Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Paband Slasal (Episode 30) Last Episode

Paband Slasal By Yumna Writes

اسے سکرین پر چلتے کارٹون میں محو دیکھ کے وہ اپنا لیپ ٹاپ آن کرتا کچھ ضروری کام کرنے لگا ” ۔۔

خنفہ جو اُس کی موجودگی کو سراسر نظر انداز کیے پیچھے معراج کی ٹانگ پر نامحسوس انداز سے وزن ڈالے مزے سے لیٹی ہوئی تھی ” سکرین بلینک ہوتے ہی اُسے کچھ غیر معمولی سا احساس ہوا ” نظر پھیر کے دیکھا تو وہ لیپ ٹاپ میں مصروف دکھائ دیا ” لیکن خود کو اُس پر اس طرح دوزانو ہوے دیکھ کر پشیمانی ہوئی ۔

وہ اٹھتی فوراً سیدھی ہوئ ” اُسے اٹھتا دیکھ معراج جو اس کے ایک ایک عمل پر نظر رکھے ہوئے تھا گویا ہوا ،،

آپ فارغ ہو گئی ہوں تو میں آپ کو ماں کا پیغام دینے آیا تھا کے آج رات ہمارا ڈنر ہے ” ایک قریبی دوست نے دعوت دی ہے ،، تو ریڈی ہو جائیں وقت کم ہے ،،

اس کی بات سنتی وہ پلٹ کے آنکھیں پھیلائے بولی ” آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ،، کتنے بجے جانا ہے ” ماتھے پر بل ڈالے وہ قدرے غصے میں بولی ،،

آٹھ بجے ” آپ کے پاس وقت بہت کم ہے ،، سات آلریڈی بج چکے ہیں ،، اور میڈم مجھ پر غصّہ مت ہوں ،، مجھے آپ نے بولنے ہی کب دیا تھا “

معراج اٹھتا اپنا لپٹپ رکھتا بولا تو وہ شرمندہ ہوتی بولی ،، سوری ____

کوئی بات نہیں ،، آپ جلدی سے ریڈی ہو جائیں میں بھی فریش ہونے جا رہا ہوں وہ سر ہلاتے جلدی سے اپنا ڈریس نکالتی ڈریسنگ میں چلی گئی ۔

کچھ ہی دیر میں معراج ریڈی ہوتا روم سے باہر نکل گیا تاکہ وہ آسانی سے تیار ہو سکے ۔

_______________

ایک بھرپور دن تبریز نے ہدیل کے گھر والوں کے ساتھ گزارا ،، اکٹھے کھانا کھایا ،، گپ شپ لگائی

ایک دوسرے کے دل میں جتنا دکھ ،،رنجشیں تھی سب دھل گئی ،، وہ کبھی بھی تبریز کو روتا نہیں دیکھ سکتی تھی ،، اور تبریز شاہ وہ شخص تھا جس نے ہدیل کو محبت کے احساس سے روشناس کروایا تھا ،، اُس شخص نے اس کے دل میں ہلچل مچادی تھی ،، اُس کی زندگی میں آنے والا وہ پہلا مرد تھا ،،جس سے ہدیل نے بات کی تھی ،،

وہ اُسکا آئیڈیل تھا ،، وہ عشق کرتی تھی تبریز شاہ سے ،، وہ کہتے ہیں نہ عورت اپنے من پسند شخص کے لیے بہت موم ہوتی ہے ،، تبریز کے معاملے میں ہدیل بھی کچھ ایسی ہی تھی ،، اُس کی بے سکونی دیکھ هدیل کا اپنا سانس رکنے لگا تھا ،،وہ اس شخص کے بغیر نہیں رہ سکتی تھی اتنا تو اُسے اندازہ ہو گیا تھا ۔۔۔اس لیے اُس کے آنسو چنتے ،، اُس نے اپنا آپ اُسے سونپ دیا تھا اور تبریز نے بھی اُسے کسی نازک آبگینے کی مانند،، نرمی اور محبت سے اسے خود میں جذب کیا تھا

وہ دونو خوش اور پرسکون تھے ایک دوسرے کے ساتھ اور کیا چاہیے تھا ۔

تبریز نے ہدیل کے والدین سے اجازت لی اور ان سے الوداعی کلمات ادا کرتے اُس کو اپنے حصار میں لیتے باہر نکلا ،، گاڑی میں بیٹھتے دونو مینشن واپسی کے لیے نکلے۔

مجھے گرین ٹی پینی ہے ،، تبریز نے مسکراتے اثبات میں سر ہلایا ،، باہر موسم کافی ٹھنڈا تھا ،، دن ڈھل رہا،،آسمان پر دھند چھائی ہوئ تھی ۔۔۔

تبریز کا ہاتھ جو محصوص انداز میں اُس کی پاکٹ میں تھا ،، ہدیل نے اُس کے بازو پر زور ڈالتے باہر نکالا اور

اس نے تبریز کا ہاتھ اپنے نازک ہاتھوں میں لیتے اس کے ہاتھ پر اپنی مومی انگلیاں پھیر رہی تھی ،، آنکھیں یک دم پانیوں سے بھرنے لگی ،، آپکو تکلیف تو نہیں ہوتی اب ،، بھراے لہجے میں نگاہیں جھکائے استفسار کیا ،، جبکہ آواز بہت دھیمی تھی ۔

اس کی نم آواز اور بھیگا لہجہ تبریز کو چونکا گیا ،، اس نے ریسٹورانٹ کے قریب گاڑی روکتے اُس کی جانب دیکھا جو اب کافی حد تک خود پر قابو پا چکی تھی ” ایسے مت کیا کریں بیوی ” جبکہ آپ اچھی طرح جانتی ہیں کے مجھے سب سے زیادہ آپکے آنسو تکلیف پہنچاتے ہیں ،،اس کے باوجود آپ مجھے تکلیف دینے کا سبب بن رہی ہیں ۔

نہیں میں نہیں ” ہدیل نے نم نگاہیں اٹھاتے اُس کی سیاہ گہری نگاہوں میں دیکھا ،،

تو کچھ پل کے لیے تبریز اس کے بھیگے بھورے نین کٹوروں میں کھو سا گیا ” اپنا کپکپاتا ہاتھ جو اس کے ہاتھ میں تھا نکالتے اُس کے رخسار پر رکھا ” جب آپ ساتھ ہوتی ہیں تو مجھے کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی،، آپ میرا مرہم ہیں ،، میرا عشق ” میری روح کا سکون ۔

اور مجھے ذرا تکلیف نہیں محسوس ہوتی ،، اب تو مجھے اور فخر محسوس ہوتا ہے کے میں نے ایک ہاتھ متاثر ہونے کے باوجود دشمنوں کو مار گرایا ،، اور اللہ پاک نے مجھے ایسا ہمسفر عطا فرمایا جسے میرے اندر موجود کمی ،،کمی لگتی ہی نہیں ،،

اور آپ کے یقین اور سب کی محبت نے مجھے اس کم مایگی کے احساس سے کھینچ نکالا جس کے بھنور میں میں لوگو کے باعث دھنستا چلا جا رہا تھا ۔

الحمدللہ اللہ پاک نے مجھے اتنے خوبصورت رشتے عطا کیے ہیں ،، دنیا جہاں کی نعمتوں سے نوازا ،، میں کیوں ایک ذرا سے نقص کو جواز بنا کر اُس سے شکوہ کروں ۔

جانتی ہیں میرے بابا اکثر مجھے کہا کرتے تھے کے میرے شیر ” زندگی میں ہمیشہ سکھ ہی نہیں رہتا مشکلات آتی جاتی رہتی ہیں ،،جن کا ہمیں ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے ،، حضرت ایوب علیہ السلام پر کتنے مشکل حالات آئے ،، ان کا خاندان ،،اولاد دولت سب ان سے چھن گئی لیکن انہوں نے اف تک نہ کیا ،،اللہ پاک کو انکا یہی صبر پسند آیا اور پھر انہیں ان تمام چیزوں سے مالا مال کر دیا ،،خوشیاں اولاد ،،، بادشاہت سب کچھ عطا کی ۔

ہم تو پھر ایک حقیر سے بندے ہیں ” ایک آزمائش پر آنسو بہاتے روتے رہیں گے تو اس زات پاک کی ناشکری نہیں ہوگی ۔

وہ تو یک ٹک اس کے خوبرو چہرے پر نگاہیں جمائے اُسے بولتا دیکھ رہی تھی ،،وہ بہت خوبصورت تھا وہ جانتی تھی لیکن آج اس پر اور انکشاف ہوا تھا کے وہ الفاظ کا چناؤ بھی بہت خوبصورتی سے کرتا ہے ۔

اس کے لرزتے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہدیل نے اثبات میں سر ہلاتے لب اس کے ہاتھوں پر رکھے ،، محبت کے اس لمس نے اُس کی روح تک کو سرشار کر دیا تھا ،، جائز حق ہوتے بھی وہ اُس سے دور رہا تھا ،،وہ تو اس لمس کا پیاسا تھا ،، وہ جسم سے زیادہ روح سے محبت کرنے پر یقین رکھتا تھا ،، وہ انوکھا تھا ،،اور یہی عمل تو اُسے سب سے محتلف بناتے تھے ۔

مجھے محبت ہے اپنے محرم سے ،، کہتے ہديل نے اپنا سر اُس کے سینے سے لگایا تو وہ مسکراتا اُس کے حجاب پر لب رکھ گیا ،،، مجھے عشق ہے اپنی شریک حیات سے جس کے آنے سے میری زندگی حسین اور مکمل ہو گئی ۔

تمہارے سینے سے لگ کر تمہاری دھڑکن سننا

اور تمہاری انگلیوں کے لمس کو اپنے گرد محسوس کرنا

تمہارا محبت بھرا لمس اپنے ماتھے پر محسوس کرنا

چاند کو ہتھیلی پر رکھنے سے زیادہ حسین ہے ۔

تبریز نے اُس کے گرد اپنا حصار بنایا ،، اس کی آنکھوں میں انوکھی چمک تھی ،، بے شک آنے والا وقت بہت حسین ہوگا۔

___________________

وہ بار بار اپنے بازوں میں پہنی رولیکس کو دیکھتا جو آٹھ تیس کا وقت بتلا رہی تھی ،،

بے چینی سے نگاہیں اٹھاتے وہ سامنے زینوں کی جانب دیکھتا پلٹا ،، ان کی والدہ کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی تو وہ دوا دیتا انہیں کمرے میں چھوڑ کر آیا تھا تبریز گھر موجود نہ تھا ،،لیکن اُس نے اپنے اور ہدیل کے درمیان خالات بہتر ہونے کی اطلاع اسے دے دی تھی ،، ایک جانب سے تو وہ پرسکون ہوا تھا کے کچھ تو بہتر ہوا ان کو زندگیوں میں اور پھر اپنے بارے میں سوچنے لگا ،،کہ کیا مستقبل تھا ان کے رشتے کا ؟؟…. انہیں سوچوں میں گھڑا وہ کھڑا اُسکا منتظر تھا۔

نگاہیں پھیرتے سامنے دیکھا،، جوں ہی اُسکے نازک سراپے پر نظر پری تو وہ ٹھر سا گیا ،،

وہ گرے سلک کی سادہ مگر خوبصورت ساڑھی میں نازک سی جیولری پہنے ،، ہاتھوں میں کڑے ڈالے ،، پاؤں گرے ہلیز میں مقید کیے سہج سہج کے قدم اٹھاتے زینے طے کر رہی تھی ،، گولڈن سلکی بال سٹریٹ کرنے کے بعد مزید خوبصورت ہو گئے تھے ،،

جو اُس کے چہرے پر جھول رہے تھے ،، بڑی بھوری آنکھوں میں وائٹ پنسل لگائے ،، مسکارے سے گھنی مژگان سجائے ،، ہونٹوں پر سرخ رنگ لگائے ،، اُس پر متضاد ناک میں چکمتا سلوور موتی اُس کے سانولے رنگ میں تیکھے نقوشوں کو مہارت سے سجائے خوبصورتی کی ایک الگ ہی جھپ دکھلا رہا تھا ،،ساڑھی کا پلو پیچھے سے اچھی طرح لیتے ایک ہاتھ میں پکڑے وہ آہستگی سے قدم اٹھاتے اُس کے قریب آ رہی تھی ،، اور وہ اپنی جگہ پر جامد سا اُس کے حسین سراپے میں کھویا سا اردگرد سے بیگانہ اُس کے دلفریب سراپے پر گہری نگاہ ٹکائے ہوئے تھا ۔

خنفہ نے فرش پر پاؤں رکھتے ، نگاہیں اٹھا کے سامنے دیکھا تو دونو کی نگاہوں کا زبردست تصادم ہوا ،، خنفہ نے کنفیوز ہوتے اپنے سلکی گولڈن بالوں میں ہاتھ پھیرتے انہیں پیچھے کیا جو نیچے جھکنے کے باعث چہرے پر آ رہے تھے ،، پیچھے سے ساڑھی کا گلا گہرا ہونے کی وجہ سے اُس نے بال کھلے چھوڑے تھے ،، اُس کا سارا کا سارا دھیان ساڑھی کی جانب تھا جسے اُس نے شوق میں پہن تو لیا تھا لیکن اب اُسے کیری کرنا تھوڑا مشکل لگ رہا تھا ،، اور مزید وہ اس شخص کی بولتی ،،جذبے لوٹآتی نگاہوں سے کنفیوز ہو رہی تھی

اس کی نگاہوں میں ایسی لپک تھی کے وہ چاہ کر بھی دیکھ نہ پائی ،،،یکدم اسکو اپنا حلق خشک ہوتا محسوس ہوا ۔

اُسکا خوشبو میں بسا مہکتا سراپا اتنا جان لیوا اور سرور بخش تھا کے وہ محبت وارتی نگاہوں سے دیکھنے میں محو تھا ” ۔۔۔

جانے کتنے ہی پل وہ اُس میں کھویا رہتا جبھی

فضا میں موبائل کی رنگ ٹون بجنے سے شور برپا ہوا اور اُسکا فسوں ٹوٹا ،، جو اُس میں کھوتا سب کچھ فراموش کر گیا تھا ،،فون سایلنٹ کرتے اُس نے خوبصورت مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے اُس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے اُس کے چلنے میں مدد کی ،، اُسکی پیش رفت پر وہ گھبراتے پیچھے ہٹنے لگی ،، ہنی آلریڈی ہم بہت لیٹ ہو چکے ہیں مزید اگر کچھ وقت لگا تو مجھے یقین ہے میرا دوست اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ ہمارے یہاں ہی آ جائے گا ،، گھبرائے نہیں کچھ نہیں کر رہا ،،

شال کہاں ہے آپکی ؟؟…..

کچھ خیال کریں بیگم ،، اتنی تیاری صرف آپ میرے لیے کر سکتی ہیں ،، میں نہیں چاہتا اردگرد کے لوگ میری بیوی کو نظر اٹھا کے دیکھیں ،،

باہر ٹھنڈ ہے اور ہماری واپسی پر مزید بڑھ جائے گی ،، اور میں نہیں چاہتا کے آپکا یہ خوبصورت مہکتا سراپا ،، كسی مصیبت میں آئے ،، ہاؤس ہیلپر کو آواز دیتے اُس سے شال منگواتے اُس کے گرد پھیلائ ،،

بس ہیلپ کر رہا ،، ریلیکس رہیں شوہر ہوں آپ کا ،، اُسے گھبراتے دیکھ قدم آگے بڑھاتے وہ نرمی سے گویا ہوا ،، تو وہ خاموشی سے اُس کے ساتھ چل دی۔

اپنی مطلوبہ جگہ پر پہنچے اُس نے باہر نکلتے تیزی سے دوسری جانب کا دروازہ کھولا ،،اور اس کے آگے ہاتھ بڑھایا جسے ہدیل نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے تھام لیا ۔

متبسم نگاہوں سے اسے دیکھتا وہ اُسے ساتھ لیے ایک شاندار ہوٹل کی جانب بڑھا ،،

اندر داخل ہوتے لوگوں کا ہجوم دیکھتے وہ بوکھلائ تھی ،، ایسا نہیں تھا کے وہ پہلے کبھی وہاں گئی نہ تھی ،،اپنی سہیلیوں کے ساتھ وہ مونال جا چکی تھی ،،لیکن اُسے یاد پڑتا تھا کے اُس نے وہاں دوبارہ کبھی نہ آنے کا فیصلہ کیا تھا ،، اتنی اونچائی پر پہاڑوں پر بنایا گیا یہ ریسٹورانٹ اپنی تعریف آپ میں تھا ،، وہاں کی ہر چیز بہت شاندار تھی ،، دور دکھائ دیتے خوبصورت پہاڑ ،، طرح طرح کے لوگ ،، گاڑیان وہاں سے بہت چھوٹے اور خوبصورت نظارے لگتے ،،

لیکن اس بار بات الگ تھی ،، وہ چاہ کر بھی خود کو پہلے جیسا نہیں بنا پا رہی تھی ” اس میں لوگوں کو فیس کرنے کی صلاحیت ختم ہو چکی تھی زیادہ لوگوں کی موجودگی سے وہ گھبرا جاتی تھی اور اُسے گزرے لمحے یاد آتے تو وہ ہزیانی ہونے لگتی ۔

اُس کے ساتھ قدم بڑھاتے ،،اس کے بے چین چہرے کو دیکھتے معراج نے اُس کے گرد حصار بنایا اور اس کی شال کو اس کے کندھے پر سے ٹھیک کیا جو ڈھلک چکی تھی ،، ہنی میں ساتھ ہوں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ،، اسکو آنکھیں پھیلائے لوگوں کو تکتا دیکھ وہ خود بھی کچھ وقت کے لیے متفکر ہوا تھا ۔

وہ انکار کرنے والا تھا اپنے دوست کو لیکن پھر اُس کے بے حد اسرار اور کچھ خنفہ کے بلاوجہ کے خوف کو نکالنے کی خاطر اس نے وہاں جانے کی خامی بھری تھی ۔۔۔

لوگوں کے ہجوم سے گزرتے وہ ایک ٹیبل کے قریب جانے لگے جہاں اُسکا دوست اور بیوی موجود تھی ،، آگے بڑھتے ان سے ملتے وہ وہی بیٹھ گئے ،، میراج اور علی اپنی باتوں میں مصروف ہو گئے جبکہ خنفہ کی بھی ان کی بیوی سے کافی اچھی بات چیت ہونے لگی ،، ان کی چھ ماہ کی پیاری سی بیٹی خنفہ کو بہت کیوٹ لگی ،، پھولے پھولے گالوں والی وہ سفید روئ سا وجود اُسے بری طرح سے اپنی جانب اٹریکٹ کرنے لگا ۔

اسے گود میں لیتے وہ سب بھول گئی ،، معراج اس کو خوش دیکھتا مسرور ہوتا چھوٹی گڑیا کو دیکھنے لگا ۔

معراج ماشاء اللہ یہ کتنی پیاری ہے دیکھیں ،، میراج نے مسکراتے اثبات میں سر ہلاتے اُس کی جانب بازوں پھیلائیں ،، جو چھوٹی سی گڑیا کا رخ اُسکی جانب کرتے وہ مسکراتی گویا ہوئ تو میراج نے اُسے گود میں لیتے بچی کے ہاتھوں پر لب رکھے ۔۔ماشاء اللہ ،،، خنفہ کے چمکتے چہرے کی جانب دیکھتے اُسے اپنی ہی نظر لگنے کا خدشہ ہوا تو نگاہیں پھیر لیں ۔

خوشگوار ماحول میں ڈنر کیا گیا

دوڑ اونچے بڑے پہاڑوں اور اس کے عین نیچے سڑک پر چلتی گاڑیوں کی روشنیوں سے رات کے اندھیرے میں ڈوبے خوبصورت منظر میں کھوی ہوئی تھی ،،

سردی کا موسم تھا اور جیسے جیسے رات پر رہی تھی ٹھنڈ کی شدت بھی بڑھتی جا رہی تھی ،، یخ بستہ ہوائیں جس سے جسم کانپنے لگتا ،، اُسکی ناک سردی سے سرخ پڑنے لگی ہاتھ ٹھنڈے پر گئے ،، لیکن وہ وہاں سے ہلنے کا نام نہیں لے رہی تھی ،،

مہرین جو واشروم گئی ہوئ تھی ٹھنڈ سے بجتے دانتوں سے گویا ہوئ ،، آ جائیں بھابھی یہاں بہت ٹھنڈ ہے ،،ہم اندر چلتے ہیں علی اور بھائی ہمارا انتظار کر رہے ہوں گے ۔۔

بس کچھ وقت اور ،، وہ پلٹتے مسکراتے ہاتھوں کو آپس میں رگڑتے گویا ہوئ ۔۔

وہ بولتی اتنی پیاری لگی کے مہرین چاہ کے بھی کچھ نہ بول پائی سامنے کھڑے ہوتے رات کی چاندنی میں خوبصورت نظارے دیکھنے لگی ،، ان کی بیٹی سو گئی تھی جو علی کی گود میں تھی اور میراج اور علی بزنس کی کوئی بات چیت کرنے لگے ،، وہ دونو انہیں وہی چھورتی اٹھ کر وہاں کھڑے ہوتے کچھ یاد گیر تصاویر بنانے لگی ۔

وہ دونوں وہاں کھڑی کسی بات پر کھلکھلا رہی تھی ،، جب وہاں کچھ فارنرز آتے ان کے قریب کھڑے ہوتے اپنی غلیظ نگاہوں سے انہیں دیکھتے ان کے قریب بڑھتے ہاتھ لگانے کی کوشش کرنے لگے ،، یہ کیا بے ہودہ حرکت ہے ،،دور رہیں ،، ان کی غلیظ نگاہوں کو خود پر موجود دیکھ وہ دونوں شرر بار نگاہوں سے دیکھتے سرخ چہرے سے چیخی ،،

یو لوک سو ہاٹ بےبی ،، اپنے لبوں کو گول کرتے وہ دونو گورے لڑکے ان کی جانب اپنی گندی نگاہوں سے دیکھتے بولے تو وہ دونو ان کی بے باک گفتگو سے دھنگ رہ گئی ،، چہرے کا رنگ ایک دم اڑھ گیا اور اس سے پہلے کے خنفہ وہی ہوش کھو دیتی مہرین نے آگے بڑھتے ان میں سے ایک کے چہرے پر زور دار طمانچہ مارا جس کی گونج سے اردگرد کے لوگ متوجہ ہوئے اور وہ لڑکا ساکت کھڑا اس کی جرات پر اسے دیکھتا رہ گیا ،، دوسرے دو لوگوں کو اپنی جانب متوجہ دیکھ پیچھے ہٹ گئے ۔۔جبکہ جس کو تھپڑ پڑا تھا اُسکا ہاتھ اس کے گال پر تھا ۔

اشتعال میں آتے مغلظات بکتا وہ جیسے ہی آگے بڑھنے لگا پیچھے سے اتنی ہی تیزی سے میراج نے اُسکا ہاتھ پکڑا ۔

وہ جو آپس میں مگن تھے میراج نے نگاہ اردگرد گھوماتے دیکھا تو اُسے کو وہ دونوں کہیں دکھائی نہ دی ،، علی کو انتظار کرنے کا کہتے وہ اٹھتا تیزی سے دوسری جانب بڑھا ۔

شعلے برساتی نگاہوں سے انہیں دیکھتے وہ کچھ ہی پل میں ان تینوں کو بھون کے رکھ چکا تھا ،، وہ تو اُس کی آواز اور آگ اگلتی نگاہوں سے ہی خوف زدہ ہو گئے تھے لیکن میراج نے ان پر بنا رحم کھائے انہیں اچھی دھول چٹائی تھی ۔

ہم ٹھیک ہیں بھائی اُسے آگے بڑھتا دیکھ وہ مسکراتے اسے تسلی دیتی خنفہ کے سامنے سے ہٹ گئی ،، خنفہ جو آنکھیں میچے تمام صورت حال سے خوف زدہ ہوتی آنسو بہا رہی تھی ،، اُسکی آواز سنتی آنکھیں کھولتے اُسے سامنے دیکھتے اُس کے سینے سے لگی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔

معراج نے آگے بڑھتے اس کے گرد اپنا مضبوط حصار قائم کرتے اس کے بالوں پر لب رکھے اور سختی سے اپنی آنکھیں میچتا اپنے اندر کا اشتعال کم کرنے کی کوشش کرنے لگا ،، جو اسے روتا دیکھ مزید بڑھ گیا تھا ،،

اُس نے خون چھلکاتی نظر قریب گرے شخص پر ڈالی ،،اُسکا بس نہیں چل رہا تھا اُسکے چیتھڑے کر ڈالے جس نے اُس کی بیوی کی جانب غلط نگاہ ڈالی ،،

وہ لرزتی خوف زدہ سی اُس کے سینے سے لگی کانپتے لبوں سے بولی

میں ڈر گئی تھی بہت ،ہچکیاں بھرتے وہ بمشکل بولی ،،

آپ میرے پاس ہیں نہ ،، اس سے پہلے کے اُسکی خالت مزید خراب ہوتی وہ اسے یہاں سے جلد از جلد لے جانا چاہتا تھا

میری زندگی ،، میرے قریب ہوتے کسی میں اتنی ہمت نہیں کے آپکو چھو بھی سکے ،، اور جس نے اتنی ہمت کی تو وہ جان سے جائے گا ۔

وہ شدت پسندی سے بولا اور اپنا حصار اس پر مضبوط کیا ،،تو کچھ لمحے کے لیے خنفہ بھی ساکت رہ گئی ۔۔

وہ شخص اُسکا عشق تھا ،،اسے بہت محبت تھی اُس سے،، اُسکا پہلا عشق ،، آج اسے احساس ہوا تھا کے وہ جس سے دور بھاگ رہی تھی وہ اُسکا مضبوط حصار تھا ،اس نے ٹھیک ہی تو کہا تھا کے اُس کے ہوتے اُسے کسی سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں تھی ۔

وہ خاموش سی اُسے دیکھ رہی تھی

اپنے دوستوں سے ملتے وہ واپسی کے لیے روانہ ہوئے تھے ،، ایک خوبصورت شام گزار کر جو ان کی زندگیوں میں نئی خوشیاں لانے والی تھی۔

خنفہ اُس کے سینے پر سر رکھتی اُس کے قریب ہوئ تھی ،،اور اسکی اس حرکت سے میراج مزید پریشان ہوا تھا ،،جانے اب وہ کیسا ریکٹ کرنے والی تھی ،، وہ انہی سوچوں میں تھا کے وہ آنکھیں موندتی سو چکی تھی ۔

سارا راستہ خنفہ نے سو کر گزارا تھا اور میراج نے بے چینی سے،، مینشن پہنچتے معراج نے اُسکی جانب آتے اُس کو اپنی بانہوں میں بھرا اور اپنے کمرے کی جانب چل دیا ۔۔

اُس کے نرم گرم وجود کو اتنا قریب دیکھتے اُسکا دل شدت سے دھرک اٹھا ،، اُسے بیڈ پر منتقل کرتے وہ جیسے ہی پلٹنے لگا خنفہ نے اسکا ہاتھ تھام لیا ۔۔

معراج نے پلٹتے جان وارتی نگاہوں سے اُسکی جانب دیکھا ،، بیگم کیا ارادے ہیں آپ کے ،، اُس کے قریب بیٹھتے وہ شرارت سے گویا ہوا ۔ بظاہر شوح لہجہ تھا لیکن اندر پلتا ڈر اس پر حاوی ہو رہا تھا ،،کے کہی وہ مزید اُس سے دور نہ چلی جائے ۔

ارادے بلکل نیک نہیں ،، خنفہ کہتے اٹھتے اُس کے شانے پر اپنا سر ٹکاتے مسکراتے لہجے میں کہا ،، میں تو چاہتا ہی یہی ہوں ،، اپنے سینے پر رکھے اُس کے ہاتھ کو تھامتے ان پر اپنا لمس بکھیرا تو وہ اسکو چمکتی نگاہوں سے دیکھنے لگی ،، بلیک تھری پیس میں وہ خوبرو سا بندہ اسی کا تھا اُسے یقین نہ آیا ،، اس نے اس بندے کو اللہ پاک سے مانگا تھا ،، وہ تو اتنا دلکش تھا اسے تو ہزاروں مل جاتی لیکن وہ تو بہت عام سادہ سی لڑکی تھی ،، وہ کیسے اُس پر جان لٹاتا تھا ،، گزرے پندرہ دنوں میں وہ اس کے ساتھ رہ کے یہ تو جان گئ تھی کے وہ رنگ اور خوبصورتی سے مائل ہونے والا شخص نہ تھا ۔

آئی ایم سوری _____ وہ نگاہیں جھکاتی شرمندگی سے گویا ہوئ ، وہ لب کچلتی پانیوں سے بھری نگاہیں جو سامنے والے کو گھائل کرنے کا ہنر اچھے سے جانتی تھی ،، میں جانتی ہوں میں آپکو بہت تنگ کر چکی ہوں ،، بہت بتمیزی بھی کی ،،، شرمندگی سے بولا

ہنی آپکا حق بنتا ہے ” آپ میری شریک حیات ہیں ،، یہ میرا فرض بنتا ہے کے آپ روٹھیں اور میں آپکو مناؤں ،، اُس کے ماتھے پر لب رکھتا وہ نرمی سے گویا ہوا ۔

آپ اتنے اچھے کیوں ہیں ،، نگاہیں اٹھاتے اُس کی جانب دیکھتے وہ استفسار کرنے لگی ٫ کیونکہ آپ اچھی نہیں ،، وہ قہقہ لگاتا گویا ہوا ۔۔

اور وہ تو جیسے اُس کی خوبصورت آواز میں کھو سی گئی ،، اسے اس وقت وہ بے پناہ حسین لگ رہا تھا ۔

فضا میں خنفه کی خوبصورت آواز گھلنے لگی ۔۔

میں نے سب سے پہلے اُس کی آنکھیں دیکھی تھی

خوبصورت،،دلکش آنکھیں

مجھے ایک دم سے لگا میں ان میں قید ہو جاؤں گی

اسلئے میں نے فوراً نگاہیں پھیر لیں

لیکن میں نہیں جانتی تھی میں ان میں قید ہو چکی ہوں ،،

پھر میں نے اسے خدا سے مانگا تھا ،،اور میں نہیں جانتی تھی وہ مجھے اتنی جلدی مل جائے گا ۔۔

میں نے اُسے پا لیا اور خدا کی شکر گزار ہوں جس نے مجھے اس سے ملایا ۔

خنفہ نے کہتے اپنے لب اس کے دل کے مقام پر رکھے ،، معراج جو گہری نگاہوں سے اُسے دیکھ رہا تھا اُس کی پیش قدمی پر دھنگ سا رہ گیا تھا ،، وہ رشتوں میں زبردستی کا قایل نہ تھا یہی وجہ تھی کے اُس نے خنفہ کو مکمل طور پر اسپیس دی تھی ۔۔

اسے بلکل بھی اندازہ نہ تھا کے خنفہ ایسا کچھ کرے گی ،، ہنی یہ بندہ بشر تو پہلے سے آپکا ہے اور کتنا اسیر کریں گی،، اُس کے گرد مضبوط گھیرا ڈالتے وہ اُسے خود میں بینچتا شدت سے گویا ہوا ۔

مجھے یہ بندہ سارا کا سارا اور صرف اپنا چاہیے ،، وہ شدت پسندی سے اُس کی شرٹ کو مٹھیوں میں بینچتی بولی ،، میں تو پہلے ہی آپکا ہوں میڈیم ،، اُس کے گال پر لب رکھتا وہ دلکش مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے بولا ،، حنفہ نے اُسکی نگاہوں میں جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھا ،، چہرے پر سرخیاں گھلنے لگی ،، اُسکی نگاہوں کی لپک ،،اور جذبات کو سمجھتے اُس نے بانہیں اُس کے گلے میں ڈالی ،،،خود سپردگی کا یہ انداز میراج کو سرشار کر گیا ۔۔

بے شک آنے والا وقت خوبصورت تھا ان سب کے لیے ۔

____________

چھ ماہ بعد ____________.

چلو لڑکیوں جلدی کرو دلہن کو گھنگٹ دو بھائی باہر کھڑے ہیں ،، اور آ جاؤ ناقہ لگانے کا وقت آ گیا ہے،، خنفه باہر سے تھوڑا سا دروازہ کھولتی اندر تھوڑا سا چہرہ کرتی اپنی سہیلیوں کو بلانے لگی جو گل کو ریلیکس کرنے کی خاطر اُس کے قریب بیٹھی باتیں کر رہی تھی ،،

وہ تینوں خوشی سے چیختی لپک کر اٹھتی دروازہ بند کرتی باہر کی جانب متوجہ ہوئی ۔۔ اوک جی ہم تو چلے آپ بیٹھ کر اپنے سیان جی کا انتظار کریں ۔

آج دلشیر اور گل کا نکاح تھا ،، معراج اور تبریز نے بڑے بھائیوں کی طرح تمام زمہ داریاں اُٹھائ تھی اور بہت پیار سے اُسے اپنے گھر سے رخصت کیا تھا ۔

ان کا دل تو ایسا لگا تھا اُس کے ساتھ ،، کے رخصتی کے وقت رو رو کر برا خال تھا ،، ان کے گھر میں تو جیسے ہر وقت رونق اور کھلکھلاہٹیں رہتی ____ ان تینوں کو انہوں نے اپنی بیٹیوں کی طرح رکھا ہوا تھا ،، نہ کوئی روک ٹوک نہ پابندی ،، اور بے انتہا محبت دی تھی کے تینوں کی بھی جان بستی تھی اپنی مان میں ۔

دلشیر کے ولا میں بھی تمام انتظامات سب نے مل کر کیے تھے ،، اور گل وہ تو جتنا خدا کا شکر ادا کرتی کم تھا ۔

اُس کی تو آنکھیں خوشی اور مسرت سے ہما وقت نم رہتی ،، اُس نے کبھی نہیں سوچا تھا کے رب اُسکو اتنا نوازے گا ،

اتنے پیارے رشتے ،،محبت دینے والے ،، اُسکا عشق ،،اُسکا جنون جس کے پیچھے وہ ایک عرصے تک خوار ہوئ تھی اور اسے پانے کی ہمت ہار چکی تھی ۔

باہر سے آتے شور سے وہ ایک دم سے اپنے خوش کن خیالات سے باہر آئ ،،

جہاں سے ان سب کی پرجوش سی آوازیں سنائی دے رہی تھی ۔

چلیں نکالیں پچاس ہزار ” ہدیل نے کمر پا ہاتھ رکھتے ایک ہاتھ اُس کے آگے کرتے کہا تو دلشیر تو ان کی مانگوں پر حیران رہ گیا ۔۔۔۔۔۔

پہلے ہی تم لوگ مجھے اچھا خاصا لوٹ چکی ہوں ،،، مزید ایک روپیہ نہیں ملے گا ،،پیچھے ہو سب مجھے اندر جانے دو میری زوجہ میرا انتظار کر رہی ہوں گی ،،ان سے جان چھڑانے کی خاطر وہ قدرے سختی سے بولا تھا لیکن یہاں کسی کو اثر کہا تھا ۔

بلکل بھی نہیں کھڑے رہیں یہی ساری رات ،،ہم یہاں سے نیگ لیے بغیر نہیں ہلے گی ،، اچھا بتاؤ کتنا وہ تنگ آتا منہ بنا کے بولا ۔

پچاس ہزار _________ ہیں کچھ خیال کرو لڑکیوں تم لوگوں نے ساری شاپنگ کے پیسے مجھ سے ہی پورے کرنے ہیں ،،پہلے مجھ غریب کی جیب خالی کروا چکی ہو ۔

میرے پاس نہیں ہیں اب اتنے پیسے ،،

نہیں بلکل بھی نہیں ایک روپیہ بھی کم نہیں لیں گے ہم ،، نیگ دیں ورنہ آج رات کمرے سے باہر رہیں ۔۔

وہ کمر پر ہاتھ رکھتی اپنے قدرے بھاری وجود سمیت اکڑ کر کھڑی تھی،، یار کچھ تو کم کر دو پہلے ہی جیب خالی کروا چکی ہو ۔۔۔۔

خنفه بھائی کی جان ،،ان سب کو بولو نہ ،، ہنفه کو ان کے ساتھ کھڑے دیکھتا وہ بولا لیکن وہ کندھے اچکا گئ۔

دلشیر مسکین صورت بناتے بولا ،، بھائی یار آپ دے دیں ،، یہ لیں مجھ سے لے لین ،، فضول میں میری بیوی کو اپنے ساتھ کھڑا کیا ہوا ،،اس خالت میں ،، وہ جو میراج کے ساتھ مہمانوں سے ملتا انہیں الوداع کر رہا تھا ہدیل کی طبیعت کا سوچتے اُسے واپسی کا کہنے آیا تھا ،،اور سامنے انہیں ابھی تک کھڑا دیکھ کے رہ نہ سکا ،،

وہ کچھ زیادہ حساس ہو رہا تھا اُس کے معاملے میں ،، جب سے انہیں ننھے مہمان کی آمد کی خبر ملی تھی وہ اُسکا بہت زیادہ خیال رکھتا ،، اس کا دل بس یہی ہوتا کے سایہ بن کے اُس کے ساتھ چلے ،،اور اب بھی اُسے کھڑا دیکھ اُس کو پریشانی نے آ گھیرا تھا ،، اس لیے جان خلاصی کی خاطر خود سے سب کو پیسے دیتا بحث ختم کرتا بولا ،، چلیں اب سب واپسی کی راہ لیں وقت بہت ہو چکا ہے ،، لڑکیوں کو پیسے تھماتے انہیں وہاں سے بھیجا ،، ڈرائیور باہر کھڑا ان کا منتظر تھا ،، بھابھی بھائی آپ کو بلا رہے تھے مینشن واپس جانا ہے ماں اکیلی ہیں ،، خنفه سر اثبات میں ہلاتی دلشیر سے ملتی باہر کی جانب چل دی ۔

جائیں بھائی اب آپ بھی ________ مسکرا کر کہتے

نرمی سے ہدیل کے گرد حصار بناتے اسے ساتھ لیے زینے طے کرنے لگا ۔

طبیعت تو ٹھیک ہے نہ ،، چکر تو نہیں آ رہے ۔۔

تھک گئی ہونگی آپ ،کب سے کھڑی ہیں ۔

وہ بس نفی میں گردن ہلاتے اُسکی پریشانی پر مبھم سا مسکرا رہی تھی ،، میں بلکل ٹھیک ہوں تبریز آپ پریشان نہیں ہوں ،، اُس کے ہمقدم چلتے ہدیل اُسکی فکر پر مسکرا کر کہتی گاڑی میں بیٹھنے لگی ،، جس کا دروازہ کھولے اب وہ اُس کا لونگ فراک تھامے اس کی ہیلپ کر رہا تھا ،، اس کے اتنی خیال اور محبت پر ہدیل کو خود پر رشک آتا تھا ،، وہ شکر گزار تھی رب العالمین کی ،، کے اُسے اتنا اچھا مرد عطا کیا گیا ہے ۔

_______________

الحمدللہ سب اچھے سے ہو گیا نہ ،، خنفه گاڑی میں بیٹھتی میراج کی جانب دیکھتے چمکتی نگاہوں سے بولی ،، شکر اللہ پاک کا ،، میراج نے مسکراتے چہرے سے جواب دیا

بس اب مجھے یاد آئے گی گل کی ،،ہمیں ساتھ اتنا مزہ آتا تھا ،، وہ یکدم اُداسی سے بولی ،،

تو کوئی بات نہیں ہنی وہ کون سا دور ہے آپ سے ،،آپ جب چاہیں اس سے ملنے جا سکتی ہیں ،، ایون میں تو ان کے لیے تھائلینڈ کی ٹیکٹس بھی بک کروا چکا ہوں ،، اور ان کے ساتھ ساتھ ہماری بھی ،،

کیا سچی میراج ،،ہم بھی جائیں گے ،،ہائے کتنا مزہ آئے گا ،،آپ بہت اچھے ہیں ،، آئ لو یو “

اُس کے قریب ہوتے جھکتے گال پر لب رکھتی وہ پرجوش سی بولی تو وہ مبھم سا مسکرا دیا ۔

ایسا ہو سکتا ہے میری بیوی مجھ سے کوئی فرمائش کریں اور وہ پوری نہ ہو ،، خنفه نے نفی میں سر ہلاتے اُس کے شانے پر سر رکھ دیا ۔۔۔۔

وہ میراج کے ساتھ بے انتہا خوش تھی ،، وہ اس کے تمام لاڈ اٹھاتا ،،، کسی چھوٹے بچے کی طرح وہ ضد کرتی اور وہ اُسکی تمام فرمائشیں پوری کرتا ۔

معراج اپنی ماں اور گھر میں موجود رونقوں کو دیکھ دیکھ کر جیتا تھا ۔

بے شک باپ کی کمی کوئی پوری نہیں کر سکتا لیکن انہوں نے اپنے والد کے لیے ،، ان کے لوگو کے لیے برائی کے خلاف جنگ لری تھی اور اُس میں کامیاب ہوے تھے ۔

_______________

وہ کمرے میں داخل ہوا تو سامنے ہی وہ نازک سراپے میں سجھی سنوری سی بیٹھی اُس کی منتظر تھی ۔

معزرت چاہتا ہوں آپ کو بہت انتظار کروایا ،، لیکن کیا کرتا یہ لوگ میری جان ہی نہیں چھوڑ رہے تھے وہ خود بھی کنفیوز سا تھا ۔۔

اُس کے قریب بیٹھتے وہ اس کے دو آتشہ حسن کو دیکھتا ساکت سا تھا ،،آپ پہلے سے اتنی حسین تھی یان مجھے لگ رہی ہیں ،،اس کے کانپتے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے لبوں سے لگاتے وہ شرارت سے گویا ہوا ۔

گل جو پہلے سے ہی شدید نروس تھی اُس کے اس طرح بولنے سے ہونٹ بنچتی آنکھیں جھپکنے لگی ۔

اسے رونے کے لیے تیار دیکھ کر وہ قہقہ لگاتا بولا یار مذاق تھا ،، آپ کی ہر ادا اول روز سے میرے دل کو بھا گئی تھی لیکن میں اپنے دل پ پہرے لگائے بیٹھا رہا ،، مجھ میں ایک بار اور دل پر وار سہنے کی ہمت نہیں تھی ،میں ٹوٹ چکا تھا مزید خود کو توڑنا نہیں چاہتا تھا لیکن آپ نے مجھے غلط ثابت کر دیا اور میں بہت مان سے کہ سکتا ہوں اس وقت میرے قریب ،،میرے سامنے بیٹھی لڑکی سب سے جدا ہے جس نے مجھ جیسے پتھر میں شگاف ڈال دی ۔

میں یہ نہیں کہوں گا کے مجھے آپ سے شدید قسم کی محبت ہے ،، عشق ہے کیوں کہ یہ آپ نے مجھے خود سے کروانا ہے لیکن اتنا کہہ سکتا ہوں کے میں آپکی عزت کرتا ہوں میرے دل نے آپکو قبول کیا تھا تو میں نے آپ کو ایک پاک بندھن میں خود سے باندھا ہے ۔۔ اُس کے ہاتھوں پر لب رکھتا وہ دلکشی سے بولا تو گل لبوں پر مسکراہٹ لیے اُس کی جانب دیکھنے لگی ۔

اور دل میں ارادہ کیا کے وہ اس شخص کو خود سے محبت کرنے پر مجبور کر دے گی ۔

ختم شد۔۔۔۔۔۔