Wo Mera Ishq Hai by Sara NovelR50701 Wo Mera Ishq Hai (Episode 04)
Rate this Novel
Wo Mera Ishq Hai (Episode 04)
Wo Mera Ishq Hai by Sara
آج شام دادو کے گھر سب کو کھانے پہ بولایا گیا تھا
سب آدمی اور لڑکے ایک ساٸیڈ پہ ہال میں بیٹھے تھے جہاں لڑکیوں اور عورتوں کو گھر جانے کی اجازت نہیں تھی زری کمرے کی کھڑکی سے ہال میں دیکھ رہی تھی اچانک اسکی نظر ایک چہرے پہ پڑی جو باتوں میں مصروف تھا اسے لگا جیسے وقت وہیں روک گیا ہو اسکی آنکھیں اسی چہرے پہ روک گٸ وہ سمجھ نہیں پاٸ وہ کہاں کھو گٸ اچانک صائمہ آٸ اس نے دو دفعہ زری کو بولایا لیکن وہ نہ بولی
واہ جی چپ چپ کہ بھاٸ کو دیکھا جا رہا ہے اس نے اس کو کندھے سے پکڑ کے کہا
جی نہیں اسے تو معلوم بھی نہیں تھا کہ اذلان ہے کون
اگلے دن وہ چھت پہ گٸ تو وہاں سےباہر دیکھ رٸ تھی تو اسے وہی نظر آیا اسکا دل چاہا کہ وہ اسے دیکھتی رہے
اور آخر کار گھر آ گٸ لیکن اپنا دل وہیں چھوڑ آٸ
۔۔۔۔۔۔
مونا یار i am in love زری نے مونا کو کال کی اور بتایا
کیا لیکن کس سے
یار کون ہے یہ تو نہیں معلوم بس اچھا لگنے لگا ہے اسکی آواز بات کرنے کا سٹائل اور انداز سب بھا گیا ہے
اسکے بارے میں جاننے کو دل کرتا ہے پتا نہیں ہو کون ہے اسکا مزاج کیسا ہے زری نے بتایا
واہ رے یہ تو وہ بات ہو گٸ ہم نے تم کو دل یہ دے دیا یہ بھی نہ پوچھا کون ہو تم اس نے چھڑا
نا جانے اس میں ایسا کیا تھا جو ایک پل میں دل کو چرا لیا زری بولی اچھا اچھا بس ببھی اب
مونا سے بات کرنے بعد وہ سوچنے لگی پتا نہیں میں اسے دیکھ بھی پاوں گی یا نہیں اسے بھی اب ملنا تھا جب میں اپنی زندگی کا فیصلہ کر چکی ہوں
۔۔۔۔۔۔
ایک دن وہ اچانک ہی uni سے گھر آٸ تو وہی دشمن جان سامنے بیٹھا تھا اسے اپنی آنکھوں پہ یقین نہ آیا پہلے تو اسے اپنا خیال ہی لگا لیکن وہ حقیقت تھی
زری change کرنے کے بعد کچن میں آٸ مما باہر کون آیا ہے زڑی نے پوچھا
یہی تو ہے اذلان مما نے انکشاف کیا اور زری اپنی خوشی چھپانے کے لیے روم میں چلی گٸ بیڈ پہ لیٹ گٸ اسے سممجھ نہیں آہی تھی کیا کرے وہ اکثر اپنے ٹیڈی بٸیر سے اسکی باتیں کیا کرتی تھی اس نے اسے پکڑا اور گلے سے لگایا تمہیں پتا ہے وہ کوٸ اور نہیں اذلان ہی ہے میرا انتحاب میری محبت ہے ارے واہ الله تیرا بہت بہت شکریہ میں نوافل ضرور پڑھوں گی
وہ جیسا بھی ہے مجھے قبول ہے اسکے ساتھ گاوں میں کیا چونپڑی میں بھی رہنا پڑا رہ لوں گی جیسے رکھے گا رہوں گی جو کرنا پڑا کر لوں گی بس اسکا ساتھ ہو زری نے سوچھا اور دل ہی دل میں خوش ہوٸ اور مما کےساتھ مدد کرنے چلی گٸ کھانا کھانے کے بعد اس نے اجازت چاہی اس نے اسے ایک بار بھی نظریں اٹھا کے بات کرتے نہیں دیکھا
بیٹا آج تو رک جاتے نہیں مامی بس میں چلتا ہوں ٹائم نہیں ہے میرے پاس اتنا امی کا اصرار تھا آپ سے مل کےجاوں تو ملنے آگیا اذلان نے کہا
چلو بیٹا الله تمہیں کامیاب کرے امی کو سلام دینا
اذلان کینڈا جا رہا ہے شام کے کھانے پہ امی نے نیا انکشاف کیا
اللہ اسے کامیاب کرے کہہ رہا تھا بہت شوق ہے اسے جانے کا موقع ملتے ہی چلا جاۓ گا پاپا نے کہا
آپ کا انتظار کرتا رہا لیکن آپ آۓ نہیں کال کی آپ نے ڈراپ کر دی
کالج میں آج میٹنگ تھی انہوں نے کہا
زری نے روم میں آتے ہی رونا شروع کر دیا
تو کیا وہ چلے جاہیں گے میری نظروں سے دور میں نے ایسا تو نہیں چاہا تھا اب میں انہیں دیکھ بھی نہیں پاوں گی زری رو دی
۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن سنڈے تھازری بازار گٸ اور عبایالے آٸ انہیں اچھا نہیں لگے گامیرا بے پردہ ہونا
اتنے میں مونا آگٸ ۔
کیا کر رہی ہو
کچھ نہیں عبایا دیکھ رہی تھی
دماغ تو سیٹ ہے نا مجھے تمہاری ذہنی حالت ٹھیک نہیں لگتی
کیوں
تو اور کیا کبھی تمہیں پردہ کرنا اچھا نہیں لگتا اور کبھی عبایا واہ جی مو نا نے مزاق اڑایا
تم نہ طنز کے تیر چلانا بند کرو زری نے خفگی سے کہا
اچھا اچھا پھر بتاو ایسا کیوں مونا نے پوچھا
یار انہیں میں ایسی اچھی نہیں لگوں گی نا زری نے اصل وجہ بتاٸ
او ہو کیا بات ہے جی انہیں حیرت ہے تم تو کہتی تھی میں تو اپنے ہسبنڈ کا نام لوں گی تو پھر اب یار انہیں پسند نہیں ہو گا نہ میرا نام لینا اور جاب کے بارے میں کیا خیال ہے مونا نے پوچھا
اگر انہوں نے چاہاتو کر لوں گی ورنہ نہیں انکی خوشی سے بڑھ کے کچھ نہیں شاید محبت ایسی ہی ہوتی ہے زری نے کہا
۔۔۔۔۔۔۔
غفان کی کال آٸ وہ کافی دنوں سے اگنور کر رٸ تھی آخر اس نے اٹینڈ کرہی لی
جی بولو زری نے پوچھا
کیا بات ہے تم بات کیوں نہیں کرتی غفان کو فکرہو رہی تھی
سٹڈی میں بزی تھی اس لیے تم سناو کیسے ہو زری نے ٹالا
ٹھیک ہوں تمہیں بتانا تھامیں آ رہا ہوں کچھ دنوں کے لیے غفان نے بتایا
او واو یہ تو بہت خوشی کی بات ہے زری نے کہا
کیونکہ وہ چاہتی تھی کہ اسے آنے پہ ہی بتا ۓ اور اسے موقع مل گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر وہ دن بھی آ ہی گیا جب غفان آ گیا لیکن زری مل نہ پاٸ نیناں یہاں نہیں تھی زری تھوڑی ڈری بھی ہوٸ تھی اور کنفیوز بھی
ایک دن زی گھر پہ اکیلی تھی تو غفان کو پتا چلااور وہ آگیا
کیسی ہو اس نے پوچها
ٹھیک ہوں تم سناو زری نے پوچھا
لگ تو نہیں رہا تمہارا چہرہ بتا رہا ہے کچھ تو پریشانی ہے تمہیں غفان نے غور سے دیکھا اور کہا
بتاو کیا بات ہے trust me plz اس نے اپنایت بھرے لیجے میں پوچھا تو زری رو دی اسکے آنسو دیکھ کہ غفان پریشان ہو گیا
کیا بات ہے زری بتاو مجھے اپنا ہی سمجھو پلیز
غفان مجھے محبت ہو گٸ ہے
اچھا تو کس سے غفان کو لگا وہ اسکا نام لے گی
اذلان سے زری نے کہا غفان کو لگا جیسے اسکی دنیا ہی اجڑ گٸ
اچھا غفان بمشکل ہی کہہ پایا
اسکے لیۓ رشتہ آیا ہے میں نے ہاں تو کر دی ہے لیکںن ممانے ابھی انہیں بتایا نہیں تم کہو گے تو میں انکار کر دوں گی یہ سچ ہے کہ میں اس سے بہت پیار کرتی ہوں جینے کا تصور بھی نہ کر پاوں لیکن اگر تمہیں لگتا ہے کہ میں نے تمہیں دھوکہ دیا یا پھر چیٹ کیا تو میں انکار کر دوں گی کیونکہ تمہاری بددعا یا آنسو کے ساتھ میں اپنی محبت کی تکمیل نہیں چاہتی میں نے بہت کوشش کی لیکن محبت نہ ہو سکی زری بول رہی تھی اور غفان خاموشی سے سن رہا تھا
غفان کچھ تو بولو میں تمہاری مجرم ہوں زری نے اسکی طرف دیکھ کہ کہا
ہممم کیا وہ جیسے ٹوٹ گیا تھا یاپھر الفاظ کاجوڑ توڑکر رہا تھا
زری تمہیں تمہاری محبت مبارک تمہیں کیا لگا میں تمہاری خوشیاں تم سے چھین کے خوش ہوں گا جب تم دگ و دماغ سے اسکی ہو چکی ہو تو ایک ساتھ ہم کیسے خوش رہ سکتے ہیں
ایک بات کہوں زرنش ےاس نے زری نہیں کہا کیونکہ اسے لگا کہ اب زری کہنے کا حق اسے نہیں رہا
جی بولو
جو محبت میں اپنے لیے تمہاری آنکھوں میں دیکھنا چا ہتا تھا وہ آج اسکے لیے دیکھی ہے تو کیسے تمہیں کہہ سکتا ہوں میری ہو جاو جبکہ تم میری ہو نہیں غفان نے بڑی مشکل سے خود کو مضبوط رکھنے کی کوشش کی
Thanku very much
زری نے کہا اسکے دل سے بوجھ اتر گیا تھا وہ بہت خوش چھپانے کے باوجود غفان خوشی دیکھ سکتا تھا
غفان مجھے پتا ہی نہیں چلا کیسے ایک ہی پل میں میری دنیا بدل گٸ زری نے کہا
اور ہاں اب میں تم سے بات نہیں کروں گی اذلان کو پسند نہیں ہو گا تمہیں تو پتا ہے ہمارے خاندان کا زری نے کہا
اوکے ٹھیک ہے بس تم خوش رہو تمہیں تمہاری محبت مل جاۓ اور مجھے تم سے کوٸ شکوہ نہیں غفان نے کہا اور چلا گیا زری خوش ہو گٸ ۔
گھر جا کے غفان نے خود کو کمرے میں بند کر دیا کٸ گھنٹے سگریٹ پیتا رہا اور روتا رہا آج اسے اسکی بات یاد آٸ میں تمہاری کبهی نہیں ہو سکتی
بہت مان تھا نا تمہیں خود پہ جو چاہتے ہو پا لیتے واہ غفان اب کیا ہوا کیوں نہ ہو سکی تمہاری وہ آہینے کے سامنے کھڑا خود سے باتیں کر رہا تھا وہ پھر گلدان اٹھا کے شیشے پہ مارا ہر چیز توڑ دی اور روتا رہا کاش میں نے تمہیں رب سے مانگاہوتا تم واقعی کوٸ چیز نہیں تھی جسے حاصل کر لیتامیں غلط تھا تم سہی تھی زرنش فاطمہ
وہ ٹوٹ گیا تھا اسے سنبهالنے میں وقت لگنا تھا جسکی دنیا اجڑ گٸ ہو اسے سنبهالنے میں وقت تو لگتا ہی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک سال بعد زری کو ایک نمبر سے کال آٸ
جی کون
زرنش بات کر رہی ہیں
جی لیکن آپ کون
میں اذلان بات کر رہا ہوں زری وہیں چپ ہو گٸ نام سن کے جیسے اسکی دل کی دھڑکن روک گٸ ہو
میں نے سنا ہے آپ کے لیے میری امی نے رشتہ مانگا ہے مجھے آپ سے اس بارے میں بات کرنی ہے
جی بولیے
دیکھیں اگر آپ کو اگر اس رشتے سے اعتراض ہے تو مجھ سے کہہ سکتی ہیں مجھ پہ بھروسہ کر سکتی ہیں میں جانتا ہوں میرا اپکا کوٸ میچ نہیں امی مجھ سے پہلے پوچھتی تو میں منع کر دیتا لیکن جو بھی ہوا میں زبردستی کا رشتہ نہیں جوڑنا چاہتا ہو سکتا ماموں بہن کی وجہ سے ہاں کر دیں اس لیے آپ مجھے کہہ سکتی ہیں میں ماموں کی بہت غزت کرتا ہوں انکو شرمندہ نہیں کروں گا اپنا نام لے کے ہی انکارکر دوں گا آپ سوچ کہ مجھے بتا دینا اور کال ڈراپ ہو گٸ
مجھے کوٸ اعتراص نہیں ہے اگلے دن زری نے میسج کیا
پلیز آپ مجھ پہ بھروسہ کر سکتی ہیں میں کسی سے کچھ نہیں کہوں گا
مجھے اعتراص ہی نہیں تو زری نے میسج کیا تو کال آ گٸ
کیوں نہیں ہے اپکو اعتراص اذلان نے سلام کے بعد پوچھا
بس نہیں مجھے تو لگتا ہے آپکا دل نہیں اور آپ میرے کندھے پہ بندوق رکھ کے گولی چلانا چاہ رہے ہیں زری نے دو ٹوک کہہ دیا
نہیں ایسا تو کچھ نہیں بس میں نہیں چاہتا زبردستی کا رشتہ جوڑے
او ہیلو جناب ایسی کوٸ بات نہیں اپکو اعتراض ہے تو بھلے انکار کریں لیکن مجھ پہ احسان کر کے نہیں زری نے کہا اور کال ڈراپ کر دی اسے فکر ہونے لگی کہ کہیں وہ انکار ہی نہ کر دے یہ سمجھ کے کہ اسکے ساتھ زبردستی کی جا رہی ہے اسے فکر ہونے لگی
کہ کہیں اسکی کوٸ بات نہ بری لگی ہو نہ جانے کتنے حدشات نے اسے گھیر لیا اور زندگی میں پہلی بار اسنے اسنےکسی کو سوری کہا
کس لیے
شاید میں نے آپ سے روڈلی بات کی آپکو برا لگا ہو
نہیں برا تو نہیں لگا بس آپ نے مجھے غلط سمجھا میری نیت پہ شک
کیا
plzzzzz sorry
its ok
ایک بات پوچھوں آپکو برا نہ لگے تو
جی پوچھیں
آپکو کیہں لگتا ہے ہےکہ میرے ساتھ زبردستی کی گٸ ہے
زبردستی ہی تو ہے مجھ مجھ میںاور آپ میں بہت فرق ہے سٹیٹس رہن سہن اورسوچوں میں بھی ہو گا اپ نے ساری زندگی شہر میں گزاری ہے گاوں میں رہنے کو تیار تو نہیں ہو گی نہ
لیکن میں تو ہوں زری نے کہا
زبردستی
نہیں دل سے زری نے کہا
لیکن کیوں میرا دل نہیں مانتا
کیوں کہ مجھے آپ اچھے لگتے ہیں
اذلان نے کوٸ جواب نہ دیا وہ ایسے جواب کی امید نہیں رکھتا تھا
کیا ہوا برا لگا ہو تو سوری لیکن یہ سچ ہے زری نے کہا
مجھے کام ہے باۓ اس نے کہا
اوکے زی نے کہا گیکن وہ پریشان ہو گٸ اس نے بنا سوچے ہی اتنی بڑی بات کہہ دی اسے لگا اب اذلان اسے اچھا نہیں سمجھے گا شاید
اسے نفرت کرے انکار کر دے وہ اسے کھو چکی ہے یہی سوچ کہ رونا شروع کر دیا بہت زیادہ ٹینشن لینے کی وجہ سے اسکے دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا زری بیٹا آ جاو کھانا کھا لو شمیم اسے بولانے آٸ لیکن اس نے کوٸ جواب نہیں دیا وہ سن سکتی تھی لیکن جواب نہیں دے پا رہی تھی
شمیم نے کافی دفعہ اسے بولایا ہلایا لیکن کوٸ جواب نہ ملا شمیم نے روتے ہوے سب کو بولایا اورہسپتال لے جایا گیا
