Paband Slasal By Yumna Writes Readelle 50368 Paband Slasal (Episode 18)
No Download Link
Rate this Novel
Paband Slasal (Episode 18)
Paband Slasal By Yumna Writes
کمرے میں داخل ہوتے ہی اُس کے چہرے کے نرم تاثرات سخت پڑے تھے ” ۔۔
کمرہ خالی پڑا تھا _______ اس نے ایک طائرانہ نگاہ کمرے پر ڈالی ،، بغیر کسی سجاوٹ کے وہ کمرہ پھر بھی خوبصورت دکھ رہا تھا
وہ سامنے اُسکی اسٹڈی ٹیبل کے قریب جا کھڑا ہوا جہاں اُس کی کچھ کتابیں موجود تھی ” ،،اور کچھ پھول تھے
ایک نگاہ باتھروم کے ادھ کھلے دروازے کو دیکھ کر وہ
صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے چہرے پر سنجیدگی لیے ،،بکھرے بال اور شنگرفی لبوں پر ہاتھ کی مٹھی جمائے اس کے باہر آنے کا منتظر تھا ۔
وہ جو آنکھ میں کچھ جانے سے دوبٹہ ایک جانب رکھتی واشروم گئی تھی اپنے دھیان باہر نکلیں تھی “
شرم نہیں آتی تم لوگو کو میری آنکھ میں لگا دیا سارا ،،
شادی سے پہلے مجھے اندھے کرنے کا ارادہ ہے سب کا وہ منھ میں بربراتی پلٹی تو اسے سامنے دیکھ کر کنگ ہو گئی ۔۔
بڑی بڑی بھوری آنکھوں کو پھیلائے وہ اُسے سامنے بیٹھا دیکھ رہی تھی
جبکہ دوسری جانب اس کو اس روپ میں دیکھ کر اُسکی نگاہوں میں بیک وقت ستائش ابھری تھی ،،
پیلے سادہ سے جوڑے میں،، سر پر حجاب کیپ لیے وہ ابٹن سے لدھی تھی “
اس کے لب پھرپھڑاے __________.
آپ یہاں “…… بے ساختہ اُسکی نگاہ دور پڑے اپنے دوبٹہ پر پڑی ” ۔۔۔
وہ حلق تر کرتی ” اپنے کانپتے ہاتھوں کو موڑتے روہانسی ہونے لگی
جسم کا سارا خون چہرے پر اکٹھا ہوا ______
اسے بلکل امید نہ تھی کے وہ آئے گا ” اس سے بچنے کے لیے ہی تو اس نے اکٹھے فنکشن سے انکار کیا تھا ۔
اس کی بدلتی رنگت اور رونی شکل دیکھ اُس کے چہرے پر نا سمجھیں کے تاثرات چھائے ،، پل میں اُس کی پریشانی سمجھتے
آگے بڑھتے اُسکا دوبٹہ بیڈ سے اٹھاتے اُس کے قریب جاتے اُس کے گرد پھیلایا ۔
اُسکے خوبصورت سراپے سے نگاہ چراتا وہ سخت لب و لہجے میں مخاطب ہوا ۔
یہاں آنے کا ” اختیار مجھے ہی خاصل ہے ہنی ” ۔۔۔۔
اور فکر نہ کریں مجھے آپ ہر حال میں قبول ہیں ۔
مجھے دیکھ کر اتنی خیران نہ ہوں” ۔۔ بہت جلد میرا سب کچھ آپ کے نام اور آپ میری ہونے والی ہیں بھول گئی ہیں تو یاد کروا دوں ۔
لہجے میں دلکشی سموئے وہ گویا ہوا ۔
عموماً یہ رسم ساتھ بٹھا کر کی جاتی ہے ” لیکن آپ کو تو میرے ساتھ بیٹھنے پر اعتراض تھا ۔
تو میں نے سوچا کیوں نہ اپنی ہونے والی بیوی کو اپنے نام کا ابٹن لگا آؤ ۔
آگے بڑھتے اُسے سمجھنے کا موقع دیے بغیر اُس کے بازو پر لگا ابٹن انگلی کی پور پر لگاتے اُس کے رخسار پر لگایا ۔
اُسکی گھبرائی صورت دیکھ وہ خظ اٹھاتا تھوڑا قریب ہوا ۔
اس کے وجود سے اٹھتی ابٹن کی مہک “
متضاد اس کے سرخ و سفید گالوں پر لگا ابٹن ” کسی بھی طرح کی آرائش زیبائش سے پاک چہرہ ” گلابی کپکپاتے لب ،،، سفید گداز بازو جن پر لگا ابٹن خشک ہو چکا تھا
اسے نظریں چرانے پر مجبور کر گیا ۔
دل تو چاہ رہا تھا کے ایک پل کے لیے اس کے خوبصورت چہرے سے نگاہ نہ ہٹائے ،،لیکن اسے ابھی کوئی حق حاصل نہ تھا ۔
مجھے نہیں لگائے گی کیا ۔۔؟؟؟
اُس کی اواز سنتے اُس کے دل کی دھڑکن بڑھنے لگی تھی ۔
اُس نے نگاہ اٹھا کر اُسکی جانب دیکھا ” ہمیشہ کی طرح اپنی تسخیر کر دینے والی پرسنیلٹی ،، کے ساتھ وہ اُسے اپنی جانب متوجہ کر گیا تھا کے وہ اس کے سحر میں کھوئ اس کے چہرے پر نگاہیں ٹکائے اُسے یک ٹک دیکھ رہی تھی ۔
اُس کی گہری بولتی نگاہیں خود پر جمعے دیکھ کے اُس کے دل میں ہلچل مچی ،، بے ساختہ دل نے ایک بیٹ مس کی ۔
سکتے میں کیوں چلی گئی ہیں ” ایسی تو کوئی ڈیمانڈ نہیں کی میں نے ۔۔
اس کے چہرے کے بدلتے رنگوں کو دیکھتا وہ بولا
میں ” کیسے ________ اٹک اٹک کے بولتی وہ نگاہیں جھکا گئی ۔
جیسے میں نے لگایا ویسے “
لہجے میں بے نیازی سموئے وہ اُس کی جانب دیکھتے کندھے اچکا گیا ۔
کہاں سے لگاؤ ” ابٹن تو باہر ہے ” وہ کتراتی شش و پنج میں مبتلا ہوئی ۔
جہاں میں نے لگایا ہے وہاں سے ” خود میں ہمت جمع کرتے اپنے گال سے تھوڑی سی ابٹن چنتے ایڑیاں اٹھاتے اُس کے تھوڑا قریب ہوتے اس کے ہلکی بیئرڈ والے گال پر تھوڑا سا لگایا ۔
تو وہ اُسکا لمس محسوس کرتے آنکھیں موند گیا ” اُسکی نرم و نازک اُنگلیاں اپنے چہرے پر رینگتی محسوس کرتے اُس کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے ۔
تپتے دل پر پھوار پڑی ہو جیسے ” آنکھیں کھولتے
اس کے حسین چہرے سے نظریں ہٹاتے ،، اس کی جانب دیکھتا گویا ہوا ۔
میری بات غور سے سنیں ،،میری اجازت کے بغیر آپ ایک قدم گھر سے باہر نہیں نکالیں گی ۔
جب تک میں نہیں کہو گا کسی کے ساتھ باہر نہیں نکلیں گی ،، اور نہ این جی اؤ جانے کی ضرورت ہے ۔
خنفہ پر اٹیک ہوا ہے ، وہ ابھی ہاسپٹل ہیں ” میں یہاں سے ہسپتال جاؤ گا ” خالات جانے کیسے ہوں وہاں ۔۔
میں ابھی مزید کچھ نہیں بتا سکتا ” آپکو _____
شادی پوسپون بھی ہو سکتی ہے ،، دماغ میں کوئی فضول سوچ لانے کی ضرورت نہیں ۔۔۔
اور نہ مجھ سے بھاگنے کی کوشش کریں ،،آپ میری ہیں اور میرے پاس ہی آنا ہے آپ نے ،، اسپاٹ تاثرات سے اُسکی جانب دیکھتا وہ سمجھا رہا تھا ۔
وہ اُس کے بگڑے تاثرات کو سمجھ نہ پائی “
آپ کیوں مجھ سے خفا ہیں ” مجھ سے پہلے کی طرح بات نہیں کرتے ” میں نے کیا کیا ہے ” وہ جو سر جھکائے کھڑی تھی ” اُس نے ایک سسکاری لیتے لہجے میں شکوہ سموئے ” دھیمے آواز میں بولی ۔
وہ مٹھیاں بینچتے ماتھے پر بے شمار بل ڈالے اس کے قریب دو قدم کے فاصلے پر کھڑا ہوتا سختی سے دانت پیس کر گرایا ۔۔
نہ چاہتے ہوئے بھی لہجہ میں سختی در آئی ۔
ایک آنسو بھی اور نہیں ” ورنہ جس طریقے سے میں صاف کروں گا یقینا آپ اپنے خواص کھو دیں گی ۔
اس کے پر تپیش لہجے اور معنی خیز بات پر وہ گلابی پڑتی ،،چہرے پر معصومیت لیے نگاہیں اٹھاتے اُس کے دلکش چہرے پر ٹکائے سب بھول گئی ۔
سانس سینے میں اٹک رہا تھا البتہ لیکن وہ یہ جراءت کر گئی تھی ۔
تبریز اُسکی نم شکوہ کنا آنکھوں میں زیادہ دیر نہ دیکھ پایا اور آنکھیں پھیر لیں ۔
اُسکی نگاہوں میں اپنی سیاہ گہری آنکھیں گارے ” قریب ہوتے انگلیوں کی پوروں سے اُس کے گال پر بہتے آنسو کو نرمی سے چنا ” _________ ۔
وہ سب کچھ بھولتا اُس کے معصوم نقوش میں کھونے لگا ،،اس کی نگاہوں میں اپنے لیے چھلکتی محبت ،، پریشانی دیکھ کے اُس کے تنے اعصاب ڈھیلے پڑنے لگے ۔
وہ مان گیا تھا کے سامنے کھڑی لڑکی سید تبریز کو زیر کرنے کا ہنر رکھتی ہے ۔
اُس کے لمس کی شدت سے اُسکا دل شدت سی دھڑکا ” ،،
آپ میرے لیے خاص ہیں ” بہت خاص ۔۔۔۔۔
اپنے آپ کو تکلیف دینے کی اجازت میں آپکو بھی نہیں دونگا ” _____
اُس کے کان کے قریب جھکتے بھاری لہجے میں سرگوشی کی “….
اُسکی گھمبیر آواز، کانوں میں پڑتے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی ۔
اس سے فاصلہ بناتے وہ اُس کے حد سے زیادہ سرخ پڑتے چہرے کو دیکھنے لگا ” _____
آپ تکلیف دے رہے ہیں مجھے ،، اپنے رویے سے ،،اجنبیت سے ،، وہ خود میں ہمت مجتمع کرتی بول اٹھی ۔۔
میرا صبر مت آزمائیں ،، تبریز جب میں خاموش ہوئی تو آپ پچھتایں گے ۔۔
آنکھوں میں نمی لیے وہ اُسے دیکھتی بولی
اپنا خیال رکھنا ہے ” گھر سے باہر نہیں نکلیں گی آپ ” اتنا یاد رکھیے گا آپ میری امانت ہیں ” اور امانت میں خیانت کرنے والے کو میں کبھی معاف نہیں کرتا ۔
آخر میں سخت لہجے میں کہتے
اسکی بات کا جواب دیے بغیر وہ قدم باہر کی جانب بڑھا گیا ۔۔
پیچھے وہ اپنے روکے ہوے آنسو کو بہنے دیا
وہ شخص کیوں اتنا ظالم بن رہا تھا وہ سمجھ نہ پائی ۔
