Ramaad Al Hubb by Sara Shah readelle50009 Episode 18
Rate this Novel
Episode 18
” میں جانتی ہوں مجھ سے بڑھ کر کوئی گنہگار نہیں۔۔۔لیکن میں پھر بھی تجھ سے مدد کی طلبگار ہوں میرے اللہ!۔۔مجھ پر رحم فرما۔۔۔مجھے اس اذیت سے نجات دے دے۔۔۔۔رحم کر مالک۔۔۔۔”
ہچکیوں سے روتے وہ رات کے تیسرے پہر اس ذات کو اپنا درد سنا رہی تھی جو بے خبر نہیں تھا۔۔۔جو اسکی ہر اذیت اور درد کا گواہ تھا۔۔۔وہ اسکی شہہ رگ دے بھی قریب تھا تو کیسے ممکن تھا انجان رہتا۔۔۔۔۔۔
کپکپاتا،لرزتا بدن اسکے شدت غم کا غماز تھا۔۔۔۔۔گال بری طرح بھیگ چکے تھے۔۔۔۔۔۔اور آنکھیں سمندر لٹاتیں سوج چکیں تھیں۔۔۔۔۔۔لیکن درد تھا کہ کم ہی نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
” کیا یہ ضروری ہے اللہ۔۔۔کہ ہر بار میں آزمائی جائوں۔۔۔مجھ میں ہمت نہیں ہے۔۔۔اسکا سامنا کرنے کی۔۔۔۔۔میں نہیں کر پائوں گی۔۔۔۔۔۔”
یاسیت سے سوچتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔اتنے عرصے سے وہ صرف اسی لیے تو چھپ رہی تھی کہ جانتی تھی ایک بار وہ ستمگر سامنے آگیا تو وہ برداشت نہیں کر پائے گی۔۔۔۔۔دل پر بندھے پہرے ٹوٹ جاتے ۔۔جو ایک مدت لگا کر اسنے قائم کیے تھے۔۔۔۔۔
” میں بہت کمزور ہوں اللہ!۔۔۔۔مجھ پر رحم فرما۔۔۔۔”
ہچکولے کھاتے بدن سمیت وہ۔اپنی کمزوری کا اعتراف کر رہی تھی۔۔۔۔۔باہر پھیلی چاندنی بھی اس کے غم پر ملول تھی۔۔۔۔۔لیکن آسمانوں پر اسکی آسانی کا حکم دے دیا گیا تھا یا نہیں یہ وقت نے طے کرنا تھا۔۔۔۔۔۔
وقت سے بڑ کوئی مرہم نہیں اور وقت سے بڑا ظالم بھی کچھ نہیں۔۔۔۔اب دیکھنا یہ تھا کہ فاطمہ کے لیے وقت مہربان ہونا تھا یا پھر ظالم۔۔۔۔۔۔
ستر مائوں سے زیادہ محبت کرنے والی ذات کیسے ممکن تھا کہ اسے بے یارومددگار چھوڑ دیتی۔۔۔۔اسکا مسیحا کیسے چنا گیا تھا۔۔۔یہ اب وقت ہی نے طے کرنا تھا۔۔۔تب تک صرف صبر تھا جو رہ جاتا تھا۔۔۔لیکن اب ایسا لگ رہا تھا کہ فاطمہ کے لیے صبر کرنا مشکل ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
” میں اس سب پہ راضی میرے مالک۔۔۔جو تو نے میرے لیے طے کیا۔۔۔۔”
گہرا سانس لے کر وہ بہتے آنسوئوں سمیت کپکپاتی مگر مضبوط آواز میں بولی۔۔۔۔۔۔دل میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہیں تھیں۔۔۔مگر لب شکر پروردگار کا کلمہ پڑھ رہے تھے۔۔۔یہی تو نشانی تھی اللہ کے چنے ہوئے لوگوں کی۔۔۔جو ٹھوکر کھا کر مزید پستیوں میں نہیں گرتے بلکہ چوٹ کھا کر سنبھل جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
” سر!!۔۔ بڑے سر کا فون آیا تھا آپ غالبا انکی کال رسیو نہیں کر رہے۔۔۔۔”
وہ آرام دہ خلیے میں وہیل چیئر پر بیٹھا کافی پیتے سامنے کھڑکی سے نظر آتے آسمان کو دیکھ رہا تھا۔۔جب اسکی محویت کو بخش کی آواز نے توڑا۔۔۔۔۔
” ہمم۔۔میں کر لوں گا کال۔۔۔تم اب ریسٹ کرو۔۔۔۔”
کافی کے سپ لیتے وہ سرد لہجے میں بولا۔۔۔اسکے دوٹک لہجے پر کچھ کہے بنا وہ سر ہلا کر باہر نکل گیا۔۔۔۔
اسکے جاتے ہی ذوالنون نے کپ سامنے ٹیبل پر پٹخ دیا۔۔۔ خفیف سے اشتعال نے پورے وجود کا احاطہ کیا ہوا تھا۔۔۔وجہ؟؟؟۔۔۔وجہ سے تو وہ خود بھی ناواقف تھا۔۔۔۔جانتا ہوتا تو وجہ کو ہی ختم کر دیتا۔۔۔۔لیکن کچھ سمجھ آتا تب نا۔۔۔۔۔
یہاں آتے ہی ایک عجیب سی بے چینی پورے وجود کا احاطہ کر لیتی تھی۔۔۔پچھلے کئی سالوں میں وہ بارہا یہاں آیا تھا۔۔۔تب تو ایسی حالت نہیں ہوئی۔۔لیکن پچھلی بار کی طرح اس بار بھی اسکا موڈ غرق ہو چکا تھا۔۔
” یہ سب اس لڑکی کی وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔نا وہ میری گاڑی سے ٹکراتی اور نا ہی یہ سب ہوتا۔۔۔۔”
طیش سے سوچتے اسنے سارا ملبہ فاطمہ پر گرا دیا۔۔۔۔۔اور یہ کسی حد تک سچ بھی تھا وہ اسی کی وجہ سے بے چین تھا۔۔۔۔کچھ تھا جو عجیب تھا۔۔ لیکن کیا؟؟۔۔یہ بات وہ ابھی سمجھ نہیں پایا تھا۔۔۔۔۔لیکن بہت جلد وہ وجہ سامنے آنے والی تھی جس نے اسکی ذات تک کو ہلا دینا تھا۔۔۔۔۔
” بہت ہی بری بات ہے بھائی صاحب۔۔۔ان لوگوں کو کچھ ہوتا بھی نہیں جو کسی کے جگر گوشوں کو چوٹ پہنچاتے ہیں۔۔۔۔۔”
وہ اس وقت آصف ولا میں بیٹھیں تھیں۔۔۔ابیہا اور ولید ساتھ تھے۔۔۔صرف زری تھی جو یونی گئی ہوئی تھی۔۔۔اور یہ اچھا ہی تھا کہ اسکا سامنا وقاص سے نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔
” ہمم۔۔۔کیا کہہ سکتے ہیں۔۔۔”
سگار کے کش لیتے آصف صاحب سنجیدگی سے بولے۔۔۔۔اپنے بیٹے سے وہ واقف تھے۔۔وہ کہاں تک معصوم تھا یہ بات ان سے چھپی ہوئی نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔تبھی ریلکس تھے۔۔۔۔
” اللہ قہر نازل کرے ان پر جنہوں نے میرے بیٹے کا یہ حال کر دیا۔۔۔۔۔”
اب کے رابعہ بیگم رنجیدگی سے بولیں۔۔۔۔۔وقاص آرام کر رہا تھا۔۔۔
” زری کہاں ہے پھپھو؟؟کافی لیٹ نہیں آتی وہ۔۔۔۔۔۔”
اب کے فاریہ بولی۔۔۔اسکے لہجہ کا طنز بخوبی زاہدہ بیگم تک پہنچ گیا۔۔۔۔لب بھینچ کر انھوں نے آصف صاحب کو دیکھا جو نظریں چرا گئے تھے۔۔۔۔۔۔
” روز 4 بجے آ جاتی ہے فاریہ بیٹے۔۔بس سے آتے اتنا ٹائم لگ جاتا ہے۔۔۔۔۔”
دھیمے لہجے میں صفائی پیش کی۔۔۔دل میں درد کی لہر اٹھی تھی۔۔سگے ماں جائےکی بے حسی دیکھ کر۔۔۔۔
” خیال رکھا کرو زاہدہ۔۔بچی جوان ہو چکی ہے۔۔۔۔۔”
اب کوڑا رابعہ بیگم نے برسایا تھا۔۔۔جو ان کی روح کو تڑپا گیا۔۔۔۔وہ کہنا چاہتیں تھیں کہ فاریہ رات گئے باہر جاتی ہے تب جوانی کہاں ہوتی ہے۔۔۔۔لیکن کہہ نا سکیں۔۔۔۔ صبر کا پیالہ پیتے وہ خاموشی سے سر ہلا گئیں۔۔۔۔ابیہا نے کچھ کہنا چاہا مگر ماں کی تنبیہ کر لب سی گئی۔۔۔۔۔۔
انھیں یوں شکستہ دیکھ کر رابعہ بیگم کو تسکین سی ملی۔۔۔تبھی تو لب مسکرا اٹھے تھے۔۔۔۔۔۔اور اس مسکراہٹ نے زاہدہ بیگم کو نڈھال کر دیا۔۔۔۔۔تبھی سرعت سے اجازت چاہی۔۔۔۔۔۔جو انھوں نے بخوشی دے دی۔۔۔۔۔جو کرنا تھا وہ تو وہ کر چکیں تھیں اب رہ کیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
” امی آپ نے مجھے بولنے کیوں نہیں دیا؟؟۔۔۔”
باہر آتے ہی ابیہا پھٹ پڑی۔۔۔جا پر انھوں نے گہرا سانس لیتے ان دونوں کو اپنے حصار میں لیتے مدھم لہجے جو درخواست کی وہ ان کے لب ہمیشہ کے لیے بند کر گئی۔۔۔۔۔
” میں سالوں سے بھرم کی دیوار قائم کرتی آرہی ہوں ابیہا۔۔۔اور میں نہیں چاہتی کہ میری اولاد کے منہ سے نکلا ایک بھی لفظ میرے اور بھائی صاحب کے رشتے کا بھرم توڑ دے۔۔۔میرے صبر کو رائیگاں مت جانے دو ۔۔۔۔”
نم آنکھوں میں ٹوٹے کانچ کی کرچیاں تھیں۔۔جو ان کی روح کو لہولہان کر گئیں۔۔۔۔۔لیکن صبر لازم تھا۔۔اور اس پر ثابت قدم تھیں۔۔۔۔۔
اندر قہقے لگاتے وہ نفوس انجان تھے کہ وہ اپنی انا می کتنے دل توڑ چکے ہیں۔۔۔۔۔۔جس کا حساب وہ ذات ضرور لے گی جو بے نیاز ہے۔۔۔۔۔
لیکن اندر وقاص کے دل میں جوار بھاٹا ابل رہا تھا۔۔۔اسنے ایک بار پھر انھیں آزمائش کی بھٹی میں جلانا تھا۔۔۔۔۔
کل جو کچھ بھی ہوا تھا اس نے اسکے دماغ میں آتش فشاں بھڑکا دیا تھا۔۔۔۔اب اس آتش فشاں نے کیا کچھ بھسم کرنا تھا یہ راز تھا۔۔۔۔۔۔لیکن اس ذلت نے زری کی قسمت پر اتنی سیاہی تھوپ دینی تھی جسے وہ اپنے خون سے بھی صاف کرتی تو بھی نشان رہ جاتا۔۔۔۔۔۔۔
زندگی صدا پھولوں کی سیج نہیں رہتی۔۔۔یہ بات آج وہ نئے سرے سے سمجھ رہی تھی۔۔۔۔کاریڈور میں چلتے اسکے قدموں میں ہلکی سی لڑکھڑاہٹ تھی۔۔۔۔۔اور پیشانی پسینے سے تر۔۔۔سیاہ حجاب بھی نم تھا۔۔۔۔۔آنکھوں میں ہراس اور خوف کی لمبی داستان رقم تھی۔۔۔۔۔
جس عفریت سے وہ سالوں سے بچتی آرہی تھی۔۔۔وہ آج منہ کھولے اسکے سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔ اور بچنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔۔۔۔۔
11 بجے وہ آفس میں آیا۔۔۔فاطمہ تب اپنے آفس میں تھی۔۔۔ہمت ہی کہاں تھی باہر جانے کی۔۔۔لیکن اب جب پیون اسے میٹنگ روم میں بلانے آیا تو اسکے ہوش صحیح معنوں میں اڑے تھے۔۔۔۔۔۔پانی کا پورا گلاس پی کر وہ اللہ کا نام لیتی میٹنگ ہال کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔۔۔
ڈور ناب پر ہاتھ رکھتے اسکے ہاتھوں میں واضح لغزش تھی۔۔۔۔۔
” یا اللہ رحم۔۔۔ “
دل میں اللہ کو پکارتے وہ دھیرے سے دروازہ وا کرتی اندر داخل ہو گئی۔۔۔۔۔۔
وہ فائل پر نظر دوڑا رہا تھا۔۔جب اچانک اسکے دل کی دھڑکن بڑھی۔۔۔چونک کر سینے پر ہاتھ وہ بے چین ہوا۔۔۔۔۔۔مغرور آنکھوں میں اچنبھا سا ابھرا۔۔۔ عنابی لب بھینچ کر اسنے نگاہ پورے ہال دوڑائی۔۔ کہیں بھی کچھ غیر معمولی نہیں تھا۔۔۔۔۔
لیکن پھر بھی کچھ تو تھا۔۔۔۔۔جبڑے کس کر وہ سر جھٹک کر فائل کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔تبھی دروازہ کھلا۔۔۔۔۔۔گردن گھما کر دائیں جانب دیکھتے وہ پتھر کے مجسمے میں ڈھل گیا۔۔۔۔۔
سیاہ عبائے،سکارف اور نقاب میں وہ جو کوئی بھی تھی۔۔ایک پل کو اسے اسی صحرا میں لے گئی جہاں ” وہ ” اسکے سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔۔فرق صرف یہ تھا کہ ” وہ ” اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھی اور یہ سر جھکا کر ۔۔۔۔۔۔۔۔
فرق تھا تو صرف یہ۔۔ورنہ ایک پل کے لیے تو اسے لگا دل اچھل کر باہر آجائے گا۔۔۔اپنی حالت پر قابو پاتے اسنے خشمگیں نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔
” ٹائم کی قدر کرنا سیکھیں۔۔۔۔۔یہ وقت نہیں ہے اندر آنے کا۔۔۔۔میں ایسی غیر زامہداری پسند نہیں کرتا۔۔۔مائینڈ اٹ۔۔۔۔”
گھور کر اسے دیکھتے وہ خوامخواہ اس پر برسا۔۔۔اسکی جھکی پلکوں نے اسے مضطرب کر دیا تھا۔۔۔تبھی غصے سے گویا ہوا کہ کیسے بھی وہ اسکی طرف دیکھے۔۔۔۔۔
اسکی بلاوجہ کی جھاڑ نے فاطمہ کو بوکھلا دیا۔۔۔۔سالوں بعد اسکی آواز سماعت میں اتری تو ایک پل کے لیے دل دھڑکنے سے انکاری ہوا۔۔۔۔۔۔خلق میں کچھ اٹکا تھا۔۔۔ کافی دیر اسکے سر نا اٹھانے پر وہ جھنجھلا کر مینجر کی طرف متوجہ ہوا جو اسے کچھ دکھا رہا تھا۔۔۔۔۔
تیزی سے بھیگتی آنکھوں کو اٹھا کر اسنے مقابل کو دیکھا تو اسے لگا وہ پتھر ہو گئی ہو۔۔۔۔ڈارک بلیو شرٹ پہنے بال نفاست سے سیٹ کیے بلیک جینز پر سیاہ ہی کوٹ پہنے وہ ویسا ہی تھا جیسے وہ سالوں پہلے تھے۔۔۔۔وہی تمکنت،رعب،سنجیدگی اور وجاہت۔۔۔کچھ بھی تو نہیں بدلہ تھا۔۔۔اگر کچھ بدلہ تھا وہ فاطمہ کی اپنی ذات تھی۔۔۔۔۔نینوں کی پیاس بڑھتی گئی تو نظریں اسکے وجود کا طواف کرتے پھسلتیں اسکے پیروں پر آ رکیں۔۔۔۔۔۔ایک پل کے لیے حقیقتا فاطمہ کی سانس رکی تھی۔۔۔۔وہ ساکت رہ گئی۔۔
اور وجہ؟؟ وجہ وہ خوبصورت پائوں تھے جو بلیو ٹسلز شوز میں مقید وہیل چئیر کے فوٹرز پر دھرے تھے۔۔۔۔۔۔۔
ساتوں آسمان اسکے سر پر ٹوٹے تھے۔۔۔۔۔ وہ مر بھی جاتی تو یقین نا کرتی کہ وہ خوبصورت شخص جو کبھی زیست کا حاصل ہوا کرتا تھا۔۔۔۔محتاج ہو چکا تھا۔۔۔۔ وہ شخص جو چلتا تو اسے لگتا کہ اسکے دل پر چل رہا ہو۔۔۔۔اسے آج اس حال میں دیکھ کر آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔۔۔۔ناجانے کتنے آنسو ٹھٹھر کر اسکی پلکوں کی دہلیز پر رک گئے۔۔۔۔۔۔۔
” فاطمہ کم آن اندر آئو۔۔۔۔ “
کسی نے اسے مخاطب کیا تھا لیکن وہ ہوش میں ہوتی تو جواب دیتی۔۔۔۔وہ تو یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔جس سے نفرت کا دعویدار اسکا دل تھا۔۔لیکن پھر اس دل میں اسکی حالت دیکھ کر اذیت کا طوفان کیوں اٹھا تھا؟؟۔۔۔وہ یہ نا سمجھ سکی۔۔۔۔۔۔
خالی نظروں سے اسے دیکھتے اسے لگا وہ گر رہی ہے۔۔غم کی شدت تھی یا حیرت کی انتہا لیکن پل میں اسکے حواسوں نے ساتھ چھوڑا تھا۔۔ ہاتھ بڑھا کر کچھ تھامنے کی ہمت بچی ہی نہیں تھی۔۔۔تبھی خود کو گرنے دیا۔۔۔برسوں پہلے وہ اسی شخص کی بدولت عرش سے فرش پر گری تھی۔۔۔۔لیکن آج وہ اسی شخص کی بدولت گر کر پاش پاش ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔
زمیں پر گرتے ہی اسکی آنکھیں بند ہوتیں چلیں گئیں۔۔۔۔کتنے آنسو بے مول ہوتے کنپٹیوں میں جذب ہو گئے۔۔۔۔
دھڑام کی آواز پر وہ لمحے کے ہزارویں حصے میں چونکا تھا۔۔۔۔۔مڑ کر دائیں طرف دیکھا تو وہ لڑکی بے ہوش پڑی تھی۔۔۔
