Ramaad Al Hubb by Sara Shah readelle50009 Episode 06
Rate this Novel
Episode 06
” سر میم بے ہوش گئیں ہیں۔۔۔اب کیا کروں؟؟۔۔۔”
اسنے کھڑے قد سے اسے گرتے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔۔۔۔دل پتہ نہیں کیوں دھڑک سا اٹھا تھا۔۔۔۔ایک سرد لہر ذوالنون کی رگ و پے میں دوڑ گئی تھی۔۔۔۔وہ گم صم تھا کہ ڈرائیور کی بات پر بے ساختہ چونکا۔۔۔۔
” ہمم۔۔۔۔ایسا کرو انھیں گاڑی میں بیٹھائو ہاسپٹل چلتے ہیں۔۔۔۔۔”
لبوں پر زبان پھیرتے وہ سنجیدگی سے بولا جس پر بخش سرعت سے فاطمہ کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔
” نزدیک کسی ہاسپٹل لے چلو۔۔۔”
فاطمہ کو پیچھلی سیٹ پر لیٹا کر بخش کے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہی وہ بولا۔۔۔۔ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔۔۔دل کی حالت عجیب تھی جس نے پل بھر میں اسے بے چین کر دیا تھا۔۔۔۔۔اسکے حکم پر سر ہلاتے بخش نے سرعت سے گاڑی آگے بڑھائی تھی۔۔۔۔۔۔
سیگریٹ سلگا کر لبوں سے لگاتے اسکا ذہن منتشر تھا۔۔۔۔طرح طرح کے خیالات ذہن میں گردش کرتے حقیقتا اسے مضطرب کر رہے تھے۔۔۔۔۔مغرور آنکھیں سامنے دیکھتیں پرسوچ انداز میں سکڑیں ہوئیں تھیں۔۔۔۔۔وہ ٹھیک تھی اچھی بھلی کھڑی ہوئی تھی مگر پھر اسے دیکھ کر اسکا بے ہوش ہونا کافی عجیب تھا۔۔۔۔۔
” سر ہاسپٹل آگیا۔۔۔۔”
وہ ناجانے کب تک خیالوں میں گم رہتا کہ ڈرائیور کی آواز پر ہوش میں آیا۔۔۔۔۔
” ہاں۔۔آوکے تم ایسا کرو انھیں اندر لے جائو ایڈمٹ کروائو سارے بل کلئیر کر کے 20 منٹ میں واپس آئو۔۔۔۔اور ہاں ان خاتون کے گھر اطلاع بھی کر دینا ۔۔۔۔۔اب جائو۔۔۔”
سرد لہجے میں ساری بات بخش کو سمجھاتے وہ چہرے کا رخ موڑتے سیگریٹ کے کش لینے لگا۔۔۔۔۔۔
وارڈ بوائے اور نرس کی مدد سے بخش اسے اندر لے جا چکا تھا۔۔۔۔ذوالنون کی پرسوچ نظروں نے داخلی دروازے تک انکا پیچھا کیا تھا۔۔۔۔۔ناجانے کیوں اسکے جاتے ہی اسے لگ رہا تھا جیسے اسکا دل خالی ہو گیا ہو۔۔۔۔۔اشتعال کی ایک لہر اٹھی تھی جسنے پل میں اسکا چہرہ سرخ کر دیا۔۔۔۔۔بے چینی حد سے سوا تھی۔۔۔جب جب اسے بے بسی محسوس ہوئی تھی اسکے غصے کا گراف بلند ہو جاتا تھا ۔۔اور پچھلے کچھ سالوں میں اس نے ضبط کرنا چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔۔
ایسی صورت میں اسکا غصہ سب کے لیے قہر ثابت ہوتا تھا۔۔۔ایسی حالت میں ہمیشہ وہ اپنا نقصان کرتا تھا۔۔۔۔لیکن اب آج اس وقت گاڑی میں بیٹھے بیٹھے اسے پھر سے ڈپریشن کا دورہ پڑا تھا۔۔۔۔۔اور اس سے پہلے وہ کسی آتش فشاں کی طرح پھٹتا سامنے سے بخش آتا دیکھائی دیا۔۔۔۔۔۔
” واٹ دا ہیل کہاں مر گئے تھے۔۔۔۔۔اتنی دیر ؟؟۔۔۔۔۔”
اسکے قریب آتے ہی وہ کسی لاوے کی طرح پھٹا تھا جس نے بخش کو بوکھلا دیا۔۔۔سرخ لہو مانند ہوتی آنکھوں سے اسے گھورتا وہ کسی طور نارمل نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔۔اسکی حالت نے بخش کو ہراساں کر دیا۔۔۔۔۔
” سوری سر۔۔۔۔۔دراصل وہ۔۔۔۔”
” شٹ اپ۔۔۔۔ٹو ہیل ود یور وہ۔۔۔۔اب چلو گے یا تمہیں فائر کر دوں؟؟۔۔۔۔”
اسنے منمنا کر واضاحت کرنی چاہی مگر وہ بے دردی سے اسکی بات کاٹ گیا۔۔۔۔لہجہ آگ برسا رہا تھا اسکے سر لہجے میں دی گئی دھمکی پر وہ دہل کر فورا اندر بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد گاڑی فراٹے بھرتی وہاں سے نکلی تھی۔۔۔۔جبڑے کس کر اسنے خون آشام نظروں سے بیک مرر میں ہاسپٹل کی بلڈنگ کو گھورا تھا۔۔۔۔۔آج اسی لڑکی کی وجہ سے اسنے پانا آپا کھویا تھا۔۔اور یہ سب ذوالنون کو آگ لگا رہا تھا۔۔۔۔
آج اسامہ کی کی گئی نوازش زری کو عجیب سے احساس سے دوچار کر گئی تھی۔۔۔۔۔اس دن تو لگ رہا تھا جیسے مار ڈالے گا مگر آج تو ایسے مہربان ہو رہا تھا جیسے وہ اسکا رشتہدار ہو۔۔۔۔۔اسکی سیاہ آنکھوں کی تپش اب بھی اسے اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔کچھ تو عجیب تھا جس نے اسکا دل دہلا دیا تھا۔۔۔۔۔لہجہ کچھ اور کہہ رہا تھا اور اسکی آنکھیں کوئی اور کہانی بیاں کر رہیں تھیں۔۔۔۔۔مگر یہ تو طے تھا یہ سب زری کے لیے نیا تھا اور کافی ڈرائونہ بھی۔۔۔۔۔
پورا دن اسکا ذہن لایعنی سوچوں کی آماجگاہ بنا رہا اور اب بھی پوائنٹ کے انتظار میں کھڑے وہ اسے ہی سوچے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
اپنے قریب سے ابھرتے مردانہ قہقوں کی آواز پر وہ کرنٹ کھا کر مڑی تھی۔۔۔۔۔شام کی چار بج رہے تھے۔۔۔اور سٹاپ پر رش بھی نہیں تھا اکا دکا لوگ تھے۔۔۔۔۔تبھی تو وہ 4 لڑکے بڑی دیدہ دلیری سے اسکے پیچھے اور دائیں بائیں کھڑے کب سے اپنی آنکھیں سینک رہے تھے۔۔۔۔
ان کے چہرروں سے چھلتی خباثت زری کو کپکپانے پر مجبور کر گئی۔۔۔اس طرح کی صورت حال کا اس نے سوچا تک نہیں تھا۔۔۔۔۔لاشعوری طور پر وہ بے ساختہ پیچھے ہٹی۔۔۔۔اسکے چہرے سے چھلکتا خوف اور دہشت سے پھٹی آنکھوں نے ان چاروں پر منکشف کر دیا کہ مقابل کتنے پانی میں ہے۔۔۔۔۔۔
” سو ڈئیر بےبی کہاں جانا ہے؟؟۔۔۔ بتا دو ہم چھوڑ آتے ہیں۔۔۔۔”
ان میں سے ایک بڑی جرآت سے قدم آگے بڑھاتا عامیانہ لہجے میں بولتا زری مزید خوفزدہ کر گیا۔۔۔۔بھوری آنکھیں بے ساختہ نم ہوئیں تھیں۔۔۔۔۔
” کک۔۔۔کہیں نن۔۔۔نہیں جانا۔۔۔۔۔آپ مم۔۔مجھے جانے دیں۔۔۔۔”
جی کڑا کرکے لڑکھڑتے لہجے میں بولتی وہ ان چاروں کو قہقہ لگانے پر مجبور کر گئی۔۔۔۔انکے قہقے نے مزید اسے ہراساں کر دیا۔۔۔۔۔۔کتنے ہی آنسو بے مول ہوتے اسکے گالوں پر بہہ آئے۔۔۔۔۔
” نا نا بی بی رونے کا نہیں۔۔۔۔۔۔آجائو ہمارے ساتھ ہم تمہیں گھر ہی چھوڑیں گے۔۔۔۔”
کمینگی سے بولتے وہ مزید اسکی طرف بڑھے۔۔۔۔انھیں یوں اپنی طرف بڑھتے دیکھ وہ بنا سمت کا تعین کیے سرعت سے بھاگی۔۔۔۔۔اسکی جرآت پر وہ چاروں تو کئی ثانیے تک حیران رہ گئے۔۔۔۔
” ابے سالو منہ کیا دیکھ رہے ہو بھاگی گئی ہے وہ سالی۔۔۔۔پکڑو اسے۔۔۔”
ہوش میں آتے ان میں سے ایک غرا کر کہتا اسکے پیچھے بھاگا۔۔۔باقی سب بھی اسکی تقلید میں زری کے پیچھے بھاگے جو بہتی آنکھوں سمیت تیزی سے بھاگتی پہلی گلی مڑ بھی گئی تھی۔۔۔۔۔۔
آنکھوں میں چھائی دھند نے منظر بے شک دھندھلا کر دیا تھا مگر اپنی عزت بچانے کی خاطر اسے بھاگنا تھا۔۔۔۔۔۔دل کی دھڑکن حد سے سوا تھی۔۔۔۔ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی بند ہو جائے گی۔۔۔ آنکھیں پونچھتے اسنے بے ساختہ پیچھے مڑ کر دیکھا اور یہیں پہ اسکا پائوں مڑا جس پر وہ منہ کے بل گرتی چلی گئی۔۔۔۔۔۔فضا میں ایک تیز نسوانی چیخ اور گاڑی کے ٹائروں کی چرچراہٹ ابھری تھی اور پھر فضا ساکت ہو گئی۔۔۔۔۔
وہ اور حیدر گھر جا رہے تھے۔۔۔پہلے حیدر کو ڈراپ کرنا تھا اور پھر گھر جانا تھا ۔۔۔۔ڈرائیونگ اسامہ کر رہا تھا۔۔۔۔
” میں صبح سے تم سے کچھ پوچھناچاہتا ہوں۔۔۔اب اگر آپ چاہیں تو کیا میں کچھ عرض کر سکتا ہوں؟؟۔۔۔۔”
اسے خاموشی سے ڈرائیو کرتے دیکھ حیدر سے رہا نا گیا تو بول پڑا۔۔۔۔۔جس پر سامنے دیکھتا اسامہ بے ساختہ چونکا۔۔۔۔
” اور اگر میں نا چاہوں تو کیا سوال نہیں پوچھو گے؟؟؟۔۔۔”
ایک نظر اسے دیکھ کر سامنے دیکھتا وہ عام سے لہجے میں بولا۔۔۔اسکی سنجیدگی گواہ تھی کہ وہ حیدر کے سوال سے واقف تھا۔۔۔۔۔اسکی بے نیازی نے حیدر کو آگ لگا دی۔۔۔۔۔
” جی نہیں آگر آپ نہیں چاہیں گے تو میں کچھ نہیں پوچھوں گا۔۔۔مگر مکہ مار کر تیر جبڑا ضرور توڑ ڈالوں گا۔۔۔۔۔۔”
دانت پیس کر بولتا وہ اسامہ کو مسکرانے پر مجبور کر گیا۔۔۔۔۔اسکی ہنسی نے مزید اسے تپایا۔۔۔۔۔۔
” دیکھ تو جانتا ہے میں جو پوچھنا چاہتا ہوں۔۔۔سو سیدھے طریقے سے مجھے جواب دے۔۔۔۔۔”
اسکی مسکراہٹ پر وہ تنک کر بولا۔۔۔۔ اب کے اسامہ بھی سنجیدہ ہوا۔۔۔۔۔
” دیکھ میں ایک بار بتا چکا ہوں بار بار دہرائوں گا نہیں۔۔۔ایک ہی بار اپنے دماغ میں فٹ کر لینا۔۔۔۔پہلی بات وہ مجھ سے معافی مانگ رہی تھی سو میں نے بھی بول دیا جائو معاف کر دیا۔۔۔۔۔اور دوسری بات مجھے آئیندہ اس موضوع پر کوئی بات نہیں کرنی تو سمجھ گیا ہو گا۔۔۔۔۔”
سامنے دیکھتا وہ سرد لہجے میں بولتا حیدر کی زبان تالو سے چپکا گیا۔۔۔۔۔۔
” تو نے صرف بولا اسامہ۔۔۔۔۔”
کافی دیر اسکا چہرہ دیکھنے کے بعد وہ دھیمے سے بولتا اسامہ کو ساکت کر گیا۔۔۔۔۔گردن موڑ کر اسے دیکھتے اسامہ کی سیاہ آنکھوں میں ایک آگ دہک رہی تھی۔۔جسکی تپش نے انھیں سرخ کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔
” اسامہ!!!۔۔۔۔۔۔۔۔”
یکلخت سامنے کسی کے آجانے پر حیدر چلایا۔۔۔۔۔اسکی چیخ پر سرعت سے اسامہ نے بریک لگائی تھی مگر تب تک وہ وجود سڑک پر گر چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
جھٹکے سے کار کا دروازہ کھولتے وہ باہر نکلا وہ سرعت سے اسکی طرف بڑھا جو نیچے پڑی کراہ رہی تھی۔۔۔۔۔اسکی بھوری شال دیکھتے ہی وہ پہچان گیا تھا کہ مقابل کون ہے۔۔وہ جلدی اسکی مدد کے لیے جھکا۔۔۔۔۔۔۔کسی کو اپنے سامنے بیٹھتے محسوس کرتے زری نے اپنا سر اٹھایا۔۔۔ بھیگی آنکھیں، کپکپاتے لب،بے ترتیب دوپٹہ اور خون آلود ہتھیلیاں۔۔۔۔۔اسکی مخدوش حالت نے پر اسنے لب بھینچ کرسامنے دیکھا جہاں وہ 4 لڑکے ڈھٹائی سے کھڑے سارا منظر دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔
” حیدر اسے گاڑی میں بٹھائو۔۔۔۔”
حیدر سے مخاطب ہوتے وہ انھیں سرد آنکھوں سے گھورتا کھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔اسکی بات پر حیدر سرعت سے اسکی طرف بڑھا جو کھڑا ہونے کی کوشش میں بری طرح لڑکھڑائی تھی۔۔۔۔۔
” مم۔۔۔میں چلی۔۔۔جائوں گی۔۔۔”
حیدر کو گاڑی کی طرف بڑھتے دیکھ وہ منمنائی۔۔۔اسکی دھیمی آواز پر اسامہ بل کھا کر پلٹا۔۔۔۔
” شٹ اپ۔۔۔۔جسٹ سٹ ان دا کار۔۔۔۔۔”
کسی درندے کا مانند غراتا وہ زری کو دہشت زدہ کر گیا۔۔۔جبکہ اسکی جنونی حالت نے حیدر کو حیران کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔
” اوئے ہیرو یہ ہمارے ساتھ جائے گی۔۔۔۔چھوڑ اسے۔۔۔”
کافی دیر سے انکی باتیں سنتا ایک دلیری سے بولتا حقیقتا اسامہ کو جلتی بھٹی میں پھینک گیا تھا۔۔۔۔۔اسکی اتنی غلیظ بات پر زری نے دل نے دھڑکن بند ہونے کی دعا کی تھی۔۔۔۔اتنی ذلت؟؟۔۔۔۔”
” پہلے خود تو جانے کے قابل ہو جائو پھر اسے بھی لے جانا۔۔۔۔۔”
جبڑے کس کر بولتے وہ ان چاروں کو خائف کر گیا۔۔۔۔۔لیکن پھر بھی دلیری کا مظاہرہ کرتے وہ اسکی طرف بڑھے مگر اسکے بھاری ہاتھ کے مکے تھپڑوں کا سامنا نہیں کر پائے۔۔۔۔15 منٹ بعد ہی اسکی شاندار دھلائی کی تاب نا لاتے ہوئے وہ سرعت سے وہاں سے مڑ کر بھاگے تھے۔۔۔۔۔۔
” بلڈی راسکلز۔۔۔۔۔”
اپنے بکھڑے بالوں میں ہاتھ چلاتے وہ انکی پشت دیکھتا غصے سے بڑبڑایا۔۔۔۔۔۔گاڑی کی کھڑکی سے سارا منظر دیکھتیں زری کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔۔۔وہ اکیلا ان چاروں پر بھاری تھا۔۔۔۔۔حیدر مزے سے اندر بیٹھا سارا منظر دیکھ رہا تھا۔۔۔
” ہمم۔۔۔ہاسپٹل چلو۔۔۔۔”
پیسنجر سیٹ پر بیٹھتے وہ سنجیدگی سے بولا جس پر حیدر نے سرعت سے کار آگے بڑھا دی۔۔۔۔۔۔اسکی یوں اپنی خفاظت کرنے پر زری کی آنکھیں نم تھیں۔۔۔۔کہاں دیکھا تھا اسنے اپنے لیے کوئی مخافظ۔۔۔۔مگر آج اسکے یوں مدد کرنے پر اسکا دل پگھل رہا تھا۔۔۔۔اللہ سے کسی مسیحا کو بھیجنے کی دعا کتنی جلدی قبول ہوئی تھی۔۔۔وہ اسکے لیے کسی مسیحا سے کم نہیں تھا۔۔۔۔اب بھی اسکا دائیاں کندھا دیکھتے اسکے لب بس کپکپا رپے تھے۔۔۔۔کچھ کہنے کی ہمت ہو ہی نہیں رہی تھی۔۔۔۔۔۔بھوری آنکھیں سمندر لٹاتیں کبھی اسکے ابل دیکھتیں کبھی اسکا کندھا اور کبھی وہ مضبوط ہاتھ جنہوں نے اسکی خفاظت کی تھی۔۔۔۔۔گھٹنوں اور ہتھیلیوں سے اٹھتا درد کہیں غائب ہو چکا تھا۔۔۔۔۔
خود پر ٹکی نظروں کو کافی دیر سے محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔ایک نظر بیک مرر سے پیچھے دیکھا تو اسے اپنی طرف دنیا مافیہا سے غافل گم پا کر ایک عجیب اور پراسرار مسکراہٹ اسے لبوں پر چھپ دکھکلا کر غائب ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
پتا نہیں کتنی دیر بعد وہ آنکھیں کھولنے کے قابل ہوئی تھی۔۔۔۔۔پلکیں چھپک چھپک کر ماحول کو جانچنا چاہا ۔۔۔سفید چھت سفید درودیوار سب کچھ اجنبی تھی۔۔۔۔۔۔
ذہن کے پردوں پر کچھ دیر قبل ہونے والا واقعہ رونما ہوا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔۔۔۔۔سامنے نرس اندر داخل ہو رہی تھی۔۔۔خو پر نظر دوڑائی تو وہ اپنے گائون میں تھی۔۔۔صرف سکارف ڈھیلا کیا گیا تھا نقاب بھی اتر چکا تھا جس نے اسکی دھڑکن ایک پل کو روکی۔۔۔۔۔
سرعت سے ہاتھ اٹھایا مگر ہاتھ کی پشتبسے ابھرتی ٹیسوں سے اسے سسکاری بھرنے پر مجبور کر دیا۔۔ہاتھ کی پشت دیکھتی تو سوئی گھونپی تھی ۔۔۔اور کندھا الگ تکیلف دے رہا تھا۔۔۔۔۔اسکی حالت دیکھ کر نرس سرعت سے اسکی طرف بڑھی۔۔۔۔
” میم کام ڈائون۔۔۔ پلیز یہ آپ کو ہرٹ کر دے گا۔۔۔۔”
اسکا ہاتھ تھامتے وہ کافی ملائمت سے بولی جس پر فاطمہ نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔اسکے چہرے پر اس وقت اتنے ہراساں تاثرات چھائے ہوئے تھے کہ ایک پل کو نرس بھی گھبرائی۔۔۔۔۔
” ریلیکس میم۔۔۔۔آپ جسٹ شاک کی وجہ سے بے ہوش ہوئیں تھیں۔۔۔باقی آپ کے کندھے پر کچھ چوٹ آئی ہے اس کے علاوہ آپ ٹھیک ہیں۔۔۔”
اسکی پریشانی اسکے بے ہوش ہونے سے مشروط کرتے وہ نرمی سے اسے تسلی دیتے گویا ہوئی۔۔۔۔۔۔
” مجھے یہاں کون لایا؟؟۔۔”
بمشل بولتے اسکا لہجہ انجانے خدشوں تلے دبا کانپ رہا تھا۔۔۔۔۔
” جی ایک صاحب آپ۔کو یہاں لائے تھے۔۔۔۔پیمنٹ کر کے وہ جا چکے ہیں آپ کے فون سے آپ کے گھر اطلاع دے دی گئی ہے۔۔۔ایک بڑی بی باہر آئی بیٹھیں۔۔۔۔میں انھیں اندر بھیجتی ہوں۔۔۔آپ ریلیکس رہیں۔۔۔۔”
اسے لیٹاتے وہ اسے تفصیل سے آگاہ کرتی مڑ کر باہر نکل گئی۔۔۔۔جبکہ پیچھے وہ اسے ابت میں آتک گئی تھی کہ وہ جا چکا تھا۔۔۔۔تو کیا وہ اسے پہچان نہیں پایا؟؟؟ یکلخت دل سے کوئی پہاڑ سرکاتھا۔۔۔۔ آنکھوں میں آج برسوں بعد اسے پھر سے دیکھ کر اذیت جاگی تھی۔۔۔دل میں ناقابل برداشت ٹیسیں اٹھیں تھیں۔۔۔۔۔۔کتنے ہی آنسو اسکی آنکھوں سے بہتے بے مول ہو گئے۔۔۔۔
بوا کو اندر داخل ہوتے دیکھ وہ سرعت سے اٹھ بیٹھی۔۔۔نیڈل کھینچ کر اتارتے وہ تیزی سے بیڈ سے اترتی انکے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔اسکے اتنے شدید ریکشن پر وہ حیران رہ گئیں۔۔۔۔۔
” فاطمہ میرے بچے۔۔۔۔۔۔”
” وہ لوٹ آیا بوا۔۔۔۔وہ لوٹ آیا۔۔۔۔”
اسکے ہیچکیاں لیتے وجود کو دیکھتے وہ پریشانی سے بولیں ہی تھیں کہ وہ ہذیانی انداز میں بولتی انھیں ساکت کر گئی۔۔۔۔۔اسے تسلی دینے کے لیے اٹھے ہاتھ بے جان ہوتے انکے پہلو میں گر گئے۔۔۔۔۔۔بوڑھی آنکھوں میں اذیت کا طوفان اٹھا تھا۔۔۔۔۔۔
