Paband Slasal By Yumna Writes Readelle 50368 Paband Slasal (Episode 14)
No Download Link
Rate this Novel
Paband Slasal (Episode 14)
Paband Slasal By Yumna Writes
دلشیر اور معراج کی کافی دوستی ہو گئی تھی ” دیکھتے ہی دیکھتے ان دونوں نے تینوں قاتلوں کو بھی ایسی ہی عبرت ناک سزا دی تھی” ان کے جسم پر جگہ جگہ کٹ لگاتے انہیں جلایا گیا تھا کے ان کی جلی ہوئی باڈی کے سوا پولیس کو کوئی ثبوت نہیں ملا ۔
آخر میں انہیں اُس قاتل کی تلاش تھی ” جنہیں پیسے دے کر سید احمد پر حملہ کروایا تھا ” ۔۔
لیکن کسی کو اُس کے ٹھکانے کی خبر نہ تھی ” ۔
اب بس ایک آخری بازی رہ گئی تھی جو جیتنی تھی انہیں اور ان کا بدلہ پورا ” ۔
وہ تینوں مل کر اپنے اپنے زریعے سے اُسکا معلوم کر رہے تھے لیکن نا کام ہو رہے تھے ۔
معراج نے کچھ سوچتے ایک تاش کا پتہ پھینکا تھا ” جانے وہ اب اس میں کامیاب ہوتا کے نہیں “. وہ نہیں جانتا تھا ۔
ایک شخص ہمیں بتا سکتا ہے اس کا اصل ٹھکانہ ” ۔۔
کیوں کہ جہاں تک میں جانتا ہوں وہ اس وقت چوکنا ہوتے اپنی بل میں گھس بیٹھا ہے ۔
اسکو تلاش کرنا اب یقیناً ایک آسان امر نہیں “
کون “… بتاؤ ؟…وہ تذبذب کا شکار ہوتا اُسکی جانب سوالیہ نگاہیں سے دیکھتا گویا ہوا ۔۔
آپ !! ۔۔۔ معراج ریلیکس انداز میں بیٹھتا اُسے دیکھتا گویا اُسے حیرت میں مبتلا کر گیا ۔۔
میں ” میں کیسے ؟… میں کچھ نہیں جانتا ۔۔وہ اچنبھے سے اُسکی جانب دیکھتا گویا ہوا ۔
آپ نہیں جانتے لیکن آپ جان سکتے ہیں ” یہ آخری گھتی آپ ہی سلجھا سکتے ہیں ۔۔
گل سلطان کو تو آپ جانتے ہوں گے ” وہ واحد لڑکی ہے جس کے پاس ساری فوٹیجز موجود ہیں ان کے الیگل کاموں کی ” لیکن اس نے دینے اسے صاف انکار کے دیا تھا ۔
وہ ایک صحافی ہونے کے ساتھ ایک عقلمند ہیکر بھی ہے ۔
اُس کا کہنا ہے کے اُسے نہ تو پیسہ چاہیے اور نہ کوئی اور شہہ!!!
وہ دلشیر حسن سے نکاح کرنا چاہتی ہے ” اگر اُسکا نکاح ہو جائے تو وہ ہمیں تمام ثبوت دے دے گی ۔۔
معراج نے گہرا سانس خارج کرتے تمام بات اُسکے گوش گزار کی ۔۔
یا خدا ” ۔۔کیا عجیب لڑکی ہے وہ !… میرا دل چاہ رہا ہے ابھی جا کر اُسکا دماغ درست کر دوں ۔۔
وہ دانت پیستا سخت لہجے میں گویا ہوا ۔
معراج اور تبریز اُس کے سرخ چہرے کو دیکھ کر مسکرا دیے ۔۔۔
وہ تینوں اس وقت دلشیر حسن کے لان میں موجود کرسیوں پر براجمان تھے “
موسم کافی خوشگوار تھا ۔۔۔
ویسے بھائی اس میں کوئی مضائقہ تو نہیں ٫،، تبریز نے آنکھ مارتے اُسے چھیڑا ۔۔
اور وہ جو بھرا بیٹھا تھا ” اُسکی جانب دیکھتے پھٹ پرا ۔۔
پاگل ہے وہ لڑکی ” نفسیاتی مریضہ “
دیکھا ہے تم نے اسے” میرے سامنے چھوٹی بچی لگتی ہے ۔۔
میرا اور اُس کا کوئی جوڑ نہیں ” اور میڈم کی حرکتیں ۔
میرے آفس میں پہنچ کر سب کے سامنے دھڑلے سے اظہار محبت کر چکی ہے ” سوچ سکتے ہو تم مجھے کتنی سبکی کا احساس ہوا میرے لوگو کے سامنے “
میرے گھر تک آنے سے باز نہیں آئی ” چپکے سے جانے کیسے اتنے گارڈز کو چکما دے کر مجھ تک پہنچ گئی ۔
تبریز اور معراج اُسکی باتوں پر مسلسل مسکرا رہے تھے اور تم کہتے ہو اس پاگل چھوٹی سی لڑکی سے میں نکاح کر لو ۔۔
وہ لال چہرہے پر ہاتھ پھیرتا گویا ہوا ۔
ویسے ہے تو پھر ٹکر کی آپ کے ” ۔۔داد دینی پڑے گی اُسکی بہادری کی ۔
تبریز مجھ سے مار نہ کھانا خاموش ہو جاؤ ۔۔
ماتھے پر تیوری چڑھائی وہ اسی سختی سی ڈپٹتا گویا ہوا ۔
تو وہ ہاتھ اٹھائے بولا ” ویسے اس میں اُسکی تو کوئی غلطی نہیں ” آپ کے سامنے کوئی بھی ہو چھوٹی ہی لگے لگی ” اس کے لمبے چوڑے کسرتی مضبوط بدن پر چوٹ کرتا وہ مسکرا دیا ۔۔
تبریز ز” ۔۔۔۔۔ دانت پیستا وہ اُسکا نام لمبا ادا کرتا گرایا ۔
اچھا ،،اچھا ریلیکس یار “..
پھر کیا کرنا ہے اب !! معراج سنجیدگی سے گویا ہوا ۔
پھر کیا ملتے ہیں کل اُس سے ” اور نکلواتے ہیں ساری انفارمیشن “.. وہ آنکھیں گھماتا گویا ہوا ۔
اس کے لیے یہ نکاح اور پیار محبت کے جھال میں پھنسنا ضروری نہیں ” سب جھوٹ ہے “.
عورت ذات اعتبار کے قابل نہیں ” خاص طور پر میڈل کلاس ” انہیں صرف پیسے سے غرض ہے ۔۔مال و دولت جو ہمارے پاس موجود ہے ان پر مرتی ہیں یہ ۔
اُس کے لہجے میں کچھ تو تھا جو ان دونوں کو خاموش کروا گیا ۔
معراج اُسکی حرکت پر لب دانتوں تلے دبا گیا ۔
آپ لوگ باتیں کریں میں آتا ہوں ” کہتا وہ اٹھ کر اندر کی جانب بڑھ گیا …
اُس کا ارادہ خنفہ سے ملاقات کا تھا ” وہ چاہتا تھا کے وہ خنفہ سے پوچھے آخر کیا وجہ بنی تھی کے دلشیر کو لڑکیوں سے نفرت ہو گئ تھی ۔۔
_______________yumna Writes ![]()
![]()
پلوشہ بیگم خنفہ کو باقاعدگی سے اپنے پاس بلا لیتی ” پھر وہ تینوں مل کر شاپنگ پر جاتی “
اُسکی روٹین بن گئی تھی سید مینشن آنے کی”
دلشیر کو اس بات پر کوئی اعتراض نہ تھا ” اُسکی بہن خوش تھی “
معراج اور تبریز کے ساتھ بھی وہ کافی فرینک ہو گئی تھی ۔
تبریز کو اکثر وہ ہدیل کی جانب سے چھیرتی ” اُسکی چھوٹی چھوٹی شرارتیں ان کے خاموش گھر میں گونجتی ” تو پلوشہ بیگم سرشار ہو جاتی ۔
آج شام کو ان دونوں کی اُبٹن کی رسم تھی ” ہدیل نے رسم اپنے گھر کرنے پر زور دیا تھا اسلئے لیلک بیگم نے ان سے معزرت کرلی ۔
جبکہ کچھ سامنا ابھی رہتا تھا ” اسلئے پلوشہ بیگم اور خنفہ مال کے لیے نکل گئی ۔
دو گارڈز ساتھ موجود تھے ۔۔
پلوشہ بیگم تبریز اور ہدیل کے لیے مایوں کا ایک جیسا ڈریس لینا چاہتی تھی ” ۔
خنفه ہدیل اور اپنے لیے ڈریس دیکھنے لگی اور پلوشہ بیگم دوسری جانب تبریز اور معراج کے لیے پسند کرنے چلی گئی ۔
اچانک فضا میں گولیوں کی آوازیں گونجھنے لگی ” مال میں ایک شور برپا ہو گیا ۔
لوگ بوکھلاتے خوف زدہ سے اپنے بچاؤ کے لیے یہاں وہاں بھاگنے لگے ” ۔۔
خود کو بچانے کی خاطر چھپنے لگے ۔
اس اچانک افتاد سے خنفہ بھی بوکھلاتی اپنے گرد لوگوں کے ہجوم کو دیکھنے لگی ۔۔
چیخوں کی اور گولیوں کی دھرادھڑ آوازوں سے ماحول میں وحشت سی پھیلنے لگی “.
خوف سے اُس نے آگے بڑھتے پلوشہ بیگم کو دیکھنا چاہتا ۔۔۔لیکن وہ اُسے کہیں دکھائی نہ دی ۔
اتنے میں اُسکا گارڈ گھبرایا سا تیزی سے قریب آیا ” میم جلدی کریں ،،، ہمیں ابھی نکلنا ہے یہاں سے ” ۔۔
اردگرد لوگوں کو خون میں لت پت دیکھ کر وہ خود خواس باختہ سی ہو گئی
اس کا سر چکرانے لگا ۔۔
بھائی کو فون کرو ،،جاؤ جلدی ۔۔
دوسرا گارڈ بھاگتا باہر کی جانب گیا تھا ” خنفه کا اپنا فون بھی گاڑی میں پڑا تھا ۔۔
دوسرے گارڈ نے متفکر سا اُسے دیکھا ” میم ” میں انہیں دیکھتا ہوں ۔۔ آپ جا کر گاڑی میں بیٹھیں ۔۔
لیکن آنٹی ” ۔۔آپ انہیں دیکھیں وہاں ” میں بھی دیکھتی ہوں” نم رندھے ہوئے لہجے میں کہتی وہ انہیں دیکھنے کے لیے باہر کی جانب بھاگی ” جب سامنے سے آتے وجود سے بری طرح ٹکڑا کر زمین بوس ہوئی ۔
ایک پل کے لیے اُس کی آنکھوں کے آگے آندھیرا چھا گیا ۔
نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا تو چیخیں نکل گئی ” ۔
