Paband Slasal By Yumna Writes Readelle 50368 Paband Slasal (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Paband Slasal (Episode 10)
Paband Slasal By Yumna Writes
وہ جب سے اُس سے مل کر آیا تھا مضطرب تھا ” اُس کا معصوم چہرہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا ۔
وہ چٹانوں جیسا سخت شخص گہری سوچ میں غرق بیٹھا تھا ۔
اُسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کے کیا کرے ” اُسے دلشیر کو رضامند کرنا تھا نکاح کے لیے ۔۔لیکن یہ نا ممکن تھا
وہ کیسے کسی کو جا کر بول سکتا تھا کے نکاح کر لے اس لڑکی سے ۔
لمحہ بھر لگا تھا اُسے اپنے دماغ پر قابو پانے کے لیے ” وہ آنکھیں بند کرتا کچھ پل کے لیے خود کو پرسکون کرنے لگا ۔
آگے کا لائحہ عمل سوچتا وہ اٹھ کے فریش ہونے چلا گیا ۔
حنفہ کا دن آج بہت خوشگوار گزرا تھا ” وہ جب سے گھر واپس آئی تھی مسلسل سوچو کا مرکز ایک وہی شخص بنا ہوا تھا ۔
کروٹیں بدلتے بدلتے وہ تھک چکی تھی ” وہ بے چین سی اٹھ کر بیٹھی” ۔۔
اُس نے دماغ میں کچھ سوچا اور اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی ۔
اُسکا رخ دلشیر کے کمرے کی جانب تھا ” نوک کرکے وہ اندر داخل ہوئی لیکن وہاں کوئی نہ تھا ۔
خیال آتے اُس کے قدم باہر لان کی جانب اٹھے ” وہ سامنے آنکھیں موندے ایک ہاتھ میں سگریٹ تھامے کرسی سے سر ٹکائے بیٹھا تھا ۔
سگرٹ کا دھواں ارد گرد اٹھ رہا تھا
آسمان پر ہلکے بادل چھائے ہوے تھے ” موسم گرما کے آخری دن تھے ” لیکن گرمی پھر بھی جانے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ موسم کے تیور دیکھ کر لگ رہا تھا کے بارش برسنے والی ہے
رات کے ایک بجے ” وہ شخص اکیلا بیٹھا ” وہاں مسلسل سگریٹ پھونک رہا تھا ۔
حنفہ کے دل کو کچھ ہوا تھا ” اپنے بھائی کو اس حال میں دیکھ کر ” وہ خوبصورت نقوش کا مالک” کسرتی مضبوط جسامت کا شخص ” لوگو کے لیے سفاک اور بے رحم لیکن دل درد سے بھرا پڑا تھا ۔
اُس نے اپنی آنکھوں کی نمی کو صاف کرتے قدم اس کے قریب بڑھائے “
اور قریب جاتے پیچھے سے اُس کے گرد اپنی بانہیں پھیلائ ۔
میری گڑیا سوئ کیوں نہیں ابھی تک ” بس نیند نہیں آ رہی تھی بھائی ۔
آپ یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہیں ” ۔۔آپ کیوں ان کو بھول نہیں جاتے بھائی ” وہ رندھی ہوئی آواز میں گویا ہوئی ۔
وہ اس قابل ہی نہیں میری جان کے اُسے یاد رکھا جائے ۔۔اس کی سوچ آتے ہی اُسکے لہجے میں تلخی گھل گئی ۔
میں تو اُس کے دیے زخموں کو روز سیتا ہوں” جو مجھے بے چین کر دیتے ہیں ۔
وہ سگریٹ کا کش لیتا ہوا میں دھوا چھوڑتا اُسکی جانب دیکھ کے مسکرایا ۔
لیکن اُس کی مسکراہٹ بھی آج اُسکا ساتھ نہیں دے پای تھی ۔
اُس کی آنکھوں میں مان ٹوٹنے کا کرب صاف دکھائی دیتا تھا ۔
اُسکی آنکھوں میں اُس کو سوچتے ہی نفرت اور حقارت دکھائ دیتی تھی ” ۔
وہ خود تو جا چکی تھی لیکن دلشیر کے دل میں عورت ذات کو مذاق بنا گئی تھی
ایک واحد رشتہ اُسکی بہن اس دنیا میں موجود تھا “
دلشیر کی تمام تر توجہ اور محبت صرف اپنی بہن کے لیے تھی ،،باقی تمام عورتوں سے اُسے نفرت محسوس ہوتی تھی ” اس کے نزدیک عورت ذات بے وفا تھی ،،جسے صرف پیسے اور شہرت سے خریدا جا سکتا تھا ۔
وہ سوچوں کو جھٹکتا گویا ہوا
اچھا چھوڑو اسکو ” آپ بتاؤ کیا بتانے آئ تھی آپ “؟؟
سوالیہ نگاہوں سے اُسکی جانب دیکھا ۔
میں تو بس ویسے ہی آئ تھی وہ نگایں چراتے گویا ہوئ۔
ہاہاہا ” اُسکا قہقہ گونجها ۔۔
رات کے اس پہر آپ بس ویسے ہی نہیں آ سکتی میری گڑیا ۔
حنفہ اپنی چوری پکڑی جانے پر حجھل سی ہوتی بولی
بھائی صبح شہزاد انکل کے مینشن چلیں ” وہ میں نے آنٹی سے بھی افسوس نہیں کیا تھا نا ۔۔
میں ان سے مل لوں گی اور آپ معراج سے مل لیجئے گا وہ اُنگلیاں مرورتی نظریں جھکائے کہتی خاموش ہو گئی ۔
معراج ” ۔۔ دلشیر نے اچنبھے سے اُسکی جانب دیکھا ۔
وہ جنہوں نے میری مدد کی تھی” وہ معراج احمد “.. سید شہزاد احمد کے بڑے بیٹے اور سید تبریز کے بھائی ہیں۔
وہ اُسے تفصیل سے آگاہ کرتی اُسکی جانب دیکھنے لگی
ٹھیک ہے کل چلتے ہیں پھر ” آپ ریڈی رہنا شام میں ۔
وہ اٹھ کر اُس کے گلے میں بازو ڈالتے کھل اٹھی “
آپ دنیا کے بیسٹ بھائی ہیں کہتے اُس کے گال کو کھینچتی اندر بھاگ گئی ۔
پیچھے وہ آسودگی سے مسکرا دیا ۔
سید معراج “… یہ نام اُس نے پہلے کبھی نہیں سنا تھا ہاں لیکن تبریز کو وہ اچھے سے جانتا تھا ۔
_____________
آج کا دن کافی خوشگوار تھا ” ۔۔
تبریز نے آج اپنی ماں کو لے کر ہدیل کے گھر جانا تھا ۔
ہدیل کو وہ آج اپنے آنے کہ مقصد بتا چکا تھا ” ۔
وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا فورمل ڈریس سے کچھ محتلف آج سفید شرٹ اور بلیو ڈریس پینٹ میں موجود تھا ۔
ہمیشہ کی طرح وہ جاذب دکھائ دے رہا تھا ۔
سید معراج کو آفس میں کچھ ضروری کام تھا ورنہ وہ ضرور جاتا .
ماں آ جائیں ” اُن کے کمرے میں جھانکتے وہ اندر داخل ہوا ۔
بس آ گئی میری جان” وہ مسکراتی شال کندھے پر پھیلاتے اُس کے ماتھے پر لب رکھتی گویا ہوئ ۔
آج میرا بیٹا بہت خوش ہے ” اور بے چین بھی ۔۔
ان کے شرارت سے کہنے پر وہ سر کھجاتا ان کے گرد بازو حمایل کرتا باہر کی جانب چل دیا ۔۔
بے شک آج وہ بہت خوش تھا ” محبت کا حصول چیز ہی ایسی ہے جو ہر انسان کو معتبر کے دیتی ہے
جلدی چلیں وہ منتظر ہوں گے ہمارے “
پلوشہ بیگم کے ہمراہ وہ گاڑی تک آیا ” ڈرائیور نے مؤدب انداز میں انہیں دیکھتے سلام کيا اور گاڑی کا دروازہ کھولا ۔
کچھ ہی دیر بعد وہ لوگ ان کے گھر موجود تھے
ہدیل اپنی والدہ کو ان کی آمد سے آگاہ کر چکی تھی ۔
ذیشان صاحب سے بغلگیر ہوتے وہ لوگ براجمان ہوے۔
پلوشہ بیگم شائستگی سے اپنا تعارف کرواتے گویا ہوئ۔
دراصل ہم یہاں ایک فریاد لے کر آئیں ہیں ۔۔
آپکی بیٹی کو میں اپنی بیٹی بنانا چاہتی ہوں ” میرے چھوٹے بیٹے تبریز کی دلہن ۔
مجھے امید ہے آپ انکار نہیں کریں گے ۔
ذیشان صاحب کو خاموش دیکھ کر وہ گویا ہوئی ۔
لیلک بیگم تو تشکر بھری نگاہوں سے انہیں دیکھ رہی تھی ان کی بیٹی اتنے بڑے لوگوں میں جائے گی ان کی تو مراد پوری ہو گئی ۔
جی ہمیں ہدیل پہلے سب کچھ بتا چکی ہے اور ہمیں اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں۔
جب بچے خوش ہیں تو اعتراض کا کوئی جواز ہی نہیں پیدا ہوتا ۔
ہدیل اپنے کمرے کے دروازے میں کھڑی دل پر ہاتھ رکھے باہر سے آتی آوازوں کی جانب متوجہ تھی۔
تبریز اُسے اپنی پہچان بتا چکا تھا ” ہدیل تھوڑا سا خفا ہوئ تھی لیکن تبریز نے اُسے قائل کر لیا تھا ۔۔
اگر آپکو بتا دیتا تو ” اتنے قریب کیسے آتا آپ کے ۔۔کیسے جان پاتا آپ کو ۔
آپ تو یہ جان کر ہی مجھ سے دور ہو جاتی کے میں آپکا بوس ہوں “
اور میرا دل آپکو دیکھتے ہی بغاوت پر اتر آیا تھا اسکا کیا کرتا ۔
بے شک وہ شخص چاہے جانے کے قابل تھا ” ہدیل کے دل نے گواہی دی تھی ۔
تبریز کو ایک جانب بازو ٹکائے دیکھ ہدیل کی خالہ کو کچھ غیر معمولی پن کا احساس ہوا ” تو وہ بول اٹھی ۔
یہ کیا ہوا ہے بیٹا آپ کو اُسکی سمت دیکھتی وہ الجھن کا شکار ہوتی استفسار کرنے لگی
تبریز نے انہیں اپنے ایکسیڈنٹ کا بتایا اور بازو کا سنتے ہی لیلک بیگم نے ذیشان صاحب کی جانب دیکھا وہ ان کی آنکھوں کا مفہوم نہیں سمجھ پائے ۔
ذیشان صاحب کو ہدیل پہلے آگاہ کر چکی تھی ہر ایک بات سے ۔۔اور انہیں کچھ غلط نہ لگا تھا ۔۔
چوٹ تو آتی رہتی ہے ،، اس میں کوئی برائی نہ تھی.
پلوشہ بیگم نے ایک نظر خاموش بیٹھے ان کی جانب دیکھا اور متفکر ہوتی گویا ہوئی ” کیا بات ہے ۔۔
آپ لوگ خاموش کیوں ہو گئے ہیں ۔
دیکھیں بہن ” ہماری ہدیل ہیرا ہے ہیرا ” ۔۔ اتنی حسین اور مکمل ۔
برا مت منائیے گا لیکن آپ کا بیٹا نا مکمل ہے ” بے شک آپ کے پاس دولت کے انبار ہیں لیکن ہے تو معزور ہی ۔
جب لوگ ان دونوں کو ساتھ دیکھیں گے تو کیا کہیں گے کے دولت دیکھ کر اپنی ہیرے جیسی لڑکی ایک معزور کو دے دی ۔۔
وہ نخوت سے تبریز کی جانب دیکھتی گویا ہوئی ۔
لیلک بیگم اور ذیشان صاحب تو ان کی بات سنتے دھنگ رہ گئے انہیں یہ امید نہیں تھی کے عاصمہ ان کو اتنا سنا دیں گی ۔
جبکہ ہتک کے مارے تبریز کا چہرہ لال ہو گیا ” آنکھیں لہو چھلکانے لگی ۔
ضبط کے مارے جبڑے بینچے وہ خاموش بیٹھا تھا” ایک لفظ بھی بولنا اُس نے گوارہ نہ کیا تھا ۔
اور اُسکی یہی بات ذیشان صاحب کو اُسکا قائل کر گئ تھی ۔
عاصمہ خاموش ہو جاؤ لیلک بیگم برہمی سے گویا ہوئ
کیا فضول بولی جا رہی ہو ۔
ابھی وہ انہیں مزید بول رہی تھی کے تبریز نے پلوشہ بیگم کا ہاتھ تھاما جو متغیر رنگت لیے آنکھوں میں نمی لیے انہیں دیکھ رہی تھی ۔
تبریز ان کے گرد اپنا حصار قائم کرتے اٹھ کھڑا ہوا اور نفی میں سر ہلایا ۔۔
انہیں اٹھتے دیکھ ذیشان صاحب شدید پشیمان ہوئے اور کچھ بولنے لگے کے اُس نے انہیں ہاتھ سے خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔
انکل میں آپکی بہت عزت کرتا ہوں ” ہدیل میرے لیے بہت معتبر ہے ” میں محبت کرتا ہوں اُس سے ۔۔
لیکن اس سب میں میں اپنی ماں کو کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتا ” آپ سب نے جو کہا میں نے سن لیا ۔
وہ ضبط کرتا دھیمے لہجے میں گویا ہوا
ذیشان صاحب خاموش ہو گئے وہ کیا کہہ سکتے تھے عاصمہ نے انہیں اس شخص کے سامنے نظر اٹھانے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔
تبریز قدم آگے بڑھانے لگا کے اپنے ہاتھ پر جانا پہچانا نرم لمس محسوس ہوا ۔۔
اُس نے آنکھیں میچتے دوبارہ سے کھولیں ،،غصّہ کم کرنے کے لیے ” ۔۔اس وقت اُسے اپنے غصے سے خوف محسوس ہو رہا تھا ۔۔
پلٹ کر دیکھا تو ہدیل آنسو سے تر چہرہ لیے اُسکی جانب دیکھ رہی تھی ” آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔
اُسکی آنکھوں میں موجود التجا دیکھ کے وہ خاموش ہو گیا ” سارا غصّہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ۔
شاید ہدیل ذیشان یہ ہنر رکھتی تھی کے سامنے کھڑا شخص اُسے دیکھ کر سب کچھ بھلا دیتا تھا ۔
مت جائیں پلیز ” ۔۔ وہ کہتی سسک سسک کر رونے لگی۔
میری جان ” ذیشان صاحب نے آگے بڑھتے اُسے اپنے سینے میں بینچا ۔
لیلک بیگم نے افسوس سے اپنی بہن کی جانب دیکھا ” چلے جاؤ یہاں سے فوراً ۔۔اس سے پہلے کے میں کچھ غلط کر بیٹھوں ۔
اپنی جان سے پیاری بیٹی کے آنسو دیکھتے ان کا دل کٹ کے رہ گیا ۔
عاصمہ تنفر سے ہنکار بھرتے وہاں سے غائب ہو گئ
پلوشہ بیگم نے آگے بڑھتے ہدیل کو اپنے ساتھ لگایا ” میری بچی رو مت ۔۔
ہم کہیں نہیں جا رہے ” تبریز تم نے میری بیٹی کو رلا دیا اُسے ڈپٹتے ہدیل کو ساتھ لگاتے وہ خاموش کرواتے کاوچ پر بیٹھ گئی ۔
بس میری جان ایسے نہیں روتے ” دیکھو اتنی پیاری آنکھوں کا کیا حال کیا ہے
اُس کے چہرے کو ہاتھوں میں لیتی وہ محبت سے گویا ہوئی ،،انہیں وہ معصوم سی لڑکی بہت پسند آئی تھی
ہدیل نے ایک نظر تبریز کی جانب دیکھا جو ابھی بھی اسپاٹ چہرے سے کھڑا اُسکی جانب دیکھ رہا تھا
وہ ہچکچاتے سیدھی ہوئ اور اپنی آنکھیں صاف کی اور سوں سوں کرتی اُسکی جانب دیکھنے لگی جو ابھی بھی وہی کھڑا تھا ۔
ہم بہت شرمندہ ہیں بیٹے آپ سے ” ہمیں ہدیل بتا چکی تھی سب کچھ ۔۔
اُسکی خالہ نہیں جانتی تھی ۔۔ہم ان کی جانب سے معافی چاہتے ہیں لیلک بیگم بھی آگے بڑھتے رندھے ہوے لہجے میں گویا ہوئ
اپنی بیٹی کی ترپ کو دیکھ کر ان کی آنکھیں بھر آئیں اور وہ پشیمان سی گویا ہوئ ۔۔
نہیں آنٹی پلیز مجھے شرمندہ نہیں کریں ” ۔۔
انہیں معافی مانگتے دیکھ وہ تھوڑا نرم پڑا ،، آ جاؤ میرا بیٹا بیٹھو ،،دیکھو آپ کی تکلیف پر میری بچی کیسے ہلکان ہو گئ ہے ۔
وہ ایک نظر ہدیل کی جانب دیکھتا اس کے تھوڑا قریب براجمان ہوا ۔۔
بس بھئ میں جلد ازجلد اپنی بیٹی کو گھر لے کر جانا چاہتی ہوں ” آپ ہمیں نکاح کی تاریخ دیں ۔
ماحول کو خوشگوار کرنے کے لیے پلوشہ بیگم گویا ہوئ
اتنی جلدی ” لیلک بیگم پریشان سی انکی جانب دیکھتے بولی ۔۔
ابھی تو ہم نے سارے انتظام کرنے ہیں ذیشان صاحب نے تبریز کی جانب دیکھا ۔
نہیں انکل کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ” آج سے ہدیل میری ذمہ داری ہے ،،
میں سب کچھ سادگی سے کرنا چاہتا ہوں ” مسجد میں نکاح ہوگا اور اُس کے بعد ہمارے مینشن میں چھوٹی سی تقریب جس میں آپ اپنے مہمانوں کو بلا لیجئے گا ۔
ہماری جانب سے صرف میری فیملی ہو گی ۔
ٹھیک ہے بیٹا جیسے آپکی مرضی ” ذیشان صاحب مطمئن تھے اس کی جانب سے ۔۔۔
جبکہ لیلک بیگم اور ہدیل کو جیسے سکتا ہو گیا ٫،، اتنی جلدی کیسے سب ہوگا ۔
وہ بربرای ” ۔۔آپ بے فکر رہیں سب ہو جائے گا ہم مل کر شاپنگ کریں گی ہماری بیٹی کی” پلوشہ بیگم مسکراتی گویا ہوئ ۔
پھر کس تارخ کو تقریب رکھی جائے ذیشان صاحب پلوشہ بیگم سے استفسار کرنے لگے
اگلے ہفتے نکاح کی تقریب رکھ لیتے ہیں پھر ” پلوشہ بیگم ان کی جانب دیکھتے گویا ہوئ ۔
جیسا آپ بہتر سمجھیں ” ۔۔ دونوں خاندان راضی تھے جبکہ ہدیل تو سہمی سی انہیں دیکھ رہی تھی ۔
جاؤ میری جان آپ چائے لاؤ سب کے لیے ” ہدیل کی پریشان صورت دیکھ کے لیلک بیگم گویا ہوئ
وہ سر اثبات میں ہلاتے اٹھ کے چلی گئی ______ ۔
اتنی جلدی سب کچھ اس نے ایسا تو نہ سوچا تھا ” وہ ان کے سامنے چائے رکھ کر ایک جانب خاموشی سے بیٹھ گئی ۔۔
وہ سارے معاملات تہہ کرتے اٹھ کھڑے ہوئے” پلوشہ بیگم لیلک بیگم سے ملتی باتوں میں مشغول تھی” ذیشان صاحب بھی ان کی جانب متوجہ ہوتے ان کے ساتھ کچھ ڈسکشن کر رہے تھے ۔
سب کو مصروف دیکھ کر تبریز ہدیل کی جانب متوجہ ہوا جو نگاہیں جھکائے کھڑی تھی ” جلد ملاقات ہوگی ہمارے بیڈ روم میں ” وائف ٹو بی ۔۔۔
معنی خیز لہجے میں جھکتا اُس کے کان کے قریب بولا۔
ہدیل نے سہمی نگاہوں سے اُسکی جانب دیکھا ” سانس جیسے سینے میں اٹک گیا ۔۔
سانس لیں ہدیل” اور یہ جو آج آپ نے آنکھوں پر ظلم کیا ہے نا اُسکا جواب میں ہمارے بیڈ روم میں لوں گا آپ سے اپنے طریقے سے ” گہری سیاہ آنکھیں اُسکی آنکھوں میں گھارتا وہ شدت سے گویا ہوا ۔
میں نے کیا کیا ہے ” غلطی آپ کی تھی،،آپ مجھے چھوڑ کر جا رہے تھے ” اُس نے نگاہیں جھکائے معصومیت سے شکوہ کیا ۔
اُس کے معصومانہ انداز پر تبریز کا دل شدت سے دھڑکا دل کیا سب کچھ بھلاے اُسے اپنے سینے میں بینچ لے ،، میں کبھی آپ سے دستبردار نہیں ہو سکتا یہ بات جان لیں ______.
آنکھیں دیکھیں اپنی ” اور دوبارہ کبھی روتا ہوا نہ دیکھوں آپ کو ” ۔۔ اسپاٹ لہجے میں کہتا وہ قدم باہر کی جانب بڑھا گیا ۔۔
پلوشہ بیگم اُس کو پیار کرتی مل کر اُس کے پیچھے چل دی ۔
پیچھے لیلک بیگم اور ذیشان صاحب اُسے سینے سے لگاتے دل سے مسکرا دیے ۔
وہ دونو اُس رب کی ذات کے مشکور تھے جس نے انکی بیٹی کو اتنے اچھے انسان سے نوازا تھا ۔
