Ramaad Al Hubb by Sara Shah readelle50009 Episode 12
Rate this Novel
Episode 12
اپنے کمرے کی بالکونی میں کھڑا وہ کافی کے سپ لیتا اس چاندنی رات میں سامنے اندھیرے کو گھور رہا تھا۔۔۔۔سیاہ آنکھوں کی سیاہی آسمان کی سیاہی سے مشابہ تھی۔۔۔۔۔کوئی تاثر،کوئی جذبہ اس وقت ان آنکھوں میں نہیں تھا۔۔۔۔۔
عنابی لب بھینچے ہوئے تھے۔۔۔۔رف سی جینز پر سلیو لیس شرٹ پہنے وہ ٹھنڈ سے بے نیاز تھا۔۔۔۔وسیع و عریض آسمان پر ستارے چمک رہے تھے۔۔۔مگر اسکی نگاہیں دور خلائوں میں بھٹک رہیں تھیں۔۔۔
دفتا ذہن کے پردے پر ایک سانولا چہرہ ابھرا۔۔۔۔سیاہ جھکی پلکیں،گندمی ہلکی سی سرخی لیے گال اور قدرے بھرے بھرے لب۔۔۔۔اور سب سے حسین وہ ڈمپل تھے جو اسکے مسکرانے پر اسکے چہرے پر ابھرتے۔۔۔۔۔اسکی خدوخال کو محسوس کرتے ایک عجیب سی مسکراہٹ اسامہ کے لبوں پر ابھری۔۔۔۔۔۔۔
” چاکلیٹ کوئین!۔۔۔تم میں کچھ تو خاص ہے۔۔۔جس نے اسامہ ابراہیم کی نگاہوں کو اپنا عادی بنا لیا ہے۔۔۔۔”
اسکے عنابی لب دھیرے سے ہلے۔۔۔۔سیاہ آنکھوں میں محظوظ کن چمک ابھری تھی۔۔۔۔۔۔۔پچھلے ایک مہینے میں کئی ایسے موقع آئے تھے۔۔جب اسامہ کی نظریں ٹھٹک کر ساکت ہوئیں تھیں۔۔۔۔اور یہ اسکی 24 سالہ زندگی کا نیا تجربہ تھا۔۔۔ورنہ ہمیشہ صنف نازک کی آنکھیں اسے دیکھ کر ساکت ہوتیں تھیں۔۔۔۔۔۔
لیکن جو بھی تھا۔۔یہ سب دلفریب تھا۔۔۔آج صبح کی اسکی جلیسی یاد کرتے اسکے لبوں پر جاندار مسکراہٹ چمکی۔۔۔۔۔
” جلیس نین!!!۔۔۔ہمم نین؟؟۔۔۔ساؤنڈ گڈ۔۔۔نائو کیوٹ نین۔۔۔۔”
خود ہی ایک نیا نام منتخب کرتے وہ دلکشی سے مسکراتے چاند کو اپنی پراسرا سیاہ آنکھوں سے ایک نظر دیکھتا اندر کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔
” کیا بات ہے آج تم دونوں نے سکول نہیں جانا؟؟؟۔۔”
وہ بیگ چیک کرتے ٹیبل پر آئی تو ان دونوں کو عام سے خلیے میں بیٹھا دیکھ حیران ہوئی۔۔۔۔۔
” نو آج میں اور ولید کالج نہیں جائیں گے۔۔کونکہ آج ماموں کے گھر پارٹی ہے تو آج ریسٹ۔۔۔۔”
ابیہا شان بے نیازی سے چائے پیتے گویا ہوئی۔۔جس پر زری کے آبرو بے اختیار اوپر اٹھے۔۔۔۔۔۔
” او یعنی مامی کی نگانی میں تم نے انکے پورے گھر کی صفائی کروانی ہے؟؟۔۔”
کرسی پر بیٹھتے اب کے وہ ٹھنڈے ٹھار لہجے میں بولی۔۔۔ابیہا بے اختیار گڑبڑائی۔۔۔۔
” نن۔۔نہیں تو۔۔ہم بھلا انکے نوکر ہیں جو کام کریں گے۔۔۔۔ہم تو جسٹ ساری تیاریاں مکمل ہوتے دیکھیں گے۔۔۔۔ہیں نا ولید؟؟۔۔”
سیدھے ہوتے وہ تیزی سے بولتی ولید کو بھی گھسیٹ گئی۔۔انکی چلاکیوں کو دیکھتے زری نفی میں سر ہلا گئی۔۔۔۔
” رہنے دو زری۔۔۔آج یہ نہیں ٹلنے والے۔۔۔”
اس سے پہلے وہ مزید کچھ کہتی اسکے لیے ناشتہ لے کر آتیں زاہدہ بیگم مسکرا کر بولیں۔۔۔جس پر وہ سر ہلا گئی۔۔۔۔۔اسے چپ ہوتے دیکھ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے سر جھکا گئے۔۔ جانتے تھے اب مزید وہ کچھ نہیں بولے گی۔۔۔۔۔
” ٹھیک ہے امی۔۔میں چلتی ہوں۔۔۔اللہ خافظ۔۔۔”
انکے سامنے جھکتے اسنے اجازت چاہی ۔۔۔زاہدہ بیگم نے آیت کرسی کا حصار اسکے گرد باندھتے اسے رخصت کیا۔۔۔۔۔۔۔
پوائنٹ پر کھڑی وہ بس کا انتظار کر رہی تھی کہ ایک بلیو کار دور جا کر رکی اور پھر ریورس ہوتی اسکے عین سامنے آکر رکی۔۔۔۔کار کے رکتے وہ کرنٹ کھا کر پیچھے ہٹی۔۔۔۔سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو کار شیشہ نیچے گرائے وہی دشمن جاں تھا جس نے ناجانے کتنے دنوں سے اسکی نیند حرام کر رکھی تھی۔۔۔۔۔بلیو جرسی ٹائپ شرٹ کے سلیو موڑے وہ بالوں کا پف بنائے اپنی مخصوص ٹھٹھکا دینے والی پرسنالٹی سمیت ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا پوری طرح اسکی طرف متوجہ تھا۔۔۔۔۔
اسکی سن گلاسس کے پیچھے چھپی آنکھوں کو خود پر مرکوز دیکھ زری کے دل نے بے اختیار بیٹ مس کی تھی۔۔۔۔۔
” ہئے زری۔۔۔آجائو میں بھی یونی ہی جا رہا ہوں ڈراپ کر دوں گا۔۔۔”
وہ کافی خوشگوار لہجے میں اس سے مخاطب تھا۔۔۔۔اسکے لہجے کی سرشاری اور گھمبیرتا نے اسکا دل دھڑکایا۔۔۔۔۔۔
” نن۔۔نہیں میں چلی جائوں گی۔۔۔آپ جائیں۔۔۔۔”
وہ پلکیں جھکاتی دوٹوک انکار کر گئی۔۔۔کہ اسامہ کے لبوں پر مچلتی دھیمی مسکان دم توڑ گئی۔۔۔۔جبڑے کس کر لب بھینچے وہ اسے دیکھتا رہ گیا جو اسکی اتنی مخلصانہ آفر کو اسکے منہ پر مار چکی تھی۔۔۔۔۔رگوں میں غصے کا ابال اٹھا تھا۔۔احساس توہین نے اسکا چہرہ پل میں سرخ کر دیا۔۔۔۔
” زری آئی سیڈ کم انسائیڈ۔۔۔۔کم آن۔۔۔”
اب کے وہ سرد لیجے میں اتنی سختی سے چبا کر بولا کہ زری چونک گئی۔۔۔۔۔۔نظریں اٹھا کر اسے دیکھا جو لب بھینچے کافی غصے میں لگ رہا تھا۔۔۔۔۔وہ بے ساختہ خائف ہوئی۔۔۔۔۔
” مم۔۔۔میں کہہ۔۔۔نہیں۔۔۔”
” او شٹ آپ۔۔۔۔جسٹ گیٹ انسائیڈ ۔۔۔”
ہلکلا کر اسے پہلے وہ انکار کرتی وہ غصے سے دھاڑتا دروازہ کھول کر باہر نکلا ۔۔۔۔اسکا یوں جارحانہ تیور لیے اپنی طرف آنا زری کو سہما گیا۔۔۔۔۔وہ بے ساختہ پیچھے ہٹی مگر اسکی بازو اسکی مضبوط گرفت میں آگیا۔۔۔۔۔۔وہ تڑپ کر مچلی مگر وہ اسے کار کا دروازہ کھول کر اندر دھکیل چکا تھا۔۔۔۔اس سب نے زری کی سانسیں روک دیں تھیں۔۔۔۔۔
” جسٹ کیپ کوائٹ۔۔میں تمہارا ایک لفظ نہیں سننا چاہتا۔۔۔”
گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے وہ اسکا بولنے کے لیے کھلتا منہ دیکھ کر غرایا۔۔۔۔۔اور کار سٹارٹ کی۔۔۔اسکی غراہٹ نے زری کی زبان تالو سے چپکا دی۔۔۔۔۔۔مارے بے بسی کے ناجانے کتنے آنسو آنکھوں سے بہتے گالوں پر لڑک آئے۔۔۔۔
لاچاری کے شدید احساس تلے وہ منہ پر ہاتھ رکھتی رخ موڑ کر رونے لگی۔۔۔۔۔وہ اس سب سے انجان نہیں تھا۔۔۔۔تبھی بے چینی سے گئیر پر گئیر بدلتے وہ غصہ ضبط کرنے لگا۔۔۔۔
” زری سٹاپ اٹ۔۔چپ کر جائو یار۔۔۔۔”
جب بات برداشت سے باہر ہوئی تو وہ بمشکل ضبط سے بولا ۔۔مگر وہ اسکی مفاہمت کی تمام کوششوں کو پانی کرتی اور زور سے رونے لگی۔۔۔۔۔۔اسکے رونے پر وہ بوکھلا کر کار سائیڈ پر لگا گیا۔۔۔۔۔
” اوکے اوکے ایم سوری۔۔۔پلیز چپ کر جائو اب۔۔۔”
گلاسس اتار کر ڈیش بورڈ پر پھنکتے وہ رخ اسکی طرف موڑتے نرمی سے بولا۔۔۔۔مگر وہ اسکی نرمی کو مٹی کرتی کار کا لاک کھولنے لگی۔۔۔۔۔اسکی ضد پر دانت پیستے وہ ہاتھ بڑھا کر تیزی سے کار لاک کرتے اسکا بازو تھام گیا۔۔۔۔
” سٹاپ نین پلیز یار۔۔میں ہائپر ہو گیا تھا اٹس مائی فالٹ۔۔۔لیکن تم خود بھی تو سوچو تمہارا اچانک انکار اور پھر لوگوں کی نظروں نے مجھے ٹیمپر لوز کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔وہ سب کافی عجیب نظروں سے مجھے دیکھ رہے تھے جیسے میں لڑکی چھیڑ رہا ہوں۔۔۔۔۔اس سب نے مجھے آئوٹ آف کنٹرول کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اور تم بتائو میں کبھی تمہیں انسکیور فیل کروایا جو تم۔نے یوں انکار میرے منہ پر مار دیا؟؟۔۔۔۔”
ٹشو اسے دیتے وہ کافی سنجیدگی سے بولا ۔۔۔جبکہ نظریں مسلسل بے چینی سے اسکے سرخ چہرے کا طواف کر رہیں تھیں جو آنسوئوں سے تر تھا۔۔۔۔۔
” نن۔۔نہیں میں تو بس۔۔۔۔۔ایم سوری۔۔۔۔”
اسکی دہکتی گرفت اور گرم سانسوں کو خود پر محسوس کرتی وہ بے ساختہ منمنائی۔۔۔سیاہ آنکھوں کا ارتکاز اتنا شدید تھا کہ اسے اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔۔
” اٹس اوکے۔۔نائو کیپ کوائیٹ ۔۔۔تمہارا رونا مجھے بے چین کر رہا ہے۔۔۔پلیز سٹاپ یور ٹیئرز ہنی۔۔۔۔۔”
اسکے گریز کو وہ محسوس کر گیا تھا۔۔۔گرے سادے شلوار سوٹ میں بڑی سی شال کو خود پر لپیٹے حسب معمول وہ عام میں بھی خاص لگ رہی تھی۔۔تبھی تو اسکے دل نے دھڑکنوں کی لے بدلی تھی۔۔۔۔
مگر اسکے آنسوئوں پر ڈسٹرب ہوتے غیر ارادی طور پر ہاتھ بڑھاتے وہ اسکی بھیگی پلکیں انگوٹھے سے صاف کرتا ایک ٹرانس میں بولا تھا۔۔۔۔اسکا لمس اور اسکی نظریں اتنی جانلیوا تھیں کہ اسے اپنے پورے وجود میں کرنٹ کی لہریں اٹھتیں محسوس ہوئیں۔۔۔۔اسکی اتنی سی قربت زری کی جان مشکل میں ڈال گئی تھی۔۔۔۔لرز کر کسمساتے وہ پیچھے ہٹی کہ وہ بھی ہوش میں آیا۔۔۔۔
” ایم سوری۔۔۔نائو ریلکس ۔۔۔ہم یونی جا رہے ہیں۔۔۔۔”
بالوں میں ہاتھ پھیر کر خود کو کمپوز کرتے وہ نرمی سے بولا ۔۔۔لیکن دیکھنے سے گریز کیا تھا۔۔۔۔دل کی بغاوت پر وہ عجیب سے احساس میں گھرتا بے چین ہو اٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ وہ اپنے آنسو صاف کرتی اپنی کلائی اور پلکوں پر اسکا پھرپور لمس محسوس کرتی حیا سے دہری ہو رہی تھی۔۔۔۔اسکی سیاہ آنکھوں کی لپک اتنی شدید تھی کہ اسکا چہرہ بھاپ چھوڑنے لگا تھا۔۔۔۔۔باہر کے مناظر دیکھتے وہ خود کو کمپوز کر رہی تھی ۔۔جبکہ وہ اپنی اندر چھڑی جنگ سے نبرد آزما تھا۔۔۔۔۔۔
اسے یہاں کام کرتے دو ہفتے ہونے کو آئے تھے مگر اب تک اسکا سامنا ذوالنون سے نہیں ہوا تھا ۔۔اور یہ سب اسکے حق میں بہتر بھی تھا ۔۔۔تبھی وہ ریلیکس تھی۔۔۔۔
کام کافی حد تک اسکی سمجھ میں آچکا تھا۔۔۔۔اور ماحول بھی بہت اچھا تھا۔۔۔۔باس کی غیر موجودگی میں بھی سٹاف کی پھرتی اسے اکثر حیران کر دیتی مگر جب عشا نے اسے باس کی سخت گیر طبیعت کا بتایا تو اسے پورے سٹاف کے ایکٹیو ہونے کی وجہ سمجھ آگئی۔۔۔۔۔وہ دل ہی دل میں قائل بھی ہوئی۔۔۔۔
لیکن جو بھی تھا یہ جاب اسکے لیے لکی ثابت ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ کافی خوش تھی۔۔۔۔ارد گرد کیا ہو رہا ہے اسے اس سب سے کیا لینا دینا ؟؟۔۔۔۔ تبھی اپنے کام سے کام رکھ رہی تھی۔۔۔ضرورت کے وقت بات اگر ہوتی بھی تھی تو وہاں صرف عشاء تھی جس کے ساتھ وہ تھوڑی بہت بات کر لیا کرتی تھی۔۔۔۔
” تمہارا بخت بہت اونچا ہے ذوالنون۔۔بہت اونچا ۔۔اتنا اونچا کی تمہیں زمین پر کھڑے لوگ دیکھائی نہیں دیتے۔۔۔۔۔۔”
شیشے کے پار سڑک کو دیکھتے وہ یاسیت سے بڑبڑائی۔۔۔۔۔آنکھوں میں نمی سی چمکی۔۔۔۔جس میں گئے برسوں کے کسی عکس کے ٹوٹے کانچ تھے۔۔۔۔۔جن کی چھبن نے اسکے دل اور روح کو لہولہان کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
ہاتھ مسلتے وہ فائل کی طرف متوجہ ہو گئی کہ کام بھی تو کرنا تھا۔۔۔۔وہ اس سب سے مطمئن تھی۔۔۔۔لیکن یہ اطمینان کب تک رہنا تھا یہ صرف وقت نے طے کرنا تھا۔۔۔۔۔
” بخش حیدر آباد کی برانچ کے منیجر کو کال ملائو۔۔۔۔ پتا کرو وہاں کی پراگرس۔۔۔۔”
ماسٹر چیئر پر بیٹھا وہ فائل کی ورق گردانی کرتا سامنے کھڑے بخش سے بولا جس پر وہ یس سر کہتا باہر نکلتا چلا گیا۔۔۔۔۔
نیوی بلیو شرٹ تلے وائٹ جینز اور وائٹ کوٹ پہنے وہ بالوں کو سیٹ کیے کافی سنجیدہ لگ رہا تھا۔۔۔۔گزرے دنوں کی اذیت کا شائبہ تک نا تھا۔۔۔۔وہ ایسا ہی تھا اپنا درد کسی پر کم ہی آشکار کرتا تھا۔۔۔۔۔۔پیروں کو نیوی بلیو ٹسلز شوز میں مقید کیے وہ بظاہر مکمل لگ رہا تھا ۔۔۔۔مگر اسکے اندر کتنا بڑا خلا تھا یہ صرف اسکا رب اور وہ جانتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
وہ کس اذیت کا شکار تھا یہ اس نے کبھی کسی کو محسوس ہونے نہیں دی۔۔۔۔۔مغرور آنکھیں ہمہ وقت بے تاثر رہتیں تھیں۔۔بےجان،خالی اور سرد۔۔۔۔۔۔۔۔وجیہہ چہرہ سپاٹ رہتا تھا۔۔۔۔۔۔جو کسی کوکم ہی اسکے اندر جانکنے دیتا تھا۔۔۔وہ پہیلی تھا ۔۔جسے سلجھانے کی کوشش میں ہر کوئی الجھ کر رہ جاتا تھا۔۔۔۔۔۔
” اتنے دن ہو گئے ہیں تم آئی نہیں میرے خواب میں؟؟۔۔کیوں؟؟؟؟۔۔”
بے زاری سے پن ٹیبل پر پٹختے وہ بے چینی سے گویا ہوا۔۔لیکن جواب نہیں آیا۔۔اسے اپنے اعصاب چٹختے محسوس ہوئے۔۔۔۔جس نے اسے مزید ڈپریس کیا۔۔۔کئی دن ہو گیے تھے اسے خواب نہیں آیا تھا اور اگر آیا بھی تھا تو اس میں اسکا وجود غائب ہوتا تھا ۔۔۔جسکی اسے دھیرے دھیرے عادت ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔تب سے ہی اسکی بے چینی میں اضافہ ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔
” میں کسی دن پاگل ہو جائوں گا۔۔۔افف۔۔۔۔”
سر ہاتھوں میں گراتے وہ کرب سے بولا اور پلکیں موند لیں۔۔۔۔مگر پلکوں کے پیچھے ابھرتے دلکش چہرے نے بے ساختہ ایک دلفریب مسکراہٹ اسکے لبوں پر سجائی تھی۔۔۔۔اعصاب بے ساختہ ڈھیلے پڑے تھے۔۔۔۔۔ایک سکون کی کی لہر پورے وجود میں دوڑ گئی جس نے اسے ہلکا پھلکا کر دیا۔۔۔۔۔۔
