Wo Mera Ishq Hai by Sara NovelR50701 Wo Mera Ishq Hai (Episode 03)
Rate this Novel
Wo Mera Ishq Hai (Episode 03)
Wo Mera Ishq Hai by Sara
زری دعائيں کرتی رہی شام ہو گٸ نیناں کو کال کی غفان کا حال پوچھا
یار دعا کرو دماغ پہ چوٹ لگنے کی وجہ سے اسے ہوش نہیں آ رہی ڈاکڑز بھی کچھ امید نہیں دلا رہے نیناں نے بتایا
جیسے ہی ہوش آیا مجھے بتانا
زری نے وضو کیا نماز پڑھی اور دعا مانگنے لگی یااللہ مجھ گناہ گار پہ رحم کر میری سن لے میری دعاوں کی لااج رکھ لے تو میری نہیں سنے گا تو کون سنے گا میں تیری ہی بندی ہوں جیسی بھی ہوں غفان کو ہوش آ جاے اسے زندگی دےدے ورنہ ساری زندگی خود کو اسکی مجرم سمجھوں گی میرے مالک میری سن لے اور وہ رو دی
آخرکار غفان کو ہوش آ گیا اسے نٸ زندگی ملی تھی ڈاکٹر نے باتيں کرنے سے منا کیا
شمیم تم گھر چلی جاو صبع سے یہاں ہو تھک گۓ ہو گے اور بھی اکیلی ہے ڈر رہی ہو گی کلثوم نے کہا تو شمیم نہ مانی لیکن اسکے اصرار پہ گھر آ گٸ اور زری کو غفان کا بتایا کھانا ہسپتال بیجھنے کے لۓ تیار کیا
مما میں چلی جاوں انٹی اور نیناں اکیلی ہوں گی ان میں سے کوئی نہ کوٸ آرام کر آۓ گا زری نے کہا
ٹھیک ہے چلی جاو زری ہسپتال آٸ ۔
غفان کی طبیت اب کیسی ہے ضمیر سے پوچھا لیکن اس نے جواب نہيں دیا
انٹی غفان کیسا ہے زری نے پوچھا
شکر ہے اب بہتر ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
آج وہ صحت یاب ہو کے گھر آیا تھا زری اور اسکی امی ملنے گۓ
کیسے ہو
ٹھیک ہو بلکہ اب تو بلکل ٹھیک ہوں اتنے عرصے بعد تمہیں دیکھا
زڑی مسکرا دی جبکہ غفان کو حیرت ہوٸ
کیوں کیا تم نے ایسا
تم نے کوئی راستہ بھی تو نہیں چھوڑا تھا غفان نے کہا
پاگل نہ ہو تو زری مسکراٸ
تمہارا بدلا ہوا رویہ دیکھ کہ سوچ رہا ہوں بہت پہلے ایسا کیوں نہیں کیا دو سال برباد کر دہیے تمیہں مناتے مناتے
اففففف زری نے غصے سے دیکھا
ارے نیہں اس نے ڈرنے کی ایکٹنگ کی تو زری مسکرا دی
زری کا رویہ کافی بدل چکا تھا
وہ اکثر اسے کال کرتا وہ اس سے بات کرتی انکی کافی دوستی ہو گٸ تھی Ics کے بعد اس نے bs میں داخلہ لے لیا مونا کو میڈیکل میں داخلہ مل گیا آج کافی عرصے بعد مونا زری سے ملنے آ ٸ کیا سوچا ہے تم نے مونا نے پوچھا
کس بارے میں
اپنے future کے بارے میں یا bs کے بعد جاب کرنے کا ارادہ ہے
اور جاب کون کرنے دے گا
کر لوں گی
اور غفان کے بارے میں؟ مو نا نے پوچھا
کچھ سوچا نہیں زری نے کہا
مطلب یہ کہ اچھا ہے میں جیسا چاہتی تھی ویسا ہی ہے لیکن
لیکن کیا مونا حیران ہوٸ
یار اسکے ساتھ شادی کرنے کے بعد میں آزاد ہوں گی اپنی مرضی کی زندگی گزاروں گی بنک بیلینس گاڑی ہر چیز برانڈڈ پرسنیلٹی بھی اچھی ہے بلکل ہیرو کی طرح اس سے شادی کر کے جاب اور ٹرسٹ بنانے کا سپنا بھی پورا کر سکوں گی کہتے کہتے روک گٸ
تو پھر پرابلم کیا ہے
یار دل مطمئن نہیں کچھ کمی سی ہے وہ سگریٹ پیتا ہے نماز روزے کا پتا نہیں اسے رات پارٹيوں میں جانا لڑکیوں سے دوستی کرنا اسکے لۓ عام سی بات ہے وہ مجھے کسی بھی کام سے روکے گا نہیں تو مجھے بھی اسے روکنے کا حق نہیں ہوگا بس یہی سب باتیں مجھے کوٸ بھی فیصلہ کرنے سے روکتی ہیں زری نے اپنے دل کی بات کہی
یار یہ سب باتیں تو انکی کلاس میں عام ہیں
جانتی ہوں لیکن میں کیسے خیر چھوڑو زری الجھے ہوۓ انداز میں بولی
تم نے غفان بھاٸ کو بتایا
نہیں
تمہيں نہیں لگتا تم انہیں دھوکہ دے رہی ہو مونا نے کہا
نہیں یار شادی تو کرنی ہے پھر اس سے ہی سہی لیکن ابھی وقت چاہیے اس نے کبھی کوئی بات نہیں کی اس بارے میں ورنہ اسے بتا دیتی زری نے بتایا
اوکے
۔۔۔۔۔۔.
آج زری غفان کے گھر آٸ تھی نیناں نے اصرار کر کے روک لیا
زری وہ چھت پہ تمہیں غفان بولا رہا ہے اسے تم سے کوئی بات کرنی ہے نینان نے آ کے اسے کہا اور وہ چھت پہ چلی گٸ
Happy birthday my dear zarnish
غفان نے اسے ویش کیا
تمہیں یاد تھا زری نے پوچھا
اتنے سالوں میں کبھی بھولا بھی ہوں غفان نے اسکی آنکھوں میں دیکھا
لیکن اتنا سب کچھ کرنے کی کیا ضرورت تھی چھت کو Candles روشن کیا ہوا تھا اور ٹیبل پہ موم بتیوں اور گلاب کی پتیوں کے درمیان کیک رکھا گیا تھا
کیک کاٹو پلیز غفان نے ٹیبل کی طرف اشارہ کیا
zari will u marry me
غفان نے کہا اور رینگ اسکی طرف بڑھاٸ
لیکن غفان مجھے تم سے کچھ کہنا یہ سب بہت جلدی ہے میں اس سب کے لیے تیار نہیں
مطلب غفان نے حیرت سے پوچھا
مطلب شادی جیسے رشتے کے لیے تمہیں نہیں لگتا بہت جلدی ہے ابھی مجھے پڑھنا ہے اپناکریر بنانا ہے زری نے کہا
میں کون سا ابھی شادی کرنے کا کہہ رہا ہوں ابھی صرف منگنی کر لیتے ہیں شادی بعد میں صیح جب تم کہو غفان نے کہا
لیکن غفان کیا بات ہے جو کہنا ہے کہو کھل کے کہو تم کہہ سکتی ہو جو بات ہے غفان نے اسے دوستانہ لہجے میں کہا
غفان سچ تو یہ ہے مجھے تم سے ہمدردی تو ہوٸ لیکن محبت نہیں اسی لیے مجھے ٹائم چاہیے زری نے شرمندگی بھرے لہجے میں کہا
جانتا ہوں تمیہں مجھ سے محبت نہیں
وہ کیسےزری حیران ہوٸ
کیوں کہ جب بھی میں نے اظہار کیا تم جاموش رہی تمہاری آنکھوں میں اکثر اپنے لیے محبت ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن خالی ہی ملی تم نے کوشش کی میرے لیے یہی بہت ہے غفان نے اس پہ انکشاف کیا
میں نے انکار نہیں کیا صرف وقت مانگا ہے bs کر لوں تب تک اگر مجھے کسی سے محبت نہ ہوٸ تو تم سے ہی شادی کروں گی بس اس وقت تک زری نے کہا
اوکے مجھے منظور ہے لیکن تم وعدہ کرو اگر کوٸ پسند آیا تو مجھے سب سے پہلے بتاو گی آخر ہم پہلے اچھے دوست بھی تو ہیں
اوکے
یہ رینگ تو لے لو اپنا برتھ ڈے گفٹ ہی سمجھ کے غفان نے کہا
لیکن
لیکن کیا منگنی پہ نٸ لے لیں گے غفان نے شرارت غفان تم بھی نہ
زری دراصل میں نے جرمنی جانا ہے پاپا کے ساتھ بزنس جوائن کرنا ہے میرا ارادہ تھا منگنی کر کہ جاتا خیر تمہاری خوشی سے بڑھ کے کچھ نیہں میں انتظار کر لوں گا
اور پھر غفان چلا گیا اکثر انکی بات ہوتی رہتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ ماہ بعد ایک دن زری کو شمیم نے بولایا
تمہیں یاد ہے تمہاری پھوپھو خالدہ آٸ تھی
جی مما لیکن آپ مجھے کیوں بتا رہی ہیں
بیٹا انہوں نے
اپنے بیٹے اذلان کے لیے تمہارا رشتہ مانگا ہے
کیا تو آپ نے کیا کہا زری حیران ہوٸ
تمہاری زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ تم سے پوچھے بنا تو نیہں کر سکتے تھے نہ ان سے وقت مانگا ہے سوچھنے کے لیے
آپکی اور پاپا کی کیا مرضی ہے
بیٹا زندگی تم نے گزارنی ہے تم پہ اپنی مرضی مصلت نہیں کریں گے
کوٸ بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ایک بات یاد رکھنا وہ تمہاری سوتیلی پھو پھو ہیں بھاہیوں سے بہنوں کو بڑی امیدیں ہوتی ہیں اور لڑکا بھی اچھا ہے نیک سیرت ہے باقی تمہاری مرضی
زری روم میں آٸ اور رونے لگ گٸ کافی دیر تک روتی رہی اور سو گٸ
ممالک
کو اسی وقت انکار کر دینا چاہیے تھا ٹائم کیوں مانگا بہت افسوس ہو رہا ہے میں گاوں میں کیسے رہوں گی اور تمہیں پتا ان لوگوں اور ہم
میں بہت فرق ہے سٹیٹس میں زمین آسمان کا فرق ہے میں وہاں کیسے ایڈجسٹ کر سکتی ہوں کچھ سمجھ نہیں آ رہی کیا کروں زری نے مونا کو کال کی اور اپنے دل کی بات کہی
ایک آ یڈیا ہے تم استحارہ کر لو غفان اور اذلان کے لیے جس کاصیح آیا
اسکے حق میں فیصلہ کر لینا
graet idea
زری خوش ہو گٸ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہ جانے کیوں زری کا دل کہہ رہا تھا کہ استحارہ غفان کے حق میں ہی آۓ گا لیکن انسان جو چاہے وہی ہو ضروری تو نہیں زری کے ساتھ بھی یہی ہوا استحارہ اذلان کے حق میں آیا جس سے زری کو دھچکہ لگا اسکو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی جواب اسکی سوچ کے برعکس تھا
کیا بات ہے زری پریشان کیوں ہو شمیم نے پوچھا
مما جیسا ہم سوچتے ہیں ویسا کیوں نہیں ہوتا زری نے پوچها
بیٹا جو ہم چاہیں ضروری تو نہیں وہ ہمارے حق میں بھی بہتر ہو جوالله جانتا ہے وہ ہم نہیں جانتے کیا بات ہے مما کو تشویش ہوٸ
کچھ نہیں بس ویسے ہی زری نے ٹال دیا
ایک دن یو نہیں گھر بیٹھی بور ہو رہی تھی تو گھر میں موجود مذہبی رسالہ پڑھنے لگی اچانک اسکی نظر ایک اکتباس پہ پڑی
اے ابن آدم اک تیری رضا ہے اور اک میری
تو وہ کرتا ہے جو تو چاہتا ہے میں وہ کرتا ہوں جو میں چاہتا ہوں
پس اگر کی تو نے مخالفت کی اسکی جو میں چاہتا ہوں تھکا دوں گا اس میں جو تو چاہتا ہوں ہو گا وہی جو میں چاہتا ہوں
اور سپرد کیا اسکے جو میں چاہتا ہوں تو دے دوں گا وہ بھی جو تو چاہتا ہے
زری کے دل کو یہ بات بھا گٸ اور اسکی ساری پریشانی دور ہو گٸ کیونکہ وہ جان گٸ تھی اسے کیا کرنا ہے
اس نے نماز پڑھی اور دعا مانگی اے میرے مالک میں تیری رضا میں راضی ہوں تو اپنی چاہت کو میری چاہت بنا دے
۔۔۔۔۔۔۔۔
زری بیٹا روباب کی شادی ہے اگلے مہینے تمہاری خالہ کا اصرار ہے کہ تمہیں ساتھ لے کے آوں اور روباب کا بھی شمیم نےاسے بتایا
ٹھیک ہے مما یہ تو خوشی کی خبر ہے کوٸ تو فنکشن آیا لاٸف بور ہو گٸ تھی زری نے پرجوش لہجے میں کہا شمیم آج اسے اتنے دن بعد خوش دیکھ کے خوش ہو گٸ
کیا سوچا تم نے اذلان کے بارے میں شمیم نے پوچھا
مما جیسے آپکی مرضی ویسے کر لیں زری نے نیم رضامندی ظاہر کی
مطلب ہاں ہی سمجھیں ممانے کنفرم کیا
تم نے بہت اچھا فیصلہ کیا بہت خوشی ہوٸ آج کے دور میں ایسا لاٸف پارٹنر نہیں ملتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے یار یہ میں کیا سن رہی ہوں تمہارا رشتہ پھوپھو کےگھر طے ہو رہا ہے روباب نے پوچھا
جی زری نے کہا
تم مان گٸ رباب حیران ہوٸ
جی کیوں
تم پاگل تو نہیں وہ کسی لحاظ سے بھی تمہارے قابل نہیں نہ سٹیٹس سے اور نہ ہی مزاج میں سوچو ذرا ایک گاوں کے لڑکے اور تمہاری سوچ میں زمین آسمان کا فرق ہو گا کیسے رہو گی روباب کی بات زری کے دل کو لگی وہ پریشان ہو گٸ
یااللہ آپ نے میری حق میں جو فیصلہ کیا میرا ایمان ہے وہ غلط نہیں ہو سکتا اس میں میری بہتری ہی ہو گی پھر اپی نے ایسے کیوں کہا پلیز الله جی مجھے گمراہ ہونے سے بچانا زری نے دعا کی
لیکن اب وہ پریشان تھی شادی کےدوران بھی وہ گم صم سی رہی اور پھر وہ اپنی دادو کے گھر چلی گٸ
گاوں کا ماحول دیکھ کے اسے وحشت ہونے لگی اور سوچ سوچ کے پریشان ہونے لگی کہ اسے یہاں اس ماحول میں رہنا ہو گا آگ جلا نی پڑے اسے اپنے کیے پہ افسوس ہونے لگا
یہ انسان کی سوچ ہے جو باظاہر اچھا نہیں لگتا کبھی کبھار اس کی پہچان ہم نہیں کر پاتے ہمیں اپنے حق میں بہتر نہیں لگتا ہم انجانے میں خدا سے بھی شکوہ کرنے کا گناہ کر بیٹھتے ہیں اور یہی زری نے کیا لیکن فی لحال ہو سب سمجھنے کی پوزیشن میں نہیں تھی شاید اسکی آزمائش کا وقت تھا وہ اپنے فیصلے پہ بھی قام تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے
