سامنے تا حد نگاہ تک پھیلے لان کو دیکھتے اسکے اندر سناٹے اترتے چلے گئے تھے۔۔۔۔بھوری آنکھوں میں نمی بڑھتی چلی گئی تھی۔۔۔۔جو اب لڑکھ کر اسکے سانولے گال پر بہہ آئی۔۔۔۔۔ چاند کی روشنی میں اسکی سانولی رنگت کچھ سیاہی مائل محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔سیاہ بال اسکی کمر پر آزاد سے بکھرے پڑے تھے۔۔۔۔۔کچھ لٹوں نے اسکے چہرے کا احاطہ بھی کیا ہوا تھا۔۔۔
رات کی رانی کی مہک ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔کمرے میں اندر اسکی اماں اور بہن بھائی سو رہے تھے مگر اسکی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔۔۔۔۔۔اور یہ اسکے ساتھ آج پہلی بار نہیں ہو رہا تھا کتنی ہی راتیں اسنے یوں ہی جاگ کر گزاریں تھیں۔۔۔۔۔۔اپنے باپ کی چھائوں میں گزرے سال اسکے لیے جنت سے کم نا تھے۔۔۔۔مگر صدا کوئی جنت میں تھوڑی رہا ہے جو وہ رہتی۔۔۔۔۔باپ کی وفات کے بعد اسے صحیح معنوں میں زمانے کی بے حسی کا احساس ہوا۔۔۔۔۔جب انھیں اس آشیانے سے بےدخل کر دیاگیا جو اسکے باپ نے بہت محبت سے سجایا تھا۔۔۔جہاں وہ اور اسکا خاندان سکون کی زندگی گزار رہے تھے۔۔۔۔۔مگر ددھیال والوں نے قدر نا جانتے ان تینوں یتیموں کو ماں سمیت بے دخل کر دیا ۔۔۔۔
سر پر چھت نا تھی تبھی اسکی ماں مجبور ہو کر اپنے بھائی کے در پر آ بیٹھی جہاں اسکی بھابھی کی حکومت قائم تھی۔۔۔۔۔بھائی نے محبت سے مجبور ہو کر چھت تو دے دی مگر باقی ضرورتوں سے نظریں چرا لیں۔۔۔تب اسکی ماں نے سلائی کر کے گھر کا نظام چلایا۔۔۔۔مگر بھائی سے پھر کبھی کسی چیز کی گزارش نہیں کی۔۔۔۔۔ان تمام حالات میں بھی اسکی ماں نے لبوں پر حرف شکایت نہیں لایا ۔۔۔انکے صبر کے سامنے تو وہ بھی اکثر نظریں جھکا لیا کرتی تھی۔۔۔کتنے ہی موقع آئے جب اسے اپنا ضبط ٹوٹتا محسوس ہوا مگر جب جب اسنے اپنی ماں کی طرف دیکھا تو نئے سرے سے صبر ملا۔۔۔جسے تھامے وہ آج تک اندر سے ریزہ ریزہ ہونے کے باوجود ڈٹ کر کھڑی تھی۔۔۔۔
لیکن اس سب میں وہ اندر سے ٹوٹ چکی تھی۔۔۔۔ماموں زاد کزنوں نے کبھی ایسا موقع نہیں گنوایا تھا جب وہ اسکی تزلیل نہ کر سکیں۔۔۔مامی کے ناروا سلوک کے باوجود وہ خاموش رہا کرتی تھی۔۔۔مگر بات اگر لفظوں تک محدود ہوتی تو اب بھی وہ صبر سے کام لے لیتی مگر۔۔۔
اسکے ماموں زاد وقاص کی بے ہودہ حرکتوں اور ہوس زدہ نظروں نے اسے بکھرنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔۔۔اور یہ سب وہ کسی سے کہہ بھی تو نہیں سکتی تھی۔۔۔مامی پہلے ہی انکے رہنے کے خلاف تھی اب اگر وہ یہ کہتی کہ وقاص نے اس پر بری نظر ڈالی ہے اسکا تو کچھ نا جاتا مگر اسکی ماں اور اسکی اپنی عمر بھر کی ریاضت ضائع ہو جاتی جو وہ کسی طور نہیں چاہتی تھی۔۔۔اسلیے اندر اندر کڑھتی رہی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ مرد زات سے خوفزدہ رہنے لگی۔۔۔۔اپنے اندر اعتماد کی کمی کی وجہ سے وہ تنہائی پسند ہوتی چلی گئی۔۔۔۔۔بھوری آنکھوں میں ہمہ وقت ایک خوف سا بسنے لگا جس نے وقاص کو اور شہہ دی۔۔۔۔۔
اور آج اسکی جرآت نے اسے توڑ کر رکھ دیاتھا۔۔۔۔گھر میں کئی ملازم ہونے کے باوجود مامی اسے اسکی اوقات یاد دلائے بغیر نہیں رہ سکتیں تھیں۔۔۔تبھی کئی طرح کے کام اس سے کرواتیں ۔۔۔۔ابیہا اور ولید کو تو اسنے کبھی انکا نشانہ نا بننے دیا مگر خود کو بچا نہیں پائی۔۔۔۔۔
آج بھی وہ معمول کے مطابق ان سب کے کپڑے استری کرکے کمرے میں رکھ رہی تھی۔۔۔جب وہ کسی بلا کی طرح وہاں نازل ہوا اور بڑی جرآت سے دروازہ لاک کردیا۔۔۔گھر میں کوئی نہیں تھا۔۔۔ماموں مامی کسی پارٹی میں گئے تھے۔۔۔اور فاریہ اپنے کمرے میں تھی اس سب میں اگر وہ کسی کو بلاتی بھی تو کسی نے نہیں آنا تھا۔۔۔تبھی وقاص مطمئن تھا اور اسکی اسی بے فکری نے اسے بدہواس کر دیا۔۔۔۔سارے کپڑے وہیں پھینک کر اسکے خود تک پہنچنے سے پہلے وہ لان کی طرف کھلنے والی بالکونی کی طرف بھاگی۔۔۔۔مگر بیچ میں ہی وہ اسے کمر سے تھام کر اپنے سینے سے لگا گیا۔۔۔۔۔اور زری کو لگا کسی نے اسے جلتے کوئلوں کی بھٹی میں پھینک دیا تھا۔۔۔۔پورا وجود جل اٹھا۔۔۔۔۔اسنے ہراساں ہو کر اسکی طرف دیکھا جو اسکے چہرے پر جھک رہا تھا ۔۔۔۔
اپنی پوری جان لگا کر اسے خود سے دور کرنا چاہا مگر اسکی گرفت کسی اژدھے کی مانند اسکی کمر کے گرد حائل تھی۔۔۔۔اپنے گال پر اسکے لبوں کا غلیظ لمس اسے کسی انگارے کی مانند ہوا جس سے اسکا گال دہک اٹھا تھا۔۔۔۔بے بسی کے شدید احساس تلے اسکے بھوری آنکھیں سمندر سمیٹ لائیں۔۔۔۔۔اس لمحے اسنے زمین میں دفن ہونے کی دعا کی تھی۔۔۔۔۔آہ کاش کوئی اسے اس درندے سے بچاتا۔۔۔۔۔۔مگر کسی نے نہیں آنا تھا۔۔۔جو بھی کرنا تھا اسے اپنی مدد آپ کرنا تھا۔۔۔۔
" تم بہت خوبصورت ہو زری جان ۔۔اور ہر خوبصورت چیز کا نظرانہ تو دینا بنتا ہے نا؟؟؟
وہ مدہوش سا اس سے پہلے اسکی گردن پر جھکتا زری نے پوری جان لگا کر اسے خود سے دور دھکیلا۔۔۔اور اسکے کچھ سمجھنے سے پہلے سائیڈ ٹیبل پر پڑا شوپیس کھینچ کر اسے دے مارا جو اسکے ماتھے پر لگا تھا ۔۔۔اور خون بھل بھل بہنے لگا۔۔۔۔وہ درد سے چیختا نیچے بیٹھتا چلا گیا۔۔اور اسی موقع کا فائدہ اٹھاتے وہ اپنے دوپٹے کو دبوچتی سرعت سے بالکونی میں بھاگی اور دروازہ بند کر دیا۔۔۔وقاص کا کمرہ فرسٹ فلور پر تھا تبھی وہ بغیر کسی پس وپیش کے لان میں کود گئی۔۔۔۔۔بنا پیچھے مڑے تیزی سے بھاگتے اسنے اپنے کمرے میں آکر دم لیا تھا۔۔۔۔۔بھوری آنکھیں بری طرح بھیگ رہیں تھیں۔۔۔اور پورا بدن کپکپا رہا تھا۔۔۔۔انہونی کے احساس تلے دل کی دھڑکن حد سے سوا تھی۔۔۔۔اگر وہ اپنا بچائو نا کرتی تو؟؟؟۔۔۔۔ اس تو کے آگے سوچتے بھی اسکے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے۔۔۔۔۔۔
" آہ اللہ کرے تم برباد ہو جائو وقاص احمد ۔۔۔تم۔۔تم۔۔۔۔۔"
اذیت کی شدت سے اس سے بولا نہیں گیا اور پھوٹ پھوٹ کر روتے وہ بیٹھتی چلی گئی۔۔۔۔۔مگر اذیت تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔۔
بارہا ضبط کی کوشش میں وہ ٹوٹ کر بکھری تھی۔۔مگر آج کے واقعہ نے تو اسے اسکی ہستی سمیت زمین بوس کر دیا تھا۔۔۔۔کیا وہ مفت کا مال تھی جو اس درندے کی نظر اس پر ٹہر گئی۔۔۔۔۔کیوں؟؟ اس نے تو کبھی زندگی میں اسکی طرف دوسری نگاہ تک نا ڈالی تھی تو وہ کیسے اتنی جرآت کا مظاہرہ کر گیا؟؟؟؟
کیوں وہ اتنی بے بس تھی کہ اس سے اپنا بچائو تک نہیں کر پاتی تھی۔۔۔اور اسی بات کا تو وہ فائدہ اٹھاتا تھا۔۔۔لیکن آج تو حد ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔اپنی چیخوں کو دبانے کے لیے منہ پر ہاتھ رکھتے وہ گھٹ گھٹ کر روتی چلی گئی۔۔۔۔بدن کسی خزاں رسیدہ پتے کی مانند لرز رہا تھا۔۔۔۔۔ڈھلتے سورج کی روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔ مگر اسکی زندگی تو اندھیروں میں ڈوبی تھی۔۔۔ایسے اندھیروں میں جہاں سے رہائی ممکن تھی یا نہیں یہ وقت نے طے کرنا تھا۔۔۔۔۔مگر ابھی تو اسکے درد میں شامل درودیوار بھی غمزدہ تھے جو اسکے دکھ درد کے ساتھی تھے۔۔۔۔۔۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!