Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Mera Ishq Hai by Sara

زری آج ڈینر پہ غفان اور اسکی فیملی کو انوا ئیٹ کیا ہے کچھ اچھا سا بنا لینا توضیف نے کہا
اور زرنش کاموں میں لگ گٸ رات کو خوب اختمام کیا مہرون اور سکن کلر کے زری بہت پیاری لگ رہی تھی کھانے سے فارع ہونے کے بعد زرنش نے برتن سمیٹے اور چائے بنانے لگ گٸ
کھانا بہت مزے کا تھا غفان موقع دیکھ کے کچن میں آگیا
کچھ چائیے تھا زرنش نے پوچھا نہیں کچھ دینا تھا غفان نے جیب سے ایک خط نکالا اور اسکی جانب بڑھا دیا
سوری آپ اپنی اوقات میں رہو زرا سی بات کیا کر لی خود کو نجانے کیا سمجھنے لگے زرنش نے غصے سے کہا
پلیز ایک دفعہ پڑھو تو غفان نے التجایا نظروں سے اسکی طرف دیکھا
ایک بار کہی بات سمجھ نہیں آتی کیا
ارے یار تم یہاں کیا کر رہے ہو زرنش کے چھو ٹے بھاٸ ابراہیم نے کہا
کچھ نہیں بس ایسے ہی اس نے کاغذ شلف پہ رکھا اور ابراہیم کو لے کے چلا گیا زرنش نے کاغذ چھپا لیا
نفرت ہے مجھے اس شحض سے سمجھتا کیا ہے خود کو زرنش فاطمہ کوئی گری پڑی نہیں جو یوں ہی اس آوارہ کے جال میں پھنس جاۓ دل تو چاہ رہا تھا تپھر لگا دوں ایسی گھٹیا حرکت کے بعد اس نے روم میں آتے ہی کاغذ بیڈ پہ پینکا اور غصے سے بڑبراٸ
تھوڑی دیر بعد کاغذ کے ٹکڑے کرنے لگی تو سوچا ایک بار پڑھے تو سھی
ڈیر لو
ہاں وہی عشق و محبت کی جلا ہوتی ہے
جو عبادت در جاناں پہ ادا ہوتی ہے
جو گرفتار محبت ہیں یہ ان سے پوچھو
ناز کیا چیز ہے کیا چیز ادا ہوتی ہے
ان کی نظروں کی حقیقت کو کوئی کیا جانے
ان کی نظروں میں ہر اک غم کی دوا ہوتی ہے
کیوں نہ چہرے پہ ملوں خاک در یار کو میں
یہی وہ خاک ہے جو خاک شفا ہوتی ہے
رائیگاں سجدے بھی ہو جاتے ہیں مقبول کرم
شامل حال اگر ان کی رضا ہوتی ہے
جانے کیا چیز چھپی ہے ترے جلووں میں صنم
ساری دنیا تیرے جلووں پہ فدا ہوتی ہے
میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر کا طالب
تیرے کوچے میں مریضوں کو شفا ہوتی ہے
ان کے میخانے کو چھو آتی ہے جب فصل بہار
پھول کھل جاتے ہیں مستی میں ہوا ہوتی ہے
اے فناؔ ملتا ہے عاشق کو بقا کا پیغام
زندگی جب رہ الفت میں فنا ہوتی ہے
i love you
جب سے تمیں سکول کے سامنے دیکھا ہے کچھ اور بھاتا ہی نہیں ان آنکھوں کو کبھی بھولا نہیں پایا پھر جب سے تمہیں دیکھا تمہارا دیوانہ ہو گیا دل چاہتا ہے تمہیں ہی دیکھتا رہوں چند ہی دنوں میں اپنا بنا لیا ہے بس تم دل کو بھا گٸ ہو تمہارا ساتھ چاہیے پلیز میرے دل کی سن لو اور جواب ضرور دینا
تمہارا غفان
جواب تو تمہیں اچھے سے دوں گی مسٹر غفان تم نے مجھے ابھی جانا ہی نہیں مجھے قاہل کرنا بھی آسان نہیں اسنے غصے سے خط کو پھنکا
اگلے ہی دن وہ آگیا تو زرنش نے اس کا خط اسکے سامنے پھاڑا اور چہرے پہ مارا یہ رہا تمہارے خط کا جواب اور تمہارے دل کی اوقات میرے سامنے اتنی ہی ہے زرنش نے کہا اور چلی گٸ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *