Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Paband Slasal (Episode 6)

Paband Slasal By Yumna Writes

اُسکی طبیعت کافی خراب تھی جس وجہ سے وہ دو دن سکول نہیں جا پای ” ۔۔

دو دن بعد جب وہ اسکول داخل ہوئی تو سب بچے اُسے دیکھ کر خوشی سے اُس سے چپک گئے ۔۔

یو آر بیسٹ آپی ” ۔۔ وہ سرشار سی ان کو پیار کرتی پئیریڈ لینے چلی گئی ۔

آج صبح سے ہی سب بچے اور اُستاد اسے دیکھ کے مسکرا رہے تھے لیکن وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔

نویں جماعت کے ایک بچے کو قریب بلاتے اُس نے استفسار کیا کے اُس کے پیچھے ایسا کیا ہوا تھا کے بچے اتنا خوش ہیں

تو اُس نے ساری بات اُس کے گوش گزار کی ” وہ دل میں اُس بندے کا شکریہ کرنے کا فیصلہ کرتی سکول کی راہداری سے گزرتے جہاں دوسری جانب این جی او کا داخلی چھوٹا دروازہ تھا وہاں عائشہ سے ملنے اُس کے آفس گئی ۔

جہاں ایک دن پہلے کا سارا واقعہ اُس نے اسے سنایا اور تبریز شاہ کی خوبصورتی اور نرم طبیعت کی تعریفیں کرتے انہیں وہی کافی وقت بیت گیا ۔

وہ بہت خوش تھی کے آخر اس دنیا میں اچھے لوگ بھی موجود ہیں ۔ اور دل میں سکون اترتا محسوس کر رہی تھی ۔،،اور اُس سے ایک بار ملنے کی خواہش پیدا ہوئی

اور کچھ سوچتے عجلت میں اٹھتے اُسکا رخ دوسری جانب تھا اس اُمید سے کے شاید وہ آج وہاں آیا ہو

کیوں کہ اس کے علاوہ تو نہ وہ اُسکا نام جانتی تھی اور نہ کچھ اور ۔

سید تبریز پچھلے دو دنوں سے اُس سے ملنے این جی او کی بیک سایڈ پر بنے اس خوبصورت لان میں بچوں کے پاس جاتا لیکن وہ کہی نہ دکھائی دی ۔

جانے کیوں اُسے دیکھ کر دل میں کچھ الگ احساس ہوا تھا اور اب جب وہ دکھائ نہیں دی تھی تو دل میں کسی طور چین نہ تھا ۔

وہ لب بینچے آج بھی وہی کھڑا اُسکا انتظار کر رہا تھا اسے آج جلدی نکلنا تھا معراج سے کچھ ضروری ڈسکشن کرنی تھی لیکن اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوتے آج پھر وہاں چلا آیا ۔

اپنے فون پر وقت دیکھتے اس نے پلٹتے قدم باہر کی جانب بڑھاے ،،جب عقب سے آتی آواز پر ایک دم تھما ” ۔

وہ پیچھے سے بھاگتی اُس کے قریب آ کر رکی ” اف ۔۔

گہرا سانس خارج کرتے اُس نے خود کو پرسکون کیا ۔

شکر ہے آپ مل گئے “

ورنہ مجھے تو لگا تھا کے آپ کو تلاش کرنا پڑے گا یہاں وہ دل پر ہاتھ رکھتی سانس لیتی تیزی سے بولی

آپ مجھے دل سے یاد کرتی میں آ جاتا

جذب کے عالم میں کہتے اس نے ایک بهرپور نگاہ اُس پر ڈالی جو ریڈ کھلے پاجامے پیلی شورٹ شرٹ پر اپنے محصوص انداز میں سر پر سرخ دوبٹہ سختی سے جمائے “

بلیک شال کندھے پر ڈالے اسے بری طرح ڈسٹرب کر گئی تھی ۔

کیا مطلب وہ دھوپ کی شدت سے سرخ تپتے رخسار اور اپنی الجھن بھری نگاہوں سے اُسے دیکھتی بولی ۔

اپنی نگاہوں کا زاویہ بدلتا وہ مسکراتا گویا ہوا

مجھے تو یہاں ہی آنا تھا ،،میں تو آتا رہتا ہوں آپ بتائیں آپ کہاں تھی ۔۔۔

وہ میری طبیعت خراب تھی ” دھوپ سے الرجی ہے مجھے ،،چکر آنے لگتے ہیں ۔

گرمی میں جاتی ہوں نہ واپس ” اس وجہ سے طبیعت بگڑ گئی ۔

اوہ” میں بتانا بھول گیا ” آج سے سارا اسٹاف این جی او کی وینز میں جایا کرے گا ” اور وہی انہیں پک کریں گی صبح ۔

جانے کیوں اس نے ایسا کہا لیکن اسکو یوں وہ خوار ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا ۔،،اور کچھ دھوپ میں اُسکی سرخ پڑتی رنگت “

کیا سچ ” ۔۔وہ خوشی سے چمکتی نگاہوں سے اُسے دیکھتی بولی ۔

جی ہاں ” ۔۔

کنٹین چلیں ” ہدیل دھوپ سے بچنے کے لیے ماتھے پر ہاتھ رکھتے اسکی جانب دیکھتی استفسار کرنے لگی ۔

ضرور ” یک لفظی جواب “

وہ اُس کے پیچھے چلنے لگا ۔

اُس کے چھوٹے قدموں کی پیروی کرتے وہ زیر لب مسکرایا ۔

وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ یہ سب کیوں کر رہا ہے لیکن تھوڑے وقت کے لیے ہی سہی اُسکا دل پرسکون ہوتا تھا اُس لڑکی کو دیکھ کر ۔

بیٹھتے وہ گویا ہوئی ” ۔۔ میرے پاس وہ الفاظ نہیں میں جن سے آپ کا شکریہ ادا کروں ۔

میں بہت خوش ہوں آج ” مجھے سب بتایا میری دوست نے ۔۔ بے شک اللہ پاک آپ کے باس کو بہت کامیابیوں سے

نوازے گا جنہوں نے اتنا بڑا ادارہ سمبھال رکھا ہے ۔

ان تک تو میری رسائی نہیں ،،

لیکن میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں کیونکہ اگر آپ نہ ہوتے تو میں کبھی ان معصوم بچوں کی مدد نہ کر پاتی ۔

جبکہ وہ خاموش اس کہ سامنے بیٹھا اپنی سیاہ گہری آنکھیں اس کے معصوم چہرے پر ٹکائے ہوئے تھا ۔

شکریہ کی کوئی ضرورت نہیں یہ تو میرا فرض تھا ” میرا کام ہی یہی ہے ۔

اور الٹا ہمیں آپ کا شکر گزار ہونا چاہئے کے آپکے باعث ہمیں ان درندوں کا معلوم ہو سکا ۔

سر کو آپ کے اس کام سے بہت خوشی ہوئی ہے اور اب وہ خاص طور پر سب کے سامنے واضح الفاظ میں خبردار کر گئے ہیں کے آئندہ کبھی ایسا کچھ ہو تو فوراً ان سے رابطہ کیا جائے ۔

تبریز نے اپنی گہری بولتی نگاہوں سے اسے دیکھتے نرمی سے کہا ۔

تو وہ مسکرا دی ۔

سچ میں ان جیسے لوگوں کو دیکھ کر کہا جاتا ہے کے دنیا میں اب بھی اچھے لوگ موجود ہیں ۔

پہلے ان کے والد اور اب وہ خود اتنا عظیم کام کر رہے ہیں ۔

میں نے نیوز میں سنا تھا ان کے والد کی وفات کا ” اور بتایا جا رہا تھا کے وہ خود بھی کافی زخمی ہوے ہیں ۔

مجھے بہت افسوس ہوا ” ایک نیک بندہ دنیا سے چلا گیا لیکن وہ دنیا میں اتنے اچھے کام کرکے جا چکے ہیں کے سب کے دلوں میں وہ آج بھی زندہ ہیں ۔

اور اب آگے سے سر اتنے بڑے ادارے کو لے کر چل رہے ہیں تکلیف کے باوجود ۔

اللہ پاک ان کو اس کا اجر دے ” ۔۔ آمین،،

میری تو دل سے دعا ہے ۔۔ہر نماز میں میں ان کے والد کی مغفرت اور ان کی صحت کی دعا کرتی ہوں ۔

ہزاروں لوگوں کا سہارا ہیں وہ ۔۔ وہ جذب کے عالم میں سر جھکائے بول رہی تھی۔

اور سامنے بیٹھا شخص ساکن سا اُس کے لفظوں میں کھویا ہوا تھا ۔

اس نے تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا کے وہ سیاست کے علاوہ بھی کچھ کر سکے گا اُسکا انٹرسٹ ہی سیاست میں تھا لیکن سامنے بیٹھی لڑکی نے اسے ایک مقصد دے دیا تھا

وہ لوگ انہیں ختم کرنا چاہتے تھے کے وہ ان کے خلاف آپریشن نہ کر سکیں ” انہیں گرایا گیا “

ان پر حملے کیے گئے تاکہ وہ پیچھے ہٹ جائیں ۔

لیکن وہ اس سب میں انہیں ایک اور مقصد دے گئے ” اتنا تو وہ سیاست سے لوگوں میں مقبول نہیں ہو سکتا تھا جتنا اُسکا باپ اپنے ان فلاحی کاموں سے تھا ۔

اس نے سوچ لیا تھا بزنس کے ساتھ ساتھ وہ یہ فریضہ بھی انجام دے گا اور عوام کے دلوں میں اپنے والد کی محبت ہمیشہ زندہ رکھے گا ۔

لوگو کو آگاہی دے گا کہ انھیں کس کا ساتھ دینا چاہیے ۔

ان شاء اللہ ” وہ نم آنکھوں سے کہتا اٹھا تھا ۔۔

کیوں کہ وقت پہلے ہی بہت کم تھا اس کے پاس ٫ اسے جانا بھی تھا ۔

ہدیل بھی اپنا بیگ کندھے پر ڈالتے اٹھی تھی ٫،، اور اُسکی تقلید میں قدم بڑھائے

اچھا مجھے نام تو بتاتے جائیں آپکا “

مجھے تو آپ کا نام بھی نہیں آتا تھا کے کسی سے آپ کے بارے میں پوچھ ہی لیتی وہ اس کے پیچھے قدم لیتی بولی ۔

سید تبریز ” آپ کو جب بھی مجھ سے ملنا ہو آپ آفس میں مین ڈیپارٹمنٹ میں آ سکتی ہیں میں زیادہ تر وہی موجود ہوتا ہوں

دھیرے سے مسکراتا وہ آگے بڑھ گیا ۔

پیچھے وہ بھی واپسی کے لیے نکل گئی ” لیکن آج اُس کے اندر ایک الگ احساس رسانیت کر رہا تھا ۔

اُسے وہ اچھا لگ رہا تھا ،،وہ جو کسی لڑکے کی جانب نگاہ اٹھا کر نہ دیکھتی اُس کے دل میں آج کوئی بس گیا تھا شاید “

لیکن اُسے خبر نہ تھی ۔

__________

شہر سے دور سنسان علاقہ جہاں شام کے وقت انسان کیا کوئی پرندہ تک اپنے پنکھ نہ مارتا تھا ۔

گھنور اندھیرا ہر طرف چھایا ہوا تھا ” زنگ الوں دروازے کو پاؤں سے ٹھوکر مارتے وہ دونو بھائی بھاری قدم اٹھاتے ایک کمرے میں داخل ہوے

کرسی پر بندھے اُس شخص کے سامنے جا کے کھڑے ہوئے ۔

جن کی ان کے خاص آدمیوں نے درگت بنا کر زخمی سا باندھا ہوا تھا ۔

لہو لہان چہرہ اٹھاے اس آدمی نے نگاہ اٹھائی ۔

لیکن وہ اتنی مار اور تکلیف سے نیم بیہوشی میں تھا

کچھ بتایا اس نے سلمان صاحب ” اُس کے چہرے کو زہر ہند نگاہوں سے دیکھتے وہ گرایا ۔

جی سر ٫،، اس پلان میں دو پارٹیوں کے لوگ شامل تھے لیکن یہ ان کے نام نہیں جانتا ۔

ایک شحص کا نام بتایا ہے اس نے جسے سیاست میں سارے غیر قانونی کاموں کی خبر ہے ۔

کل تک وہ بندہ آپ کے سامنے ہوگا ۔

بہت مار کھا چکا ہے لیکن اسکا کہنا ہے یہ صرف پارٹیوں کو ہی جانتا ہے اندر کی ساری انفارمیشن اس شخص کے پاس تھی

اس پر ایک قہر بھری نگاہ ڈالتے وہ دونو جیسے آئے تھے واپس خاموشی سے نکل گئے ۔

کب تک بھائی ” کس کس کو پکڑے گے تبریز دکھتے سر اور دل میں اٹھتے درد سے جنجھنا اُٹھا ۔

چھوٹے تحمل سے کام لو ” ہمیں سب کچھ آرم سے کرنا ہوگا چاہے جتنا ہی وقت درکار کیوں نہ ہو

ایک غلط قدم دشمن کو چوکنا کر دے گا ” ہم آتش فشاں ہیں یہ جان لو ۔

اور جب آتش فشاں پھیلے گا تو دشمن کو نست و نابود کر دے گا ۔

معراج جو اسے حوصلہ دے رہا تھا اُسکا غصے اور اشتعال سے اپنا دماغ سن ہوتا محسوس ہو رہا تھا ۔

باہر حال وہ سوچ چکا تھا اسے آگے کیا کرنا ہے ۔

اُس لڑکی سے ہوئی ملاقات اچانک نگاہوں کے سامنے گھوم گئ جو انجانے میں اس کا دھیان بھٹکا گئی

لیکن دلشیر کا سوچتے اُس کے جلتے دل پر گویا تیل چھرکایا ہو جیسے کسی نے ۔

چہرے پر جو پہلے تھوڑی نرمی تھی وہ جاتی رہی ،،وہ غضبناک تاثرات سجائے گاڑی سنسان روڈ پر بھگاتا خاموش ہو گیا ۔

گاڑی جو مین روڈ پر سگنل کے لیے رکی تھی ” تبریز نے ایک اُچٹتی نگاہ باہر کی جانب دورای

سامنے کا منظر دیکھ کر دل دھک سا رہ گیا ٫ ،، اُس نے شیشہ تھوڑا سا نیچے کھسکایا کے آیا وہ اُسکا خیال نہ ہو

لیکن سامنے کا منظر دیکھتے اُسکے دماغ کی رگیں تن گئ

چہرہ پل میں لہو چھلکانے لگا ” گہری سیاہ آنکھوں میں غصے کی زیادتی سے سرخ ڈورے تیرنے لگے ۔

ہدیل بائک پر بیٹهی ٫، کسی شخص کے کندھے پر ہاتھ رکھتی مسکرا کر بات کر رہی تھی۔

اُسکا دل چاہا کہ ابھی اسی وقت جائے اور اُس شخص کی خالت بگاڑ دے

ٹریفک سگنل ملتے ہی گاڑی واپس اپنے راستے چلنے لگی لیکن تبریز کو مسلسل پیچھے دیکھتے معراج نے مخاطب کیا ۔

چھوٹے کیا ہوا ہے ؟… لیکن اسے ہوش کہا تھا اُسکا تو دل و دماغ میں ابھی تک وہی منظر گھوم رہا تھا جہاں وہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ بیٹھے استحاق سے اُس کے شانے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھی ۔

اُسکا دل ساکت ہوا تھا جیسے ” چھوٹے ۔۔

معراج نے اسے جنجھوڑا ۔۔

بھائی وہ ۔۔ ۔۔ اُس کے لب پھرپھڑاے ۔

کچھ نہیں ” وہ خود پر ضبط کرتا بولا

جبکہ معراج بات کی تہہ تک جائے بنا خاموش بیٹھنے والوں میں سے نہ تھا ۔

سر جھکاتے گاڑی گیراج میں روکتے وہ باہر نکلے اور قدم اندر کی جانب بڑھائے جہاں ان کی ماں انتظار میں بیٹھی تھی۔

تبریز ان سے ملتا درد سے پھٹتے سر کو تھامتا اپنے کمرے کی جانب چلا گیا ۔