Wo Mera Ishq Hai by Sara NovelR50701 Wo Mera Ishq Hai (Episode 02)
Rate this Novel
Wo Mera Ishq Hai (Episode 02)
Wo Mera Ishq Hai by Sara
زری شام کو تیار رہنا کلثوم کی طرف جانا ہے شمیم نے زری کو بتایا
لیکن مما میں کیا کروں گی جا کہ زری نے خفگی سے کہا
ارے بیٹا رشتے داروں سے ملنا چاہیے ویسے بھی ہمارا یہاں ہے ہی کون سوائے انکے باقی سارے رشتے دار تو فیصل آباد رہتے ہیں
مما میرا دل نہیں کرتا زری نے جیسے نا جانے کی ڈھان لی تھی
میں کچھ نہیں جانتی بس تم تیار رہنا ماں نے اپنا فیصلہ سنا دیا
اوکے زری منہ بناتے ہوے روم میں چلی گٸ
۔۔۔۔۔۔
یہ ایک بنگلہ نما بڑا سا گھر تھا ہر چیز نہایت نفیس عمدہ اور مہنگی تھی زری گھر کو دیکھتی رہ گٸ
واہ انٹی آپ کا گھر تو بہت پیارا ہے زری نے سراہا
یہاں کے لوگ بھی بہت اچھے اور پیارے ہیں آپ غور تو کریں غفان باہر سے آیا اور اسکی بات سن کے روک گیا
یہ کہاں سے آ گیا زری نے دل میں سوچا
غفان بیٹا آو نہ بیٹھو سب کے پاس غفان اوپر اپنے روم میں جانے لگا تو شمیم نے روکا
موم فریش ہو کے آتا ہوں غفان نے کہا اور اوپر چلا گیا
بی جان زری کو گھر دیکھاہیں پہلی بار ہمارے گھر آٸ ہے
زری نے گھر دیکھا اور لان کی طرف چلی گٸ جہاں کٸ قسم کے پھول تھے زڑی کو پھول بہت پسند تھے
واہ یہ گارڈن کتنا زبردست ہے یہ کون لگاتا ہے زری نے بی جان سے پوچھا
مالی ہے لیکن غفان بابا خود انکی دیکھ بھال کرتے ہیں
آپ یہاں کب سے کام کرتی ہیں وہ دونوں لان میں موجود کرسی پہ بیٹھ گٸ
میں جوانی میں ہی بیواہ ہو گٸ تھی تب سے اسی گھر میں ہوں گھر کے فرد کی طرح ہوں غفان بابا کو میں نے ہی پالا ہے ماں کی طرح جرمنی میں بھی میں ہی ان کے ساتھ رہتی تھی بڑے لوگ ہیں لیکن کبھی اجنبی ہونے کا احساس نہیں دلایا بی جان نے بتایا
ہیلو آپ یہاں ہیں غفان نے کہا
چلو بچو آپ دونوں باتیں کریں میں کچھ کام دیکھ لوں بی جان نے کہا اور چلی گٸ
ارے آپ تو روکیں نہ مجھے آپ سے بات کرنی ہے غفان نے جاتے ہوے زری کو روکا
لیکن مجھے آپ سے کوٸ بات نہیں کرنی اپکو سمجھ کیو نہیں آتی زری نے مڑ کے کہا
پلیز آپ جیسا سمجھ رہی ہیں میں ویسا نہیں ہوں محبت ہو گٸ ہے آپ سے غفان نے کہا
تو میں کیا کروں محبت کچھ نہیں ہوتی بس وقتی لگاو یا ٹائم پاس کرنے کا بھانا آج مجھ سے تو کل کسی اور سے زری نے کہا اور جانے لگی تو غفان نے اسکا ہاتھ پکڑ کے روکا اور کہا تم ایسے نہیں جا سکتی
Don’t touch me
زری نے غصے سے اسکی طرف دیکھا تپھٹر رسید کر دیا اور ہاتھ چڑایا
تم صرف میری ہو تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی آیک نہ ایک دن تم میری محبت کو تسلیم کرو گی تمہارا دل میرے لیے دٹھرکے گا یاد رکھنا غفان نے غصے سے اسے جھنجھورا
وہ دن کبھی نہیں آۓ گا Understand زری نے کہا اور چلی گٸ
پہلے تم میری محبت تھی اب ضد بھی ہو اور غفان جسے چاہے اسے حاصل کر کے ہی رہتا ہے تمہیں اپنا دیوانہ نا بنایا تو اپنا نام بدل دینا غفان نے غصے سے کہا
۔۔۔۔
بھاٸ پلیز مجھے FSC نہیں کرنی میں نے ICS میں admission لینا ہے زرنش نے اپنا فیصلہ سنایا
آخر تمہیں ہو کیا گیا ہے سب تمہيں سمجھا چکے ہیں تم اپنی ضد پہ قاٸم ہو اتنے اچھے مارکس سے پاس ہوٸ ہو آخر مسلہ کیا ہے توضیف نے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن بے سود اسکے سامنے بھی زرنش تھی جو اپنے فصیلے میں کہاں کسی کی سنتی تھی اخر کار اسنے ICS میں admission لے ہی لیا مونا نے بھی اسی کالج میں admission لیا لیکن اسنے fsc میں لیا
یہ کیا زری تم نے ساہنسں سبجکٹ کیوں چھوڑے تمہیں تو بہت شوق تھا میڈیکل کا پھر مونا حیران ہوٸ
بس جو چیز اس غفان کو پسند ہو مجھے اس سے نفرت ہے زری نے اسے بتایا
اف یہ کیا بیوقوفی ہے تم اسکی نفرت میں اپنا carear برباد کر دو گی
تو کیا تم جانتی ہو جس سے نفرت کرتی ہوں انتہا کی کرتی ہوں اور مجھے اس سے شدید نفرت ہے زری نے اسے بتایا
پاگل ہو تم مونا نے کہا اور چلی گٸ
۔۔۔۔۔۔۔
زری یہ تمہاری انٹی شمیم کی نند کی بیٹی ہےنیناں یہاں پڑھنے آٸ ہے
زری نے اسے غور سے دیکھا اس نے پینٹ شرٹ پہنی ہوٸ تھی دیکھنے میں کافی ماڈرن تھی زری نے کلثوم کو سلام کیا اور نیناں سے ملی کچھ ہی دیر میں ان کی اچھی خاضی دوستی ہو گٸ وہ خوش اخلاق اور frenkly nature کی مالک تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔
انٹی میں زری کو لینے آٸ ہوں دسمبر کی چھٹیاں ہم ایک ساتھ گزاریں گے پلیز آپ اسے جانے دیں نیناں نے زری کی ماں سے کہا اور لے کے جانے پہ اصرار کیا کافی دنوں سے اسکی یہی ضد تھی آج چھٹیاں ہوتے ہی وہ لینے آگٸ
لیکن بیٹا یہ کبھی کہیں نہیں گٸ کلثوم نے اسے کہا
تو کیا آپ کو ہم پہ بھروسہ نہیں
بیٹا میرا مطلب یہ تو نہیں تھا چلو لے جاو جسے تم دونوں کی خوشی ہمارا گھر ویران ہو جاۓ گا یہی تو رونق ہے اس گھر کی کلثوم نے اداسی بھرے لہجے سے کہا
کوٸ بات نہیں انٹی تھوڑے دنوں کی بات ہے نیناں نے کہا اور زری تیاری کرنے روم میں چلی گٸ
۔۔۔۔۔۔
ارے واہ آج تو بڑے بڑے بندے آۓ ہیں بی جان ڈنر میں خوب انتظام کیجۓ گا غفان نے اسے دیکھتے ہی فرمائش کر دی
ڈنر کے بعد نیناں مووی دیکھنے لگی اور زری نے کبھی موویز نہیں دیکھی تھی انکے گھر اجازت نہیں تھی اور نہ ہی اسکا دل کرتا تھا
یار دیکھو تو سہی بہت اچھی مووی ہے
نہیں یار زری نے انکار کر دیا
بتا نہیں کس دور میں رہتی ہو نہ song سنتی ہو نہ ہی موویز دیکھتی ہو تمہاری بھی کوٸ زندگی ہے نیناں نے کہا میں اپنی زندگی سے خوش ہوں زری نے کہا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی
یار آٶ چھت پہ جا کہ چاند دیکھتے ہیں چودویں کا چاند کتنا پیارا لگ رہا ہے زری نے کہا
نہیں یار تم جاو نیناں نے انکار کر دیا
اوکے جیسے تمہاری مرضی اس نے کہا اور چلی گٸ
چاند کتنا پیارا لگ رہا ہے غفان نے زری کے برابر کھڑے ہو کے کہا
جی زری نے غصہ کرنے کی بجاۓ نرمی سے کام لیا شاید اس دن کے کۓ پہ شرمندہ تھی
آپکو چاند دیکھنا پسند ہے مجھے بھی بہت اچھا لگتا ہے چودویں کا چاند غفان نے با ت بڑھانا چاہی
جی لیکن اتنا نہیں بور ہو رہی تھی تو چھت پہ آگٸ زری نے انکار کرتے ہوۓ کہا
ویسے اس دن آپ نے اچھا نہیں کیا غفان نے موقع دیکھتے ہی اسے شرمندہ کرنا چاہا شاید اسے لگا وہ مخافی مانگے گی لیکن زرنش معافی مانگ لے یا اپنی غلطی مان لے ایسا ممکن نہیں تھا
آپ نے جو کیا وہ بھی سہی نہیں تھا زری نے کہا
اوکے لیکن میں نے اپنے دل کی بات کٸ تھی کچھ غلط نہیں کہا تھا غفان نے کہا
جو بھی تھا آپ کی محبت آپکا مسلہ میں کیا کروں زری نے کہا
یہ بھی ٹھیک ہے غفان نے اور کچھ نہیں کہا شاید اسکے دماغ میں کچھ اور تھا
۔۔۔۔
غفان ضمیر نیناں اور زری لان میں بیٹھے تھے کہ ضمیر بولا یار میرے خیال سے محبت میں اظہار ضروری نہیں
میں agree نہیں کرتا اظہار نہیں کرو گے تو اگلے کو پتا کیسے چلے گا غفان نے کہا
میں ضمیر کی بات سے agree کرتی ہوں ضروری نہیں کے بتایا جاے زری نے کہا
کیوں غفان نے پوچھا
اگر ہم اظہار کر دیں اور سامنے والا انکار کر دے زری نے کہا
یہی تو promblem ہے ہم اگر مگر کے چکر میں اس تک بات پہنچاتے ہی نہیں غفان بولا
فرض کرو کہہ دیا اب وہ انکار کر دے تو
تو کیا انکار اقرار میں بھی بدل سکتا ہے کبھی نہ کبھی تو یقین آ ۓ گا ہی غفان نے کہا
واہ self respect تو چیز ہی نہ ہوٸ اگلے کے بھیک مانگو اپنی ذات کی تذلیل کراو جیسے ہماری تو کوٸ عزت ہی نہ ہوٸ زری نے کہا
وہ محبت ہی کیا جس میں انا ہو محبت میں پہلا قدم انا پہ رکھا جاتا ہے محترمہ غفان نے اسے لا جواب کر دیا اتنے میں نیناں بو لی تم دونوں کس بحث میں پڑ گۓ ۔۔۔
وہ چاروں لان میں بیٹھے لوڈو کھیل رہے تھے کہ اچانک نیناں نے کہا غفان تم جان بوجھ کہ زری کو جتا رہے ہو کیونکہ وہی دونوں ہی رہ گۓ تھے
نہیں تو ایسا تو نہیں غفان نے انکار کر دیا
چلو اب ڈنر تمہاری طرف سے ضمیر بولا
زری کو اسے ہرا کے بہت خوشی ہوٸ
تم نے ایسا کیوں کیا میں نے بھی نوٹ کیا یار وہ دونوں چلی گٸ تو ضمیر نے اسے پوچھادیب
یار کبھی کبھی ہار میں بھی جیت ہوتی ہے تم نہیں سمجھو گے
تو سمجھاو نہ
تم نے دیکھا وہ کتنی خوش ہو رہی تھی بس میں ہار کے بھی جیت گیا اسکی خوشی کو دیکھ کہ غفان نے کہا
واہ رے مجنوں ضمیر نے سراہا دل ہی دل میں اسکی مدد کرنے کا سوچ لیا
۔۔۔۔
رات کو وہ لان میں ٹہل رہی تھی کہ ضمیر آ گیا زری تم یہاں کیا کر رہی ہو بیمار نہ ہو جانا
بس بھاٸ نیند نہیں آ ر ہی تھی زرنش نے بتایا
ایک بات کہوں اگر تمیہں برا نہ لگے تو
جی بولیں نہیں کرتی
تمہارا آ يڈل کیسا ہونا چاہیے
یہ کیسا سوال ہے زری نے پوچھا
ایسے ہی پوچھا اگر نہیں بتانا چا ہتی تو کوٸ بات نہیں میں نے تو ایسے ہی پوچھ لیا
جو دیکھنے میں handsame good looking ہو nature اچھا ہو دل پھینک نہ ہو صرف مجھے چاہے میں ہی اس کے لیے سب کچھ ہوں اور اسلامی ہو مجھے صرف خود تک مخدود رکھے نہ کہ نمائش بنا دے نماز روزے کا پابند زری نے بتایا
سو جھ تو بہت اچھی ہے impressive
وہ دونوں باتيں کر رہے تھے کہ کھڑکی سے غفان دیکھ رہا تھا
کیا ضرورت تھی اس سے باتیں کرنے کی ضمیر کے روم میں آتے ہی برس پڑا
کیوں جلن ہو رہی ہے تم سے بات جو نہیں کرتی
تمہیں پتا ہے وہ صرف میری ہے مجھے اسکے اردگرد کوٸ بھی اچھا نہیں لگتا غفان نے کہا
یار پلیز اتنا مت چاہ کہ اسکے بخیر رہ ہی نہ پاو
مطلب کیا ہے تمہاری بات کا جو میرا ہے وہ صرف میرا ہے کسی اور کا نہیں ہونے دوں گا غفان نے کہا
روکو خودکو وقت کا کچھ پتا نہیں ہوتا
اسنے تم سے کچھ کہا ایسی باتیں کیو ں کر رہے ہو غفان نے خیرت سے پوچھا
نہیں ویسے ہی کہا
تم نے تو ڈرا دیا تھا
چلو سو جاو ضمیر نے کہا اور چلا گیا
ضمیر اور زری کافی دوستی ہو گٸ وہ اکثر باتيں کرتے رہتے اور یہ بات
غفان کو بری لگتی اور زری محسوس کرنے کے باوجود اسے چڑانے کے
لیے اس سے بات کرتی
زری وہاں سے واپس آ گٸ لیکن اسکے مزاج میں کافی فرق آ چکا تھا ان چند دنوں نے اس میں کافی بدلاو آیا تھا اب اسے ان کی طرح ازاد زندگی اچھی لگنے لگی ڈوپٹہ سر کی بجائے اب گلے میں رہنے لگا مائیڈ کا فی بدل چکا تھا اس نے ضد کر کے نقاب کرنا چھوڑ دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔
انٹی غفان کی Brithday ہے آج آپ سب شام کی پارٹی نیں آيۓ گا ضمیر انہیں دعوت دینے آیا
شام کو زری نے پستہ کلر نفیس سے کام کا ڈریس پہنا ہوا تھا وہ بھی
اس مخفل کی جان بنی ہوٸ تھی اسکی پسند بھی اعلی تھی برائنڈ کونشینس تو وہ تھی ہی اسی ليۓ وہ پارٹی میں کسی سے کم نہیں لگ رہی تھی غفان کی نظریں اس پر سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی happy birthday اسنے غفان کو کہا thank u تمہار ے آنے کا بہت اچھا لگا
واہ بہت پیاری لگ رہی ہو ضمیر نے تعریف کی
مجھے پتا ہے کوٸ نٸ بات بتائيں زری نے شوخی سے کہا
اور دونوں ہنس دہیے جبکہ غفان دور سے دیکھ کے آگ بگولا ہو چکا تھا موقع دیکھتے ہی زڑی کے پاس آیا اسے بازو سے پکڑا اور ایک طرف لے گیا
تم کیوں ضمیر سے بات کرتی ہو تم جانتی ہو مجھے اچھا نہیں لگتا پھر کیوں کرتی ہو ایسا غفان نے غصے سے اسے جھنجورہ
چھوڑو مجھے زری نے کہا
پہلے میرے سوال کا جواب دو غفان مزید برہم ہوا
تمھیں اچھا نہیں لگتا اسی لۓ تو کرتی ہوں زری نے کہا
تم صرف میری ہو اور میری ہی رہو گی میں جسے چاہوں اسے کوئی دیکھے یہ گوارہ نہیں مجھے محبت ہو تم میری سمجھی تم غفان نی غصے سے کہا
اسے محبت نہیں ملکيت کہتے ہیں خود غرضی کو محبت کا نام مت دو
اور چھوڑو مجھے زری نے اسے کہا
میں نے آج تک جو چاہا ہے اسے حاصل کیا ہے سمجھی
میں کوئی چیز نہیں جسے حاصل کر لیا جاےایک انسان ہوں جس کے اپنے احساسات جذبات پسند نا پسند ہوتی ہے مسٹر غفان بڑا مان ہے نہ اپنی دولت پہ تو جان لو دولت سے چیزیں تو خریدی جا سکتی ہیں مگر جذبات اور سچے رشتے نہیں mind it زری نے اسے غصے سے دیکھا اور چلی گٸ
رات 10 بجے وہ سب گھر واپس آۓ
زری روم میں آٸ تو نیو نمبر سے کال آٸ زری نے اگنور کر دیا تو txt
آیا زری پلیز کال اٹینڈ کرو زری نے کال اٹینڈ کی
زری میں غفان پلیز بات سن لو میری
جی بولو زری روکھے لہجے میں کہا
زری پلیز بے روحی سے پیش او منظور ہے لیکن دور مت ہونا بہت چاہا ہے تمہیں تم نہ ملی تو مر جاوں گا تمہارے بنا زندگی کا تصور نہیں ہے پلیز زری مجھ سے میری زندگی مت چھینو التجا ہے تم سے تم جیسے کہو گی تمیہں رکھوں گا ہر خواہش پوری کروں گا تمہاری
بس مجھ سے دور مت جاو غفان کے ایک ایک لفظ میں درد تھا زری کی جگہ کوٸ اور ہوتی تہ ہار مان جاتی
میں محبت کو نہیں مانتی یہ صرف وقتی Attrection ہوتی ہے اور کچھ نہیں اس میں سچاٸ کہاں اور ویسے بھی کوئی کسی کے بنا نہیں مرتا یہ صرف فلمی باتیں ہیں حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اسکا
چار دن بعد ختم ہو جاۓ گی زری نے کہا
زری میں سچا پیار کرتا ہوں سمجھتی کیوں نہیں میرے جزبات کی کوئی قدر نہیں تمہارے نزدیک غفان نے پوچھا
نہیں
جی نہیں سکتا کیسے یقین دلاوں غفان بولا
تو مر جاو اگر جی نہیں سکتے تو میری جان چھوڑو زری نے کہا اتنے میں غفان نے کال ڈراپ کر دی اس نے غصے میں ہر چیز توڑ دی پھر کچھ سوچا انسو صاف کیے اور کاغذ پہ کچھ لکھا اور باہر چلا گیا
روڈ پہ فاسٹ سپیڈ میں گاڑی چلا تے چلا تے شہر سے باہر نکل گیا اتنے میں صمیر کی کال آٸ وہ اسےباہر جاتے ہوۓ دیکھ لیا تھا اور کافی بار کال کر چکا تھا آخر کار اس نے کال اٹینڈ کی
کہاں ہو غفان اس نے پوچھا
پلیز یار مجھے تنگ نہ کرو بس نے کہا اور کال ڈراپ کر دی
گچھ ہی دیر میں وہ ون وے پہ تھا اچانک ہی سامنے سے ٹرک اآیا اور ایکسیڈینٹ ہو گیا ہسپتال جاتے جاتے کافی خون بہہ چکاتھا گھر اطلاع دی گٸ کلثوم پہ تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی ہو وہ سب ہسپتال پہنچے صبح 10بجے کے قریب زری کے گھر بھی اطلاع پہنچ گٸ زری سولٸ ہوٸ تھی اسے کسی نے بتایا نہیں
ضمیر کو خیرت ہوٸ اور تشویش بھی کہ غفان اتنی رات کو شہر سے باہر کیوں گیا اسے بھی نہیں بتا یا وہ کارڈ لینے گھر آیا تہ ضمیر کہ روم میں گیا وہاں بکھری ہوٸ چیزیں دیکھ کہ چونک گیا نکلنے لگا تو کاغذ پہ نظر پڑی پڑتے ہی اسے غصہ آگیا اور زڑی کے گھر چلا گیا
داخل ہوتے ہی زڑی سامنے روم سے نکلتی دیکھاٸ دی
واہ سید زرنش فاطمہ واہ کتنی انا ہے نہ تم میں لو آج تماری انا جیت گی اس نے تالی بجاٸ زری اسکے رویے پہ خیران ہوٸ کیا قصور تھا غفان کا یہی کی تم سے محبت کی تھی اس نے ٹوٹ کہ چاہا تھا تمہیں اتنا کہ خود ٹوٹا تو برداشت نہ کر پایا ارے تم تو قابل ہی نہیں تھی محبت کہ قاتل ہو تم
اگر غفان کو کچھ ہوا تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا کبھی نہیں اس نے انسو صاف کیے جانے لگا تو واپس موڑا اور کاغذ اسکے منہ پہ پھینکا لو اسکی محبت کا ثبوت اور چلا گیا زری ہکابکا تھی اسکی سمجھ سے سب باہر تھا
اس نے کاغذ کھولا اور پڑھنا شروغ کیا
تجھے عشق ہو خدا کرے
کوئی تجھ کو اُس سے جدا کرے
تیرے ہونٹ ہنسنا بھول جائیں
تیری آنکھ پرنم رہا کرے
تو جسے بھی دیکھ کر رک پڑے
وہ نظر جھکا کر چللللا کرے
تو اُس کی باتیں سنا کرے تو اُس کی باتیں کیا کرے
تجھے دوستی بھی آئے نہ راس
تو تنہا تنہاہ رہا کرے
تجھے ہجر کی وہ جھڑی لگے
تو ملن کی ہر پل دعا کرے
تیرے خواب بکھریں ٹوٹ کر
تو کرچی کرچی چنا کرے
تو نگر نگر پھرا کرے
تو گلی گلی صدا کرے
تیرے سامنے تیرا گھر جلے
تیرا بس چلے نہ بجھا سکے
تیرے دل سے نکلے یہی دعا
یوں نہ گھر کسی کا جلا کرے
تجھے عشق ہو پھر یقین ہو
آسے تسبیحوں میں پڑھا کرے
زری جب تمہیں یہ ملے گا تب شاید میں دنیا میں نہ ہوں تم نے کہاتھا
نہ کوئی کسی کے لیے نہیں مرتا لو میں مر گیا تم سمجھ ہی نہیں پاٸ میری زندگی میں صرف تم تھی تمہارے بغير تو زندگی کا تصور ہی نہیں تھا تو کیسے زندہ رہوں ہٹ گیا تمہارے رستے سے کاش تم سمجھ پاتی میری محبت کو.کاش کہ تم بھی کسی کو چاہو ویسے جیسے میں نے چاہا لیکن وہ تمہارے ساتھ وہ نہ کرے جو تم نے کیا وہ
تمہاری محبت کی قدر کرے میں تو صرف تمہارا تھا اور ہوں
الله حافظ
زری نے مما کو کال کی تو غفان کا پتا چلا
یہ کیا کیا تم نے مجھے قاتل بنا دیا کیوں کیا ایسا زری رو دی اور دعائيں کرنے لگی
