Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

اس نے گھر تک کا سفر کیسے کیا تھا یہ صرف وہ جانتا تھا یا اسکا رب۔۔۔لیکن وہ اسکی زندگی کی طویل ترین ڈرائیو تھی۔۔۔۔۔دل سینے میں تڑپ رہا تھا اور بے چینی پورے وجود کو گھیرے ہوئے تھی۔۔۔۔

سیاہ آنکھوں میں عجیب سا احساس تھا جسے وہ کوئی نام دینے سے قاصر تھا۔۔۔لیکن یہ جو بھی تھا اسکی روح تک کو چیر رہا تھا۔۔۔اسنے سوچا تھا کہ اس سب کے بعد اسے خوشی ملے گی لیکن خوشی اسکے مقدر میں کب تھی۔۔۔۔۔جو اب ملتی وہ تو بچپن سے تشنہ لب تھا اب کیسے ممکن تھا سیراب ہو جاتا۔۔۔۔۔

ابراہیم مینشن کو دیکھتے اسکی سیاہ آنکھوں میں درد کی لہر اٹھی تھی۔۔۔۔۔کیا کچھ وابستہ نہیں تھا اس نام سے۔۔۔۔۔تبھی تو اپنے نام کو بھلا کر وہ سالوں سے اسامہ ابراہیم بن کر جیتا آ رہا تھا۔۔۔۔۔۔

” جانتے ہو ذوالنون تمہارے نام کا مطلب کیا ہے؟؟۔۔۔یہ خضرت یونس کا لقب تھا وہ کتنا ہی عرصہ مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہے۔۔۔۔یہ انکی آزمائش تھی اللہ کی طرف سے۔۔۔تبھی وہ قید میں کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے رہے اور بالا آخر وہاں سے رہائی پالی۔۔۔۔اس سب سے ہمیں صبر و تحمل کا درس ملتا ہے بیٹے۔۔۔۔۔۔کبھی بھی صبر کا دامن مت چھوڑنا۔۔۔اللہ کو چھوڑو گے تو رسوا ہو جائو گے۔۔۔۔۔اپنی مرضی چلائو گے تو اللہ منہ کے بل گرا دے گا۔۔۔۔۔۔”

ماضی کی یہ آواز کسی بازگشت کی طرح اسکے کانوں میں گونجی۔۔آہ!!!!کیا یاد آیا تھا اور کہاں یاد آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔وہ کیسے بھول گیا کہ وہ خدا نہیں تھا۔۔۔۔کیسے اسکی نافرمانی کی؟؟؟۔۔۔سیاہ آنکھوں میں اذیت تھی۔۔۔۔اور کچھ کھونے کا احساس بھی۔۔۔۔اپنا قیمتی خزانہ تو وہ برسوں پہلے کھو چکا تھا اور آج جو کھویا تھا اسنے اسکا سینہ خالی کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

” سر گاڑی پارک کردوں؟؟۔۔۔”

سائیڈ مرر سے گارڈ کی آواز پر چونکتے وہ سر ہلا کر نیچے اترا۔۔۔۔۔۔شکستہ قدموں سے چلتے وہ اندر کی طرف بڑھا۔۔۔۔جہاں کا منظر اسکی رگوں میں شرارے دوڑا گیا۔۔۔۔۔

رجب صاحب کے کندھے سے لگیں عصرہ بیگم شاید رو رہیں تھیں۔۔۔۔اسے اذیت انکے آنسوئوں نے نہیں دی تھی بلکہ اس قرب نے دی تھی جو انکے درمیان تھا۔۔سالہا سال گزر جانے کے باوجود وہ خود کو اس سب کا عادی نہیں بنا پایا تھا۔۔۔۔۔

” آپ؟؟۔۔آپ آ گئے پرنس؟؟۔۔”

سر کی پھٹتی نسوں سمیت اسنے وہاں سے ہٹنا چاہا لیکن وہ اسے دیکھ چکیں تھیں۔۔۔۔انکی آواز اسکے سر پر ہتھوڑے کی طرح برسی تھی۔۔۔۔۔۔

شربار نظروں سے دیکھ کر وہ بے دردی سے انھیں اگنور کرتا اوپر کی طرف بڑھا لیکن اب کی بار رجب صاحب کی پکار اسے ہتھے سے اکھاڑ گئی۔۔۔۔۔۔

” اسامہ۔۔۔۔۔”

وہ سنجیدگی سے بولے۔۔۔

” آپ لوگ مجھے چین سے رہنے کیوں نہیں دے رہے۔۔۔۔کیا چاہتے ہیں میں یہاں سے بھی چلا جائوں۔۔۔۔اور آپ۔۔۔ آپ کو میں کتنی بار کہہ چکا ہوں مجھے مخاطب مت کیا کریں۔۔۔۔ جب جب میں آپکو دیکھتا ہوں مجھے اپنا خسارہ یاد آجاتا ہے۔۔۔۔سو پلیز سٹے اووے فرام می۔۔۔۔۔۔”

وہ بولا نہیں چلایا تھا۔۔۔۔اسکی لہجے کی کاٹ اور نفرت رجب صاحب سمیت عصرہ بیگم کو بھی ساکت کر گئی۔۔۔۔بارہا ہونے والا سامنا آج تک اسے ہتھے نہیں اکھاڑ پایا تھا۔۔۔ایسی حد تو کبھی کراس نہیں کی تھی اسنے۔۔۔پھر آج کیا ہوا؟۔۔۔۔وہ گنگ سے اسکا شعلے برساتا روپ دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔

اسکے لہجے میں چھپا شکوہ رجب صاحب کے دل میں صدیوں کی تھکن بھر گیا۔۔۔۔۔

” ذوالنون۔۔۔۔”

” نام مت لیں میرا۔۔۔۔نفرت ہے مجھے آپ دونوں سے سنا آپ نے۔۔۔۔۔”

انکے منہ سے اپنا نام سن کر وہ خلق کے بل چیخا۔۔۔۔صدیوں کا غبار تھا جو نکل رہا تھا۔۔۔۔سیاہ آنکھوں میں ٹوٹے کانچ کی کرچیاں تھیں۔۔۔۔جن کی چھبن اور اذیت نے اسامہ کی روح کو لہولہان کر دیا تھا۔۔۔۔۔

” میں آج جہاں کھڑا ہوں نا صرف اور صرف آپ کی مہربانیوں کی وجہ سے ہوں۔۔۔۔”

ان دونوں کے لٹھے کی مانند سفید چہروں کو دیکھتا وہ سرعت سے مڑ کر سیڑھیاں پھلانگتا اپنے کمرے میں بند ہو گیا۔۔۔۔۔دھماکے سے بند ہونے والے دروازے کی آواز پر عصرہ بیگم کا سکتہ ٹوٹا تھا۔۔۔۔اور صرف سکتا ہی نہیں وہ خود بھی کٹی شاخ کی مانند ٹوٹتیں گرتیں پھوٹ پھوٹ کر روتی چلیں گئیں۔۔۔۔

انھیں یوں بے حال ہوتا دیخھ رجب صاحب بھی اذیت سے آنکھیں میچتے صوفے پر بیٹھتے چلے گئے۔۔۔۔ماضی کسی اژدھے کی مانند انکے وجود کو اپنے حصار میں لینے لگا۔۔۔۔

فرمان جبیل صاحب کو اللہ نے دو بیٹوں سے نوازہ تھا۔۔۔۔رجب جبیل کی پیدائش کے بعد انکی اہلیہ گزر گئیں جس پر اپنے دونوں بیٹوں کی پرورش انھوں نے تن تنہا کی۔۔۔۔ابراہیم رجب سے آٹھ سال بڑے تھے۔۔۔۔۔۔تبھی وہ جلدی سنبھل گئے۔۔۔۔۔بزنس کو سنبھالتے فرمان صاحب رجب پر اتنی توجہ نہیں دے پائے اس لیے اسے ابراہیم نے سنبھالا۔۔۔۔

دونوں بھائیوں میں بلا کا پیار تھا۔۔۔۔فرمان صاحب ان دونوں کو دیکھ دیکھ کر جیتے تھے۔۔۔۔۔۔اپنی پڑھائی مکمل کرنے بعد ابراہیم نے بزنس میں باپ کا ہاتھ بٹانا شروع کیا۔۔۔۔اور رجب اپنی پڑھائی میں مگن ہو گیا۔۔۔ وقت کا کام تھا گزرنا تبھی وہ گزرتا چلا گیا۔۔۔رجب ان دنوں یونی ورسٹی میں تھا جب ایک دن اسے یونہی پک کرنے ابراہیم خود پہنچ گئے۔۔۔۔وہاں ایک پری پیکر کو دیکھ کر وہ اپنا دل ہار بیٹھے۔۔۔۔۔

اور یہیں سے ان دونوں بھائیوں کی بربادی کا آغاز ہوا۔۔۔۔عصرہ رجب کی یونی فیلو تھی اور یونی فیلو ہی نہیں وہ دونوں ایک دوسرے سے محبت بھی کرتے تھے۔۔۔۔ لیکن نا آج تک رجب نے اظہار کیا نا ہی عصرہ نے تبھی بات صرف دل میں ہی دفن تھی۔۔۔۔۔۔۔

ہائیر سٹڈی کے لیے رجب کو بیرون ملک جانا تھا تو وہ بنا کچھ کہے صرف اسے انتظار کا عندیہ دے کر چلا گیا۔۔۔سوچا محبت تو وہ بھی کرتی ہے تو انتظار کرے گی۔۔لیکن ان کی یہی خوش فہمی انکے لیے عذاب بن گئی۔۔۔

وہاں رجب کا آخری سمیسٹر تھا جب عصرہ کے والد کا انتقال ہو گیا۔۔۔ وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھی۔۔۔۔۔تبھی حالات کا مقابلہ کرنے میدان میں اتری۔۔۔۔اور یہ اتفاق ہی تھا کہ اسے نوکری ملی بھی تو جبیل انڈسٹریز میں۔۔۔۔ جب پہلی بار ابراہیم نے اسے دیکھا تو اسے یقین تک نا آیا کہ اتنے دنوں جو چہرہ اسے ستا رہا تھا وہ یوں اسکے مقابل آ جائے گا۔۔۔۔۔

تبھی اپنی خواہش کا اظہار فرمان صاحب سے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔انھیں اپنی اولاد سے بڑھ کر کچھ بھی عزیز نہیں تھا۔۔۔۔۔۔تبھی ابراہیم کی خواہش پر وہ عصرہ کے گھر چلے گئے۔۔۔۔۔اسکے ماں رقیہ بیگم جہاندیدہ خاتون تھیں اپنے بیٹے اور بہو کے طور طریقے سمجھتیں سرعت سے ہاں کر گئیں۔۔۔۔۔ اور وہ اپنی قسمت کے ستم ظریفی پر شاکی رہ گئی۔۔۔۔۔

فل میں رجب سے کیے عہد کو لے کر کسک جاگی تھی لیکن اب ہاتھ میں کچھ نہیں تھا۔۔۔۔۔باپ کی وفات کے 4 مہینوں میں ہی وہ اپنے بھائی اور بھابھی کے رویے سمجھ چکی تھی۔۔۔تبھی دل پر پتھر رکھتے چپ سادھ لی۔۔۔۔۔۔

رجب کے پیپرز تھے رجب وہ آ نہیں سکا اور پیچھے اسکی محبت اسکے لیے شجر ممنوع بن گئی۔۔۔۔۔۔ابراہیم اسکے لیے کسی گھنے سائے سے کم نہیں تھا۔۔۔۔۔۔اسکا ساتھ بھی عصرہ کے لیے نعمت تھا۔۔۔ شادی کا ایک مہینے میں وہ ابراہیم کی سنگت میں پرسکون تھی۔۔۔ لیکن اسکی پرسکون زندگی میں طغیانی تب آئی جب اس نے رجب کو اپنے دیور کے روپ میں دیکھا۔۔۔۔دل کا وہ زخم جو بھرنے لگا تھا نئے سرے سے رسنے لگا۔۔۔۔۔

اور اسے اپنی بھابھی کے روپ میں دیکھ وہ کھڑے قد سے گرا تھا۔۔۔اس سب سے انجان ابراہیم ان دونوں کا تعارف کروا رہا تھا۔۔۔۔لیکن ان دونوں کے دل کس طرح خون کے آنسو رو رہے تھے یہ صرف وہ جانتے تھے یا پھر ان کا خدا۔۔۔۔۔۔۔

مسقل آزمائش سے فرار حاصل کرنے کے لیے رجب واپس امریکہ چلا گیا۔۔۔۔۔جانتا تھا جب تک یہاں رہتا ایسی ہی اذیت محسوس کرتا رہتا۔۔۔۔تبھی فرار اختیار کی۔۔۔۔۔اسکے فرار نے عصرہ کے لیے آسانی پیدا کر دی تھی۔۔۔۔۔

ذوالنون کی پیدائش نے بہت حد تک ان کی زندگیوں کو ایک دائرے میں مقید کر دیا تھا۔۔۔۔۔تبھی گزری یادوں پر وقت کی گرد پڑھ چکی تھی۔۔۔۔۔۔

گزرے وقت میں وہ ایک بار بھی پلٹ کر نہیں آیا تھا۔۔۔ابراہیم بارہا اس سے ملنے کے لیے جا چکے تھے لیکن عصرہ ہر بار کوئی نا کوئی بہانہ بنا لیتی۔۔۔۔۔۔

اسکی خالی نظروں کا سامنا کرنے ہمت نہیں تھی اس میں۔۔۔۔۔فرمان صاحب کے لیے ذوالنون جیسے کل کائنات تھا۔۔۔۔دنیا جہاں کی آسائشات کا ڈھیر تھا جو اسکے قدموں میں لا کر رکھ دیا تھا انھوں نے۔۔۔رجب کی حالت سے واقف تھے وہ لیکن انکے پوچھنے پر اسکے جواب نے انھیں خاموش کر دیا۔۔۔۔۔۔

” میں جس سے محبت کرتا تھا وہ کھو گئی ہے مجھ سے بابا۔۔۔۔اب مزید کسی اور کی جگہ نہیں ہے میری زندگی میں۔۔۔۔۔”

اسکا جواب آج بھی انھیں یاد تھا۔۔۔ابراہیم سے انھوں نے دانستہ چھپا لیا تھا۔۔۔۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ اسکے لیے کس حد تک ٹچی تھا۔۔۔۔بہرحال زندگی گزر رہی تھی۔۔لیکن جس کے لیے زندگی رکی تھی وہ تنہا اس سب سے لڑ رہا تھا۔۔۔۔۔

امریکہ آنے کے بعد تک وہ شاک سے نہیں نکل پایا۔۔۔۔کیا اسکی محبت اتنی کمزور تھی کہ وہ جھٹ سے کسی اور کی ہو گئی؟؟؟؟یہ سوال کسی انی کی مانند اسکے سینے میں پھنسا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔گزرے ڈیڑھ سال میں وہ ایک بار بھی پاکستان نہیں گیا تھا۔۔۔۔ابراہیم بارہا یہاں آئے تھے۔۔۔لیکن اسکا انکار اقرار میں نہیں بدل پایا۔۔۔۔۔ابراہیم زندگی میں پہلی بار اسکی ضد کے آگے ہارےتھے۔۔۔۔۔۔

” تم آخر پاکستان آ کیوں نہیں جاتے؟؟کیا ہے یہاں جو وہاں نہیں ہے؟؟۔۔۔”

اب بھی کافی بہث کے بعد وہ زچ ہو کر بولے۔۔۔جس پر نظریں اٹھا کر انکا چہرہ دیکھتے رجب کے دل میں ٹیس سی اٹھی تھی۔۔۔۔۔۔

” میں وہاں ایڈجسٹ نہیں کر پائوں گا بھائی۔۔۔پلیز ٹرائے ٹو انڈرسٹینڈ۔۔۔۔”

نظریں جھکا کر وہ اتنی بے بسی سے بولا کہ ابراہیم بھی ایک پل کے لیے چپ ہو گئے۔۔۔ کچھ تھا اسکے چہرے پر جس نے انھیں چونکا دیا۔۔۔۔

” کیا بہت محبت کرتے تھے اس سے؟؟۔۔۔”

انھوں آنکھیں سکیڑ کر اسکا چہرہ دیکھتے بڑی سنجیدگی سے استفار کیا۔۔۔۔اور رجب وہ انکے اتنے غیر متوقع سوال پر ساکت ہو گیا۔۔۔۔اسے ان سے اس سوال امید نہیں تھی۔۔۔۔۔تبھی ہونقوں کی طرح اسکا چہرہ دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔۔۔

” جھوٹ مت بولنا مجھ سے۔۔۔تمہافی رگ رگ سے واقف ہوں۔۔۔کیسے ممکن ہے تمہاری تکلیف کو نا جان سکوں؟؟؟۔۔۔۔۔”

نرمی سے بولتے وہ اسے نمک کا مجسمہ بنا گئے۔۔۔جو کسی بھی پل ڈھے جاتا۔۔۔۔۔۔بھلا وہ کیسے انجان رہ سکتے تھے؟؟۔۔

” بب۔۔بہت کرتا تھا۔۔۔۔”

کافی دیر بعد سختی سے آنکھیں میچتے وہ بھرائی آواز میں بولا۔۔۔۔۔۔تو اسکے چہرے پر بسی اذیت نے ابراہیم کا دل چیر دیا۔۔۔۔۔انکا لاڈلا بھائی اتنی اذیت میں تھا اور وہ انجان رہے۔۔۔۔

” کہاں ہے وہ؟؟۔۔۔”

اسے اپنے سینے سے لگاتے وہ نرمی سے بولے۔۔۔۔۔جبکہ وہ انکے سینے سے لگتا بے آواز روتا چلا گیا۔۔۔۔۔وہ سوال نہیں تھا۔۔۔۔ننگی تلوار پر برہنہ پا چلنے کے مترادف تھا۔۔۔دل کی اذیت حد سے سوا تھی۔۔۔۔۔

” وہ۔۔وہ کھو گئی ہے مجھ سے بھائی انھی فضائوں میں کھوئی ہے جہاں اب میرا سانس لینا محال ہے۔۔۔۔اور اب وہ مل بھی نہیں سکتی۔۔۔۔۔اور نا ایسا ممکن ہے۔۔۔۔”

ان کے سینے میں منہ چھپاتے وہ مبہم الفاظ میں بہت کچھ انھیں سمجھا گیا۔۔۔تبھی وہ لاجواب ہوتے اسکا سر سہلاتے رہے۔۔جو انکے سینے میں منہ چھپائے برسوں کا غبار نکال رہا تھا۔۔۔۔۔۔محبت بھی کس رسوائی کا نام ہے جو آج اسے اس مقام پر لے آئی تھی کہ وہ اپنے ہی بھائی سے نظریں چرانے پر مجبور تھا۔۔۔۔۔۔

” یہ بات ہم دونوں کے درمیان رہنی چاہیے۔۔۔۔مجھے اب عادت ہو گئی ہے اس سب کی۔۔۔۔اسلیے بھول جائیے جو ہوا۔۔۔ میرے لیے بس اللہ سے آسانی کی دعا کریے گا۔۔تاکہ مجھے سکون مل جائے۔۔بس۔۔۔”

انھیں ائیر پورٹ پر چھوڑتے یہ الفاظ اسنے کس ضبط سے کہے تھے یہ صرف اسکا دل جانتا تھا۔۔۔۔۔اور اسکے الفاظ کئی سالوں تک انکے ذہن میں گونجتے رہے تبھی وہ چاہ کر بھی اسے دوبارہ پاکستان بلانے کی جرآت نہیں کر پائے۔۔۔۔۔۔اور نا ہی آگے بڑھنے کا کہہ سکے۔۔۔۔۔

اور قسمت کی ستم ظریفی یہ تھی کہ آٹھ سال جدائی کا بن باس کٹنے کے بعد وہ وطن واپس لوٹا بھی بھی تب جب اسکے انتظار میں فرمان صاحب اپنی آنکھیں موند گئے تھے۔۔۔۔۔واپسی کا سفر ہمیشہ پر اذیت رہا ہے لیکن واپسی کا یہ سفر رجب جبیل کے لیے اذیت،دکھ اور بربادی کا سفر تھا جس سے فلوقت وہ انجان تھا۔۔۔۔

زاہدہ بیگم کے لیے وہ خبر خب نہیں تھی بلکہ زہر میں ڈوبا بھالا تھا جو سیدھا انکے سینے میں پیوست ہو گیا۔۔۔۔۔۔وقاص نے اپنی آنکھوں سے زری

کو کسی انجان کی گاڑی میں بیٹھتے دیکھا تھا بلکہ اس منظر کو ریکارڈ بھی کیا تھا۔۔۔۔۔۔

بے شک گاڑی کا ڈائیور نظر نہیں آرہا تھا جو کہ اسنے دانستہ کیا تھا۔۔لیکن اسے دیکھانا رابعہ بیگم کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔۔۔۔انھوں نے زری کے کردار کو لے کر ایسے ایسے الزام لگائے کہ زاہدہ بیگم بلکل ڈھے گئیں۔۔۔۔۔

” وہ۔۔۔وہ آ جائے گی بھابھی۔۔۔مجھ سے پوچھ کر وہ گئی ہے۔۔۔۔”

انکی زبان کے نشتر کو روکنے کی ایک کمزور کوشش کی گئی جو انھوں نے ایک ہی وار میں زمین بوس کر دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” ارے جائو بی بی۔۔۔۔جیسے ہم تو کچھ جانتے ہی نہیں۔۔۔ارے جن لڑکیوں کا رات گئے گھر کی دہلیز پھلانگنے کی عادت ہو وہ واپس نہیں لوٹا کرتیں۔۔۔۔۔”

انکے جملے زاہدہ بیگم کے کانوں میں سیسہ انڈھیل گئے۔۔۔۔ وہ روح تک تڑپیں تھیں۔۔۔۔۔۔

” نہیں خدا کے لیے ایسا مت کہیں بھابھی۔۔میرے زری ایسی نہیں ہے۔۔۔”

وہ ہاتھ جوڑتیں بمشکل بول پائیں ورنہ تو دل ٹکڑوں میں بٹا لہولہان تھا۔۔۔۔۔۔ابیہا اور ولید الگ ڈرے سہمے کونے میں کھڑے تھے۔۔۔۔۔

” یہ آپ کی بھول ہے پھپھو۔۔۔۔آج کل کی لڑکیاں بظاہر بھولی بھالی اور معصوم ہی ہوتیں ہیں۔۔۔۔۔۔”

اب کے بولنے والی فاریہ تھی۔۔جو چمک کر بولتی انھیں نڈھال کر گئی۔۔۔۔۔ان سب کی زبان کے طلتے نشستروں سے زیادہ اذیت ناک اگر کچھ تھا تو وہ آصف صاحب کا خاموش رہنا تھا۔۔۔۔۔۔

” آ۔۔۔آپ کچھ کہتے کیوں نہیں بھائی جان۔۔۔۔۔آپ تو جانتے ہیں نا میری زری ایسی نہیں ہے۔۔۔۔ “

بہتے آنسوئوں کو پونچھتے وہ بے بسی سے بولیں۔۔۔۔۔۔

” جب ایسا وقت آ جائے تو بیٹیوں پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے زاہدہ۔۔۔۔ “

وہ بولے نہیں تھے بلکہ انھیں روح تک تار تار کر گئے تھے۔۔۔۔۔وہ بے جان ہوتے قدموں سے گرتیں چلیں گئیں۔۔۔۔۔۔آنکھوں میں زری کا ہنستا بستا چہرہ روشن تھا۔۔۔۔۔۔کیا وہ ایسی تھی؟؟؟ان کا دل چیخا مگر سننے والے اپنی سماعتیں بند کیے کھڑے تھے۔۔۔۔۔

وہ سوال نہیں تھا بلکہ اسنے حقیقتا فاطمہ کی سانسیں روک دیں تھیں۔۔۔۔۔۔

وہ نمک کا مجسمہ بنی اسکے سامنے کھڑی تھی جو اسکے مقابل بیٹھا رب کی رحمت پر حیران تھا۔۔۔۔۔

آج اگر ذوالنون سے کوئی پوچھتا رب کہاں تھا تو وہ بلاجھجک کہتا شہ رگ سے بھی زیادہ نزدیک۔۔۔۔۔۔

وہ اسکے سامنے کھڑی سانس لے رہی تھی اور دھڑکنیں اسکی بے ترتیب تھیں۔۔۔۔۔۔اسکی کلائی اپنے ہاتھ میں محسوس کرتے وہ کہیں کہکشائوں کے سفر پر تھا۔۔۔۔۔۔

” تم کیسے محسوس کرو گی۔۔۔ کیونکہ محسوس تو میں نے کیا ہے سانسوں کا رکنا۔۔پل پل ہر ہر لمحہ۔۔۔ لیکن آج تمہیں دیکھ کر دل دھڑکنے سے انکاری ہے ۔۔۔۔”

گردن اٹھا کر اسکا آنسوئوں سے تر چہرہ دیکھتے وہ گہرے لہجے میں بولتا اسے ساکت کر گیا۔۔۔۔۔

” کہاں تھی تم؟؟۔۔۔جانتی ہو میں نے تمہیں کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا؟؟؟۔۔۔”

اسے ہنوز خاموش پا کر وہ بے چینی سے پوچھتا فاطمہ کا سکتا توڑ گیا۔۔۔۔۔سرعت سے اسکا ہاتھ جھٹکتے وہ دور ہوئی۔۔۔۔۔۔اپنے خالی ہاتھ کو دیکھتے وہ بے چین ہوا۔۔۔۔۔۔

” کیا ہوا؟؟۔۔۔۔نیناں تممم۔۔۔۔”

” خبردار!!! خبردار جو میرا نام بھی اپنے لبوں سے لیا تو۔۔۔۔۔مر چکی ہے زرنین ریحان۔۔۔اور جانتے ہو اسے کس نے مارا؟؟؟۔۔۔۔۔”

وہ بے چینی سے بولا ہی تھا کہ وہ اسکی بات کاٹتے خلق کے بل چلائی۔۔۔۔لہجہ انگارے برسا رہا تھا اور بھوری آنکھیں لہو رنگ بھیگی ہوئیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔اسکے سوال نے ذوالنون کی روح تک کو ادھیڑا تھا۔۔۔۔۔اسنے سوال نہیں کیا تھا بلہ اسے دار پر لٹکایا تھا۔۔۔جہاں سانس اسکے سینے میں اٹک گئی تھی۔۔۔۔

” نیناں۔۔۔۔۔۔”

اسکے لب پھڑپھڑائے۔۔۔۔

” میں بتاتی ہوں۔۔۔میرے قاتل تم ہو ذوالنون اسامہ۔۔۔۔تم وہ درندے جو میرے وجود سمیت میری خوشیوں کو نگل گئے۔۔۔۔۔۔اور کہاں کیوں ڈھونڈھ رہے تھے وہیں دیکھتے نا جہاں مجھے پھینک کر گئے تھے۔۔۔۔۔۔جہاں آج بھی میری قبر موجود ہے ۔۔۔۔اسی آصف ولا کی دہلیز پر جہاں میرے مردہ وجود پر تم نے مٹی ڈالی تھی۔۔۔۔۔۔ “

اسکی سیاہ آنکھوں میں اپنی بھوری آنکھیں گاڑتے وہ زہریلے لہجے میں بولتی اسے پور پور نیلا کر گئی۔۔۔۔آج یوم حساب تھا ۔۔۔اور ذوالنون کے ہاتھ اسکا اپنا اعمال نامہ تھا جہاں نظر دوڑائے بنا بھی وہ جانتا تھا کہ سامنے کھڑی اسکی نازک سی لڑکی کا وہ مجرم تھا جو اسکے دل کی مسند پر اول روز سے براجمان تھی۔۔۔۔۔دھڑکنیں اسی کا راگ الاپتی تھیں۔۔اسکا سرخ چہرہ دیکھتے وہ ندامت کے سمندر میں ڈوب رہا تھا۔۔۔۔۔