Ramaad Al Hubb by Sara Shah readelle50009 Episode 07
Rate this Novel
Episode 07
پورے راستے ایک عجیب سی بے چینی نے اسکے پورے وجود کا احاطہ کیے رکھا تھا۔۔۔۔دل میں ایک ہلچل سی مچی تھی۔۔۔۔صبح دیکھا گیا خواب نے پہلے ہی اسے چڑچڑا کیا ہوا تھا۔۔اور اب اس لڑکی سے ہوئی مد بھیڑ نے اسے مزید جھنجھلا دیا تھا۔۔۔۔
سیگریٹ پر سیگریٹ پھونکتے وہ خیالوں میں گم تھا کہ تیز ہارن پر بے ساختہ چونکا۔۔۔۔۔شدید غصے میں گھور کر بخش کو دیکھا جسنے فورا ہارن دے ہاتھ ہٹا دیا تھا۔۔۔۔
اسکی موجودگی میں کوئی بھی ہارن کا بے دریغ استعمال نہیں کرتا تھا کیونکہ ذوالنون جبیل کو یہ سخت ناپسند تھا۔۔۔۔
شور شرابہ،سوشل لائف اسے اس سب سے کٹے عرصہ بیت چکا تھا۔۔۔۔کامیاب بزنس مین ہونے کے باوجود وہ بہت کم کسی گیٹ ٹو گیدر کا حصہ بنا تھا۔۔۔۔۔اسنے اپنے گرد ایک ایسا خول چڑھا رکھا تھا جس میں کسی کی مداخلت اسے سخت ناگوار تھی۔۔۔۔۔
مسز جبیل اسکی اس حالت پر کڑھتے بستر سے جا لگیں تھیں۔۔۔۔اور اسے اس سب کا احساس بھی تھا مگر وہ کسی کو خوشی دینے سے قاصر تھا۔۔۔وہ تو اسے بھی خوشی نہیں دے پایا جسکی محبت اسکے وجود میں کسی امربیل کی طرح پھیل چکی تھی۔۔۔۔وہ اس سے اگر چھٹکارا حاصل کرتا بھی تو اس کے حصے میں سوائے بے جان وجود کے کچھ نا آتا ۔۔۔۔۔۔
برسوں بیت گئے تھے اسے دیکھے مگر وہ آج بھی اول روز کی طرح اسکے تخیل میں روشن تھی۔۔۔۔۔وہ بھیگی پلکیں آج بھی اسے سونے نہیں دیتیں تھیں جن میں آنسو خود اسکی دین تھے۔۔۔۔۔۔۔کیا کچھ نہیں تھا ان آنکھوں میں۔۔ دکھ،اذیت،مان ٹوٹنے کا احساس اور سب سے بڑھ کر بے حد نفرت جو اسے کسی کند چھری کی مانند کاٹتی تھی۔۔۔۔۔۔
اپنی اذیت اسکے سامنے کچھ بھی نہیں تھی جو وہ اسے دے چکا تھا۔۔۔۔۔تبھی تو وہ مطمئن تھا اپنی اس حالت سے۔۔کچھ تو ازالہ کر ہی سکتا تھا مگر وہ انجان تھا کہ اصل امتحان تو اب شروع ہوگا جس کی کاٹ اسکی روح تک کو تڑپا دے گی۔۔۔۔۔۔۔
” سر ہوٹل آچکا ہے۔۔۔”
اسے بخش کی مودب آواز نے سوچوں کے گرداب سے باہر نکالا تھا۔۔۔۔
” ہوں۔۔۔ہمم ٹھیک ہے۔۔۔”
دھیمے سے کہہ کر اسنے اپنی طرف کا دروازہ کھولا ۔۔تب تک بخش دوسری طرف سے نکل کر اسکی وہیل چئیر نکال چکا تھا۔۔۔۔۔وہیل چئیر کو دیکھتے ایک تلخ مسکراہٹ نے اسکے عنابی لبوں کا احاطہ کیا۔۔۔۔۔بےدردی سے مسکراتے وہ بخش کی مدد سے بیٹھنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔۔۔۔۔
” کل کی میٹنگ کینسل کروا دو۔۔۔میرا کہیں اور جانے کا کوئی موڈ نہیں ہے۔۔۔اور کل شام کی سیٹ بک کروا دو ہم کل واپس جا رہے ہیں۔۔۔۔۔”
وہ تحکم سے بولتا اندر کی جانب بڑھا۔۔۔اور اسکے پیچھے آتے بخش نے چونک کر اسکی پشت دیکھی۔۔۔۔۔وہ ایسا ہی تھا پل میں تولہ پل میں ماشا مگر آج اسکی طبیعت پر چھائی بے زاری عجیب ہی تھی۔۔۔۔۔اپنے کام کو لے کر وہ جنون کی حد تک سیریس تھا مگر آج صبح جو ایکسیڈنٹ ہوا اسکے بعد سے اسکے تیور ہی بدل گیے تھے۔۔۔۔۔۔بہر حال جو بھی تھا اسکے حکم کی تعمیل کرنی ہی تھی۔۔۔۔۔ کیونکہ اسکے فیصلوں میں ترمیم کی گنجائش نہیں ہوتی تھی۔۔۔۔۔
” یس سر۔۔۔۔”
” آئی کین مینج بخش۔۔۔”
اسے ہنوز اپنے پیچھے آتے دیکھ وہ بے ساختہ رکا۔۔۔۔مڑ کر اسے بے تاثر نظروں سے دیکھتے وہ سرد لہجے میں بولا۔۔۔۔اور اسکے ٹھنڈے ٹھار لہجے پر بخش خفیف ہوتا سر ہلا کر باہر نکل گیا۔۔۔۔اسے جاتے دیکھ وہ سر جھٹکتے کال ملاتا لفٹ کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔وہ جب بھی یہاں آتا یہیں رکتا تھا۔۔۔ہوٹل کا مالک اور سٹاف سب اسے جانتے تھے۔۔۔۔۔
اپنے کمرے تک آتے وہ کال پر جبیل صاحب سے اپنی ماں کی خیریت دریافت کر چکا تھا۔۔۔۔۔
” جی ڈیڈ میٹنگ میں نے اٹینڈ کر لی ہے۔۔اب باقی کا کام آپ کر لیجیئے گا۔۔۔کیونکہ میں کل واپس آ رہا ہوں۔۔۔۔
نو نو۔۔۔بس ایسے ہی طبیعت بیزار ہے۔۔۔ہمم۔۔۔ ٹھیک ہے کل ملتے ہیں۔۔۔۔۔اوکے اللہ خافظ۔۔۔۔۔”
میٹنگ کینسل کرنے کی سنجیگی سے اطلاع دیتے اسنے کوٹ اتارا۔۔۔۔۔اپنے لیے انکے فکرمند ہونے پر وہ انھیں تسلی دیتا کال ڈراپ کر گیا۔۔۔۔
سیل فون ٹیبل پر پٹختے وہ سائیڈ ٹیبل کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔سلیپنگ پلز کی بوتل نکالتے اسنے ایک ساتھ دو گولیاں پھانکی۔۔۔۔گہری آنکھوں میں ٹھنڈک تھی۔۔۔اور عنابی لب بھینچے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔سر جھٹکتے اسنے کھینچ کر اپنی شرٹ اتار کر نیچے پھینک دی۔۔۔۔۔اے سی کی سپیڈ فل کرتے اسنے جھک کر اپنے جوتے اتارے اور تھوڑی پس و پیش کے بعد بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
ہاتھوں کی مدد سے پیچھے سرکتے وہ لیٹنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔۔۔۔۔چھت کو دیکھتے اسکی نظریں بے تاثر تھیں۔۔۔۔خالی اور بے جان کسی جذبے کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔
” کاش تم میرے پاس ہوتیں۔۔۔۔۔تو میں تمہیں بتاتا کہ تمہارے بنا گزرا ہر لمحہ میرے لیے دو دھاری تلوار پر برہنہ پا چلنے کے مترادف ہے۔۔۔۔۔تم سے دوری میرے لیے موت ہے۔۔۔۔مگر پھر بھی میں زندہ ہوں کہ یہ میری سزا ہے۔۔۔۔اور مجھے اپنی سزا بخوشی قبول ہے۔۔۔۔کیونکہ اس طرح تم ہر پل میرے دل میں زندہ رہتی ہو۔۔۔۔۔۔جس دن میرے دل سے تمہارا خیال زرا سا بھی اوجھل ہوا وہ دن ذوالنون جبیل کی زندگی کا آخری دن ہوگا۔۔۔۔۔”
مدھم سا بڑبڑاتے اسکے لہجے میں محبت سلگ رہی تھی اور مغرور آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی۔۔۔جو دھیرے سے آنسو کی شکل اختیار کرتی اسکی کنپٹی میں جذب ہو گئی۔۔۔۔۔بے ساختہ تڑپ کر اسنے اپنی آنکھیں موند لیں جیسے وہ یہ نمی چھپانا چاہتا ہو۔۔۔۔مگر وہ زات تو واقف تھی جو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ۔۔۔۔۔
” بس بس صبر میری بچی۔۔۔۔وہ زات انسان کی برداشت سے زیادہ اس پر بوجھ نہیں ڈالتی۔۔۔۔”
بد وقت خود کو سنبھالتے وہ سنجیدگی سے بولیں۔۔۔انکی بات پر اسکے آنسوئوں میں مزید روانی آئی۔۔۔۔۔
” چلو بیڈ پر بیٹھو۔۔۔۔۔بدن مزید درد کرے گا۔۔۔چلو شاباش ۔۔۔۔۔”
اسکا چہرہ صاف کرتے وہ نرمی سے بولیں اور اسے سہارا دے کر بیڈ کی طرف بڑھیں۔۔۔۔نرمی سے اسے لیٹا کر انھوں نے اسکی پیشانی چومی۔۔۔۔۔۔
” وہ کہاں ملا تمہیں؟؟۔۔۔۔۔”
اسکے ہاتھ سے نکلتا خون روئی سے صاف کرتے وہ دھیرے سے بولیں۔۔۔۔
” اسی کی گاڑی سے ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔۔۔۔۔”
وہ جوابا مدھم سا بڑبڑائی۔۔۔بھیگی آنکھوں میں اذیت ہی اذیت تھی۔۔۔۔
” وہ آجائے گا بوا۔۔۔چلیں نا ہم۔۔ہم گھر چلتے ہیں۔۔۔”
دفتا وہ چونک کر وخشت سے بولتی بیڈ سے اترنے لگی۔۔۔۔۔
” وہ یہاں نہیں ہے فاطمہ۔۔۔جو آپکو یہاں لے کر آیا تھا وہ آپکو ایڈمٹ کروا کر جا چکا ہے۔۔۔۔”
اسے کندھوں سے تھام کر پھر سے لیٹاتے وہ نرمی سے بولیں۔۔۔۔۔اور انکی بات نے اسکے نیم مردہ تن میں جیسے جان پھونک دی تھی۔۔۔۔۔بے ساختہ آنکھیں موندیں۔۔۔۔۔لیکن بند آنکھوں کے پیچھے بھی وہی ہرجائی تھا جو اسکے اس حال کا زمہدار تھا۔۔۔۔۔دل میں ٹیس سی اٹھی تھی۔۔۔۔جس نے اسے تڑپا دیا۔۔۔۔۔انکا ہاٹھ تھامتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔۔اسے یوں بکھرتے دیکھ وہ لب بھینچ گئیں۔۔۔۔۔
” صبر رکھو فاطمہ کہ میرا رب صبر رائیگاں نہیں جانے دیتا ۔۔۔۔”
اسکے آنسو صاف کرتیں وہ میٹھے لہجے میں بولیں۔۔۔انکے لفظوں کی تاثیر فاطمہ نے اپنی روح تک اترتے محسوس کی تھی۔۔۔۔تبھی تو بہتے آنسو کی روانی میں کمی آئی۔۔۔۔۔
” وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکتا بوا۔۔۔ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔۔۔میں اسے پہنچنے ہی نہیں دوں گی آپ دیکھیے گا۔۔۔۔”
انکا ہاتھ تھامتے وہ لرزتے لہجے میں بولی۔۔۔۔۔ان سے زیادہ اسنے خود کو تسلی دی تھی۔۔۔اسکے بچگانہ خیال پر ایک درد بھری مسکراہٹ نے انکے لبوں کا احاطہ کیا۔۔۔وہ زات جو اتنے برسوں بعد انکا سامنا کروا سکتی تھی تو اس سے کیا توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔۔۔۔اور قدرت کے فیصلوں کے آگے کسی کی کب چلی ہے جو اسکی چلتی۔۔۔۔۔اب تو یہ قدرت نے طے کرنا تھا کہ انکا سامنا پھر سے ہونا تھا یا پھر تمام عمر کا ہجر ” اس ” کے مقدر میں لکھ چکا تھا۔۔۔۔۔
” جو ہوگا انشاءاللہ بہتر ہو گا فاطمہ۔۔۔۔”
اسے آنکھیں موندتے دیکھ وہ دھیرے بولیں۔۔۔۔ایک خیال سا دل میں اٹھا تھا ۔۔۔۔۔شاید رب العزت اسے پورا کر دیتا۔۔۔۔اسکے زرد مگر قدرے پرسکون چہرے کو دیکھتے انکے لب اسکے حق میں اچھائی کی دعائوں میں مشغول تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نجانے کتنی ہی دیر وہ اس میں گم رہی تھی کہ گاڑی کو لگنے والے جھٹکے پر چونک کر حواسوں میں آئی۔۔۔۔۔ارد گرد دیکھا تو وہ ایک پرائیوٹ ہاسپٹل کے سامنے رکے ہوئے تھے۔۔۔۔۔اسنے سامنے دیکھا تو دھک سے رہ گئی۔۔۔وہ مڑ کر پوری توجہ سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔۔سیاہ آنکھیں بھرپور انداز میں اس پر جمیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔
انکی تپش نے زری کے دل میں ہلچل مچائی تھی۔۔۔۔گال دہک اٹھے۔۔۔اور پلکیں بوجھل ہوتیں گالوں پر جھک آئیں۔۔۔۔اسکے چہرے پل پل بدلتے رنگ اسامہ کی نظروں سے پوشیدہ نہیں تھے۔۔۔۔۔
” باہر آجائیں محترمہ۔۔۔۔۔کیا یہیں قیام کا ارادہ ہے؟؟۔۔۔۔”
دلچسپی سے اسکی جھکی پلکیں دیکھتے وہ طنزیہ بولا۔۔۔۔لہجے میں ایک عجیب ہی تاثر تھا۔۔۔۔۔۔
” جی۔۔۔نہیں۔۔۔۔”
اسکے طنز پر بوکھلاتے وہ سرعت سے باہر نکلی۔۔۔مگر پیر میں آئی موچ نے اسے سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔۔۔اس سے پہلے وہ گرتی باہر کھڑے حیدر نے اسے تھام لیا۔۔۔۔اندر بیٹھے اسامہ نے چھبتی نظروں سے یہ منظر دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔تیزی سے باہر آتے اسنے ٹھاہ سے گاڑی کا دروازہ بند کیا تھا۔۔۔۔جس کی گونج پر وہ دونوں چونکے اور پارکنگ میں کھڑے کافی لوگوں نے مڑ کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔لیکن وہ اس سب سے بے نیاز تھا۔۔۔۔۔
” اب کیا ساری زندگی اسے اپنی بانہوں میں لے کر کھڑے رہو گے؟؟۔۔۔۔لٹ ہر گو۔۔۔اور اندر سے ہیلپ لے کر آئو۔۔۔۔۔”
اسے ہنوز حیدر کی بانہوں میں کھڑا دیکھ کر وہ سرد لہجے میں طنزیہ بولا ۔۔۔۔جس پر زری کا دل چاہا کاش زمیں پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔۔۔۔دہل کر پیچھے ہٹتے اسنے گاڑی کا سہارا لیا۔۔۔۔۔اور کھلے دروازے سے اندر بیٹھ گئی۔۔۔۔
” لاحول الولاقوت۔۔۔۔”
اساممہ کو خشمگیں نظروں سے دیکھتے وہ بڑبڑا کر اندر کی طرف بھاگا تاکہ نرسز کو بلا سکے۔۔۔۔۔۔
” نہایت بے ہودہ شخص ہے یہ۔۔۔۔”
بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھتے وہ غصے سے بولی۔۔۔اسکی بات نے کتنا شرمندہ کیا تھا اسے۔۔۔۔وہ بھلا اپنی مرضی سے اسکی بانہوں میں سمائی تھی۔۔۔۔کمبخت کتنا کڑوا بولتا تھا۔۔۔۔۔کچھ دیر پہلے کے تمام جذبات پانی کا بلبلہ ثابت ہوتے ہوا ہوئے۔۔۔۔اب تو اسکی بے ہودہ بات نے اسے طیش دلا دیا تھا۔۔۔۔۔اگر وہ اس وقت اسکے رحم و کرم پر نا ہوتی تو بتاتی اسے۔۔۔۔پیر اور ہتھیلیوں سے اٹھتی ٹیسوں پر اسکی بھوری آنکھوں کی نمی میں اضافہ ہوا۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف اسکی خود پر جمی بھوری آنکھوں کی تپش نے اسامہ کے عنابی لبوں پر مسکان سجائی تھی۔۔۔۔۔سیاہ آنکھوں میں ایک الگ ہی چمک تھی۔۔۔۔سیگریٹ پیتے اسکی سیاہ آنکھیں ایک غیر مرئی نقطے پر جمیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔
حیدر اور نرسز کو ویل چئیر لاتے دیکھ وہ چونکا اور سرعت سے اسکی طرف بڑھا۔۔۔۔۔اندر جا کے اسکا ٹریٹمنٹ ہوا۔۔۔جس میں انھیں آدھا گھنٹہ لگ گیا تھا۔۔۔۔۔بل وغیرہ اسنے کلیئر کر دئیے تھے۔۔۔۔۔وارڈ کے باہر کھڑے وہ اسکے فارغ ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔حیدر کی مسلسل خود پر جمی نظروں نے اسے بیزار کیا۔۔۔۔۔
” کم آن حیدر کیا مسلہ ہے؟؟۔۔۔”
قدرے جھنجھلا کر اسنے پوچھا۔۔۔۔۔۔
” یہ تو اب تم بتائو کیامسلہ ہے۔۔۔۔باہر کیا بول رہے تھے؟۔۔۔”
سینے پر ہاتھ باندھتے وہ تنک کر بولا۔۔۔اسکے لہجے پر اسکی صبیح پیشانی پر لکیریں ابھریں۔۔۔۔۔
” کیا بول رہا تھا؟؟؟ اب یوں اسے بانہوں میں لیے کھڑے رہو گے تو میں تمہیں پھولوں کے ہار نہیں ڈالوں گا۔۔۔۔نائو کیپ کوائیٹ ۔۔۔۔”
طنزیہ لہجے میں اسکی طبیعت صاف کرتے ڈاکٹر کے آنے پر وہ مزید اسے کچھ بولنے سے منع کرتا انکی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔پیچھے حیدر نے اسکی پشت کو پرسوچ انداز میں دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔
” ہم نے انکی ٹریٹمنٹ کر دی ہے۔۔۔آپ انھیں لے جا سکتے ہیں ۔۔۔۔اندر نرس آپکو انکی پریسکپشن دے گی۔۔۔۔”
ڈاکٹر پیشہ ورانہ انداز میں کہہ کر آگے بڑھ گئیں۔۔۔۔۔
” گاڑی نکالو۔۔۔”
حیدر سے کہتے وہ اندر بڑھا۔۔۔۔سامنے وہیل چئیر پر وہ پائوں لٹکائے بیٹھی تھی۔۔۔۔نرس سے پرچہ لے کر وہ اسکی چئیر گھسیٹتا باہر نکلا۔۔۔۔۔گاڑی میں وہ خود بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔
” تھینک یو سو مچ آگر آج آپ نا آتے تو ۔۔۔۔”
گاڑی کے مین روڈ پر آتے ہی اسکی دھیمی آواز گاڑی میں گونجی۔۔جس پر دونوں نے چونک کر بیک مرر سے اسے دیکھا جو سر جھکائے آنسو ضبط کر رہی تھی۔۔۔۔
” ہم نا آتے تو کوئی اور آجاتا ۔۔۔اٹس اوکے۔۔۔”
حیدر کے بولنے سے پہلے وہ اکھڑ لہجے میں سنجیدگی سے بولا ۔۔۔۔۔گھمبیر آواز میں ٹھہرائو تھا۔۔۔۔۔اسکی بات پر اسنے اپنی پلکیں صاف کرتے سر ہلا دیا۔۔۔۔اسکے بتائے گیے ایڈریس تک انکے درمیان مزید کوئی بات نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔اسامہ کے کہنے پر حیدر ہی اسکے گھر گیا تھا اسے چھوڑنے۔۔۔۔۔ونڈ سکرین کے پار اسکی سیاہ آنکھیں تب تک اسے دیکھتیں رہیں جب تک وہ موڑ مڑ نہیں گئی۔۔۔۔
” چاکلیٹ کوئین۔۔۔”
گاڑی کے پرسکوت ماحول میں اسکے عنابی لب بے خیالی میں دھیرے سے ہلے تھے۔۔۔۔۔سیاہ آنکھیں سامنے دیکھتیں ایک انجانی آگ کے باعث سلگ رہیں تھیں۔۔۔۔جس کی تپش نے انھیں سرخ کر دیا۔۔۔۔۔لب بھینچتے اسنے سرعت سے گاگلز چڑھائے تھے کہ سامنے سے حیدر آرہا تھا اسکے مزید کسی لایعنی سوالات کا جواب فلحال اسکے پاس نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
” چلو ۔۔۔۔”
اسکے بیٹھتے ہی وہ سنجیدگی سے دوٹوک بولا ۔۔۔جس پر حیدر نے سر ہلاتے گاڑی سٹارٹ کی۔۔۔۔اسکے دوٹوک انداز پر کئی سوالات حیدر کے لبوں پر دم ٹوڑ گئے۔۔۔۔گھر تک کا سفر خاموشی سے کٹا تھا۔۔۔۔
” میں ٹھیک ہوں امی۔۔۔آپ کیوں فکر کر رہی ہیں۔۔۔۔۔معمولی سا ایکسیڈنٹ تھا۔۔۔۔۔ “
انھیں روہانسا ہوتے دیکھ وہ نرمی سے بولی۔۔۔۔جب سے وہ اندر آئی تھی وہ اسکا نقش نقش چھوتیں روتے بے حال ہو رہیں تھیں۔۔۔۔حیدر اسے مین گیٹ تک چھوڑ گیاتھا۔۔۔۔اندر وہ خود آئی تھی۔۔۔۔اسامہ کی بے نیازی نے ایک کسک سی اٹھائی تھی دل میں مگر خیر اسکی اتنی مدد کے آگے اسکی یہ روڈنیس کچھ بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔
اگر آج وہ نا ہوتا تو ؟؟ یہ تو اسکی جان نکال رہا تھا۔۔۔۔۔گھر میں وقاص نے جان ہلکان کی ہوئی تھی اور اب باہر بھی وہ محفوظ نہیں تھی۔۔۔۔۔یہ خیال ہی کند چھری سے زبح کر رہاتھا کہ وہ سب اسے مفت کامال سمجھ رہے تھے ۔۔۔۔۔
“آگر کچھ ہو جاتا تو؟؟۔۔۔”
اسکی پٹی میں مقید ہتھیلی چومتے وہ بھیگی آواز میں گویا ہوئیں۔۔۔
” لیکن ہوا تو نہیں نا وہ زات کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیتی یہی کہتیں ہیں نا آپ؟؟؟ تو پھر کچھ اور کیسے ہو سکتا تھا؟؟۔۔”
انکے گلے لگتے وہ مضبوطی سے بولی ۔۔۔اسکا سر چومتے زاہدہ بیگم نم آنکھوں سے مسکرائیں تھیں۔۔۔۔۔انھیں اپنی یہ نازک سی بیٹی بے حد عزیز تھی۔۔۔۔
” کیا امی سارا پیار آپی کے لیے ہی رکھا کرو ۔۔۔مجھے اور ولید کو تو ہسپتال کی سیڑھیوں سے اٹھایا تھا نا۔۔۔”
کمرے میں داخل ہوتے سامنے کا منظر دیکھتی ابیہا نروٹھے پن سے بولی۔۔۔۔اسکی شکایت پر زاہدہ بیگم سمیت زری بھی مسکرائی۔۔۔۔
” نہیں بالکل نہیں۔۔۔۔تم دونوں تو میرے شہزادے اور شہزادی ہو۔۔۔۔یہاں آئو۔۔۔”
محبت سے لبریز لہجے میں بولتے زاہدہ بیگم نے دوسرا بازو اسکے لیے وا کر دیا۔۔۔۔جس میں بھاگ کر وہ آسمائی۔۔۔۔۔
” میں شہزادہ اور ابیہا کنیز۔۔۔”
پیچھے ان تینوں کے گرد حصار کھنچتے وہ شرارت سے بولا ۔۔۔۔۔
” نہیں تم تینوں تو میری کل کائنات ہو۔۔۔۔۔۔”
ولید کی پیشانی چومتے وہ ممتا سے چور لہجے میں بولیں۔۔۔۔بھیگی آنکھوں میں ریحان صاحب کی شبیہ روشن تھی جو انکی زندگی کا حاصل ہوا کرتے تھے۔۔۔۔یہ تینوں انکی نشانیاں تھے تو انھیں کیونکر عزیز نا ہوتے؟؟۔۔۔۔
