Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Paband Slasal (Episode 15)

Paband Slasal By Yumna Writes

اس نے لاؤنج کے بیچ کھڑے ہوتے اطراف میں دیکھا ” جہاں سے روشنی اور کھٹ پٹ کی آوازیں آ رہی تھی ” معراج نے قدم اس جانب بڑھائے ۔۔

اُسکی جانب پشت کیے وہ بلیک سلک کے نائٹ ڈریس میں موجود کھڑی کچھ بنا رہی تھی لیکن وہ دیکھ نہ پایا ۔۔

گلا صاف کرتے اُس نے اسکو اپنی جانب متوجہ کرنا چاہا ” ۔۔ کیا ہو رہا ہے ۔۔

اُس کے عین قریب جاتے وہ بھاری نرم لہجے میں گویا ہوا ۔

جبکہ اُسکی آواز سنتے وہ ششدر سی دل پر ہاتھ رکھتی جھٹکے سے دور ہوئ ۔۔

آپ یہاں کیسے ؟؟…

وہ خیرت زدہ سی اُسے سامنے دیکھتی گویا ہوئی ‘ جبکہ دل اب بھی تیزی سے دھڑک رہا تھا ۔

سوری ،،، میں آپکو خوف زدہ نہیں کرنا چاہتا تھا ” ۔۔

اُس کے گھبرائے چہرے کی جانب دیکھتے وہ پشیمان ہوا ۔۔

خوبصورت ہرنی جیسی آنکھیں پھیلائے ” دل پر ہاتھ رکھے ” گولڈن بالوں کا میسی بن بنائے ” لرزتے گلابی لب ۔۔اس پر متضاد ناک میں چمکتا موتی” ۔۔

اسکا ضبط آزما رہے تھے ” اُسکی نگاہیں خنفہ کے چہرے پر جم سی گئی ” گرتی اٹھتی پلکوں کی رمجم ” اُسکے دل کے تار چھیڑنے لگی۔

ڈرا دیا آپ نے ” ۔۔۔ کہتی وہ جھجھک کر واپس رخ موڑ گئی ۔۔

اُس کے رخ موڑنے پر وہ ہوش میں آتا اپنا سر جھٹکتے اُسکی جانب متوجہ ہوا

ویسے اس وقت آپ یہاں اکیلی کیا کر رہی ہیں ” ۔۔۔

وہ مجھے بھوک لگ گئی تو میں میگی بنانے آئ تھی ” وہ پین سے میگی نکالتی پھنسی پھنسی آواز میں بولی ۔۔

آپ کھائیں گے ” ۔۔ باول تھامے اُسکی جانب دیکھ کر استفسار کیا ۔۔

نہیں آپ کھائیں ” مجھے کچھ پوچھنا تھا آپ سے ” اس لیے آیا تھا ۔۔

اُس کے گھبرائے چہرے سے نگاہیں ہٹاتا وہ لب دباتا گویا ہوا ۔۔

وہ اُس کی نگاہوں سے خائف ہوتی ” اپنے آپ کو کوسنے لگی ،،

اُسکا سکارف کمرے میں ہی رہ گیا تھا ” ویسے بھی اُس وقت کوئی بھی مینشن موجود نہ ہوتا سوائے دلشیر کے ۔

میں آتی ہوں آپ بیٹھیں” کچن میں رکھی کرسی کی جانب اشارہ کرتے وہ وہاں سے ایک سیکنڈ میں غائب ہوی ۔

وہ سر نفی میں ہلاتا کرسی پر براجمان ہوا ۔۔

وہ اچھے سے گلے میں سکارف لپیٹے واپس آتی اُس کے سامنے والی کرسی پر براجمان ہوئے ۔۔

جی کیا پوچھنا ہے آپ نے ؟؟…

معراج نے ایک نگاہ اُس پر ڈالی ” وہ بلیک سکارف سے خود کو ڈھانپے اُس کے سامنے بیٹھی” نرم مسکراہٹ چہرے پر لیے اسکی جانب دیکھ رہی تھی ۔

وہ اُسے لا پرواہی سا سمجھا تھا لیکن وہ اتنی بے خبر نہیں تھی ” معراج کو اُس کی یہ بات پسند آئ تھی ۔

دلشیر کے ساتھ ایسا کیا ہوا تھا جو اُسے لڑکیوں سے نفرت ہو چکی ہے ” کیوں وہ کسی کو اپنی زندگی میں شامل نہیں کرنا چاہتا ؟؟… اُس نے اُلجھتے ہوے اُس کی جانب دیکھتے استفسار کیا ۔۔

آپ کو کیوں جاننا ہے یہ سب ؟؟..

خنفہ نے کھوجتی نگاہوں سے اُسکی جانب دیکھا ۔۔

کیوں کے میں چاہتا ہوں کے وہ گل سلطان کو اپنی زندگی میں شامل کر لے ” پرسکون انداز میں معراج نے جواب دیا ۔

ناممکن “_________.

بھائی کبھی کسی کو اپنی زندگی میں دوبارہ ویسا مقام نہیں دے پائیں گے ۔۔۔

جو وہ اُس لڑکی کو دے چکے ہیں ۔

انکا کہنا ہے کے انسان ایک بار دھوکہ کھاتا ہے ،،بار بار یقین اور مان دینا بے وقوفی ہے ۔

محبت ایک بار ہوتی ہے بار بار نہیں ۔

بابا کی ڈیتھ کے بعد جب ساری ذمیداری بھائی پر آئ تو انہوں نے بخوبی سب کچھ انجام دیا ۔

اس دوران بھائی کی ملاقات مہمین نامی ایک لڑکی سے ہوئی ” دن با دن اُس کی بھائی کے ساتھ بے تکلفی بڑھتی گئی ” ۔۔ ہمارے گھر آنا جانا مجھ سے ملنا ۔۔باتیں کرنا روز کا معمول بن گیا ۔

ہم ان کے گھر گئے ” وہ لوگ کافی غریب تھے ” بھائی نے ان کی ساری زمہ داری خود لی اور ان کے والدین سے نکاح کی اجازت لی ۔۔

انکی اجازت ملتے ہی تمام تیاریاں شروع کر دی گئی

عین نکاح والے دن ” وہ تمام زیور” کیش ______

زمینوں کے پیپر لے کر غائب ہو گئے ۔

نکاح خواں موجود تھا ” تمام سیاسی پارٹیوں کے لوگ اس نکاح میں شامل تھے ۔۔

لیکن وہ نہیں آئی ” بھائی انتظار کرتے رہ گئے ۔۔

تمام افراد واپس چلے گئے ” ہمیں اتنی بے عزتِ کا سامنا کرنا پڑا ۔۔

غصے میں جب بھائی اپنے کمرے میں گئے تو انکا لوکر خالی تھا ” وہ تمام قیمتی اشیاء لے گئی تھی اور ایک چٹ وہاں رکھ گئی تھی ۔

جس میں لکھا تھا ” دلشیر حسن جو دوسروں کو چکما دیتا ہے اُسے میں نے چکما دے دیا ۔۔

کیسا محسوس ہو رہا ہے اپنا سب کچھ” لٹا ” کر ” مجھے تھوڑا دکھ ہوا تھا تمہارے لیے ” لیکن کیا کرتی میں مجبور ہوں ۔

مجھے جس سے محبت ہے اُسکی تمہارے ساتھ دشمنی چل ری ہے اور وہ چاہتا تھا تمہاری بربادی ۔۔

تو بس پھر میں نے تمہیں برباد کر دیا ______

ہاہاہا ۔۔۔ قہقہ ______ دلشیر کو محسوس ہوا وہ اس کی بے بسی پر قہقے لگا رہی ہے ۔

اب تم بیٹھ کر اپنی قسمت پر ماتم کرو ______ ۔

مجھے تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ” جب تک تم یہ پڑھ رہے ہو گے ،،میں ملک چھوڑ چکی ہوں گی ۔

وہ بھیگی آنکھوں کو بند کرتے کرب اور دکھ سے اُسے سب بتاتی چلے گئی ۔

اُس نے توڑ دیا میرے بھائی کو ” خود تو چلے گئی لیکن پیچھے انہیں پتھر بنا گئی ۔۔

میں نے بہت کہا بھائی کو اُسے سزا دیں ” لیکن وہ خاموش رہے ” شاید جن سے محبت کی جائے ان کے لیے یہ دل بھی دغا دے جاتا ہے ۔۔

بھائی نے اُسے دوبارہ نہ کبھی ڈھونڈھنے کی کوششں کی نہ اُسکا ذکر کیا ۔

وہ ہونٹوں پر ہاتھ رکھتی بری طرح رو دی ۔

اسے روتا دیکھ ” معراج کی آنکھوں میں سرخ ڈورے تیرنے لگے ” دل کیا اُس لڑکی کو زندہ دفن کے دے ۔۔

سامنے بیٹھی لڑکی کے آنسو اُسے تکلیف دے رہے تھے ” وہ خود اپنی کیفیت نہیں جان پا رہا تھا ۔۔

وہ تو اس منزل کا مسافر نہیں بننا چاہتا تھا لیکن ” وہ لڑکی اُسے بری طرح اپنی جانب مبذول کر رہی تھی۔

اس کے دل کی خالت عجیب ہو رہی تھی “

اُس کے دل میں خنفہ کے لیے جذبات پیدا ہونے لگے تھے جس سے وہ جان بوجھ کر انجان بن رھا تھا ۔

اس طرح آپ روئے گی تو مجھے شرمندگی ہو گی کے آپ میری وجہ سے گزرا سب یاد کرکے اپنے قیمتی موتی بہا رہی ہیں ۔۔

خاموش ہو جائیں پلیز ” ۔۔۔ ورنہ دلشیر کا تو معلوم نہیں لیکن میں اُسے کہی سے بھی تلاش کرکے آپ کے سامنے کھڑا کرکے ایسی سزا سناؤ گا کے وہ کانپ کر رہ جائے گی ۔

اس کے لہجے کی سختی اور درشتگی سے وہ پوری جان سے کانپ کے رہ گئی ۔

اُسے خاموش ہوتا دیکھ وہ کچھ پرسکون ہوا ” آپ کی میگی بھی ٹھنڈائی ہو گئی ” ۔۔۔

آپ گرم کرکے کھائیں ،،پھر ملاقات ہوتی ہے کہتا وہ اٹھ کر چلا گیا ۔

پیچھے وہ اُسے اپنی گہری نگاہوں سے جاتا دیکھتی رہی ۔

معراج کو اپنی پشت پر نظروں کا ارتکاز محسوس ہوا لیکن وہ پلٹا نہیں ” وہ پلٹتا تو اُسے یقین تھا آج وہ اُس لڑکی کی والہانہ گہری آنکھوں کے سامنے ہار جاتا ۔

معراج کے جاتے ہی تبریز

اس کے بگڑے تاثرات کا ملاحظہ کرتے خاموش ہو گیا ۔

اُس کے واپس آتے وہ لوگ واپسی کے لیے نکل آئے ” ۔

انکا ارادہ کل گل سلطان سے ملاقات کرنے کا تھا ” لیکن نہیں جانتے تھے کل کا دن ان کے لیے اپنے اندر کتنی تاریکی لیے ہوے نکلنے والا ہے ۔