیکھ دو آنکھوں میں شیطانی تاثر ابھرا تھا۔۔۔۔۔۔
قبرستان میں وہی وحشت چھائی ہوئی تھی جیسی وہ اپنے دل میں محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔ان چہروں کو منوں مٹی کے بوجھ تلے دیکھنا روح کو کاٹنے کے مترادف ہوتا ہے۔۔۔اب بھی کتنے ہی آنسو اسکی آنکھوں سے بہتے اسکے گال بھگوتے چلے گئے۔۔۔۔۔
چال غیر متوازن تھی۔۔۔۔اور بدن لرز رہا تھا۔۔۔۔لب کپکپاتے خاموش تھے۔۔۔۔۔وہ ایک نسبتا تازہ قبر کے گرد آکر رکی تو دل پھٹ سا گیا۔۔۔۔وہ چہرہ جسے وہ چوما کرتی تھی آج تا قیامت کے لیے چھپ گیا تھا۔۔۔وہ آغوش جہاں وہ زمانے سے ڈر کر چھپ جاتی تھی اب چھن چکی تھی۔۔۔اور اسے زندہ درگور کرنے میں اسکے اپنے ہاتھ بھی شامل تھے یہ سوچ ہی اسے کند چھری سے ذبخ کر رہی تھی۔۔۔۔۔
” ام۔۔امی۔۔۔”
خلق میں گولا سا آپھنسا تھا۔۔۔۔بولنا محال تھا لیکن وہ ایک لفظ کہتی گھٹنوں کے بل گرتی چلی گئی۔۔۔۔۔اور کچھ کہنے کی ہمت ہی کہاں تھی تبھی صرف بے آواز روتے وہ سر مٹی پر ٹکا گئی۔۔۔۔۔۔۔دل شدت غم سے پھٹ رہا تھا۔۔۔۔
” مم۔۔مجھ۔۔۔مجھے معاف کر دی۔۔دیں ام۔۔امی۔۔۔۔۔”
مٹی کو لبوں سے چومتے وہ ہچکیوں اور سسکیوں کے درمیان بمشکل بول پائی۔۔۔۔۔۔کتنے ہی آنسو بے مول ہوتے مٹی میں جذب ہو رہے تھے۔۔۔۔۔۔
کتنی ہی دیر وہ وہاں اپنا غم غلط کرتی رہی۔۔۔دل کا بوجھ بجائے کم ہونے کے بڑھتا ہی چلا گیا۔۔۔۔۔کاش وہ صرف ایک بار ان سے مل پاتی۔۔۔انھیں بتا پاتی کہ وہ بے قصور تھی۔۔۔سوائے اس جرم کے کہ وہ محبت کر بیٹھی تھی۔۔۔لیکن سننے والے جا چکے تھے۔۔۔۔۔۔
اٹھتے وہ کپڑے جاڑ کر بے مقصد کتنی ہی دیر انکی قبر دیکھتی رہی۔۔۔۔آنسو بہتے ہی چلے جا رہے تھے۔۔۔۔گزرے دنوں میں اسکی آنکھیں سمندر بن گئیں تھیں۔۔۔۔۔جو صرف بہنا جانتی تھیں۔۔۔۔۔۔
ناچاہتے ہوئے بھی شام کے سائے دیکھتی واپسی کے لیے مڑی۔۔۔۔۔جہاں اسکی دو ذمہداریاں باقی تھیں۔۔۔۔۔اپنی چادر سنبھالتے وہ سر جھکائے تیزی سے چلتی جا رہی تھی جب اسکے قدموں کے قریب گاڑی کے ٹائر تیزی سے چرچرائے۔۔۔۔۔وہ بدک کر دور ہٹی۔۔۔سر اٹھا کر دیکھا تو دھک سے رہ گئی۔۔۔۔
وہ ڈرائونا خواب حقیقت کا روپ دھارے اسکے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔سیاہ جینز شرٹ اور جیکٹ میں ملبوس وہ وہی تھا جو اسکی بربادی کا ذمہدار تھا۔۔۔۔۔اسے تیزی سے اپنی طرف آتے دیکھ وہ ہوش میں آتی اس سے پہلے بھاگتی اسکی کلائی اسامہ کے ہاتھ میں آگئی۔۔۔۔۔۔
اسکا لمس نہیں تھا کوئی دہکتا انگارہ تھا جسنے زری کی کلائی ہی نہیں پورے وجود کو اپنے حصار میں لے لیا تھا۔۔۔۔پھٹتے دل اور رگوں میں ابلتے خون سمیت وہ سرعت سے مڑی۔۔۔جہاں وہ سیاہ آنکھوں میں دنیا جہاں کی دیوانگی بسائے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔اسکی سیاہ آنکھیں دیکھتے اشتعال کا طوفان تھا جو زری کے اندر اٹھا تھا۔۔۔۔۔
” میری بات سن۔۔۔”
وہ دھیرے سے بولتا اس دے پہلے اپنی بات مکمل کر پاتا۔۔۔۔زری کے بائیں ہاتھ کا تھپڑ اسکا گال سلگا گیا۔۔۔۔۔کالئی پر اسکی گرفت ہلکی پڑی۔۔۔۔
” کیا سنوں ہاں؟؟؟۔۔کیا سنانا چاہتے ہو اب؟؟ رہ کیا گیا ہے ذوالنون اسامہ؟؟؟؟۔۔۔۔”
بنا ارد گرد کا لحاظ کیے وہ خلق کے بل چیخی۔۔۔۔وہ لوگ گاڑی کی اوٹ میں تھے اسلیے لوگوں کی نگاہوں سے محفوظ رہے۔۔۔۔اسکے تھپڑ کو سہتے اسنے لب سختی سے بھینچ کر اسکا اذیت سے سرخ ہوتا چہرہ دیکھا۔۔۔جہاں اسکے بھورے کانچ سمندر لٹا رہے تھے۔۔۔جھنیں پہلی بار دیکھ کر ہی وہ دل ہار بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اسکے سوال اسے دار پر لٹا گئے تھے۔۔جواب کہاں تھے؟؟ جو وہ دے پاتا۔۔تبھی بنا کچھ کہے اسے دیکھتا رہ گیا جو تنفر بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
” کچھ باقی نہیں بچا۔۔۔تم نے صرف مجھے برباد نہیں کیا اسامہ۔۔۔تم نے میری جنت اجاڑ دی۔۔۔۔مجھے جیتے جی مار ڈالا۔۔۔۔۔اب کیا سنوں؟؟؟”
اسکے سینے پر ہاتھ مارتے وہ اذیت سے بولی تھی۔۔۔۔۔لہجہ زمانوں کی تھکن سمیٹے ہوئے تھا۔۔۔۔وہ یک ٹک اسے دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔۔کیا کر دیا تھا اسنے نے؟؟؟ یہ سوال کسی کوڑے کی طرح اسکی پشت پر برسا تھا۔۔جس کی بازگشت تادیر اسکے کانوں میں گونجتی رہ گئی۔۔۔۔۔۔
” اب کچھ نہیں بچا۔۔اسلیے مجھے چھوڑ دو جو چاہتے تھے وہ تو مل گیا اب باقی رہ کیا گیا ہے؟۔۔۔۔۔”
ہاتھ جوڑ کر منت کرتے لہجے میں بولتی وہ اسکی روح تک کو چیر گئی۔۔۔۔۔تڑپ کر اسکے جڑے ہاتھوں کو دیکھتے وہ انھیں تھامنے کو آگے بڑھا۔۔۔۔۔
” نن۔۔۔نہیں یہ مت کرو نیناں۔۔۔مم۔۔مجھے کک۔۔۔کچھ کہنے تو دو۔۔۔۔۔”
اسکے ہاتھ تھامتے اسکا چہرہ نظروں کے حصار میں لیے لجاجت سے بولا۔۔تو لہجہ کانپ رہا تھا۔۔۔۔۔وہ تنفر سے اسکا ہاتھ جھٹکتی پیچھے ہٹی۔۔۔۔
” نہیں۔۔۔کچھ نہیں سننا مجھے۔۔۔دور رہو مجھ سے نفرت سے مجھے تم سے ذوالنون اسامہ۔۔۔نفرت صرف نفرت۔۔۔۔”
تلخی سے اسکا وجیہہ چہرہ دیکھتے وہ بے دردی سے بولتی اسکا دل ہزار ٹکڑوں میں تقسیم کر گئی۔۔۔۔اسکے لہجے کا زیر اسکے رگ وپے میں اترتا اسے بےجان کرتا چلا گیا۔۔تبھی تو خالی ہوتی نظروں سے اسے وہاں سے ہٹتا دیکھتا رہ گیا۔۔۔وہ تیز تیز چلتی روڈ کراس کر رہی تھی جب بائیں طرف سے آتے ٹرک کو دیکھ کر اسامہ کا دل اچھل کر خلق میں آیا۔۔۔۔وہ برق رفتاری سے چلتا زری کی طرف بڑھ رہا تھا جس وہ انجان سر جھکائے آنسو صاف کرتی جا رہی تھی۔۔۔
” نیناں؟؟۔۔۔۔۔”
خلق کے بل چیختے وہ سرعت سے اسکی طرف بھاگا۔۔۔لیکن اسکی چیخ ٹریفک کے شور میں دب گئی۔۔۔۔وہ جتنا تیز بھاگ سکتا تھا بھاگا ۔۔۔۔۔لیکن وہ بہت دور تھی۔۔۔۔
” نیناں رک جائو۔۔۔۔۔”
اب کے اس سے تھوڑی دوری پر وہ پھر سے چیخا جس پر وہ پلٹی اور اسے دیکھا۔۔جہاں وہ برق رفتاری سے اسکی طرف بھاگتا چلا آ رہا تھا۔۔۔۔۔ایک نظر اسے دیکھ کر اسنے دائیں طرف دیکھا جہاں وہ دیوہیکل ٹرک سیدھا اسکی طرف آرہا تھا۔۔۔۔۔۔آنکھیں پھٹ سی گئیں اور قدموں نے اٹھنے سے انکار کر دیا۔۔۔۔تبھی تو اسامہ کو ایک نظر دیکھتی وہ بے دردی سے مسکرائی۔۔۔اور زندگی کے مقام پر اسے یوں موت کی آغوش جاتے دیکھ اسامہ کی جان لبوں پر آئی۔۔۔۔
” نیناں نہیں۔۔۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے وہ آگے بڑھ کر اسے تھام لیتا پیچھے کوئی اسے کھینچتا پشت کے بل گرا گیا۔۔۔۔سر پر لگتی فٹ پاتھ کی ضرب ایک پل کے لیے اسکی آنکھوں میں اندھیرا بھر گئی۔۔ تبھی فضا میں تیز نسوانی چیخیں ابھریں۔۔۔۔۔جنھوں نے اسامہ کی دھڑکنیں روک دیں تھی۔۔۔۔۔
” نہیں۔۔نیناں۔۔۔۔۔”
بند ہوتی آنکھوں میں اسکا ہنستا چہرہ ابھرا اور پھر اسکا ذہن تاریکیوں میں ڈوب گیا۔۔۔وہ روڈ جہاں زندگی رواں دواں تھی اب چیخوں اور خون سے بھر گئی تھی۔۔۔۔۔۔زندگی کا ایک باب تھا جو بند ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔جس نے اسامہ ابراہیم کی زندگی میں اندھیرے بھر دیے۔۔۔جہاں سے وہ اگلے چھے سال بھی نا نکل سکا۔۔۔۔۔۔
عالیشان کمرے کی ہر چیز تہس نہس تھی بیڈ شیٹ فرش پر پڑی تھی کشنز جگہ جگہ پھیلے تھے ڈریسنگ کا سامان بکھرا پڑا تھا اور شیشہ بری طرح ٹوٹا ہوا تھا۔۔غرضیکہ ہر چیز اپنی جگہ سے ہلی ہوئی تھی ایسا لگ رہا تھا کمرے میں کوئی طوفان آیا ہو۔اور جس نے وہ طوفان اٹھایا تھا وہ ڈریسنگ سے ٹیک لگائے نیچے زمین پر اکڑوں بیٹھا تھا۔۔۔سر جھکا ہوا تھا جس سے اسکے سیاہ بال ماتھے پر بندھی پٹی میں چھپے ہوئے تھے۔۔گھٹنوں کے گرد لپٹے ہاتھوں میں ایک بری طرح زخمی تھا خون بھل بھل بہتا فرش پر گر رہا تھا۔۔۔مگر وہ اس زخم سے بے نیاز تھا چہرے پر اذیت کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔۔۔ سر جھکائے یک ٹک وہ فرش پر نقش ونگار بناتے اپنے ہی خون کو گھور رہا تھا۔۔۔سیاہ آنکھوں میں غضب کی سرخیاں تھیں۔۔ایک جنون سا ان میں ہلکورے لے رہا تھا۔۔بے تحاشہ سرخ و سفید رنگ،خوبصورت سیاہ آنکھیں جن کی سیاہی رات کے اندھیرے کو مات دے رہی تھی،کھڑی مغرور ناک،ہلکی شیو اور گھنی مونچھوں تلے دبے عنابی لب بھینچے ہوئے تھے۔۔۔جبڑے کسے وہ گہرے سانس لیتا کسی ان دیکھی اذیت کے حصار میں تھا۔۔گرے شرٹ کے ایک دو کے سوا تمام بٹن کھلے یا ٹوٹے ہوئے تھے اور اس سے جھانکتا مضبوط سینہ اور وہاں گندھا وہ ٹیٹو جو بائیں کان کے پیچھے سے شروع ہوتا سینے کے نیچے تک پھیلا ایک الگ ہی منظر پیش کر رہا تھا۔۔۔سیاہ جینز ٹحنوں تک فولڈ تھی جس سے اسکے سپید ننگے پائوں واضح تھے۔۔۔
اس پورے بکھرے کمرے میں واحد وہ وجود تھا جو خدا کا شاہکار معلوم ہو رہا تھا۔۔رب نے بےشک اسے فرصت سے بنایا تھا کہ دیکھنے والی آنکھ ٹھٹھک کر رک ضرور جاتی تھی۔۔۔اور ایک زمانے میں اپنی اس وجاہت پر اسے غرور بھی تھا مگر آج وہ اپنی ہستی کے غرور سمیت زمین بوس ہوا تھا کہ اٹھنے کی طاقت بچی ہی نہیں تھی۔۔۔۔
اپنے خون کو دیکھتے اشتعال کا ایک ابال تھا جو اسکی رگ و پے میں اٹھا تھا۔۔۔جھٹکے سے اٹھتے اسنے زور سے ایک اور مکہ ٹوٹے شیشہ پر دے مارا کرچیاں بکھریں تھیں اور اسکا زخمی ہاتھ مزید زخمی کر گئیں۔۔۔خون پوری رفتار سے بہا تھا مگر وہ رکے بغیر پے در پے وار کرتا چلا گیا۔۔۔۔
” نہیںںںںں۔۔۔۔۔۔ نہیں جا سکتی وہ۔۔مجھے چھوڑ کر وہ کیسے جا سکتی ہے۔۔۔۔۔؟؟۔۔۔نوووووو۔۔۔۔”
ٹوٹی کرچیوں میں اپنا عکس دیکھتے وہ پوری طاقت سے چلایا کہ دیواریں جھنجھنا اٹھیں ۔۔۔۔سیاہ پلکیں بے اختیار نم ہوئیں جھنوں نے اسکا فشار خون مزید بڑھا دیا ۔۔۔
” کیسے جا سکتی ہے وہ مجھ سے دور۔۔۔؟؟ کیسے۔۔۔۔؟؟ میں جانے ہی نہیں دوں گا۔۔۔۔ ہر گز نہیں۔۔نیوررر۔”
بلند آواز میں چیختے کئی آنسو اسکی سیاہ آنکھوں سے بہتے گالوں پر لڑک آئے اور یہ تھی اسکی بے بسی کی انتہا۔۔۔۔گھٹنوں کے بل گرتے وہ چیخ چیخ کر روتا چلا گیا۔۔۔کیسی اذیت تھی یہ۔۔۔۔جس سے رہائی اب تمام عمر ممکن نہیں تھی۔۔۔ وہ کیسے جہنم میں پھینک گئی تھی۔۔۔؟؟؟ جس کی دہک سے اسکا پور پور جل رہا تھا۔۔
” تم دہکتے صحرا میں ننگے پائوں بھی سفر کرو گے نا تب مجھے پا نہیں سکو گے۔۔۔۔بے مراد رہو گے تڑپو گے تمممم۔۔۔۔۔۔۔”
ایک روتی چیختی آواز نے اسکی سماعتوں میں سیسہ انڈیلا تھا جس کی تپش نے اسکا پورا وجود جلا کر راکھ کر دیا ۔۔۔۔
” نہیں پلیز نہیں۔۔۔۔۔یہ مت کرو لوٹ آئو پلیز۔۔۔۔۔۔ورنہ میں مر جائوں گا ۔۔۔۔مت دو اتنی بڑی سزا لوٹ آئو پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔”
کانوں پر ہاتھ رکھتے وہ اذیت سے چیخا تھا لہجے میں ٹوٹے کانچ کی چھبن تھی۔۔۔۔۔
” میں مر جائوں گا تمہارے بنا ۔۔۔۔میں زندہ نہیں رہ سکتا پلیز لوٹ آئو۔۔۔آئی کانٹ لیو ود آئوٹ یو پلیز کم بیک۔۔۔۔”
مدھم آواز میں بڑبڑاتے اسکی اذیت عروج پر تھی۔۔۔سیاہ آنکھوں کی نمی بڑھتی ہی جارہی تھی۔۔۔لہجے میں پچھتاووں کے ناگ تھے جو پل پل ڈستے اسے موت کے گھاٹ اتار گئے۔۔۔۔۔
