Paband Slasal By Yumna Writes Readelle 50368 Paband Slasal (Episode 9)
No Download Link
Rate this Novel
Paband Slasal (Episode 9)
Paband Slasal By Yumna Writes
سید تبریز ریلکس سا این جی او آیا تھا ..
اس کے قدم خود با خود باغیچے کی جانب بڑھے تھے ” اُسکے اندر کی بے چینی کو قرار اُسے دیکھ کر ہی آنا تھا یہ وہ سمجھ چکا تھا ۔
اُسکی کھلکھلاتی آواز سن کر دل میں جلترنگ ہوئ
لیکن جانے کیوں اُسے سامنے کھڑے دیکھتے کل رات کا منظر آنکھوں کے سامنے ایک بار پھر سے گھومنے لگا
اور اسکا غصّہ حد سے تجاوز کرنے لگا ۔
ہدیل دوسری جانب کھڑی تھی ” اُسکی پشت کو وہ گھورتا قدم بڑھاتا اُس کے قریب گیا ۔
ہدیل گود میں بلی کے بچے کو لیے پیار کر رہی تھی ” پالا بےبی” چوٹ آ گئی آپ کو ۔۔
اُسکی نرم آواز کانوں میں پڑی تو سارا غصّہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ۔
ہدیل کو اپنی پشت پر کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو پلٹی ” ۔۔
سید تبریز اپنی شاندار شخصیت کے ساتھ اُس کے عقب میں کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا ۔۔
ایک پل کے لیے ہدیل کی دھڑکنیں تیز رفتار میں دھڑکنے لگی ” آج پہلی مرتبہ ہدیل نے با غور اُس کا جائزہ لیا تھا
جس کی گہری سیاہ آنکھیں بولتی تھی ” اُس کے شفاف دل کا حال بیان کرتی تھی
اس کی نگاہوں میں صرف عزت اور احترام تھا اُس کے لیے “
تبریز نے آئ برو اچکا کر اُسے دیکھا
ہدیل نے اپنی بے اختیاری پر جھجکتے اُسے سلام کیا
اسلام علیکم!!…
آپ کب آئے ” اسے خاموش کھڑے دیکھ کر وہ چونک کر استفسار کرتی گود میں اٹھائے چھوٹے سفید رنگت کے بلی کے بچے کے سر پر ہاتھ پھیر رہی تھی ۔
آپ کو کاٹ سکتا ہے یہ ” ۔۔۔ جانے کیوں اُسکا خود کو اگنور کرنا اچھا نہ لگا ۔
اور وہ ایک بلی کے بچے سے جلن محسوس کر رہا تھا ۔
یہ تو بے ضرر سا ہے اتنا معصوم ” یہ کچھ نہیں کرے گا ۔
اسکی ویکسین بھی نہیں ہوئی ” الرجی ہو سکتی ہے آپکو ۔
اسکو نیچے اُتارے ” ۔۔چہرے پر ناگواری سجائے وہ گویا ہوا ۔
ہدیل اُسکا موڈ آف دیکھ کے اسے نیچے اُتارتے اُسکی جانب متوجہ ہوئی “..
کیا بات ہے ” موڈ آف ہے آج آپکا ” ۔۔
وہ محسوس کر چکی تھی اسکے تاثرات “..
ہمم نہیں بس طبیعت کچھ اپسیٹ ” جمع کا با برکت دن تھا ۔
وہ سفید کلف لگے جوڑے میں ایک ہاتھ اپنی جیب میں ڈالے دوسرے سے اپنے گھنے بال پیچھے کرتے اپنے بگڑے تاثرات کو نارمل کرتا گویا ہوا ۔
کیا ہوا ہے آپ کو ؟؟…
نظر تو نہیں لگ گئی آپ کو ” اُسکی جانب پریشانی سے دیکھتی وہ صاف گوئی سے کہتی کچھ پڑھ کے پھونکنے لگی ۔
سید تبریز جو سنجیدہ سا کھڑا تھا اُسکی بات سنتے اُسکا قہقہ فضا میں گھونجا ،، وہ متفکر تھی اُس کے لیے
یہ بات اُسے اچھی لگی تھی ۔ وہ اُس کی جانب دیکھنے لگا ۔
کیا کرتی ہیں آپ لیڈی “…
مجھے کیوں نظر لگنی ہے اور کس کی ۔؟؟..
کیوں نہیں لگ سکتی” اتنے اچھے لگ رہے ہیں آپ ماشاء اللہ ۔
وہ اُسے گھورتے خفگی سے گویا ہوئی ” آپ کو میری بات مذاق لگ رہی ہے ______ منھ پھلاتے وہ اُسکی جانب سے رخ موڑ گئ ۔
اچھا اچھا ناراض نہیں ہوں ۔۔
آپ بھی بہت پیاری لگ رہی ہیں صدقہ نکال دیجیۓ کہی آپکو میری ہی نظر نہ لگ جائے ۔۔
وہ اُسکے کندھے سے ڈھلکتی شال کو نیچے جھکتا عقیدت سے اٹھاتا اُس کے ہاتھ میں تھماتا نظروں کا زاویہ بدل گیا ۔
ہدیل اُسکی بات سے کنفیوز ہوتی خاموش ہو گئی ۔
اچھا “…
بتائیں کل آپ کہاں گئی تھی ٫،، کسی بچے کے ساتھ تھی شاید ۔۔
وہ جان بوجھ کے بات بدلنے کے لیے گویا ہوا ۔
جی وہ میرا کزن برادر ہے ” ویسے ہی آئس کریم کھانے گئی تھی ۔
موسم اچھا تھا نہ ” بابا کو کہا تھا لیکن اُن کی طبیعت خراب تھی ” تو اُس نے کہا آپی میں لے جاتا ہوں ۔
پتا ہے مما تو ناراض ہو رہی تھی ” لیکن مجھے اچھا لگتا ہے تازہ ہوا میں سانس لینا ” کھلی فضا مجھے آزادی کا احساس دلاتی ہے
وہ اُس کے ہمراہ چلتی اردگرد دیکھتی بتا رہی تھی ۔
وہ ہنکار بھرتا اُس کے ساتھ قدم بڑھا رہا تھا ۔
اچھا ایک بات پوچھوں ” ؟؟.. اجازت طلب نگاہوں سے اُسکی جانب دیکھتی گویا ہوئ ” ۔۔
ہوا کی شدت سے اُس کے سکارف سے چند لٹیں اُسکے چہرے پر پھیلی ” جنہیں وہ آہستگی سے اپنی نرم مومی انگلیوں سے کان کے پیچھے کرتی دوبٹہ ٹھیک کرتی اُسکی جانب دیکھ رہی تھی ۔
ایسا کرتی وہ اسکو بہت دلکش لگی “
یہ آپکا ہاتھ کیوں آپ “؟؟… مطلب برا مت منایے گا ۔
کچھ ہوا تھا آپ ۔۔ ________ وہ جھجھکتے اٹک اٹک کے لفظ ادا کر رہی تھی ۔
اسکو برا لگنے کے خوف سے کے کچھ غلط نہ بول دے جو اُسے تکلیف دینے کا باعث بنے “
جی ” یہ میرا ایکسڈنٹ ہوا تھا ” جس میں میرا بازو اثر انداز ہوا ہے ۔
ٹریٹمنٹ چل رہا ہے ڈاکٹرز کے مطابق جلد بہتر ہو جائے گا ۔ لیکن مجھے ایسا نہیں لگتا ۔
وہ نظروں کا زاویہ بدلتا
اُسکی مشکل آسان کرتا نرمی سے ساری بات اُسے بتا گیا ۔
جو اُسے بڑے غور سے دیکھ کر بات سن رہی تھی
کیوں نہیں ٹھیک ہوگا ” ان شاء اللہ
اللہ پاک صحت ياب کریں گے جلد آپکو ” بیماری تو آنے جانے والی چیز ہے ۔۔
اللہ پاک کی جانب سے آزمائش ” وہ اپنے نیک بندوں کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے ۔
آپ اتنے مضبوط ہو کر ایسے ناامیدی والی بات کیسے کر سکتے ہیں ۔
وہ اُسکی بات سنتے کرب سے تپے تپے لہجے میں گویا ہوئ ۔
تو وہ اسکی بات سنتا مسکرا دیا ۔
آپ کہتی ہیں تو مان لیتے ہیں ۔۔ آپ علاج ٹھیک سے کروائیں اپنا ۔
آپکو دیکھ کر میں بتا سکتی ہوں کے آپ دوا لینے میں بھی ایسے ہی ڈھٹائی کرتے ہوں گے ۔
اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے اُسے گھورتے وہ ناک چڑھاتی گویا ہوئ ۔
ٹھیک ہے جی ” جو حکم آپ کا ۔۔
اور پھر ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہو گیا ” تبریز کو معلوم ہی نہ ہو سکا کیسے وہ اُسکے اتنا قریب ہو گیا کے اُسے دیکھے بغیر گزارا مشکل ہونے لگا ۔
دونو ایک دوسرے کے لیے لازم ملذوم ہو گئے ۔۔
ہدیل نے لفظی اظہار نہ کیا تھا لیکن اُسکی آنکھوں میں محبت کے دیپ جو اسے دیکھ کر جلتے تھے وہ سب کچھ عیاں کر دیتے تھے ۔
وہ کیسے نہ اُس شخص سے محبت کرتی جو اُس کو نظر بھر کے دیکھتا بھی تو ایسے کے اُسکی آنکھوں میں سوائے محبت اور احترام کے کچھ نہ ہوتا ۔
اُسکی بولتی گہری آنکھیں اُسکی محبت کی گواہ تھی ” ۔
دونو ایک ہی منزل کے مسافر تھے” جانے اب راستے میں کیا ہونا تھا ۔۔
انہیں ایک دوسرے کا ساتھ ملنا تھا یاں نہیں ______.
سید تبریز اپنے فلاحی اداروں کو دوسرے شهروں میں بھی تعمیر کروا رہا تھا
سید احمد شہید کے نام سے وہ ہاسپٹل بنوا رہا تھا ۔
عوام کی خوسلہ افزائی اور مدد سے وہ دن دگنی ترقی پر گامزن ہو رہا تھا ۔
سید تبریز اپنے باپ کا نام روشن کرتا جا رہا تھا ۔
معراج اور اس کی ماں اس میں آئی اس تبدیلی کو دیکھ کر خیران تھے ” اُس کے لیے خاص طور پر ایک فزیو آتا تھا جو اسکو ایکسرسائز کرواتا ۔
اُس کے بازو میں کچھ موومنٹ ہونے لگی تھی اور وہ جلد بہتری کی جانب تھا ۔
اُسکا گزارا اب ہدیل کے بغیر نا ممکن تھا وہ جلد از جلد اُسے خود پر حلال کرنا چاہتا تھا ” ۔
وہ اُس سے بات کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ” جلد از جلد وہ اسے اپنی دسترس میں لینا چاہتا تھا ” ۔
وہ سید تبریز کی تھی ” اسے دیکھنے کا ،،سراہنے کا حق صرف اُسکا تھا ۔۔
سید تبریز اپنے سے جری ہر چیز کے لیے بہت شدت پسند تھا ،،وہ تو پھر اُسکی محبت تھی ۔
سید معراج سے وہ بات کر چکا تھا اور وہ جلد انکے گھر جانا چاہتا تھا بات کرنے کے لیے ۔
اس کے بھائی کی محبت تھی وہ “
وہ جو اپنی سوچوں میں کھویا تھا اُسکی سماعتوں پر ان کی آواز پری ۔
پلیز سر آپ ہمارے ساتھ لنچ کرکے جائیے گا ۔۔
ہمیں اچھا لگے گا ” پلیز پلیز ۔۔۔۔
وہ اُسے خاموش دیکھتی اسرار کرنے لگی ۔
معراج ان کے تاثرات دیکھتا جو اُس کے سامنے معصومیت کے ریکارڈ توڑتی آنکھوں میں امید لیے ہوے تھی ۔۔
انکار نہ کر سکا ” انکو یاہو “” کا نعرہ لگاتے دیکھ اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری ” وہ لب دباتا انہیں آرڈر کرتا دیکھنے لگا ۔
میں آپ کے والد کے بارے میں جانتی ہوں ” میری ملاقات ہو چکی ہے ان سے ۔۔
بہت اچھے انسان تھے وہ ٫،، بہت افسوس ہوا تھا سن کے ۔
میں آنٹی سے ملنے آنا چاہتی تھی لیکن ہمت نہیں ہوئی ۔
وہ سادگی سے کہتی خاموش ہو گئی جیسے کوئی جرم کیا ہو ۔
کوئی بات نہیں آپ آئیے گا مینشن ” ماں کو آپ سے مل کر اچھا لگے گا ۔
نرم لہجہ میں وہ گویا ہوا ۔
اور پھر وہ چاروں اُسے گھیرے میں لیے جانے کیا کیا سوال کرتے رہی ۔
حنفہ کے لیے آج کا دن بہترین دن تھا ” دوسری جانب معراج کو بھی ان سے مل کر اچھا لگا تھا ” ۔۔
ان سے ملتا وہ واپسی کے لیے نکلا “
چہرے پر پہلی والی سختی در آئی ،، کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کے یہ وہی شخص ہے جو اندر بیٹھا تھا
اُسے کیا کرنا تھا وہ اچھے سے جانتا تھا لیکن ” وہ اس سب میں کسی معصوم کا دل نہیں توڑنا چاہتا تھا ” ۔
دلشیر حسن تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اُسے حنفہ کے ساتھ تعلقات بڑھانے پرنے تھے ۔۔
اور وہ اُس کے معصوم دل کو ٹھیس نہیں پہنچا سکتا تھا ۔ لیکن اس کے علاوہ اُسے کوئی چارہ نہیں دکھائی دے رہا تھا ۔
