Paband Slasal By Yumna Writes Readelle 50368 Paband Slasal (Episode 26)
No Download Link
Rate this Novel
Paband Slasal (Episode 26)
Paband Slasal By Yumna Writes
فلیٹ کے سامنے گاڑیاں روکتے وہ لوگ تیزی سے باہر نکلے ،، دو گارڈز جو گل کے فلیٹ کے سامنے کھڑے تھے فوراً چوکنا ہوے تھے ،، گل جو اپنے بستر میں گہری نیند میں محو تھی ایک ساتھ اتنی زیادہ گاڑیوں کی چرچراہٹ اور پھر گولیوں کے دھڑا دھر آوازوں سے خوف زدہ ہوتی وہ اچھل کر بستر سے نکلی ،، اور پھر اکٹھے فلیٹ میں بہت سے آدمی داخل ہوے تھے ،، پکڑو لڑکی کو وہ جو انہیں سامنے دیکھتی اپنے بچاؤ کے لیے بھاگنے لگی تھی اس سے پہلے ہی ایک آدمی نے آگے بڑھتے اُسے چیل کی مانند اپنے شکنجے میں لیا ۔
وہ نفی میں سر ہلاتے اس سے دور ہونے لگی لیکن وہ اسے گھسیٹتے باہر لے کے جاتے گاڑی میں زبردستی بٹھا چکے تھے ۔
اُس کے منھ پر پٹی بندھی ہوئی تھی ،، اور آنکھوں سے سیل رواں تھا ۔
اپنی بے بسی پر اُس کا دل اس وقت چیخ چیخ کر رونے کو چاہ رہا تھا ،،یہ سوچ ہی بہت دردناک تھی کے اگر آج وہ مر گئی تو اس کے پیچھے کوئی ہاتھ اٹھانے والا بھی نہ ہوگا ۔۔۔۔
اُس نے زندگی میں ایک شخص کو ہی تو چاہا تھا اور وہ بھی اُس کو میسر نہ آیا ،، اُس نے ہر ممکن کوشش کی تھی اسے اپنی جانب قائل کرنے کی لیکن وہ شخص تو جیسے پتھر کا تھا ،،کوئی جذبات ہی نہ رکھتا ہو جیسے ،، سینے میں دل نہیں بس گوشت کا لوتھڑا ہو جیسے۔
وہ جو خود کو ان سے آزاد کروانے کی کوشش میں ہلکان ہوے جا رہی تھی ،، اچانک ایک آدمی نے اُسے گاڑی سے باہر نکالتے دھکّا دیا کے وہ اس سنسان بیاباں پرانے سے کھنڈر میں فرش پر گری ،، آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر بے مول ہوے ۔
اپنے قریب کسی کے قدموں کی آہٹ سن کر اُس نے سر اٹھایا تو مقابل کے وجود پر نگاہ پرتے رنگت لٹھے کی مانند سپید پڑنے لگی ۔۔وہ اسے پہچان گی تھی ،،
وہ وہی وحشی جانور تھا ،، اُسکا دل کانپ گیا تھا
اُسے بالوں سے دبوچتے شیرا نے اپنے سامنے اُسکا چہرہ کیا اور اس کے ہونٹوں سے پٹی اتاری ،، بتا لڑکی جلدی سے کہاں ہے ثبوت ورنہ میں ایک منٹ نہیں لگاؤ گا تیرا خشر بگاڑنے میں ،، وہ طیش میں آتا دھاڑا ۔
اُسکی دھار سے وہ سانسیں روک گئی ،، چہرہ آنسو سے تر تھا ، م ،،،میں ______ گل کے حلق میں کانٹے چبنے لگے ،، اُسکا دماغ سنسنا اٹھا ،، آواز دب کے رہ گئی گلے میں ۔
میں نہیں جانتی وہ اٹھتے بمشکل بولی ،، ایک زور دار تھپڑ اُس کے رخسار پر پرا تھا کے وہ لڑکھڑا کے دور گری تھی ،،ہونٹ پھٹ چکا تھا ۔۔
سالی میرے ساتھ بکواس جھوٹ کرتی ہے ،، جھکتے اس نے پھنکارتے اُس کے پیٹ پر ضربیں لگانا شروع کی کے وہ کچھ ہی پل میں لہو لہان ہوتی بے سد ہو گئی ۔
اور وہ غصے سے کھولتا پاگل ہونے کو تھا ،، دفع ہو جاؤ سب اور دیکھو اُسے کہاں تک پہنچا ہے وہ ،، میں آج ان دونوں کا قصہ یہی تباہ کرنا چاہتا ہوں۔ ،، مجھے دھوکہ دیں گے ،، اس کے سامنے ماروں گا میں اس کو ،،
ماریے گا مت بوس ” اتنی حسین دوشیزہ سے ذرا ہمیں بھی تو تھوڑا لطف اندوز ہونے دیں ،، وہ قہقہ لگاتے خباثت سے مسکرایا ۔
بہت خبیث ہو تم لوگ ،، میری تو سوچ وہاں تک پہنچی ہی نہیں ،، اب جاؤ جا کر دیکھو اُسے ۔
اُس کے آدمی جو باہر نکلے تھے اُسے دیکھنے ،، اچانک فائرنگ کی آواز سنتے پلٹنے لگے لیکن اس سے پہلے ہی تبریز اور اس کے گارڈز نے انہیں بھون کر رکھ دیا تھا ۔
تبریز تم جاؤ اندر انہیں ہم دیکھتے ہیں ،، آدم بٹ نے اُسے اشارہ کیا تو دلشیر نے بھی سر ہلایا ۔
اپنی کالی چادر وہ کھینچ کر شانے پر رکھتا ان کی فرش پر گری لاشوں پر پیر رکھتا آگے بڑھنے لگا ۔
اُس کے پیچھے دو گارڈز نے سامنے سے آتے دو بندوں پر فائر کیا ،،معاواً فائر کی آواز سنتے شیرا نے اُسے سامنے سے آتے دیکھ فوراً نیم بے ہوش گل کو اٹھا کے سامنے کیا ۔
اُس کے سب آدمی فرش پر موجود خون میں لت پت تھے ،، آگے مت بڑھنا تبریز ورنہ اس لڑکی کو دو حصوں میں پاؤ گے ” لال آنکھیں اس پر ٹکائے وہ گل کی گردن پر چاقو رکھتا چیخا ۔ بہت انتظار کروایا ہے تو نے اگر اُسے زندہ چاہتا ہے تو مجھے وہ سبوت دے دے جو اس لڑکی نے تجھے دیے ہیں،، اور پھر تیرے راستے الگ میرے الگ ،، وہ خود بھی گھبرا گیا تھا خود کو اکیلا پا کر ۔
چھوڑو لڑکی کو اس سے پہلے کے تم جان سے جاؤ سرد و اسپاٹ لہجے میں کہتا وہ دھاڑا ،، موت تو تجھے آنی ہے ،، اور میں تجھے ایسی دردناک موت دوں گا کے تیری روح کانپ اٹھے گی ۔
مجھے کوئی اعتراض نہیں ،، یہ چڑیا تو ویسے بھی مجھے پسند آ گئی ہے ،، کچھ دن اس کے ساتھ گزار ،، اُس سے پہلے کے وہ کچھ اور بولتا “
اُسکی دھاڑ سے ایک لمحے کے لیے وہ غلیظ شخص کانپ سا گیا لیکن پھر بے شرمی سے مسکراتا ،، گل کو اپنے قریب کرتا حقارت سے اس کے سراپے پر گہری نظریں جماے اپنا مکروہ چہرہ اُس کے قریب کرتا بولا تو سید تبریز کا سانس تھم گیا ۔۔
اتنا ظلم “_____________ سید تبریز اُس کے الفاظ سے اور سامنے موجود چھوٹی سی لڑکی کے زخمی چہرے کو دیکھ کر ساکت سا رہ گیا
اس کے لب پھرپھراے ،،
اُس کا دل کانپ گیا ” ۔۔اُس کے ساتھیوں کو تو وہ پہلے ہی ختم کر چکا تھا لیکن اس جانور کو وہ اتنی آسان موت نہیں دینا چاہتا تھا ۔۔
وہ اُس کو اتنی دردناک موت دینا چاہتا تھا کے لوگ اس کو دیکھ کر عبرت حاصل کریں ۔ ،،اُس کے باپ کا قاتل تھا وہ ،
سید تبریز نے غصے اور ضبط کے باعث اپنی سرخ انگارہ ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھا ۔
اور اس کے بّے باکی سے کہے گئے الفاظ نے اُس کے اندر ابلتے خون میں فشار پیدا کیا اور بنا تاخیر کیے اس نے
اُس کی آنکھ کا نشانا لیتے گولی چلائ
جس سے اُسکی گرفت گل پر ڈھیلی پڑی اور اس کے ساتھ موجود ساتھیوں نے گل کو اُس سے الگ کرتے اسے قابو کیا جو تکلیف سے بلبلاتا اپنی آنکھ پر ہاتھ رکھے خون روکنے کی کوشش میں تھا ۔۔
آگے بڑھتے اپنے شانے سے شال اُتارتے اُس کے قریب جاتے اس کے گرد لپیٹی تو وہ اُس کے ساتھ لگتی شدتوں سے رو دی ۔۔
بھائی ” ۔۔۔ اُس کے لبوں سے نکلے لفظ نے اسے ساکت و جامد کر دیا ۔۔ اور اُسکی لال انگارہ ہوتی آنکھیں یکلحت نم ہوئ
بس میرا بیٹا بس ” ۔۔ اس کے گرد اپنا حصار قائم کرتے اُسے بھائی ہونے کا مان دیتے وہ نرمی سے ہمکلام ہوا
اور سلیمان صاحب کو اسے لے جانے کا اشارہ کیا ۔۔
اس کے جاتے ہی آگے بڑھتے چاقو لیتے اُس کی ہتھیلی پر پوری طاقت سے گھارا کے اُسکی چیخیں اس کھنڈر میں گونج اٹھی ۔۔
ماحول میں چھائ اس وحشت ناک آواز کو سنتا دلشیر بھی بھاگھتا وہاں آیا تھا لیکن اس سے پہلے ہی اُسکی نگاہ سامنے سے آتے سلیمان صاحب کے ساتھ آتی گل کی جانب اٹھی جو کالی چادر میں چھپی اس نازک لڑکی کو لیے باہر کی جانب قدم بڑھا رہے تھے ،، اُس کے قدم ڈگمگائے ،، وہ _____وہ چھوٹی سی پیاری سی لڑکی تو نہ تھی ،، اسکی نگاہ میں اچانگ خنفہ کا چہرہ گھوم گیا اور وہ تیزی سے قدم اٹھاتے آگے بڑھتے سلیمان صاحب کو پیچھے رہنے کا اشارہ کرتے اُسے تھام گیا ۔
