Paband Slasal By Yumna Writes Readelle 50368 Paband Slasal (Episode 28)
No Download Link
Rate this Novel
Paband Slasal (Episode 28)
Paband Slasal By Yumna Writes
اس وقت وہ تینوں ہاسپٹل کے کوریڈور میں کھڑے بے چینی سے ڈاکٹر کے باہر آنے کا انتظار کر رہے تھے ،، میراج اپنی تمام ناراضگی بھلا کر اس وقت گل کے لیے دعا گو تھا جبکہ ان دونوں کے برعکس دلشیر کے چہرے پر اضطراب اور بے چینی زیادہ تھی ،، وہ ایک مرتبہ اپنی گڑیا کی ایسی حالت دیکھ چکا تھا دوبارہ کسی معصوم کے ساتھ وہ سب ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا ۔
بھائی سب ٹھیک ہو گا کیوں اتنا پریشان ہو رہے ہیں میں وقت رہتے پہنچ گیا تھا وہاں ” تبریز نے اسے تسلی دی ۔
لیکن وہ کسی طور ماننے کے لیے تیار نہ تھا ” یار جب تک میں اُسے خود سہی سلامت نہیں دیکھ لیتا مجھے چین نہیں آئے گا ،،
اسی وقت کے لیے تو میں نے اُسے آج تک خود سے دور رکھا ہوا تھا ” اس نے کئی بار مجھ سے درخواست کی ،، میرے آفس ،،میرے گھر تک آ گئی لیکن میں نے اُسے دھتکار دیا اس کے دل کو ٹھیس پہنچائی تاکے وہ مجھ سے دور چلی جائے ،، میں نہیں چاہتا تھا میری وجہ سے اُسے کوئ نقصان پہنچے ________
میں نے ہر صورت اُسکا خیال رکھنے کی کوشش کی ،،میرے گارڈ ہر وقت اُس کا پیچھا کرتے اُسکے پل پل کی خبر مجھے دیتے ،، مجھے لگا سب ٹھیک ہے اب ۔
لیکن میری ذرا سی چوک نے اُسے کن خالات تک پہنچا دیا ۔۔
وہ جھکے کندھوں کے ساتھ رندھے ہوے لہجے میں گویا ہوا ۔۔۔
آپ نے کچھ غلط نہیں کیا ” ہاں لیکن ایک جگہ پر آپ غلط ٹھرے ” آپکو چاہیے تھا کے آپ اسے اپنا لیتے ،،جبکہ آپ جانتے بھی تھے کے اسکا اس دنیا میں کوئی نہیں ،، مجھے یقین تھا کے وہ آپ کے ساتھ رہتی تو محفوظ رہتی ،، آپ میں اتنی صلاحیت ہے کے آپ دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتے ہیں ۔۔
تبریز بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے دلشیر اسے اپنا لو ،،اپنے دردناک ماضی سے نکل آؤ ،، ہر انسان ایک جیسا نہیں ہوتا ۔
وہ بہت معصوم ہے اور مجھے یقین ہے کے تم سے بڑھ کر اُسکی خفاظت اور کوئ نہیں کر سکتا ،،اُسکا شانہ تھپتھپاتے میراج نے اُسکی جانب دیکھا ،،تو وہ سر کو جنبش دیتا خاموش ہو گیا۔
ڈاکٹر کو روم سے باہر آتا دیکھ وہ تینوں اس کی جانب بڑھے ” میری بہن کیسی ہے ڈاکٹر تبریز نے اُسکی جانب دیکھتے استفسار کیا ۔۔
گھبرانے کی بات نہیں ہے شی از ٹوٹلی فائن ______.
کوئی فزیکل چوٹ نہیں ہے ،،گال پر انگلیوں کے نشان ہیں جن پر ٹیوب لگا دی ہے ،، ایک دو دن تک ٹھیک ہو جائے گا ،، بس مینٹلی سٹریس کے باعث وہ بے ہوش ہو گئی تھی ۔
آپ لوگ انہیں مل سکتے ہیں اور لے جا سکتے ہیں ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں کہتی چلی گئی ۔
تبریز اور معراج بے چینی سے آگے بڑھتے کمرے میں داخل ہوے تو وہ بیڈ پر تکیوں کے سہارے بیٹھی ہوئی تھی ۔
اب کیسی طبیعت ہے آپ کی ؟؟________ میراج نے آگے بڑھتے سرعت سے اُس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا ۔
گل انکی اتنی محبت پر دونو کی جانب دیکھتی اپنے آنسو اندر اتارنے کی کوشش میں سرخ پڑتی دھیرے سے سر ہلا گئی ۔
آپ نے جو ہمارے لیے کیا ہے وہ ہم چاہ کر بھی آپکا احسان نہیں اتار سکتے ۔۔
آپ کو جس چیز کی ضرورت ہو آپ کے دونوں بھائی آپ کے لیے ہر لمحہ موجود ہیں ۔
ان کے اتنے مان اور محنت پر وہ خود پر ضبط نہیں کر پائی اور پھپھک پھپھک کر رو دی ۔
اس کے چہرے پر تکلیف کے اثرات واضح تھے ،، نہیں بچے اس طرح نہیں روتے ،، چلیں خاموش ہو جائیں ،،
میں ڈاکٹر سے بات کرکے آتا ہوں پھر ہم گھر چلتے ہیں کہتے معراج باہر نکل گیا جبکہ تبریز فون پر کسی سے ضروری گفتگو میں مصروف ہوتا باہر نکلا ۔
جائیں آپ کے لیے بہانہ گھڑ کر آیا ہوں ” سارے معملات سلجھا کر آئین ۔
اور خدا کا واسطہ نکاح کر لیں ورنہ میرے بچے آپکو دادا ہی کہیں گے پھر مت اعتراض کریے گا ” تبریز کو سخت غوری سے نوازتا وہ اٹھتا اندر کی جانب جانے لگا
وہ جو تھکن کے باعث آنکھیں موندیں لیٹ گئی تھی ،، کسی کے قدموں کی چاپ سن کے آنکھیں کھولی تو نگاہ ٹھٹھک گئی ،، وہ دشمن جان سامنے سے آتا اُسی کی جانب دیکھ رہا تھا ۔
دلشیر حسن اپنی تمام تر وجاہت سمیت پر وقار چال چلتا اس کی سمت بڑھ رہا تھا ،، اور وہ آنکھیں پھاڑے سامنے موجود وجود کے سحر میں کھوئ ہوئ تھی ۔
اس کے قریب آتے نرمی سے استفسار کیا ” کیسی طبیعت ہے آپ کی ؟؟ ۔۔۔۔۔۔
گل نے بمشکل نگاہوں کا زاویہ بدلتے سر کو جنبش دی ۔
اس کی زردی مائل رنگت دیکھتے اس کا دل ڈوبنے لگا ،، میں باتیں گھما پھرا کر کرنے کا عادی نہیں ہو ،، صاف بات کروں گا ،، کیا آپ مجھ سے نکاح کریں گی گل ؟؟
دلشیر کے صاف انداز پر وہ خیرت کی زیادتی سے پھیلی آنکھوں سے اُسے دیکھنے لگی ،،
جیسے جیسے وہ اُسے سب بتاتا گیا اُسکی آنکھوں میں بے یقینی اترنے لگی ۔
اتنی آنکھیں مت کھولیں ،، مجھے ابھی یہ سہی سلامت چاہیے ،، لہجے شریر تھا جبکہ چہرے پر سنجیدگی تھی۔
شاید اس سب میں میری بھی غلطی ہے ” میں اپنے خوف کے باعث آپکو خود کے قریب نہ کر سکا ،، ایسا کیسے ہو سکتا ہے جو لڑکی چھپ چھپ کر خفیہ طریقوں سے مجھ تک پہنچ کر ہزار بار محبت کا اقرار کر چکی ہوں ،،میرے دل میں اُس کے لیے کوئی جذبات پیدا نہ ہوں ۔۔
اور پھر وہ اسے سب بتاتا چلا گیا ” گل مغموم نگاہوں سے اُسکی جانب دیکھے گئی” کیا تھا وہ شخص ،، وہ تو پہلے ہی اُسکی اسیر تھی ،، آج اس نے اُسے مکمل طور پر اپنی محبت کے قفس میں جکڑ لیا تھا ۔۔جس سے وہ نکلنا نہیں چاہتی ۔
کیا آپ میرے نکاح میں آئیں گی گل ؟؟…….
میں آپکو خود پر حلال کرنا چاہتا ہوں ” _______ گل نے نم دھندلی نگاہوں سے اُسکی جانب دیکھا “
اُسے بخوبی اُسکی کیفیت کا اندازہ تھا ” جو بے یقینی اور خیرت کے ملے جلے تاثرات سے اُسے دیکھ رہی تھی،اُس کے الفاظ گل کو ساکت کر گئے تھے ” اُس کے سامنے اُسکی محبت بیٹھی تھی ” وہ کیسے اُس سے منھ موڑ سکتی تھی ،، اُسکا تو روا روا اُس کے نام کی تسبیح کرتا تھا ،،اُسے تو عشق تھا سامنے بیٹھے وجود سے ۔
ہاں بول دو بہنا ،، پہلے ہی بوڑھاپے کو آ کر تو نکاح کی اجازت طلب کر رہے ہیں یہ نہ ہو ارادہ بدل لیں ،،پیچھے سے آتے تبریز نے لب دانتوں تلے دباتے اُسے چھیڑنے کے انداز سے کہا تو گل جھینپ سی گئی ۔
تو کیا میں ہاں سمجھو ” گل کے گلابی پڑتے چہرے کی جانب دیکھتے نرمی سے استفسار کرتے اپنی چوری ہتھیلی آگے بڑھای
اُس کے دل اور روح میں تو وہ پہلے ہی براجمان تھا ” گل نے ہاتھ بڑھاتے نمی سے اُسکے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا ،، آنکھوں میں واضح خوشی اور سکون رقم تھا ۔
تو بس پھر طے ہوا ،،گل ہمارے ساتھ چلے گی مینشن میں اور وہاں سے ہم اپنی بہن کی رخصتی کریں گے۔
گل کی آنکھوں میں خوشی سے آنسو چمکنے لگے ،، ایک ساتھ اتنی خوشی ،، پاتے وہ اپنے رب کی شکریہ گزار تھی۔
تینوں کے چہرے پر خوشی رقص کرنے لگی ،،اور گل کو ساتھ لیتے وہ تینوں مینشن کے لیے نکلے ۔
