Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Paband Slasal (Episode 17)

Paband Slasal By Yumna Writes

ہدیل کے گھر رسم کی تیاری شروع ہو چکی تھی ” وہ لوگ خوشیاں منا رہے تھے ” ہدیل کی سہیلیاں ان کے گھر موجود تھی ” ۔۔

وہ اس وقت پیلے رنگ کے سلیولیس ڈریس میں موجود اپنا سوگوار حسن لیے ” سب کے درمیان بیٹھی تھی ۔

لیلک بیگم اور ذیشان صاحب کی پریشان صورت دیکھ کے وہ مسکرا دیتی کے وہ اس گھر سے جاتے ہوئے اپنے والدین کو مختلف اندیشوں میں نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔

اس دن جب تبریز نے اُس سے بات کی تو اسے اندازہ ہوا کے لیلک بیگم اُسکی خاموشی کو شادی میں جلدی سمجھی تھی ۔۔

اسی لیے وہ چاہتی تھی کے ایک ،،دو ماہ شادی کی تاریخ بڑھا دی جائے ،،_______

وہ اس متلعق اُس سے بھی بات کر چکی تھی کے اگر وہ اتنی جلدی شادی کی وجہ سے پریشان ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ،،نکاح میں تھوڑی تاخیر کر لیتے ہیں ۔

وہ اب انہیں کیا بتاتی کے وہ دیو اسے پہلے ہی وارن کر چکا تھا کے تاریخ آگے نہیں بڑھے گی ۔

اور بعد میں کیا گیا اُسکا میسج ” جسے پڑھتے وہ سر تا پیر سرخ ہو گئی تھی چونکہ اُسے تو تبریز شاہ جیسے سوبر بندے سے ایسی توقع ہرگز نہ تھی ۔

ان کے سامنے وہ مصلحتاً خاموش ہو گئی ” اتنا وہ جان گئی تھی اُس شخص کو کے وہ ہرگز اپنے کہے سے پیچھے ہٹنے والا نہیں ۔۔

اور وہ سب جانتے بوجھتے اُس کے اندر چھپے مغرور شخص کو چھیڑنا نہیں چاہتی تھی

کیوں کہ بعد میں اُسے ہی بھگتنا پڑنا تھا سب کچھ ۔

اُسکا فون سنتے ایک جانب پھینکتے وہ ٹکئے پر سر گراتی رونے کا شغل فرما رہی تھی ۔

میسج کی” ببپ ” سے اُس نے سر اٹھایا ۔۔

سیدھا ہوتے ہاتھ بڑھا کر فون پکڑا ” _______

میسج اوپن کرتے جیسے جیسے وہ پڑھتی گئی اُسکی رنگت میں سرخیاں گھلنے لگی ۔۔

اتنا جان لیں جان من ” اگر آپ نے میری بات سے انخراف کرنے کا سوچا

تو جو وقت ابھی میں آپکو اس رشتے میں بندھنے کے بعد دینا چاہتا ہوں ،،پھر بھول جائیے گا سب ،،

تیار رہیے گا پھر میری شدتوں کو سہنے کے لیے ” کیوں کہ آپکو دیا ہوا وقت آپ آلریڈی لے چکی ہوں گی ۔

آگے آنکھ مارنے والا ایموجی تھا ” …

اُسکا چہرہ لہو چھلکانے لگا ” جسم میں سنسناہٹ بڑهپا ہونے لگی

وہ شاکڈ سی فون گود میں رکھے ” اُسکے لفظوں میں کے زیر اثر تھی

اس کے کھلے عام دھمکی دینے کے انداز پر اُسکا خلق خشک پڑنے لگا

وہ شخص اُسے اتنا جانتا تھا ” تو پھر کیوں اس کی آنکھوں میں چھلکتی محبت اور درد دیکھ کر بھی منھ موڑ کر چلا گیا تھا

وہ خاموش ہو گئی ” ابھی تو وہ سامنے نہیں تھا

ورنہ اُسکی اتنی بے باک گفتگو پر وہ اُسکا سامنا کیسے کرتی یہ سوچ آتے ہی اُسکے کانوں سے دھواں نکلنے لگا ۔

اس کی رضامندی سن کر لیلک بیگم جو پریشان روہانسی پھر رہی تھی پرسکون ہوتی مسکرا دی” ________ ۔

اپنے والدین کو خوش دیکھ کر وہ بھی آسودگی سے مسکرا دی ۔

جو بھی تھا وہ انہیں تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی ” وہ ان سوچوں میں کھوئ تھی ” کے عائشہ نے قریب بیٹھتے “بھر بھر کے ابٹن اُس کی برہنہ پنڈلیوں اور سڈول بازوں پر لگایا ۔۔

پیاری دلہن کہاں کھوئ ہوئی ہو ” اپنے سیان جی کے خیالو میں اور کہاں ” ______

دوسری نے درمیان میں ٹہوکا لگایا تو وہ شرم سے گلابی پڑنے لگی ۔

____________

تبریز کو گارڈ کال کرکے سب بتا چکا تھا وہ جو ضروری کام سے گیا تھا ” سب کچھ چھوڑتا گھر پہنچا ” ______

پلوشہ بیگم لاؤنج میں بیٹھی بے صبری سے اُسکا انتظار کر رہی تھی ” ۔۔۔

وہ متفکر سا بھاگتا میشن میں داخل ہوا تھا اور سامنے انہیں بیٹھا دیکھ اُسکی جان میں جان آئی تھی ۔

تیز قدم اٹھاتے جا کر انہیں سینے سے لگایا تو وہ اپنا ضبط کھوتی اُس کے ساتھ لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی ۔۔

تبریز ہنی ” ______ وہ معصوم بچی میری وجہ سے باہر نہیں نکلی ” ۔۔۔۔۔۔

جانے وہ کس خال میں ہوگی ” تم معراج کو کال کرو ۔۔

پتہ کرو بچی ٹھیک تو ہے ” میرا دل پھٹ جائے گا اس معصوم جان کا سوچ سوچ کر ۔۔

ماں کچھ نہیں ہوگا انہیں ” میں بھائی سے بات کرتا ہوں چلیں آپ روم میں ______.

وہ کافی حد تک صورت حال جان چکا تھا لیکن اس وقت سب سے زیادہ ضروری پلوشہ بیگم کو پرسکون کرنا تھا ۔

جب سے سید صاحب کی وفات ہوئی تھی اس کے بعد سے ان کا بی پی کافی ہائ رہنے لگا تھا ۔

ملازمہ کو جوس لانے کا کہتا وہ انہیں پیار سے بہلاتا ان کے کمرے میں لے کر گیا اور انہیں نیند کی دوا جوس میں شامل کرتے دی ” تاکہ وہ مزید پریشانی نہ لیں ۔

جب تک وہ پرسکون ہوتی سو نہیں گئیں وہ قریب سے نہیں اٹھا ۔

انہیں آنکھیں موندے دیکھ وہ عجلت میں اٹھتا کمرے سے باہر نکلا اور معراج کو کال ملائ ” جو دو ” تین بیل کے بعد اٹھا لی گئی ۔

بھائی کہاں ہیں آپ ؟…..

خنفه ٹھیک ہے ” _______ متفکر سا تیزی میں وہ باہر نکلتا اس سے استفسار کرنے کہا ” لیکن دوسری جانب اُسے خاموش پاتے وہ مزید بے چین ہوا ۔

بھائی کچھ بتائیں تو سہی ” ________ ۔

چند ثانیے بعد معراج جو اس وقت ہوسٹل کے کوریڈور میں کھڑا تھا ” گویا ہوا ۔۔

میری وجہ سے وہ اتنی تکلیف میں ہے چھوٹے ” وہ معصوم جان ” بہت تکلیف میں ہے ۔۔

میرا دل چاہ رہا ہے خود کو ختم کر ڈالوں” ۔۔۔

میں سب جانتے بوجھتے کیوں اس کے قریب گیا ” میں اپنے مقصد سے بھٹک گیا تھا ،، اس معصوم کا مجھے خیال ہی نہیں رہا کے وہ بھی اب مجھ سے منسلک ہے

اُسکی آواز میں موجود گہرا دکھ تھا ” ۔۔۔ بھائی کون سے ہاسپٹل ہیں بتائیں مجھے میں آ رہا ہوں ۔۔

وہ مینشن سے باہر نکلتا اضطراب میں گھرا گویا ہوا ۔

نہیں پہلے تم ہدیل کے گھر جاؤ ” انہیں سختی سے منع کرو کے وہ گھر سے بلکل باہر نہیں نکلیں ۔

اور ان کے گھر کے باہر دو گارڈز متعین کرو ” وہ ہماری کمزوریوں پر وار کرکے ہمیں ڈرانا چاہتا ہے تک ہم پیچھے ھٹ جائیں ۔

ماں کا خیال رکھو ” مینشن کے باہر سکیورٹی سخت کر دو ۔

آدم بٹ کو کال کرو ” _____

اسے بولو مینشن کے باہر اپنے سپاہی بھیجے ” ۔۔

ہمیں اس وقت اپنے پیاروں کی خفاظت خود کرنی ہے “

کچھ معلوم نہیں اُسکا نیکسٹ ٹارگٹ کون ہونگا ۔۔

اُس نے اپنی شعلہ برساتی آنکھیں بند کرکے کھولی ” جو سامنے والے کو اپنی تپش سے خاکستر کر سکتی تھی ۔

نرس کی آواز سنتے وہ فوراً اُسکی جانب لپکا

دشمن ہمارے گھر تک پہنچ چکا ہے ” ہمین مختاط رہنا ہے ۔۔۔ چھوٹے ” کہتے اُس نے کال کاٹ دی۔

__________________yuman writes

تبریز نے سب سے پہلے اپنے بچپن کے دوست آدم بٹ کو فون ملایا ” کچھ دیر بعد منشن کے باہر پولیس کے اہلکار موجود تھے ۔۔

دو گارڈز کو لیتے وہ تیزی سے ہدیل کے گھر کے لیے نکلا ” اُسکا دل ہولا رہا تھا “

اگر اُسکا اگلا نشانہ ہدیل ہوئ تو ________ ۔

گاڑی سو کی سپیڈ میں بھگاتے مینشن سے اُس کے گھر کا سفر تہہ کیا ۔۔۔

گارڈز کو باہر کھڑا کرتے اس نے ہدیل کو کال ملائ جو کے دوسری جانب سے موصول نہیں کی گئی ۔

ایک ،،دو “_______ اور پھر دس کالز وہ کر چکا تھا ۔۔

شدید غصے اور پریشانی سے اُسکا دماغ پھٹنے لگا ۔

آگے بڑھتے تیزی سے بیل پر ہاتھ رکھ ڈالا ” ۔

اندر گانے بجانے” اور ڈھولک کا شور برپا تھا “

ذیشان صاحب ہربڑا کر تیزی سے باہر کی جانب متوجہ ہوئے ،، جہاں کسی نے بیل پر ہاتھ ہی رکھ ڈالا تھا ۔

بیل کی آواز پر تمام لڑکیاں خاموش ہوتی ” دروازے کی جانب متوجہ ہوئی ۔

دروازہ کھولتے سامنے اُسے استازه دیکھ کر ذیشان صاحب خیران پریشان سے گویا ہوے ۔

بیٹا جی آپ ” اس وقت ________ ۔

اسلام و علیکم!!!!! انکل ______

مجھے بہت ضروری کام ہے آپ سے ” بغیر کسی تمہید کے وہ سنجیدگی سے گویا ہوا ۔

آؤ بیٹے اندر آو” اُسے راستہ دیتے اندر آنے کا کہا ۔

وہ اندر داخل ہوا ” خال میں بیٹھی لڑکیوں کے اُسے دیکھ کر منھ کھل گئے ” ۔۔

اور پھر ایک پل میں چیخوں کا شور فضا میں برپا ہوا ” _______ تبریز بھائی ۔

تبریز خود انہیں سامنے دیکھتا پریشان سا سامنے کھڑی لیلک بیگم کو دیکھنے لگا جو شاید دوسری جانب رخ موڑے کسی سے محو گفتگو تھی۔

کیوں کہ وہ تو آج تک ان سے ملا نہیں تھا ” وہ ساری اُس کے گرد گھیرا ڈالے کھڑی ہو گئی ۔

آپ کو جیسا ہم ٹی وی پر دیکھتے ہیں آپ اس سے زیادہ حسین ہیں ” ایک لڑکی چہکتی خوشی سے بولی ۔

جبکہ باقی ساری ہدیل کا نام لیتے اُسے چھیڑنے لگی ۔

ہماری سہیلی کے بغیر دل نہیں لگ رہا آپکا “..

ایسی بات نہیں ہے” دراصل ” ۔۔۔۔ اس سے پہلے کے وہ کچھ بولتا وہ اُسے لیے سامنے خوبصورتی سے سجائے جھولے کے قریب لے جاتے اُسے زبردستی بٹھا چکی تھی ۔

آپ کی بیگم صاحبہ تو تھکن کا کہتی روم میں گئی ہیں ۔۔آپ یہاں بیٹھے ھم اسے لے کر آتے ہیں ۔۔

وہ تیزی سے اٹھتی جانے لگی کے ذیشان صاحب نے انہیں روک دیا ۔

اتنی دیر میں لتلک بیگم بھی لڑکیوں کا شور سنتی ان کے قریب آ گئی ۔

کیوں تنگ کر رہی ہو میرے بیٹے کو لڑکیوں ” لیلک بیگم اُسے سامنے دیکھتی سرشار ہوتی انہیں ڈپٹنے لگی

بیٹا کیسے ہیں آپ ؟؟ ۔۔۔۔۔

تبریز نے اسلام کرتے سر قریب کرتے پیار لیا ۔

اس کے اسلام کا جواب دیتے وہ نرمی اور محبت سے گویا ہوئ ۔۔

جی آنٹی میں ٹھیک ” مجھے آپ سے بہت اہم بات کرنی ہے ____ ۔

اسے سنجیدہ سا دیکھ کے لیلک بیگم گویا ہوئ

آ جائیں بیٹا سامنے روم میں ” _____ چلو لڑکیوں رات پر رہی ہے جلدی سے ختم کرو سب ۔

انہیں کہتی وہ اندر کی جانب بڑی ،،

جی بیٹا کہیں ہم سن رہے ہیں ” اس کے قریب صوفے پر بیٹھتے وہ گویا ہوئے

تبریز نے تمام بات ان کے گوش گزار کر دی۔۔۔

یہ تو بہت غلط ہوا بچی کے ساتھ ” اب کیسی ہے وہ ؟؟

ذیشان صاحب افسوس سے گویا ہوے ۔

لیلک بیگم کو بھی بہت دکھ ہوا ” ۔۔۔۔

کچھ معلوم نہیں ” میں پہلے یہاں آیا ہوں ” پھر ہاسپٹل جاؤ گا ۔

آپ بس انکل ہدیل کو گھر سے باہر نہ نکلنے دیجئے گا ،،میرے گارڈ یہی دروازے کے سامنے موجود ہیں جب تک کے وہ پکڑا نہیں جاتا ۔

وہ کہتا کھڑا ہوا ” اگر آپ برا نہ منائیں تو میں ہدیل سے ملنا چاہتا ہوں ۔۔

جی بیٹا آپ مل لو” وہ اپنے کمرے میں ہے ” آپ چلے جاؤ ۔