Paband Slasal By Yumna Writes Readelle 50368 Paband Slasal (Episode 19)
No Download Link
Rate this Novel
Paband Slasal (Episode 19)
Paband Slasal By Yumna Writes
معراج کی نگاہ اُسکے سرخ رنگ میں لپٹی خوبصورت زلفوں پر اٹکی ” جن کی نرمی اور خوشبو ہمیشہ اُسے اپنے قریب محسوس ہوتی ” کے بعض اوقات جب وہ اُس کے قریب کھڑی ہوتی تو دل چاہتا کے انہیں چھو کر محسوس کرے ۔۔
لیکن اس وقت وہ زلفیں سنہری نہیں بلکہ لال تھی ” دلشیر نے اسکو خود میں بینچا تو اُسکی پشت سے ٹپکتے خون پر اُسکی نگاہ پڑی “
اور وہ جو ساکت کھڑا تھا اُسکی اجڑی خالت پر ” ہوش میں آتا تیزی سے دلشیر کے قریب گیا ۔
جو اس وقت اجڑی دل دہلا دینے والی خالت میں اُسے کسی قیمتی متاع کی طرح سینے سے لگائے ہوئے تھا ۔
آنسو آنکھوں سے جاری تھے “..
دلشیر ہوش میں آؤ ” ان کا خون اب بھی بہہ رہا ہے ہمیں انہیں ہاسپٹل لے کر جانا ہے ،، اُسکی لال سوجی متورم آنکھوں میں جھانکتے اُسے جھنجھوڑا ۔
فضا میں اُس کی فکر میں ڈوبی ” بھاری آواز گونجی ۔
اُس نے اپنی لال آنکھیں خنفہ کے نازک وجود پر ڈالی اور جیسے ہی نگاہ اُس کے ساکت بے جان وجود پر پری ۔۔تو اُسکا سکتا ٹوٹا ۔۔
تیزی سے اُسے بانہوں میں بھرتے وہ اٹھا تھا ” معراج نے بھاگھتے تیزی سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اُس کے بیٹھتے ہی گاڑی ہاسپٹل کی جانب بھگائی ۔۔
ہاسپٹل پہنچتے ہی اُسے روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا “
ڈاکٹر انہیں دیکھتے تیزی سے حرکت میں آئے تھے
کون نہیں جانتا تھا دونوں کو ” دونو شہر کی مشہور جانی مانی شخصیات تھے ۔۔
معراج تبریز سے بات کرنے اطراف میں گیا جس کی بے شمار کالیں آئ ہوئی تھی ” فون بند کرتے اُس کی نگاہ نوٹیفکیشن پر پری ،جہاں ان ناؤں نمبر سے کوئی وائس نوٹ جگمگا رہا تھا
الجھن کا شکار ہوتے اُس نے کھولتے میسج آن کیا ” ____
تو کیسا لگا میرا سرپرائز ” _______ خباثت سے کہتا وہ قہقہ لگاتا اپنی غلیظ آواز میں بولا ۔۔
مجھ پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہ کرنا سید ” ورنہ تم جانتے نہیں مجھے ۔۔ وہ چار جاھل تھے جو تجھے جان نہیں پائے” لیکن میری نظر پہلے دن سے تجھ پر اور تیرے گھر پر اٹکی ہوئی ہے۔
آج تو تیری محبوبہ کو مارا ہے ” اگلی باری تیری ماں اور پیاری بھابھی کی ہو گی ۔
یہ صرف ایک ڈیمو تھا ” ورنہ چاہتا تو وہیں تیری ماں کو بھی زمین میں گاڑ دیتا ۔۔
اسکا مکروہ قہقہ سن کر اُس نے ضبط سے اپنے جبڑے بینچے ” آنکھوں سے شرارے پھوٹنے لگے ۔
ہاں لیکن مزہ بہت آیا تھا مجھے ویسے اسے مارتے ہوے ” بے چاری بہت رو رہی تھی ” لیکن میں نے بھی اس چڑیا کو پکڑ کر دبوچ ڈالا ۔
مجھے علم نہیں تھا ” ورنہ مال تو کمال کا تھا
چچچ _______ بیچاری تیری وجہ سے اس خال میں پہنچ گئی ،،ویسے لگتا تو نہیں کے زندہ بچے گی ” ۔۔۔
بچ بھی گئی تو ساری زندگی مجھے یاد رکھے گی ،،
وہ ذلیل شخص اپنی کم ظرفی کا ثبوت دیتا ہر حد پار کر گیا ۔۔
اپنی لہو ٹپکاتی دہشت زدہ نگاہوں سے اُس نے سکرین کو دیکھا اور گرایا ۔۔
منھ سمبھال کے بات کر میری ہونے والی بیوی ہیں وہ “
اور بہت جلد تجھے پتہ چل جائے گا کے تو نے کس کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے ۔
اس کے ایک ایک لفظ میں جنون تھا ٫،، طیش تھا ،،پاگل پن تھا ” جو سامنے والے کو خاکستر کر دیتا ۔
اور تیری یہ حرکت تجھے بہت بھاری پڑے گی” تجھے تو میں ایسی موت ماروں گا کے تو ترپے گا ،،موت کی بھیک مانگے گا لیکن تجھے موت نہیں آئے گی۔
وہ غصے اور اشتعال میں گھڑا بھوکے شیر کی مانند گرجا اور فون بند کرتے پینٹ کی پاکٹ میں رکھا ۔۔
اور دوسری جانب بھاگا ” جہاں
وہ دھاڑتے ہوئے ڈاکٹرز کو مارنے کو دوڑ رہا تھا ” اُس بپھرے شیر کو سمبھالنا اُس کے لیے بہت مشکل امر تھا ۔
دلشیر ہوش کرو ” _____ اسے پکڑے وہ گرایا ۔۔
تو کیا کروں ” ان کی بکواس سنتا رہو ” _____
جو میری بہن کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں ۔
وہ جنونی سا ہوتا دھاڑا ۔
ڈاکٹر جو باہر اُسے بتانے آئ تھی خنفه کی خالت کا اُس کا رد عمل دیکھتی خوف زدہ سی کانپنے لگی ۔
کیا بات ہے ڈاکٹر ” ….. وہ مٹھیاں بینچتا سنجیدگی سے ان کی جانب دیکھتا استفسار کرنے لگا ۔
سر ابھی ہم کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکتے ۔
آپ کی پیشنٹ کی طبیعت بہت کریٹیکل ہے ۔۔ جسم پر جگہ جگہ زخم کے نشان ہیں ” کانچ بری طرح سے کمر میں اور بازو میں پیوست ہوا ہے ۔۔
سر کے پچھلے حصے پر گہرا زخم ہے اور بہت خون بہہ چکا ہے جبکہ ماتھے پر گہرا کٹ ہے ۔
سر آپکی پیشنٹ رسپانس نہیں دے رہی ” ان کا بلڈ بہت لوس ہو چکا ہے ،، ایسے لگ رہا کے وہ واپس زندگی کی جانب لوٹنا ہی نہیں چاہتی ۔
ڈاکٹر جو پہلے ہی خوف زدہ تھی ” پریشان سی اُسے ساری بات بتا گئی ۔
معراج کو ڈاکٹر کی آواز نہیں ” بلکہ اپنے کانوں میں بگلتا ہوا سیسہ ڈلتا محسوس ہوا ۔
وہ سرخ انگارہ آنکھوں سے یک ٹک ڈاکٹر کو دیکھی جا رہا تھا ،، جو اُسے موت کی نوید سنا کر جا چکی تھی
صرف اُس کے کارن وہ اس خالت میں تھی ٫ اس کا دل ڈوب کر ابھرا ۔۔
اس کی آنکھیں لال انگارہ ہوتی وحشت ٹپکانے لگی ۔
دلشیر پر اُسکی پکڑ ڈھیلی ہوئی تھی ،،
اور دلشیر کی ہمت یہی تک تھی ” اُسے اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا _________ ۔
وہ بہن جسے اُس نے دنیا کی سرد گرم سے بچا کر اپنی آغوش میں کسی نازک آبگینے کی مانند سنمبھال کر رکھا تھا ،،
اُس کی ایسی حالت کا سنتے اُس کی آنکھیں پتھرا گئی ،، اسے اپنی آنکھیں دھندلی ہوتی محسوس ہوئ اور وہ وہی ڈھ گیا ۔
معراج اُسے گرتا دیکھ بونچا کے رہ گیا “
جھکتے اُس کا چہرہ تھپتھپاتے اُسے ہوش میں لانا چاہا ۔
دلشیر اٹھ جا یار ” _____ مجھے یوں اکیلا نہ چھوڑ ۔
وہ نم آنکھوں سے اُسے جهنجوڑتا چیخا ۔۔۔
لیکن اس کے وجود میں کوئی حرکت نہ ہوئی ۔
ڈاکٹر ” ________
اُس کی سرد آواز کوریڈور میں گونجھی ” اُسکی لال بھبھوکا آنکھوں سے ڈاکٹرز کو خوف آنے لگا ” اُسے سٹریچر پر ڈالتے وہ تیزی سے روم میں لے کر گئے اور پھر تمام ڈاکٹرز حرکت میں آتے آگے پیچھے بھاگنے لگے ” ۔
انتظار طویل ہوتا جا رہا تھا ۔
وہ نم آنکھوں سے چکر لگاتا پریشان سا تھا ٫،،اُس کی روئی آنکھیں اُس کے اندر ہوتی ٹوٹ پھوٹ کی گواہ تھی۔۔
دلشیر کے کمرے سے ڈاکٹر نے باہر آتے اُسے تسلی دی ” مسٹر معراج انکا بی پی خطرناک حد تک ہائی ہے ” اس لیے ہم نے انہیں سکون آور انجکشن دے دیا ہے
تاکہ وہ کچھ وقت پرسکون ہو سکیں ۔
جس پرائیویٹ روم میں خنفه کا ٹریٹمنٹ چل رہا تھا وہ بے چینی آنکھوں میں سموئے ” کرب زدہ سی خالت میں گھرا ڈاکٹر کے باہر آنے کا منتظر تھا ۔
اُسکا اپنا دماغ اس وقت گھوم رہا تھا ” ایک تو اتنے مشکل خالات اور اوپر سے تبریز کی بگڑتی طبیعت ۔
وہ جوان حسین مرد ہاسپٹل کے کمرے میں آج صرف اس کی وجہ سے تھا ۔۔اسے ملال نے آ گھیرا ۔
وہ اس وقت عجیب دوراہے پر کھڑا تھا ،، ایک جانب دلشیر تھا اور دوسری جانب خنفه ۔
اسے بس تبریز کا انتظار تھا اب “
تبریز آتش فشاں بنا وہاں داخل ہوا تھا ٫٫٫ اور اُس کی جانب بڑھا ______
تبریز کے آتے ہی وہ اُس کے ساتھ لگتا ” ہمت ہارنے لگا ۔
چھوٹے سب میری وجہ سے “…. وہ ہارے ہوئے جواری کی طرح اُس کے ساتھ لگتا نم آنکھیں موند گیا ۔
کیا مطلب بھای “________.
وہ الجھن کا شکار ہوتا اُس کی جانب دیکھنے لگا جس کی آنکھیں اس وقت گہرے دکھ کا پتہ دے رہی تھی ۔
اس نے فون اُس کے سامنے بڑھا دیا ۔۔
اور جیسے ہی تبریز نے وہ نوٹ سنا ٫ اُسکا دماغ سنسنا اٹھا ۔۔۔
وہ معصوم جان ان کے بدلے کا نشانہ بن گئی ۔
ان کے باعث آج وہ اس قدر تکلیف اور اذیت میں ہیں “
دل چاہ رہا تھا اُس بے غیرت کو سامنے کھڑا کرکے آگ لگا دے ۔
دلشیر بھائی” کہاں ہیں ۔۔۔؟؟؟
دانت پر دانت جمائے وہ بمشکل بولا “۔۔۔۔
اسے ہوش نہیں آ رہا ” ۔۔۔۔ کرب سے کہتے اُس نے دیوار کا سہارا لیا ورنہ آج پہلی بار معراج کے قدم ڈگمگائے ۔
اُسکا سنتے تبریز کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرایا تھا “
اپنے جان سے پیارے بھائی کی آنکھوں میں رقم گہرا کرب دیکھ کر وہ لب بینچ گیا ۔
بھائی اُسکی ہمت بھی کیسے ہوئی ،،وہ ہمارے پیاروں کو ہمارے ہوتے ہوے نقصان پہنچا گیا ” تبريز غصے سے پھنکارا ۔
آنکھوں میں پل میں خون اترا تھا ” ۔۔۔
چھوٹے اس وقت نہیں ” میرے میں اُس وقت بلکل سکت نہیں۔۔
اُس کے اعصاب بری طرح چٹخے تھے ۔۔
ابھی یہیں میرے قریب رہو ” مجھے تمہاری ضرورت ہے ،،لہجے میں تھکن سموئے وہ آزردگی سے کہتا آنکھیں موند گیا ۔
مجھے اسی وقت سے خوف آتا تھا ” میں نہیں چاہتا تھا کے میری وجہ سے اس معصوم پر کوئی آنچ آئے ۔
میں نے اسے خود سے دور کرنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ نہیں مانی ۔۔
مجھ جیسے پتھر دل کو اُس نے اپنی محبت سے نرم کر دیا،،
وہ جو خود سے بھی یہ بات چھپا کر رکھے ہوے تھا اپنی بے اختیارِ میں اب بول گیا ۔
وہ میری سانسوں میں بسنے لگی ہے یار ” میری رگوں میں سرایت کرتے خون کی طرح بسنے لگی ہے ،،
میں اُسے اپنی وحشت زدہ ،، سیاہ زندگی میں شامل نہیں کرنا چاہتا تھا ” میں نہیں چاہتا تھا اُسے بڑھاوا دینا ۔
میں اس کی جذبے لٹاتی نگاہوں سے ہمیشہ منھ موڑتا رہا لیکن کب تک ________ ۔ وہ شکستہ لہجے میں کہتا اُس کے ساتھ لگ گیا ۔۔۔
اس کے بپھرے روپ اور آنکھوں میں موجود غم ،،کچھ کھو دینے کا احساس اُسے ٹھٹھکنے پر مجبور کر گیا ۔
بھائی آپ اس سے محبت کرتے ہیں ” تبریز نے افسردہ لہجے میں کہتے اُس کے گرد گھیرا ڈالا ۔۔
نہیں ” ___________ یک لفظی جواب ۔
میں اُس سے عشق کرنے لگا ہوں” کہتے لہجے میں اذیت در آئی ۔۔
وہ مجھ سے ایسے دور نہیں جا سکتی ” ڈاکٹرز کہتے ہیں کے وہ جینے کی امید چھوڑ چکی ہے ،،،
وہ کیسے میرے ساتھ ایسا کر سکتی ہے ” مجھے اس راہ پر لا کر خود کیسے پیچھے ھٹ سکتی ہے ۔۔
میں اُسے کبھی ایسا نہیں کرنے دوں گا ،،اُسے جینا ہوگا میرے لیے ” ۔۔
وہ جو خود سے بیگانہ اس وقت زندگی موت کے بیچ جوجھ رہی تھی اُسے ایک نئی اذیت اور درد میں مبتلا کر گئی تھی ۔
بھائی آج ہمارے کارن وہ دونو بہن بھائی زندگی اور موت کی جنگ لر رہے ہیں ۔
اگر انہیں کچھ ہوا تو میں کبھی خود کو معاف نہیں کر پاؤ گا ” لہجے میں گہرا دکھ تھا ۔
انہوں نے ایسا تو نہ چاہا تھا ،،اسے اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا ۔
کچھ دیر بعد ڈاکٹر روم سے باہر آئ تھی اور اُسے زندگی کی نوید سنائ ” سر آپکی پیشنٹ کو ہوش آ گیا ہے ،،لیکن ابھی وہ دوائیوں کے زیر اثر ہیں ۔
جب ہوش آئے تو آپ مل سکتے ہیں ” ۔
ڈاکٹر کی بات سنتے اسے تھوڑا سکون آیا تھا ۔۔
