Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Paband Slasal (Episode 7)

Paband Slasal By Yumna Writes

کمرے میں داخل ہوتا وہ اپنے اندر اٹھتے ابال پر قابو پانے کی کوشش کرتا مٹھیاں بینچ گیا ۔

آج اسے کسی دوسرے شخص کے ہمراہ دیکھ کے اُسے اندازہ ہوا تھا کے وہ محبت جیسے مرض میں لاحق ہی چکا ہے

لیکن اسے ان سب سے دور رہنا تھا ۔

وہ مکمل ہوتے ہوے بھی نامکمل تھا ٫،،

خود کو آج وہ ایک عجیب دوراہے پر کھڑا محسوس کر رہا تھا ،،جس نے کبھی محبت کے بارے میں سوچا نہ تھا اور دل لگی ،،اور عشق اسے سب فضول کام لگتے تھے

آج اُس کے دل نے چپکے سے سرگوشی کی تھی

تبریز تم بھی اس سفر کے مسافر بن چکے ہو ۔

اپنا ایک ہاتھ ڈریس پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے دوسرے سے ماتھا مسلتے وہ

کمرے میں چکر کاٹتے جب تھک گیا تو اسپاٹ چہرہ لیے اُس نے کسی کا نمبر ملایا اور کاٹ دار لہجے میں گویا ہوا ۔۔

صبح تک مجھے مس ہدیل کی ساری انفارمیشن چاہیے

وہ کہاں جاتی ہیں ،،کیا کرتی ہیں ،،فیملی بیک گراؤنڈ ایک ایک چیز کی خبر چاہیے مجھے ،،گوٹ اٹ “

اُس کے سرد انداز کو دیکھتے دوسری جانب موجود شخص ،،______جی سر کہتا خاموش ہو گیا ۔

فون بیڈ پر پھینکتے ،، شدت ضبط سے اس کے ماتھے کی رگیں پھولنے لگی ۔

اب اسے صبح تک کا انتظار تھا

وہ اپنا سلیپنگ ڈریس لیتا شاور لینے چلا گیا ” شاید اسی سے اُس کے جلتے دل اور دماغ کو سکون مل جاتا ۔

_____________yumna Writes 💝💝

تبریز کا باہر دیکھنا اور مٹھیاں بینچنا ” اُسکی سرخ آنکھیں اُس سے مخفی نہیں رہ سکی ۔

اُسکا بدلتا انداز اور اشتعال ” اُسکی ایک ایک پل کی خبر وہ رکھتا تھا ۔

وہ کہاں جاتا ہے کیا کرتا ہے ” وہ جانتا تھا وہ جذباتی ہے اور نہیں چاہتا تھا کے اپنی جذباتیت میں وہ اپنا کوئی نقصان کر ڈالے ،،

اسی لیے اُس کے پیچھے اپنے گارڈز لگائے تھے ۔

اور جو خبر اُسے ملی تھی وہ اُس کے اندر ایک خوش کن احساس پیدا کر گئی تھی

کہ اس کا بھائی پچھلا سب کچھ بھلاتے بھلے تھوڑی ہی دیر کے لیے لیکن پرسکون تو ہوتا ہے ۔،،اُسکی زندگی دوسرے لوگوں کی طرح تھوڑی نارمل تو ہوئی تھی ۔

اُسکا علاج جاری تھا ،، ٹیسٹ اور رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر نے جلد بازو میں حرکت پیدا ہونے کی امید دلائی تھی

لیکن اسے اس سب میں مکمل توجہ چاہیے تھی

بازو کی روزآنہ ایکسرسائز اور موو کرنے کی تاکید کی گئی تھی

لیکن معراج گھر میں جس بھی فزیو تھراپسٹ کو ہائر کرتا وہ اسے ڈانت کے بگھا دیتا ۔

نتیجہ یہ نکلا کے وہ خود باقاعدگی سے اُسکے بازو کی مساج کرتا اور موومنٹ کرواتا ۔

تبریز کے لاکھ اکڑنے ،،غصّہ کرنے کے باوجود جب معراج اُسے ایک مرتبہ سنجیدگی سے دیکھتا تو وہ خاموش ہو جاتا ۔

وہ چاہتا تھا دل سے کے اُسکا بھائی سب کچھ بھلا کے زندگی میں آگے بڑھے اور خوش رھے

لیکن نہیں جانتا تھا کے آگے کیا ہونے والا ہے ۔۔

_______________

فریش ہوتا وہ اس کے کمرے میں داخل ہوا جہاں وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھے آرا ترچھا لیٹا ہوا تھا ۔

ٹیوب لیتے اُس کے قریب بیٹھتے اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا جو ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے

تبریز جاگ رہا تھا لیکن خاموش پڑا رہا “.

میں جانتا ہوں تم جاگ رہے ہو ” اُس کے بازو پر ٹیوب لگاتے مساج کرتے وہ نرمی سے مسکراتے گویا ہوا

اُس نے آنکھوں سے ہاتھ اٹھا کر معراج کی جانب دیکھا ” یہ سب فضول ہے ۔

آپ کیوں خود کو تھکاتے ہیں ،،لہجے میں تھکن سموئے وہ سرخ آنکھیں اُس کے چہرے پر ٹکائے گویا ہوا

تو معراج کا دل ڈول گیا ۔

اُسکی سرخ پڑتی آنکھوں کو دیکھتے وہ گیا ہوا

تو کیا میں سمجھو کہ وہ لڑکی میرے بھائی کے لیے اتنی اہمیت رکھتی ہے کہ اسے کسی دوسرے کے ساتھ دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے ۔

اُس کے ٹھرے ہوے لہجے میں بولے گئے جملے پر وہ ٹھٹھک کے اٹھ کر بیٹھا ” ۔۔

آپ نے میرے پیچھے جاسوس لگا رکھے ہیں وہ بگڑے موڈ کے ساتھ گویا ہوا ۔

یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے سید تبریز ٫..

معراج نے آئ برو اُچکاتے اُسکی جانب دیکھا “

ایسا کچھ بھی نہیں ” نگاہیں چراتے وہ سنجیدگی سے گویا ہوا ۔

ہمم اسی وجہ سے پاگل ہوے پڑے ہو تب سے ٫،،

ویسے کزن برادر تھا وہ اُسکا ” میٹرک کا سٹوڈنٹ ۔۔

معراج نے نارمل سے انداز میں مسکراہٹ دباتے اُس کو اطلاع دی

وہ جو تب کے تنے اعصاب تھے وہ تھوڑا ڈھیلے پرے” سل میں سکون اترتا محسوس ہوا ۔

کہو تو پرپوزل بھیجیں اُس کے گھر ” ۔۔۔معراج نے اس کی جانب دیکھتے استفسار کیا ۔

وہ نہیں جانتی میں کون ہوں ” اور _______..

وہ خاموش ہو گیا ۔

اُو کم آن چھوٹے اب یہ مت کہنا کے تم میں کمی ہے ٫ ورنہ اُس لڑکی کو اسی وقت تمہارے سامنے لا کھڑا کروں گا ۔

معراج کو اُسکا خود کو نامکمل کہنا بلکل نہ بھایا تھا ۔

وہ جو ایک مکمل شاندار شخص تھا ” جس کی گہری سیاہ آنکھیں سامنے والے کو اس کہ صحر میں پاگل کے دیتی تھی ،،اُس شاندار شخص کو دیکھنے پر مجبور کر دیتی تھی ٫ ،، وہ کیسے ایک مکمل شخص نہ تھا ” خوبصورت دل اور خوبصورت چہرے کا مالک تھا وہ ۔

وہ اپنے چھوٹے کو کبھی بھی احساس کمتری میں گھڑا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا تھا ۔

اُسکی پل میں لہو چھلکاتی آنکھوں کو دیکھتے تبریز نے اُس کی گود میں اپنا سر رکھا ” یہ اُسکا بچپن سے انداز تھا اپنے بھائی کو کول ڈاؤن کرنے کا ۔

معراج نے اُسکے نرم بالوں میں ہاتھ پھیرا ٫ کیوں تکلیف دیتے ہو مجھے ۔

جب جانتے ہو تمہارے لفظوں سے میرا دل دکھتا ہے ٫

سوری بھائی ٫ کہتا وہ اُس کے ہاتھ پر لب رکھتا خاموش ہو گیا ۔

بھائی بابا کیوں اتنی جلدی چلے گئے “

ایک آنسو ٹوٹ کر اُسکی آنکھ سے گرا تھا ۔

معراج نے جھکتے اُس کے ماتھے پر لب رکھے تھے

اللہ رب العزت نے انکی زندگی اتنی ہی لکھی تھی ۔ اُسکی اپنی آواز رندھ گئی۔

ملاقاتیں ادھوری رہ گئی ہیں ________!

کئی باتیں ضروری رہ گئی ہیں ۔

ضروری باتیں کرنی تھی ____.

خیال تھا کے کریں گے ایک دن ______.

لیکن یہ کب خیال تھا کہ ملاقاتیں

ادھوری رہ جائیں گی ۔

اپنے بابا کے ساتھ گزارے لمحے اس کی آنکھوں میں کسی فلم کی مانند چلنے لگے ۔

دونو کی آنکھیں نم تھی ” باہر کھڑی انکی ماں ہونٹوں پر ہاتھ رکھتی سسکیاں روکتی وہاں سے بھاگی تھی ۔

سب کا دکھ اپنی جگہ تھا ۔۔

وہ جو معراج کو اُس کے کمرے کی جانب جاتا دیکھ رہی تھی خود بھی اُس کے پاس جانے کا سوچتی اٹھی تھی

لیکن اندر سے آنے والی آوازوں کو سنتے انکی ہمت نہ ہوئی ۔

میں بہت جلد تمہاری ایک ایک اذیت کا بدلہ لوں گا میرا بچہ ۔

سید معراج گہرے دکھ سے کہتا وہی کافی وقت بیٹھا رہا مقصد صرف اُسے پرسکون کرنا تھا ۔

جب وہ سو گیا تو وہ اٹھتا اے سی کی سپیڈ کم کرتا اُس پر کمفرٹر دیتا باہر نکل گیا ۔