Paband Slasal By Yumna Writes Readelle 50368 Paband Slasal (Episode 11)
No Download Link
Rate this Novel
Paband Slasal (Episode 11)
Paband Slasal By Yumna Writes
وہ سفید فراک زیب تن کیے ،،پاؤ میں بلیک ہیلز پہنے ” چہرے پر ہلکا سا میک آپ کیے ” تیکھی ناک میں چھوٹی سی نوز پن ڈالے ،،، بھرے بھرے گلابی ہونٹوں پر ہلکا سا گلوز لگائے ،، اپنی تیاری کو آخری ٹچ دیتی
دبیز آئینے کے سامنے کھڑے ہوتی خود کا جائزہ لینے لگی ” آج وہ دل سے تیار ہوئ تھی ۔۔
سفید کنگری لگا دوبٹہ اٹھا کر گلے میں ڈالا ،، سنہری بالوں کو پشت پر کھلا چھوڑے وہ نیچے کی جانب چلی گئی ۔
دلشیر حسن سفید کلف لگے شلوار کرتے میں،، بورے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے ” اپنی تمام تر وجاہت سمیت کھڑا اُسکا انتظار کر رہا تھا
خنفہ اپنا فراک ہاتھوں میں تھامتے تھوڑا اونچا کرتے سہج سہج کر قدم اٹھا رہی تھی ۔
دلشیر نے آگے بڑھتے تیزی سے اُس کے سامنے ہاتھ پھیلایا تھا ” جسے اُس نے مسکراتے تھام لیا
میری گڑیا اتنی بار منع کر چکا ہوں اتنی اونچی ہیلز پہن کر سیڑھیاں مت اترا کرو ۔۔
گر نہ جاؤ کہی ۔۔۔
نہہیں گرتی “
آپ ہیں نہ مجھے سنبھالنے کے لیے ” میرا سہارا ۔۔
وہ مان سے بولی “
وہ پیار سے اُسے ڈپٹتا اپنے حصار میں لیتا اس کے سلکی سنہرے بالوں پر لب رکھتا مسکرا دیا اور باہر کی جانب قدم بڑھائے ۔
سید معراج کے مینشن میں داخل ہوتے اُسکا دل سو کی سپیڈ سے دھڑکنے لگا ۔۔
ملازمہ نے انہیں لاؤنج میں بٹھایا اور پلوشہ بیگم کو انکی آمد سے آگاہ کرنے چلی گئی
تھوڑی دیر بعد وہ واپس آئی ” آپ گارڈن میں آ جائیں ” میم صاحب وہی موجود ہیں ۔۔
وہ دونو اُسکی تقلید میں چلتے طویل و عریض خوبصورت پھولوں سے سجے باغیچے میں داخل ہوئے،،
جہاں ایک جانب خوبصورت کانوں سے بنی مہنگی ترین خوبصورت لکڑی کی کرسیاں اور میز موجود تھا ۔
اور پلوشہ بیگم ایک جانب کھڑے پھولوں کو پانی دے رہی تھی ۔۔
اسلام علیکم!!! ۔۔۔۔
دلشیر کی بھاری گھمبیر آواز “اور
قدمو کی آہٹ محسوس کرتے وہ پلٹی اور ان دونوں کو سامنے دیکھ کر ہونٹوں پر خوبصورت نرم مسکراہٹ لیے سلام کا جواب دیا ۔
ماشاءاللہ میرے بچے آئیں ہیں ” خنفہ کے ماتھے پر لب رکھتی اُس کو سینے سے لگائے وہ گویا ہوئ ۔
یہ میری بیوٹیفل آنٹی کے لیے ” دلشیر نے ان کے سامنے ایک خوبصورت سرخ گلابوں کا گلدستہ پیش کیا “
جنہیں مسکراتے پلوشہ بیگم نے تھام لیا ۔
ویسے تو میں خفا تھی آپ دونو سے ” لیکن آپ کے اس تخفے نے میرا دل خوش کر دیا ۔
انہیں ساتھ لیتے کرسی پر براجمان ہوتے
وہ دبی آواز میں حفگی سے بولی ۔۔
میری پیاری سی آنی ” دراصل ساری غلطی میری ہے ” مجھ میں ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی آپکا سامنا کرنے کی ۔
انکل کی ڈیتھ اور تبریز بھای کا معلوم ہوا تھا بہت افسوس ہوا ۔۔دراصل
بھائی تو یہاں موجود نہ تھے ” وہ ملک سے باہر تھے اور میں اپنی کزن کے گھر لاہور گئی ہوئ تھی۔
اس کے بعد بھائی نے مجھے کہا تھا آنے کا لیکن میرا دل نہیں مان رہا تھا ” میں جانتی ہوں آپ بہت مشکل وقت سے گزر رہی تھی ” اور میں آ کر دوبارہ سب کچھ دھرا کر آپکو اُداس نہیں کرنا چاہتی تھی۔
اُس کا لہجہ رندھ گیا ” جبکہ پلوشہ بیگم کی آنکھیں نم ہو گئی” ۔۔
بیٹا یہ غم تو ہمیشہ کا ہے ” کب تک ملنا جلنا محدود رکھ سکتا ہے کوئی “..
اپنوں کا دکھ کبھی کم نہیں ہوتا میری بچی” بس زندگی گزارنی پڑتی ہے ،، اپنوں کے لیے ۔۔
اپنے پیاروں کے لیے ” جو موجود ہیں ہمارے ساتھ “
خنفه ان کے ساتھ لگتی رو دی” اچھا بس میری جان ۔۔اتنی پیاری لگ رہی ہو ۔
سارا میک اپ خراب ہو جائے گا ” جو دو گھنٹے لگا کے آپ نے کیا تھا ” دلشیر نے بھی اسے تنگ کرنے کی خاطر لقمہ دیا ۔۔
ہاں بچہ کہہ تو سچ رہا ہے “
پھر سب خوف زدہ ہو جائیں گے” ابھی تو میں نے آپکو معراج سے بھی ملوانا ہے ۔۔
وہ شریر لہجے میں کہتی مسکرائی ” آنی ” آپ بھی ۔
تو وہ طمانیت سے مسکرا دی ۔
ملازمہ نے ان کے سامنے جوس کی ٹرے رکھی” اور کچھ ریفریشمنٹ کا سامان لا کے رکھا ۔
لو بیٹا ” ان کے سامنے ٹرے کرتے ” وہ جوس گلاسز میں ڈالنے لگی ۔
سینڈوچ کا ایک بائٹ لیتے ” وہ جھٹکے سے ان کی جانب دیکھتی جوش سے بولی ۔۔
کیا آپ جانتی ہیں آنی ” میں معراج سے مل چکی ہوں اور ۔۔۔
اور پھر اُس نے انہیں اپنی اس سے ہوئ دونو ملاقات کے بارے میں بتایا ۔
اس کا خوشی سے چمکتا چہرہ دیکھ کے پلوشہ بیگم بھی مسکرا دی ” یہ تو بہت اچھی بات ہے ۔۔
آنٹی اگر آپکی اجازت ہو تو کچھ پوچھ سکتا ہوں آپ سے ۔۔ دلشیر نے ان کی جانب اجازت طلب نگاہوں سے دیکھا ۔
جی بیٹا ضرور ” ۔۔۔
آنٹی کیا انکل کے قاتلوں کا کچھ معلوم ہوا ” کون تھے وہ لوگ ؟.. کچھ بھی ۔۔
نہیں بیٹا میں نے منع کر دیا تھا دونو کو ” جو قیامت آنی تھی وہ تو اب گزر گئی ،، دوبارہ اب سب کچھ دوہرانے کا کوئی فائدہ نہیں ۔۔
میں نہیں چاہتی کے میں ایک بار پھر کسی طرح کا نقصان اٹھاؤ
وہ لوگ یہی چاہتے تھے کے ہم پیچھے ہٹ جائیں اور ایسا انہوں نے کر دکھایا ۔
جب کے ان کی بات پر اُس نے سر اثبات میں ہلایا ” دماغ اس بات کو ماننے کو تیار نہ تھا ” ایسا کیسے ممکن تھا ان کے بیٹے خاموش رہ جاتے ۔
جتنا وہ سید تبریز کو جانتا تھا وہ خاموش رہنے والوں میں سے نہ تھا ٫ کچھ تو تھا جو اسے کھٹک رہا تھا ۔
معراج جو باغیچے میں داخل ہو رہا تھا ،،جانی پہچانی آواز سماعتوں میں پری ” تو وہ بھاری قدم اٹھائے ان کے قریب آیا ” ۔۔
سامنے اپنی ماں کے قریب بیٹھے اُسے دیکھ وہ ٹھٹھک گیا ” اور آگے بڑھاتے سلام کرتے ” دلشیر حسن سے مصاخفہ کیا ۔
آپ یہاں”________.
وہ تخیر بھرے لہجے میں اُسے دیکھتے بولا ۔
جی بیٹا اب آپ دونو پہلے سے ہی ایک دوسرے کو جانتے ہیں تو میں کیا تعارف کرواو ” ۔۔۔
اور دلشیر کو آپ اتنا نہیں جانتے ہیں ” ان کے بابا آپ کے بابا کے قریبی دوست تھے ٫،، ان کی وفات کے بعد اس نے ان کی جگہ سمبھال لی ۔
اور آپ کے بابا اور دلشیر اکثر کام کے سلسلے میں ملتے رہتے تھے ” اس دوران ہنی میرے پاس آ جایا کرتی تھی
یوں ہمارے فیملی ٹرمز بھی بن گئے
آپ تو یہاں تھے نہیں ” ہنی کے ساتھ وقت گزار کر میرا اکیلا پن بھی دور ہو جاتا
وہ اُسے تفصیل سے سب بتاتے مسکرا دی ۔
آپ سے مل کر اچھا لگا ” وہ کرسی کھینچتا دلشیر کے قریب بیٹھ گیا ۔۔
اور دونو باتوں میں مشغول ہو گئے ” اس وقت وہ اپنے فورمل گرے ڈریس میں سیاہ گھنے بال ماتھے پر بکھیرے اسے بہت دلکش لگ رہا تھا ۔۔
دوسری جانب اپنے اوپر کسی کی نگاہوں کی تپش محسوس کرتے اُس نے نگاہ اٹھا کر اُسکی جانب دیکھا جو
جذبے لوٹاتی نگاہوں سے اُسکی جانب دیکھ رہی تھی ،،
اُس کے دیکھنے پر ہربرا کر پلوشہ بیگم کی جناب متوجہ ہوئی “
تو وہ متبسم ہوتا اُس پر ایک گہری نگاہ ڈالتا دلشیر کی جانب متوجہ ہوا ۔۔
جو اُس سے کچھ اہم بات کر رہا تھا ” میں نے اپنے ذرائع سے معلوم کروایا ہے انکل کے قاتلوں کے بارے میں۔
ان میں سے آج ایک کلب میں جانے والا ہے رات کو ٫،، میں وہی اُس پر حملہ کروں گا اپنے آدمیوں کے ساتھ ۔
کیا گرنٹی ہے کے وہی قاتل ہو گا ؟؟.
معراج نے اُسکی جانب نگاہ اٹھاتے استفسار کیا ۔
قاتل تو ایک ہی ہے جن کو ایک خرام _____ ۔۔
نے پیسہ دیا تھا قتل کا ۔۔ لیکن پلان کرنے والے یہی تین تھے ۔۔جن میں سے ایک کا مجھ تک پکا ثبوت پہنچا ہے ۔
باقی بھی پتہ چل جائے گا ” ہے ایک سنکی ٹڈی ۔۔
اُسکی بات سنتے معراج نے بغور اُسکا جائزہ لیا” تو کیا وہ گل سے ہی اُس کے بارے میں جان چکا تھا ۔
گل اور اُسکا کیا ریلیشن تھا اُسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔
مجھے آنٹی نے بتایا کے آپ اس کیس سے پیچھے ہٹ چکے ہیں ” وہ مشکوک نگاہوں سے اُسکی جانب دہکھتا بولا
حالانکہ مجھے تبریز سے ہرگز یہ امید نہیں تھی ” وہ دشمن کی بل میں گھس کر اُس پر وار کرنے والوں میں سے ہے ” پھر ایسا کیسے ممکن ہو سکتا ہے کے وہ اپنے باپ کے قاتلوں کو کھلے عام گھومنے دے ۔۔
اُسکا لہجہ طنز سے عاری تھا ” وہ بس ان کے لیے ہی بول رہا تھا اتنا وہ جان چکا تھا ۔
بجا فرمایا آپ نے ” ایسا ہی ہے ” ۔۔
لیکن ہم ان سب سے ماں کو دور رکھنا چاہتے ہیں ” انہیں مزید کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتے” اور ان کی یہی خواہش تھی کے ہم بدلہ نہیں لیں گے ۔۔
اور اس بات کا اخترام کرتے ہم خاموشی سے ان کا پتہ لگوا رہے ہیں ” وہ آئ برو کھجاتا گہرا سانس خارج کرتا اس کے سوال کا جواب دیتا بولا ۔۔
تو ٹھیک ہے پھر آج سے میں بھی آپ کے ساتھ ہوں”
دشمن کو دھول چٹا کر ہی اب دَم لیں گے ۔
میں تبریز کو انفارم کر چکا ہوں ” رات کو ملنے کے لیے “..
پھر ملتے ہیں رات میں ” ۔۔
وہ مسکراتا گویا ہوا ” ۔۔ معراج نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا ۔
نظر ان سے باتیں کرتی خنفہ پر پری ” جو انہیں کچھ بتاتی مسکرا رہی تھی ۔۔
وہ خوبصورت تھی ” اس کی سانولی رنگت اُس پر بہت جچتی تھی ” خوبصورت آنکھیں اور ناک میں پہنی نوز پن اس کی توجہ بری طرح اپنی جانب مبذول کر رہی تھی ۔
وہ اس لڑکی سے جتنا دور رہنے کی کوشش کر رہا تھا وہ اتنا اس کے قریب آتی جا رہی تھی ” ۔۔
اس کی منزل یہ نہ تھی ” وہ راستہ نہیں بھٹکنا چاہتا تھا ۔
دلشیر کو ضروری کال آئی تو وہ ایک جانب سننے کے لیے چلا گیا ٫ ،،
معراج جاؤ بیٹا ہنی کو اپنا روم دکھاؤ ” ،، میں چائے کا کہتی ہوں ،،بچے کب سے ویسے ہی بیٹھے ہیں۔
شام کے پانچ بج رہے تھے ” باتوں میں انہیں وقت کا اندازہ نہ ہو پایا ۔
معراج نے کھڑے ہوتے اثبات میں سر ہلایا ۔۔
آ جائیں محترمہ “
جاؤ ہنی “… وہ کنفیوز ہوتی اٹھ کّھری ہوئی ” ۔۔
وہ اپنی اُنگلیاں مرورتی اُس کے پیچھے قدم بڑھانے لگی “
کشادہ کمرے میں داخل ہوتے وہ کمرے کے وسط میں کھڑا ہوا
یہ ہے میرا کمرہ ” اُسکی جانب پلٹتے اس نے بلند آواز میں کہا ،، تو وہ حجل ہوتی نگاہیں اٹھا کر اُسکی جانب دیکھنے لگی ” بہت پیارا ہے ۔۔
ایک نظر والپیپر لگے خوبصورت کمرے پر ڈالی” جہاں ہر چیز ترتیب سے رکھی گئی تھی ” جو سامنے موجود شخص کی نفاست پسند طبیعت کا پتہ دیتی تھی
کوئی بھی چیز فالتو نہ تھی ،، اس کی نگاہوں کے سامنے اپنا کمرہ گھوم گیا جہاں سب کچھ وہ ایک منٹ میں بکھیر کے رکھ دیتی تھی ۔
کیوں گھبرا رہی ہیں ” پہلی ملاقات تو نہیں ہماری ” معراج نے اُس کے گلابی پرتے چہرے کو دلچسبی سے دیکھا ۔۔
نن۔۔نہیں تو _____ وہ اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے اٹکتی بولی تو معراج کا بلند قہقہ فضا میں گونجا ۔۔
اُسکی مسکراہٹ “…
وہ اس میں کھو سی گئی” کتنا پیارا تھا وہ شخص ۔
وہ سارے کا سارا ہی بہت پیارا تھا اُس کے دل نے اعتراف کیا ۔
اور ایسا ہی تو ہوتا ہے محبت میں محبوب عام سے نقوش کا ہی کیوں نہ ہو آپکو دنیا کا خوبصورت ترین شخص لگتا ہے ۔
معراج نے ٹیرس کی جانب قدم بڑھائے اور وہاں کا دروازہ کھولا ” ۔۔
جہاں ایک وال کو خوبصورتی سے بیلون سے سجایا گیا تھا ” چھوٹے چھوٹے گلابی پھول اس میں موجود تھے ۔۔
اس کے قریب ایک جھولا پرا ہوا تھا ” اور سامنے ٹیبل پر کچھ فائلز ۔۔
سامنے سے آتی ہلکی سورج کی روشنی اس پر پڑتی اُسے مزید حسن بخش رہی تھی
وائو کتنا خوبصورت ہے یہ منظر ” ۔۔ وہ قریب جاتی مسکراتی جھولے پر بیٹھ گئ ۔۔
یہ آپ نے خود سیٹ کروایا ہے ” وہ دلچسبی سے پوچھنے لگی ۔۔
تو وہ مسکراتا سر اثبات میں ہلا گیا ۔
واہ ” آپ اتنے مصروف ہو کر وقت نکال لیتے ہیں اور میں فارغ رہ کر بھی کچھ نہیں کرتی ۔۔
وہ اپنی دھن میں اس سے باتیں کیے جا رہی تھی” ہاں کبھی کبھار مجھے بھی” ڈی آئ وائے کرافٹ ” دیکھ کر شوق آتا ہے لیکن پھر میں تھک جاتی ہوں اور جو بنانے لگتی ہوں وہ کچھ عجیب بھی نظر آتا ہے ۔۔
اس لیے میں نے بنانا چھوڑ دیا ” ۔۔
آپکو پتہ ہے ایک بار تو میں نے ایک فیس پیک دیکھ کے بنایا اور وہ لگایا ” پھر کیا ۔۔
جو بڑا خشر ہوا میرا ” سارا فیس ریڈ ہو گیا ۔۔
بھائی نے بہت ڈانٹا” ۔۔
اس کے بعد میں نے توبہ کر لی ،، میں ہرگرز اس طرح کا کوئی ایکسپیریمنگ نہیں کروں گی ۔۔
وہ اُسکی باتوں سے مسلسل مسکرا رہا تھا یہ بات وہ بھی نہیں جان پایا ۔
آپ جیسی ہیں خوب صورت ہیں،، آپ کو ان مصنوعی رنگوں کی ضرورت نہیں ۔۔
وہ نرم نگاہ اُس پر ڈالے بولا ” جو اس وقت جھولے پر بیٹھے جھولتی اُسے ہی دیکھ رہی تھی ” سامنے سے آتی مدھم سورج کی روشنی اس کے چہرے پر پڑتی اُس کو اور حسین بنا رہی تھی ” ۔
متضاد تیکھی ناک میں پہنی چھوٹی سی نوز پن اُسکی نگاہ اپنی جانب مبذول کر رہی تھی ۔
جسے چھونے کی تمنا دل میں اٹھی تھی
ہیں نا ” _________ بھائی بھی یہی کہتے ہیں “
میں تو بس دیکھ رہی تھی کے کیسے لڑکیاں اتنی گوری ہو جاتی ہیں وہ سب لگا کر ،، پر میرا تو فیس ہی برن ہو گیا ۔
کوئی ضرورت نہیں یہ فضول ریلز دیکھ کر خود کو کم تر سمجھنے کی ” یہ سب فلٹرز کے کمال ہوتے ،،سوائے جھوٹ ،،فریب کے کچھ نہیں ۔ زیادہ دل کرے تو کوئی دیسی ٹوٹکہ کر لو ” ۔۔۔وہ بھی کسی سے پوچھ کے ۔
ہاں میری فرنڈز بھی یہی کہتی وہ اٹھتی سر ہلاتے بولی ،، اُسکی بات سنتے بولی ” چلیں نیچے سب انتظار کر رہے ہوں گے ،، دونو نے ایک ساتھ قدم بڑھائے”
سب نے ساتھ چائے پی ” اور وقت کا اندازہ ہی نہ ہو سکا ” کافی دیر سے وہ واپس گئے ۔
وہ لیلک بیگم سے ضد کرکے آج این جی او گئی تھی ” ایک بار سب سے ملنے ” سب اس سے مل کر بہت اُداس ہوئے تھے ” بچے تو باقاعدہ رونے لگے ” ۔۔ وہ انہیں دوبارہ ملنے آنے کا یقین دلاتی خود بھی رو دی ۔
وہ ایسی ہی تھی ” نرم دل ” بہت جلد سب کے ساتھ اٹیچ ہونے والی ۔
اب وہ کھڑی کب سے تبریز کا انتظار کر رہی تھی ” جو ابھی تک آ ہی نہیں رہا تھا ” وہ شادی سے پہلے اُس سے ایک بار ملنا چاہتی تھی ” اپنی خالہ کی جانب سے معافی مانگنا چاہتی تھی اور اسے ان کے ایسے رویے کے پیچھے موجود وجہ سے بھی آگاہ کرنا چاہتی تھی لیکن وہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔۔
وہ تز بذب کا شکار ہوتی اُس کے آفس کے جانب چل دی ،،وہاں جا کر اُس کے مینجر سے استفسار کیا ۔۔
اس نے تبریز کو کال کی ،،جانے دوسری جانب سے کیا کہا گیا مینجر نے اسے بتایا کے وہ ایک ضروری میٹنگ میں مصروف ہے ” نہیں مل سکتا ۔
جبکہ تبریز اپنے آفس کے گلاس وال سے اُسے کھڑا دیکھ رہا تھا ” اور اُس کی ایک ایک حرکت کو با غور دیکھ رہا تھا ،،
ہدیل کو اُسکا اچانک کل کا رویہ یاد آیا ” وہ شاید اُس سے ناراض ہو چکا تھا اور جان بوجھ کے ملنے سے انکار کیا ،،یہ سوچ آتے ہی اُسکی آنکھوں میں مرچے سی لگنے لگی ۔
اُسکی آنکھوں کے سرخ پڑتے کنارے وہ اچھے سے دیکھ چکا تھا اُسے جاتے دیکھ جانے کیوں دل بے چین ہوا تھا ۔
اس نے پہلے خود ہی ملنے سے انکار کیا تھا اور اب اُسکی سرخ آنکھیں دیکھ دل میں جیسے سناٹا چھا گیا ہو
وہ جھٹکتے سے اٹھتا اپنے پہلے سے زخمی ہاتھ کو دوبارہ دیوار پر مارتا زخمی کے چکا تھا ۔
وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کے وہ چاہتا کیا ہے ” کل ساری رات معراج نے اُس کے قریب بیٹھ کے اُسے سمجھاتے گزاری تھی “
لیکن وہ بے چین سا ساری رات نیند میں کروٹیں بدلتا رہا ۔۔
رہ رہ کر ان کی کہی باتیں ذہن میں گردش کر رہی تھی
معذور لفظ اُس کے سینے میں ہنجر کی مانند پیوست ہو گیا تھا ۔
تو کیا وہ معزور تھا ” دنیا اُسے معذور کی نظر سے دیکھ رہی تھی ۔
یہ چیز اُسکی برداشت سے باہر تھی ” وہ تکلیف اور زبط کے مراحل پر کھڑا اس وقت لہو لہان دل سے اُس کو ملنے سے انکار کر چکا تھا ۔
جانے کیوں غصّہ کسی طور کم نہیں ہو پا رہا تھا ۔۔
دنیا کا یہی دستور ہے ” یہاں اگر کوئی گورا ہے تو وہ کالا نہیں ہو سکتا ” ورنہ لوگ کیا کہیں گے ۔۔
کالا ہے تو گورا ہوا تو کریموں سے ہوا ہوگا “
اگر کوئ بیمار ہے تو اسے جتلا جتلا کر اُسکی بیماری کو اور بڑھا دیا جائے گا ” ۔۔
ہر طرح سے بندے کو ڈی گریڈ کیا جائے گا کے وہ جینے کی خواہش ہی چھوڑ دے گا ۔
یہ کیوں نہیں سمجھا جاتا کے یہ سب اُس رب کی ذات کے کام ہیں ” جسے چاہے بیماری دے “..
رنگت دے ” ۔۔ ہم کون ہوتے ہیں اس کی بنائی ہوئ مخلوق میں نقص نکالنے والے ۔۔
ہمارے اپنے اندر اتنی بیماریاں اور عیب ہیں ،،جن پر وہ پردہ ڈالے ہوئے ہے۔
جو اللہ چیز دینے پر قادر ہے وہ چھین بھی سکتا ہے
لیکن لوگ ہیں نہ وہ تو بولیں گے ” ان کا کام ہے یہ ۔
اُسے بہت باریکی اور دین کی مثالیں دے کر معراج نے قائل کیا تھا کے وہ اپنے دل کو برا نہ کرے ۔
لیکن کہتے ہیں نہ ” جس تن نوں لاگے اُو ہی جانے “
اُسکی سرخ و سفید رنگت میں اس وقت سرخیاں گلی ہوئ تھی ” ۔۔
وہ اُسے تکلف نہیں دینا چاہتا تھا لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی اُسے تکلیف سے دو چار کر گیا تھا ۔
