Wo Mera Ishq Hai by Sara NovelR50701 Wo Mera Ishq Hai (Last Episode)
Rate this Novel
Wo Mera Ishq Hai (Last Episode)
Wo Mera Ishq Hai by Sara
ڈاکڑ صاحب میری بچی اب کیسی ہے شمیم نے ڈاکڑ کو کمرے سے نکلتے ہوۓ پوچھا
آپ؟ڈاکڑ نے پوچھا
جی ماں ہوں اسکی
اور اسکے والد صاحب کہاں ہیں آپ دونوں میرے روم میں آہیں ڈاکٹر سمجھ دار اور عمر کا تھا
میری بچی ٹھیک تو ہے نہ شمیم نےجاتے ہی سوال کیا
جی وہ ٹھیک ہیں آپ تشریف رکھیں
ہماری بیٹی کو ہوا کیا ہے آخر زری کے پاپا افضل صاحب نے پو چھا
پریشانی کی کوٸ بات نھیں اپکی بیٹی ٹھیک ہے
ڈاکٹر نے تسلی دی
کیسے ٹھیک ہے نہ وہ آنکهيں جپکتی ہے نہ کسی بات کا جواب دے رہی افضل نے پریشانی سے کہا
دیکھیں آپ میں جو پو چھوں گا وہ بتائيں گھر میں کوٸ ٹینشن چل رہی ہیے کیونکہ آپکی بیٹی نے کسی بات کا گہرا صدمہ لیا ہے اس لیے اسکا دماغ ریسپانس نہیں کر رہا
دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا
دیکھیں اس عمر میں بچے ضد کر جاتے ہیں اگر کوٸ پسند کا معاملہ ہے تو آپ مان جا ہیں بچوں کی خوشی اور جان سے زیادہ کچھ نہیں ڈاکٹر نے کہا
لیکن ڈاکٹر صاحب ہم نے اپنے بچوں کو پسند نا پسند کا پورا حق دیا ہے شمیم نے کہا
تو پھر آپ جاننے کی کوشیش کریں کہ کیا پریشانی ہے فی لحال میں نے انہیں relax کرنے کے لیے سولا دیا ہے اٹھیں تو آپ انیہیں بولانے کی کوشیش کریں وہ آپکو جواب دیں انھیں جواب دینے پہ اکساہیں لیکن پریشانی والی کوٸ بات نہ کریں ڈاکٹر نے کہا وہ دونوں چلے گۓ شمیم نے قرآنی آیات پڑھ کے دم کیا
دونوں بھاٸ سنتے ہی آ گۓ توصیف تو پہلے ہی شہر میں تھا ہاوس جاب کر رہا تھا جبکہ چھوٹا اسلام آباد کے انجينئرنگ کالج میں تھا وہ بھی سنتے ہی آ گیا
مما پریشان نہ ہوں ہماری زری ٹھیک ہو جاۓ گی توصیف نے کہا
رات گۓ اسکی آنکھ کھولی لیکن اسکا دماغ وہیں اٹکا ہوا تھا کہ وہ مجھے چھوڑ گیا
اتنے میں شمیم آگٸ زری بیٹا بات کرو نہ
زڑی سب کی باتیں سن رہی تھی لیکن جواب نہیں دے پارہی تھی سب بولتے رہے
اتنے میں توصیف آیا زری اذلان کی کال ہے وہ تم سے بات کرنا چاہتا ہے
اذلان نے اسے کہی بار کال کی اسکی کال نوکرانی نے رسیو کی اور بتایا کے زری کو ہسپتال لے گۓ ہیں اذلان پریشان ہو گیا اس نے توصیف سے پوچھا اس نے بتایا
یار اگر تمہیں برا نہ لگے تو میری اس سے بات کروا دو پلیز میں اس کے لیے پریشان ہوں اذلان نے ریکوسٹ کی
ٹھیک ہے یار اب وہ تمہاری امانت ہے مجھے خوشی ہوٸ میری بہن کو کسی پرواہ کرنے والے کا ساتھ ملا ہے مما اس کے پاس ہیں نماز پڑھنے جاتیں ہیں تو موقع دیکھ کے بات کرواتا ہوں لیکن وہ بول ہی نہیں رہی
تو یار میں کوشیش کرتا ہوں
ٹھیک ہے میں بات کروا دوں گا
زری اذلان تم سے بات کرنا چاہتا تمہارے لیے پریشان ہے بات کرو توضیف نے موبائل اس کے کان کے ساتھ لگایا
آپ نے کس بات کی ٹینشن لی ہے میں نے تو ایسا ویسا کچھ نہیں کہا تھا کہ آپ ھسپتال پہنچ جاتی پلیز مجھے کام تھا اس لیے گیا میں اتنے میسج اور کالز کی لیکن تمہارا جواب نہیں ملا میں پریشان ہو گیا تھا پلیز کچھ تو بولو زری کا دل چاہا وہ اسے جواب دے کوشیش کرنے کے باوجود نہ بول پاٸ
آخر نا امید ہو کے کال بند کر دی
زری دل ہی دل میں دعائيں کی
آخر کار وہ ٹھیک ہو گٸ سب نے شکر ادا کیا اور کچھ دن بعد وہ ڈسچارچ ہو کے گھر آ گٸ کسی نے اس سے فی الحال کچھ نہیں پوچھا
زڑی بیٹا تم روم میں جا کے آرام کرو شمیم نے اسے کہا اور کچن کی طرف چلی گٸ ۔
سوری کیسے ہیں آپ زری نے آتے ہی میسج کیا
گھنٹے بعد میسج آیا میں ٹھیک ہوں آپ اپنا بتاو
میں بھی ٹھیک ہوں زری نے ٹاٸپ کیا لیکن اتنے میں کال آگٸ
کیسی ہو
ٹھیک ہوں
یہ کیا حرکت تھی
کون سی
آپ میری وجہ سے ہسپتال پہنچی پلیز سچ سچ بتانا مجھے جھوٹ بولنا پسند نھیں نہ ہی وہ انسان جو جھوٹ بولے
جی
لیکن کیوں میں نے تو ایسا کچھ کہا ہی نہیں تھا
مجھے لگا آپ مجھ سے ناراض ہو کے چلے گۓ اب اپ مجھ سے نفرت کریں گے مجھے اپناہیں گے نہیں۔
میں کیوں کرتا ایسا
پلیز مجھے چھوڑ کہ نہ جاہیے گا میری زندگی میں آپ کے بغیر جینے کا تصور نہیں زی نے آج پہلی بار کسی سے اپنی انا کے خلاف جاکے بات کی تھی
اوکے پرومو تو آپ مجھے دیکھا ہی چکی ہیں کچھ نیں کرتا ایسا مجھے کام ہے آپ آرام کرو پھر بات ہو گی
زری کو اب احساس ہوا تھا کہ وہ اسے کتنا چاہتی ہے وہ اپنی محبت کی شدد سے آب واقف ہوٸ ۔
اے کاش تم سمجھ سکتے محبت کے اصولوں کو کسی
کی سانسوں مے سما کے اسے تنہا چھوڑا نہیں کرتے
اس نے میسج کیا لیکن کوٸ جواب نہ آیا
وہ کتنے دن مسیج کرتی رہی لیکن وہاں سے خاموشی تھی 15 دن گزر گۓ اسے انتظار کرتے کرتے وہ بھی روز کوٸ نہ کوٸ شعر بھیج ہی دیتی
آجر ایک دن اس نے کال کی
آپ بات کیوں نہیں کرتے
کیوں بات کیا کرنی ہے
آپ سے بات کرنا اچھا لگتا ہے
لیکن مجھے نہیں لگتا
کیوں
اپکی باتیں میری سمجھ سے باہر ہیں
کون سی بات
آپکو نہیں لگتا آپ نے جذباتی فیصلہ کیا ہے محبت کچھ نہیں ہوتی
کیوں نہیں ہوتی
لگتا ہے آپ ڈائجسٹ بہت پڑھتی ہو اسی لیے ایسی باتوں پہ یقین ہے یہ باتیں حقیقت سے بالاتر ہیں جب گاوں میں رہناپڑا تو محبت کے نام سے بھی نفرت ہونے لگے گی پچھتاو گی تم
نہیں پچھتاوں گی میں صرف آپکا ساتھ چاہیے جیسے رہنا پڑا رہ لوں گی کوٸ شکایت نہیں کروں گی
سنبهل جاو اچھا ہے ویسے بھی یہ سب باتیں فلموں اور ڈراموں میں ہی اچھی لگتی ہیں میرا مشورہ ہے ہوش میں آو ان باتوں میں کچھ نہیں رکھا
اذلان اسے سمجھا رہا تھا
آپ میرا ساتھ نہیں چاہتے
ایسا تو نہیں کہا شادی تو کرنی ہی ہے کسی اور سے بھی اور تم سے بھی.تو تم سے ہی کر لوں جو اتنی پاگل ہے میرے لیے
تو آپ مجھ پہ احسان کر رہے ہیں
جو بھی سمجھیں
اوکے باۓ زری چڑ گٸ اور کال ڈراپ کرنے کے بعد رونے لگی اور ایک میسج کیا
Kisi or ko Sochne ki Gunjaish nahi baki
Bs tum per h khatam hy ye dastan meri….
اسے غفان سے کہی گٸ اپنی باتیں یاد آگٸ غفان میں نے تمہاری محبت کی قدر نہیں کی آج میرے ساتھ بھی یہی ہوا میری محبت کی بھی تذلیل ہوٸ مجھے تمہاری محبت پہ یقین نہیں تھا آج اسے میری محبت پہ یقین نہیں دیکھو ذرا حساب برابر ہو چکا ہے میں تم سے ہمدردی کی تھی ےآج اسے مجھ سے ہمدردی ہے یہ احساس بہت تکليف دہ ہے زرنش کو صرف اس لیے اپنایا جاے کے اسے ہمدردی ہے پلیز مجھے معاف کر دینا نیں تمہاری قصور وار ہوں زری روتی جا رہی تھی آج اس کے انسو تھم نہیں رہے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کافی دن یوں ہی گزر گیے زری روز اس کے میسج کا انتظار کرتی جب نہ اتا تو رو دیتی خود کو کو ستی وہ تم سے بات کیوں کریں گے تم نے محبت کی ہے تو تڑپو یہی تمہاری سزا ہے آخر اس سے رہا نہ گیا
سلام کیا حال پوچھا
تو جواب آگیا کیا بات ہے میری باتیں بری لگی ہیں تو سوری
کوٸ بات نہیں
اس لیے کہاتھاپتھر سے مت ٹکراو میں تمہیں تکليف کے علاوہ کچھ نہیں دے پاوں گا
آپ کا ہاتھ پکڑ کے کانٹوں پہ بھی چل لوں گی جیسے رکھیں کے رہوں گی بس خود سے دور نہ کرنا
اتناچا ہتی ہو مجھے
اپنی سانسوں سے بھی زیادہ
بدل تو نہیں جاو گی
جو بدلوں تو جان نکال لینا .
ظالم نہیں ہوں
ڈر لگتا ہے اذلان نے کہا
کیسا ڈر
اگر تم بدل گٸ تو میں کیا کروں گا اسی لیے تم سے دور رہنا چاہتا ہوں ایسے کہتا ہوں
نہیں بدلوں گی اپنی سانسوں سے کوٸ جدا نہیں رہ سکتا
تہاری محبت مجھے پاگل کر دے گی
نہیں آپ نے تو مجھے پاگل کر دیا ہے زری ںے اعتراف کیا
کب لینے آوں تمہیں
جب آپ چاہو
تم اپنی سٹڈی مکمل کرو میں تب تک آ جاوں گا تمہیں اچھی لاٸف دینا چاہتا ہوں میں نہیں چاہتا تمہیں کوٸ تکليف ہو
اور میں نے تو کوٸ ڈیمانڈ نہیں کی مجھے آپ کے ساتھ کے علاوہ کچھ نہیں چاہیے
۔۔۔۔۔۔۔۔
اورپھر ایک سال بعد وہ دن آ ہی گیا جس کا زری کو انتظار تھا
1. وہ خوش بھی تھی اورپریشان بھی کیونکہ زری کو شادی سے دو دن پہلے ہی پتا چلا کہ اذلان کسی کو پسند کرتا تھا اسکی اذلان سے بات نہیں ہوتی تھی جو پوچھتی
زری نے مونا کو بتایا جو کہ اب اسکی بھابھی بن چکی تھی
لیکن وہ تو ماضی ہے نہ مت دھیان دو ایسی باتوں پہ مونا نے سمجھایا
لیکن بھابھی انہوں نے کبھی مجھ سے اقرار بھی تو نہیں کیا ایک دفعہ کے بعد ہمیشہ چھوڑنے کا ہی کہا وہ تو میں تھی جو ایک دن کی بات کو دل سے لگا لیا
اور سو چا انہیں اپنی محبت سے اپنا بنا لوں گی
تو وہ تمہارے ہی ہوں گے پریشان نہ ہو سب ٹھیک ہو گا تمہارا وہم ہے مونا نے سمجھایا
لیکن اگر انہوں نے میری انسلٹ کی تو بھابی بہت ڈر رہی ہوں زری بہت سے حدشات کا شکار تھی
زری پلیز زیادہ مت سوچو
اور پھر وہ اذلان کے گھر اسکی دلہن بن کے آگٸ بہت کچھ بدل چکا تھا چھوٹا سا گھر اب بنگلہ بن چکا تھا
زری دلہن کے روپ میں ریڈ اور اورنج کے کنٹراس میں لہنگا پہنے بہت پیاری لگ رہی تھی اذلان کے روم میں بیٹھی اسکاانتظار کر رہی ڈر بھی رہی تھی
اتنے میں وہ آگیا مجھے یقین نہیں آتا زری تم میرے سامنے ہو مجھے لگتا ہے میں کوٸ خواب دیکھ رہا ہوں تم بہت اہم ہو میرے لٸے کیونکہ محبت پر پھر سے اعتبار تم نے دلایا ہے تمہاری محبت نے ہی مجھے سمیٹا ہے میں تم سے کچھ نہیں چھپاوں گا میں نے ایک لڑکی سے محبت کی تھی اتنی تو نہیں لیکن تھی ضرور لیکن اس نے مجھے میری غربت کی وجہ سے چھوڑ دیا اس لیے میرا اعتبار اٹھ چکا تھا تم نے مجھ سے محبت کی تب جب میں کچھ نہیں تھا i love u
کتنا یہ نہیں جانتا لیکن تم اس کے بارے میں انسکیور مت ہونا کیونکہ وہ میرے لیے کچھ نہیں تم میرے لیے سب کچھ ہو توڑنے والے سے زیادہ جوڑنے والا اہمیت رکھتا ہے تم سے کچھ نہیں مانگوں گا سواے وفااور محبت کے اس میں کمی نہ لانا اسکی بے وفاٸ سے کچھ نہیں ہوا تمہاری بی وفاٸ سے مر جاوں گا بہت زیادہ دعوے نہیں کروں گا بس اتناکہوں گا میں تمہیں خوش رکھنے کی پوری کوشیش کروں گا میں آج سے صرف تمہارا ہوں اور تمہارا ہوں اور تمہارا ہی رہوں گا
میں بھی زری نے بھی اقرار کیا اور دل ہی دل میں کہا میں کیسے بدل سکتی ہوں تم تو میرا عشق ہو ساتھ میں اللہ کا شکر ادا کیا آج نہ صرف اسکی محبت اسے ملی تھی بلکہ ایک اچھا گھر بھی مل گیا تھااذلان نیا گھر شہر میں بنایاتھا اس نے خود کو اسکی رضا کے اگے جھکایا تھا اس نے اسے سب کچھ دے دیا تھا تیرا شکر ہے میرے مالک تو واقعی جو کرتا ہے بہترین ہوتا ہے تونے مجھے ہیرا دینا تھا اور میں نے ایک پتھر کے لیےاس دن تجھ سے شکوہ کیا تھا مجھے معاف کر دینا میرے مالک زری کو آج سب کچھ مل گیا تھا اذلان اسکی محبت ہی نہیں اسکا آہیڈیل بھی نکلا نماز روزے کاپابند اور صرف بسکو چا ہنے والا وہ اس پہ آندھا اعتبار کرتی تھی کیوں نہ کرتی وہ تھاہی ایسا ۔
