Paband Slasal By Yumna Writes Readelle 50368 Paband Slasal (Episode 4)
No Download Link
Rate this Novel
Paband Slasal (Episode 4)
Paband Slasal By Yumna Writes
گاڑی وسیع و عریض سڑک پر روا دوا تھی ” بلیک وائٹ بلیزر میں وہ گھنے بھورے بال جیل سے سیٹ کیے ،،اپنی گرے آنکھیں فون کی سکرین پر گاڑھے ،،
چہرے پر چٹانوں جیسی سختی لیے ،،شنگرفی لب سختی سے آپس میں پیوست کیے ہوا تھا .
بلاشبہ وہ ایک جوان حسین مرد تھا ” جتنا وہ شخص باہر سے شاندار دکھتا تھا اتنا ہی اُسکا دل بھی پیارا تھا۔
اُس کے باپ کو معلوم تھا کہ ان کا بیٹا سب سمبھال لے گا ۔۔تبریز کی نسبت اُسکی نیچر میں بہت ٹھراؤ تھا ۔
وہ ہر چیز سوچ سمجھ کر کرتا ۔
اُس کے برعکس تبریز جتنا شوخ مزاج اور نرم دل تھا اس سے کئی زیادہ سخت اور غصیلا تھا۔ اُس کی ذات میں ایک جنون تھا ،،کچھ پا لینے کا ” کچھ کر دکھانے کا “
دو سال چھوٹا ہونے کے باوجود تبریز اور اُس میں کافی حد تک مشابہت تھی کے وہ ہم عمر لگتے تھے سوائے
اُس کی سیاہ گہری گھنور آنکھوں کے جو اس کو مزید پرکشش بناتی تھی ۔
سکرین میں چلتی ویڈیو کو دیکھ رہا تھا جہاں سید شہریار کسی مجمعے میں کھڑے اختجاج کر رہے تھے جب اچانک ہوا میں فائرنگ کی گونج سنائی دی ،، اچناک لوگوں میں بگدڑ مچ گئی۔
موبائل سکرین پر سید شہزاد احمد اور تبریز کا خون میں لت پت وجود نمایاں ہو رہا تھا جنہیں ان کے گارڈز اٹھا کر گاڑی میں ڈال رہے تھے ۔۔
بس اُس سے زیادہ اُس میں برداشت نہیں تھی ” آنکھیں بھیگنے لگی ،،دل خون کے آنسو رو رہا تھا
اُس کی لہو چھلکاتی نگاہوں میں چھای وحشت اور سنجیدگی کسی کو بھی خوف زدہ کر سکتی تھی ۔
تبھی دشمن نے فائدہ اٹھاتے سیدھا سید صاحب کے دل کا نشانہ لیا اور ایک ساتھ کئی گولیاں ان کے سینے میں پیوست ہوئی ،،سید تبریز جو گارڈز کو مجمے کو پروٹیکشن دینے کی سخت تنقید کر رہا تھا اپنے بابا کو دیکھ دوڑتا ان کی جانب بڑھا ” اسی اثناء میں ایک گولی اُس کے کندھے پر اور ایک بازو میں لگ گئی ۔
اور ہوا میں سب کی وحشت بھری چیخیں گونج اٹھی ۔
____________yumna writes
ہدیل سکول سے فری ہوتی دوسری جانب سب بزرگوں سے ملتی ،،پیار لیتی چھوٹے بچوں کے ساتھ آ کے بیٹھی تھی ،،جو باہر کی جانب وسیع و عریض خوبصورت پھولوں سے سجے باغیچے میں بیٹھے کھیل رہے تھے وہ بھی ان کے ساتھ بیٹھتی ان کے ساتھ باتیں کرتی کھیلنے لگی ۔
تبریز جوں ہی اپنے آفس سے نکلا جانے کیوں قدم خود با خود اُس پری پیکر کو سوچ کے تھم گئے “
اپنے نچلے لب کو دانتوں میں دباتے اُس کے قدم اندر کی جانب بڑھے جہاں کل اُس سے چھوٹی سی ملاقات ہوئی تھی ۔
باغیچے سے آتی کھلكھلاہٹوں کی آوازیں سنتے اس نے قدم اس جانب بڑھائے ۔۔
جہاں وہ سامنے آنکھوں پر پٹی باندھے ” پیلے رنگ کی پاؤ کو چھوتی فراک زیب تن کیے ،،دوپٹہ اچھے سے سر پر اوڑھے ،،بلیک شال کندھے پر ایک طرف ڈھالے ہاتھ آگے کو بڑھاتی انہیں پکڑنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
اُسکی خوبصورت آواز سنتے اُس کے دل میں جلترنگ سی ہونے لگی ۔
جانے کیوں
اسکو دیکھ کے اچھا لگا تھا ” ایک خوش کن احساس تھا جو اسے اپنے اندر سرایت کرتا محسوس ہو رہا تھا ۔
اُس کے عین سامنے جاتے وہ کھڑا ہوا ” ہدیل نے اپنے قریب آھٹ محسوس کرتے ہاتھ بڑھاتے اُسکی شرٹ کو مضبوطی سے تھاما ۔۔
پکڑ لیا ” ۔۔۔چیختے خوشی سے اُس نے آنکھوں سے پٹی اتاری ،، اور سامنے اسے استادہ دیکھ ایک دم جھینپ کر دور ہوئی ۔۔
سوری مجھے لگا ” ۔۔۔ وہ اُلجھی سی گویا ہوئی ۔
اُسکا ہاتھ اپنی شرٹ پر محسوس کرتے اُس کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی ” وہ سامنے کھڑی اپنی دراز پلکیں جھپکتی شرمندہ سے دکھائ سے رہی تھی ۔
سفید رنگت میں سرخیاں گلنے لگی ” سامنے والے کو یہ منظر بہت حسین لگا
اٹس اوک ” کل مجھ سے بھی غلطی ہوئی تھی ” حساب برابر۔
چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ نرمی سے بولا ۔
بھائی ” ۔۔۔۔ انکل ۔۔ بچے اسے پکاڑتے گرم جوشی سے اُس کی ٹانگوں سے چپک گئے”..
آپ آتے رہتے ہیں یہاں ” بچوں کو اُس سے مانوس دیکھ کے وہ خیرانگی سے گویا ہوئی ۔
جی ” یہ تو سب اپنے بچے ہیں ” وہ انہیں پیار کرتا بولا ۔
ہم آپی کے ساتھ گیم کھیل رہے تھے ” آئیں آپ بھی مل کر کھیلتے ہیں وہ سب مسکراتے چہروں سے اُسے دیکھتے بولی۔۔
نہیں بچوں ابھی مجھے کچھ کام ہے ۔۔میں مس روزی سے ملنے آیا تھا ۔۔
آپ لوگ سب ٹھیک ہو نا ” پڑھائ ٹھیک جا رہی ہے ،،کسی چیز کی ضرورت تو نہیں وہ شفقت سے ان کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا استفسار کر رہا تھا ۔۔
سب نے نہ میں سر ہلایا ” اُس نے اللہ حافظ کہتے ایک نظر سٹل کھڑی ہدیل پر ڈالی اور باہر نکل گیا ۔
ہدیل گہرا سانس لیتی بچوں سے ملتی واپسی کے لیے نکلی
وہ باہر نکل رہی تھی جب پیچھے سے تبریز بھی اس کے ساتھ ہی وہاں سے نکلا ۔
آپ کس ڈیپارٹمنٹ میں ہیں وہ سامنے دیکھتی اُس سے ہمکلام ہوئی ” ؟..
امم “… میں سب انتظامات سنبھالتا ہوں اس نے ڈھکے چھپے لفظوں میں بتایا کے وہ جھوٹ نہیں بولنا چاہتا تھا ۔
ہمم وہ دراصل مجھے کچھ کام تھا ” کیا آپ میرا میسج یہاں کے بوس کو دے سکتے ہیں ۔۔اسے یہی وقت مناسب لگا کیوں کے وہ کافی دنوں سے وہاں کے بوس سے اپروچ کرنا چاہتی تھی لیکن کوئی ذرائع نظر نہیں آ رہا تھا۔
وہ میں کب سے اُن سے ملنا چاہتی تھی لیکن مجھے کوئی کچھ بتا ہی نہیں رہا تھا
یہاں جتنے سینئر اسٹاف ہے وہ بات سننے کی بجائے بس خاموش کروا دیتا ہے وہ آنکھیں گھماتے کھڑی ہوتی بولی ۔
آپ کو کیا کام ہے ۔۔آپ مجھے بتائیں ،،اگر آپ خود ملنا چاہتے ہیں تب بھی کوئی ایشو نہیں
میں آپکی ملاقات کروا دیتا ہوں ۔۔
ہمم ،،نہیں رہنے دیں ” بس آپ میرا میسج ان تک بجھوا دیں ۔
جو سکول میں میتھس کے سر ہیں ،،بچے ان سے بہت خوفزدہ رہتے ہیں ۔۔
کیا مطلب ” آپ پلیز کہی بیٹھ کر مجھے تفصیل سے بتائیں ” اُسکی بات سنتا وہ صحیح معنوں میں پریشان ہوتا بولا ۔
وہ سامنے کینٹین میں آ جائیں “
وہ اُس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھتی دوبارہ گویا ہوئی ” میں بچوں سے اکثر ان کی پڑھائی کا پوچھتی رہتی ہوں لیکن اس دن ایک منہ سے غلطی سے نکل گیا کے سر اچھے نہیں “..
باقی سب نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا ” اور پھر میرے بے حد اسرار پر انہوں نے مجھے بتایا کے اگر انہیں کچھ سمجھ نہ آئے تو سر سمجھانے کی بجائے ان کو بہت مارتے ہیں ۔
غلط الفاظ کا استعمال کرتے ہیں ” آپ یقین نہیں کر سکتے جانوروں کی طرح بچوں کو مارا جاتا ہے
بچے کی کمر پر مارنے کے نشان تھے” ایک کی انگلی میں پنسل رکھ کر دبایا گیا تھا کہ اُسکی انگلی سوجھ گئی تھی ۔۔
ایسے بہت سے ظلم پڑھائ کی آڑ میں یہ درندے کر رہے ہیں ۔ اور بچوں کو اتنا خوف زدہ کیا ہوا ہے کے وہ کچھ بتاتے ہی نہیں ۔
جب میں نے پرنسپل سے بات کی تو مجھے کہا گیا وہ بہتر جانتے ہیں انہیں کیسے بچوں کو پڑھانا ہے آپ دخل اندازِ مت کریں ۔ وہ کہتی گہرا سانس خارج کرتی خاموش ہو گئی ۔
تبریز نے اسکی ایک ایک بات بہت توجہ سے سنی اور اُسکا خون کھول اٹھا تھا کے اتنا ظلم “..
وہ سن سا بیٹھا غصے کو ضبط کرنے کے چکر میں مٹھیاں بینچتا بولا ” کیا آپ جانتی ہیں کون کون ایسا سلوک رکھتا ہے بچوں کے ساتھ ۔
سب سے پہلے تو پرنسپل کرپٹ ہے ” پھر میتھس کے سر ” ایون کے قاری صاحب بھی “..
جنہیں بچوں کو دین کی تعلیم دینے کے لیے رکھا گیا ہے وہ بھی ظلم و ستم کی انتہا کر دیتے ہیں ۔
بچوں کو چابیوں سے مارتے ہیں ” وہ لب بینچتی اپنی آنکھوں میں نمی لیے بھرائے ہوے لہجے میں بولی ۔
اور اسکی گواہ میں خود ہوں ” ۔۔مجھے کسی کا خوف نہیں کے مجھے جوب سے نکالا جائے گا ۔
میں یہ جوب صرف اپنی خوشی سے کر رہی ہوں ۔۔الحمدللہ ڈگری ہولڈر ہوں کہی بھی آسانی سے جوب مل جائے گی
آپ بس میرا یہ پیغام ان تک بجوا دیں اور ان کو کہیں پلیز کوئی ایکشن لیں اس سب کے خلاف ۔
وہ بیچارے بچے تو پہلے ہی یتیم مسکین ہیں اور ان پر ظلم نہ ہو ۔
آپ بے فکر رہیں بہت جلد انکا سفایا کیا جائے گا ” اور بہت شکریہ مجھے یہ سب بتانے کا ۔۔سر جلد ایکشن لین گے ان سب کے خلاف ۔
وہ کہتا لب سختی سے آپس میں پیوست کرتا باہر نکلتا چلا گیا ۔
__________
گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تھی ” وہ جو آنکھیں موندے پڑا تھا آنکھیں کھولتا ایک دم دھاڑا ۔۔
کیا تکلیف ہے گاڑی کیوں روکی “… ڈرائیور مارے خوف کے گھبراتا سامنے کی جانب اشارہ کرتا بولا
سر وہ لڑکی ” سامنے موجود کھڑے وجود کی جانب دیکھتے اُس نے دوبارہ آنکھیں موندی
پلیز پلیز ہیلپ می ” ۔۔۔
میری گاڑی خراب ہو گئی ہے اور فون بھی آف ہے ۔
آپ پلیز مجھے گھر تک چھوڑ دیں ” سامنے موجود لڑکی خوف اور مارے بے بسی کے ان کے قریب آتی منت سماجت کرنے لگی ۔۔
ڈرائیور نے اپنے سر کی جانب دیکھا جس نے اسے اند بٹھانے کا اشارہ کیا ۔۔
ڈرائیور نے فورن باہر نکلتے دوسری جانب کا دروازہ کھولا اور آ کر واپس اپنی سیٹ سمبھالی۔
وہ دوسری جانب ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی ” اور پھر پیچھے دیکھتے اپنی سنہری آنکھیں اُس شاندار بندے پر ڈالی جو پیچھے بیٹھا آنکھیں موندے ہوے تھا
تھنک یو سو مچ ” خنفہ نے اپنی آنسو سے بھری آنکھوں سے اسے دیکھتے سچے دل سے شکریہ ادا کیا ۔
نم بیگھی خوبصورت آواز سنتے معراج نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں تو نظریں سامنے موجود نازک لڑکی پر پڑی “
جو بیگھی آنکھیں لیے ،،شانوں پر سلکی بال پھیلائے ،،کالے فراک میں گلے میں سکارف ڈالے اسے مشکور نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔۔ یہ کہنا ٹھیک ہوگا کہ وہ ایک حسین لڑکی تھی ،
اُسکی سانولی رنگت اسے پرکشش بنا رہی تھی ” اور ایک لمحے کے لیے سید معراج کو بھی ساکت کر گئی تھی ۔
اُس نے کچھ کہنے کی بجائے سر کو جنبش دی ۔
نہیں سچ میں میں بہت شکر گزار ہوں آپکی ” میں آج بہت خوف زدہ ہو گئی تھی ۔۔
مجھے بھاي کی بات مان لیني چاہیے تھی ،،وہ ماتھے پر ہاتھ مارتي بولی ۔۔میں ہمیشہ گارڈز کو ساتھ لانا بھول جاتی ہوں ۔
آپ جانتے ہیں اگر آج آپ نا آتے تو میں تو یہی اوپر ” اپنی گردن کی جانب اشارہ کرتے وہ معصومیت سے بولی تو معراج کو بے ساختہ اُسکی حرکت پر ہسی آئی ۔
تو اور کیا دیکھیں کیسا سنسان علاقہ ہے مجھے تو لگتا ہے یہاں چوریلین بھی ہوں گی ۔۔
آپ کو گارڈز کو ساتھ لانا چاہیے تھا یہ سیف جگہ نہیں ہے ۔ میراج نرمی سے گویا ہوا
ہمم ۔۔لیکن میں بور ہو جاتی ہوں انہیں دیکھ دیکھ کر ۔
ہر جگہ پیچھے پیچھے آتے ہیں ۔۔کوئی پرائیوسی نہیں رہتی ۔
میم ایڈریس ” ڈرائیور نے اسے مخاطب کیا تو وہ سیدھے ہوتی اسکو ایڈریس بتانے لگی ۔۔
معراج نے چونک کر اُسکی جانب دیکھا ” کہاں جانا ہے آپکو ؟؟..
شیر ولا “… میرے بھائی ہیں نہ دلشير حسن” ۔
وہ پلٹتے اسکو بتانے لگی ۔
جبکہ اُسکی بات پر پل میں اُسکی گردن کی نسیں پھولنے لگی ،، آنکھیں ضبط کی گواہ تھی ۔
میرے بھائی سیاست میں ہیں ” آپ میرے ساتھ چلیے گا میں آپکو ضرور ملوانگی
آج آپ نہ ہوتے تو جانے میرے ساتھ کیا ہو جاتا
آج سہی معنی میں وہ خوڈ زدہ ہوئی تھی ” اُسکا سانس اٹکنے لگا تھا ۔۔دل پتے کی مانند لرز رہا تھا
اچانک معراج کو گھٹن ہونے لگی تھی ،،سانس جیسے سینے میں اٹکنے لگا تھا ۔
جو بات اسے معلوم ہوئی ہے اگر تو وہ سچ ہوئی تو بہت جلد دلشیر حسن کا خاتمہ ہونے والا تھا ۔
