Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Mera Ishq Hai (Episode 01)

Wo Mera Ishq Hai by Sara

مما مجھے عالمہ کا کورس کرنا ہے میٹرک کے بعد زرنش نے اپنی ماں سے کہا

میں نے بات کی تھی تمھارے پاپا نہيں مان رہے اور نا ہی میرا دل ہے تم سمجھ کیوں نہیں رہی تمہاری ممانی تمہيں اپنے جامعہ میں admission دلواہیں گی اور تمہاری دادہ اپنے میں خواہ مخواہ کی tension بن جا ہے گی تم اپنی study ہی جاری رکھو ماں نے اپنا فیصلہ سنا دیا اور سبزی لے کر کچن میں چلی گیی

لیکن مما اس نے منہ بنایا اور روم میں چلی گیی

یار وہ لڑکا آج پھر میرے پیچھے آیا دل تو کر رہا تھا اُسں کے منہ پہ تھپر ماروں ایک نمبر کا بے شرم ہے اگر کوئی response نہ دے اسکا مطلب کہیں اور try کرے زرنش نے اپنی دوست مونا کو بتایا ایک لڑکے کے بارے میں جو کہ روز سکول آتے جاتے اُس کا پیچھا کرتا تھا مونا روز اُس کے بارے میں پوچھتی مونا زرنش کی best friend تھی وہ اسے ہر بات بتایا کرتی تھی بچپن سے ایک ساتھ تھی ایک ہی سکول میں پڑتی تھی حلانکہ دونوں کے میزاجوں میں بہت فرق تھا

او ہاں یاد آیا انٹی سے بات ہوہی کیا کہا انٹی نے مونا نے اسے جامعہ کے بارے میں پوچھا

انکار کر دیا وہی بات دادو اور ممانی کا اختلاف دونوں کا جامعہ جو ہوا مما ڈرتی ہیں کاش میں آزاد ہوتی ان پرندوں کی طرح اپنی مرضی کی مالک زرنش نے اسمان پے اڑتے پرندوں کو حسرت بھری نگاہ سے دیکھا

بس بس ایک تو تمہاری آزاد خیالی پابندیاں ہمارے ہی بھلے کے لیے ہوتی ہیں مونا نے اسے سمجھایا

مجھے لیکچر نہ دیا کرو زرنش نے چر کہ کہا اور کلاس میں چلی گٸ

زرنش attrective feautresکی مالک تھی بھوری نھوری آنکھں اور گندمی رنگ اور بال سلکی نہ ہی کرل نہ ہی سٹریٹ اسکی پرسنیلٹی میں اضافہ کرتے تھے مڈل کلاس سید گھرانے سے تعلق رکھتی تھی 2بھايوں کی اکلوتی بہن تھی گھر میں اسکا دوسرا نمبر تھا اسکے ابو کالج میں پروفيسر تھے مڈل کلاس سے تعلق ہونے کے باوجود اسکے جواب بہت اونچے تھے کبھی بھی کوٸ محمو لی چیز نہیں لیتی تھی اپنے آپ میں رہتی تھی اپنی پسند پہ اسے بہت ناز تھا نہ ہی کسی کو کچھ سمجھتی تھی کلاس میں اسکی مونا کے سوا کوی دوست نہيں تھی اور آزادی پسند تھی اپنے فیصلوں میں خود محتیار ہونا چا ہتی تھی نہ ھی کسی سے بات کرتی تھی کم گو تھی جبکہ مونا کا مزاج بہت مختلیف تھا اسے پابندیاں پسند تھی اکیلی کہیں نہیں جاتی تھی اسکا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا

مما ڈراینگ روم میں کون ہے کون آیا ہے زرنش ٹیوشن سے آیی تو اپنی امی کو کچن میں مصروف دیکھا جو کہ مہمانوں کے لیے اچھا خاصا انتظام کر رہی تھی

شکر ہے تم آگٸ کباب فراٸ کرو شمیم نے اسے کچن میں آتے ہی کہا

آیا کون ہے جو اتنا انتظام ہو رہا ہے اس نے کباب فریج میں سے نکالتے ہوے پوچھا

میرے ماموں جو کرنل تھے انکی بیٹی اپنی فیملی کے ساتھ آیی ہیں پہلے تو کبھی نہیں سنا انکا زرنش نے پوچھا

وہ جرمنی سے آٸ ہیں ابھی کچھ ماہ پہلے ہی شیفٹ ہوی ہیں تم باقی کا کام نمٹا کے چائے لے آو میں انکے پاس جاوں کیا سوچیں گی شمیم نے اسے کہا اور ڈراینگ روم کی طرف چلی گٸ

اَلسَلامُ عَلَيْكُم انٹی زرنش نے کلثوم کو سلام کیا اور ملی اور سامنے کرسی پہ بیٹھ گٸ

ہم بھی پڑے ہیں راہوں میں کزن جی غفان نے شوخی سے کہا غفان کلثوم کا اکلوتا بیٹا تھا عمدہ ثرسنیلٹی کا مالک اس نے جینز کی نیوی بلیو کلر کی پینٹ اور لاہیٹ کلر کی شرٹ پہنی ہوی تھی

زرنش اسے دیکھ کہ چو نک گہی لیکن محسوس نہیں ہونے دیا..

زرنش باہر چلی گہی تو غفان بھی پیچھے ہی آ گیا

ہاے اس نے ہاتھ زرنش کیطرف بڑھایا Sorry میں لڑکوں سے ہاتھ نہیں ملاتی

او ویسے آپ ابھی تک پرانے خیالات رکھتی ہیں آج کل تو چلتا ہے یہ تو عام سی بات ہے اور آپ جیسی ماڈرن لڑکی کے منہ سے سن کے اور بھی عجیب لگا غفان نے کہا

ماڈرن اور بے حیا ہونے میں فرق ہوتا ہے مسٹر غفان زرنش نے غصے سے کہا اور کمرے کیطرف چلی گہی

واہ کیا Attitude ہے میڈم کا غفان نے سوچھا اور ڈرائينگ روم کیطرف چلا گیا

ارے یار وہ لڑکا جو میرا پیچھا کرتا تھا میرا کزن ہے زرنش نے کلاس میں آتے ہی مونا کو بتایا

کیا پھر کیا کہا اس نے کچھ کہا تو ہو گا نہ مونا نے تفصيل پوچھنا چاہی

کچھ خاص نہيں بہت ہی گھٹیا انسان ہے جہاں لڑکی دیکھی وہيں شروع ہو گہے جیسے کوٸ اسی انتظار میں ہو بہت غصہ آتا ہے ایسے لوگوں پہ زرنش نے تپ کے کہا

ضروری تو نہیں ہو سکتا ہے اسنے تمہیں پہچان لیا ہو مونا نے اندازہ لگایا

کیسے پہچان لیا ہو گا میں نقاب کرتی ہوں اگر پہچان لیا ہوتا تو آج بھی کیوں آتا میرے پیچھے ویسے بھی میرے گھر تک کبھی نہیں گیا روڈ تک ہی پیچھا کرتا ہے ایسے لڑکوں کی عادت ہوتی ہے تم نہیں جانتی زرنش نے کہا اور کتاب کھول لی

کچھ دنوں بعد سکول سے فارغ کر دیا گیا یوں مونا زرنش کا رابطہ ختم ہو گیا دونوں پڑھاٸ میں مصروف ہو گیی اسی دوران غفان کی زرنش کے بڑے بھاٸ توصیف سے کافی دوستی ہو گہی اکثر دونوں ساتھ ہی ہوتے زرنش امتحان کی وجہ سے اپنے روم میں ہی ہوتی آخر کار امتحان ختم ہو گہے

آج کچن زرنش نے سنبهال لیا تھا غفان نے اسے کچن میں دیکھا تو وہیں آ گیا زہے نصيب آج تو آپ کا دیدار ہو گیا

کوئی کام ہے آپ کو زرنش نے بے روحی پوچھا

توصیف سے ملنا تھا غفان نے بتایا

وہ اپنے روم میں ہیں

ویسے آپ ہمیشہ غصے میں ہی رہتی ہیں آپ کو مہمانوں سے بات بھی کرنی نہیں آتی بندہ آنے والے سے چائے ہی پوچھ لیتا ہے غفان نے اسے مزید چڑایا

میں فضول لوگوں کو سرو کرنا ضروری نہیں سمجھتی زرنش نے کہا

ارے یار تم یہاں کیا کر رہے ہو اتنے میں توضیف بھی وہی آ گیا

بس تمہارا ہی پوچھ رہا تھا غفان نے بتایا

چلو آو لاونج میں بیٹھتے ہیں زری پلیز دو کپ چائے بنا دہ

اور ساتھ میں کباب بھی غفان نے کبابوں کی فرمائش کر دی

بھوکا کہیں کا زرنش نے غصے سے کہا اور کام میں لگ گہی

کچھ دیر میں وہ چائے لے گٸ ارے آپ بھی بیٹھیے نا جب وہ جانے لگی تو غفان نے کہا

زری بیٹھ جاٶ یہ بھی تمہارے بھاہیوں کی طرح ہے توضیف نے کہا تو غفان کو جو کہ چائے پی رہا تھا غوطہ لگ گیا

ویسے آپ نے چائے اچھی بنائی ہے غفان نے سراہا

یہ کھانا بھی زبردست بناتی ہے

پھر تو ٹراٸ کرنا پڑ ے گا تم بولاو تب آوں نہ غفان نے توضیف سے کہا مجھے تو لگا تھا صرف انہیں غصہ ہی کرنا آتا ہے ویسے آگے کیا ارادہ ہے غفان نے زرنش سے پوچھا FSCکروں گی

زبردست ویسے ساہنس سبجیکٹ تو میرے بھی فیورٹ ہیں غفان نے کہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زری آج ڈینر پہ غفان اور اسکی فیملی کو انوا ئیٹ کیا ہے کچھ اچھا سا بنا لینا توضیف نے کہا

اور زرنش کاموں میں لگ گٸ رات کو خوب اختمام کیا مہرون اور سکن کلر کے زری بہت پیاری لگ رہی تھی کھانے سے فارع ہونے کے بعد زرنش نے برتن سمیٹے اور چائے بنانے لگ گٸ

کھانا بہت مزے کا تھا غفان موقع دیکھ کے کچن میں آگیا

کچھ چائیے تھا زرنش نے پوچھا نہیں کچھ دینا تھا غفان نے جیب سے ایک خط نکالا اور اسکی جانب بڑھا دیا

سوری آپ اپنی اوقات میں رہو زرا سی بات کیا کر لی خود کو نجانے کیا سمجھنے لگے زرنش نے غصے سے کہا

پلیز ایک دفعہ پڑھو تو غفان نے التجایا نظروں سے اسکی طرف دیکھا

ایک بار کہی بات سمجھ نہیں آتی کیا

ارے یار تم یہاں کیا کر رہے ہو زرنش کے چھو ٹے بھاٸ ابراہیم نے کہا

کچھ نہیں بس ایسے ہی اس نے کاغذ شلف پہ رکھا اور ابراہیم کو لے کے چلا گیا زرنش نے کاغذ چھپا لیا

نفرت ہے مجھے اس شحض سے سمجھتا کیا ہے خود کو زرنش فاطمہ کوئی گری پڑی نہیں جو یوں ہی اس آوارہ کے جال میں پھنس جاۓ دل تو چاہ رہا تھا تپھر لگا دوں ایسی گھٹیا حرکت کے بعد اس نے روم میں آتے ہی کاغذ بیڈ پہ پینکا اور غصے سے بڑبراٸ

تھوڑی دیر بعد کاغذ کے ٹکڑے کرنے لگی تو سوچا ایک بار پڑھے تو سھی

ڈیر لو

ہاں وہی عشق و محبت کی جلا ہوتی ہے

جو عبادت در جاناں پہ ادا ہوتی ہے

جو گرفتار محبت ہیں یہ ان سے پوچھو

ناز کیا چیز ہے کیا چیز ادا ہوتی ہے

ان کی نظروں کی حقیقت کو کوئی کیا جانے

ان کی نظروں میں ہر اک غم کی دوا ہوتی ہے

کیوں نہ چہرے پہ ملوں خاک در یار کو میں

یہی وہ خاک ہے جو خاک شفا ہوتی ہے

رائیگاں سجدے بھی ہو جاتے ہیں مقبول کرم

شامل حال اگر ان کی رضا ہوتی ہے

جانے کیا چیز چھپی ہے ترے جلووں میں صنم

ساری دنیا تیرے جلووں پہ فدا ہوتی ہے

میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر کا طالب

تیرے کوچے میں مریضوں کو شفا ہوتی ہے

ان کے میخانے کو چھو آتی ہے جب فصل بہار

پھول کھل جاتے ہیں مستی میں ہوا ہوتی ہے

اے فناؔ ملتا ہے عاشق کو بقا کا پیغام

زندگی جب رہ الفت میں فنا ہوتی ہے

i love you

جب سے تمیں سکول کے سامنے دیکھا ہے کچھ اور بھاتا ہی نہیں ان آنکھوں کو کبھی بھولا نہیں پایا پھر جب سے تمہیں دیکھا تمہارا دیوانہ ہو گیا دل چاہتا ہے تمہیں ہی دیکھتا رہوں چند ہی دنوں میں اپنا بنا لیا ہے بس تم دل کو بھا گٸ ہو تمہارا ساتھ چاہیے پلیز میرے دل کی سن لو اور جواب ضرور دینا

تمہارا غفان

جواب تو تمہیں اچھے سے دوں گی مسٹر غفان تم نے مجھے ابھی جانا ہی نہیں مجھے قاہل کرنا بھی آسان نہیں اسنے غصے سے خط کو پھنکا

اگلے ہی دن وہ آگیا تو زرنش نے اس کا خط اسکے سامنے پھاڑا اور چہرے پہ مارا یہ رہا تمہارے خط کا جواب اور تمہارے دل کی اوقات میرے سامنے اتنی ہی ہے زرنش نے کہا اور چلی گٸ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارے یار اس نے میرے ساتھ ایسا کیا سمجھتی کیا ہے خود کو اسکی اتنی جرات مجھے ٹھکراۓ غفان کو جس کے لیے لڑکیاں مرتی ہیں غفان نے اپنے کزن کو کہا جو کہ پڑھنے لاہور آیا تھا اور غفان کے گھر میں ہی رہتا تھا اسکی ہر بات اور عادت سے واقف تھا

چھوڑ نہ یار خواہ مخواہ دل نہ جلا مان جاۓ گی ٹائم دو اسکو تھوڑا ضمیر نے کہا .

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *