Paband Slasal By Yumna Writes Readelle 50368 Paband Slasal (Episode 21)
No Download Link
Rate this Novel
Paband Slasal (Episode 21)
Paband Slasal By Yumna Writes
دن ہفتوں میں بدل گئے تھے ” انہیں گھر آئے دو ہفتے ہونے والے تھے ،، اس دوران پلوشہ بیگم اس سے ملنے آتی رہتی ،،لیکن اُسکا کوئی خاص ردعمل نہ ہوتا ۔۔
پھر اچانک انکی اپنی طبیعت خراب رہنے لگی ” دراصل خنفه کے ساتھ ہونے والے خادثے کا وہ خود کو زمیدار ٹھرا رہی تھی ” ______ اور اسی سوچ نے انہیں بیمار کر دیا تھا ۔
تبریز اور معراج ان کی جانب سے کافی متفکر رہنے لگے اور اسی وجہ سے ان کا خنفہ سے ملنا بھی کم کر دیا ۔
ہدیل بھی اپنی فیملی کے ساتھ ان کے مینشن ملنے گئی ” اسے بہت دکھ ہوا تھا اُس پیاری سی لڑکی کے لیے ۔۔
جو اُس کے سامنے بیٹھی ” اپنا سوگوار حسن لیے یک ٹک ایک ہی جانب دیکھی جا رہی تھی ۔
سب اُس سے ملنے ،،اُسکا دل بہلانے کی خاطر آتے رہتے ” اُسکی سہیلیاں ” لیکن اُسے تو جیسے چپ ہی لگ گئی تھی ۔
وہ ہنوز اپنے خول میں سمٹی خاموش رہتی ۔
شروع میں دلشیر یہ سب اس کے ساتھ ہوئے واقعہ کا اثر سمجھ رہا تھا ” اور تحمل سے اسے ڈیل کر رہا تھا ،،،لیکن اُسکا بلکل خاموش رہنا ،، گھٹ گھٹ کر رونا وہ محسوس کر چکا تھا ۔۔۔
وہ رات میں جب تک سو نہ جاتی وہ اُس کے قریب سے نہیں اٹھتا تھا ،، دلشیر حسن کی مکمل توجہ کا مخور اُسکی گڑیا تھی ان دنوں ۔۔
وہ اُسے ایک پل بھی اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا ۔۔وہ بھول چکا تھا اُس شخص کو ،، اپنا بدلہ ۔۔
بس یاد تھی تو اُسکی بہن ______ اور اُسکی کھوئ ہوئ مسکراہٹ ۔
معمول کے مطابق وہ اُس کے بالوں کو محبت سے سہلاتے گویا ہوا
پلوشہ آنٹی کی طبیعت بھی آجکل ٹھیک نہیں رہتی ،،میں سوچ رہا تھا کل آپ ان کی طرف چلے جائیے گا ،، تبریز ملک سے باہر گیا ہوا ہے کسی میٹنگ کے سلسلے میں ” ایسے میں ساری زمہ داری معراج پر آ گئ ہے ،
آپ جائیں گی تو انہیں اچھا لگے گا ۔۔
مجھے کہی نہیں جانا” وہ کہتی تکیے میں سر دے گئی ۔
میرا بچہ کب تک آپ ایسے رہو گی ” بھول جاؤ سب ۔۔
وہ بے بسی سے کہتا اُس کی جانب دیکھنے لگا جو تکیے میں سر دیتی رونے لگی تھی ۔۔
ویسے بھی میراج چاہتا ہے کے تبریز کے ساتھ ہی آپ دونو کا بھی نکاح کر دیا جائے ” رسانیت سے کہتا اُس کے رد عمل کا منتظر تھا ۔۔
وہ جھٹکے سے اٹھتی خیرت و صدمے کی کیفیت میں اُسکی جانب دیکھتی نفی میں گردن ہلانے لگی ۔
آپ ایسا نہیں کریں گے ” مجھے کسی سے نکاح نہیں کرنا ،، اُس نے جلتی آنکھوں سے اُسے دیکھا اور طیش کے مارے اُسکی جانب دیکھتے بلند آواز میں چیخی ۔۔
خنفه جو اپنے ہی غم میں ڈوبی تھی ،، کسی کی خبر نہیں تھی ” اچانک دلشیر کی بات سنتے دھنگ رہ گئی ،،اس کا دماغ چکرانے لگا ” دل کی دھڑکن کانوں میں سنائی دینے لگی ۔۔
وہ اس شخص کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی ٫،، وہ تو پہلے ہی اپنی رنگت کو لے کر انسیکیور محسوس کرتی تھی ” اور اب “________
اب تو اُسے لگتا تھا زندگی ختم ہو چکی ہے۔۔
میں بتا رہی ہوں آپ نے ایسا کرنے کی کوشش بھی کی تو نتایج کے زمہ دار آپ خود ہوں گے بھائی ،،میں آپ کو چھوڑ کے چلے جاؤ گی ۔۔۔
اُسکا گریبان تھامتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔
دلشیر کا تو دماغ سنسنا اٹھا تھا ” نہیں میرا بیٹا ،،کچھ نہیں کرتے سب آپکی رضامندی سے ہوگا ۔۔
دوبارہ بھائی کو چھوڑنے کا نہ کہنا ” ۔۔۔۔۔وہ دکھتے دل سے بمشکل اتنا بول پایا تھا ۔۔
وہ روتے روتے اُس کے ساتھ لگتی سو چکی تھی ” لیکن دلشیر کو سوچوں کے اندھے کونوے میں دھکیل چکی تھی ۔
وہ اٹھتا اپنے کمرے کی جانب جانے کی بجائے باہر گارڈن میں چلا گیا ٫ اُسکا دم گھٹنے لگا تھا ” ۔۔
سینے میں درد بڑھنے لگا ” اس کی بہن اس حد تک بھی جا سکتی تھی اس نے سوچا نہ تھا ۔
وہ جب سے گھر آئ تھی ٫ تب سے وہ اُس کے قریب رہتا ” کیوں کہ ذرا سی پرانی یادوں ” اور سوچوں میں ایک کر وہ پینک ہو جاتی ” اور یہی وجہ بنی تھی کے اس کو پینک اٹیک آنے لگے ۔۔
ساری رات وہ کھلی آنکھوں سے ایک جگہ کو دیکھتے گزار دیتی ،، ڈاکٹر نے اُسے نیند کی اور ڈپریشن کی دوا دی ،،جس سے زیادہ نہیں تو تھوڑا بہت افاقہ ہوا تھا ۔
وہ سوچوں کے گرداب میں گھڑا باہر جانے کتنا وقت بیٹھا سگریٹ سلگاتا رہا ۔
دلشیر کے قدموں کی چاپ سنتے وہ اٹھ بیٹھی ” کمرہ خالی دیکھتے وہ مردہ قدموں سے چلتی واشروم سے ملحقہ ڈریسنگ روم میں داخل ہوئی ۔۔
جسم کے زخم تو بھر گئے تھے لیکن رُخ پر لگے زخم ابھی بھی تازہ تھے
آنسو کا بندھ باندھے وہ خود پر ضبط کرتی آنکھیں میچ گئ ،، قد آور آئینے کے سامنے جاتے اپنے چہرے پر ہاتھ
پھیرا ” ___________
زرد رنگت” بکھرے بال ” ،، سوجی آنکھیں ،، وہ دکھتے سر کے ساتھ اپنا جائزہ لے رہی تھی ” نقاہت سے اُسکے قدم ڈگمگائے ۔۔ اپنے پہلو سے شرٹ کھسکائ تو اُس کی نگاہ اپنی پشت پر پڑی” تو بے ساختہ آنکھوں میں نمی جگمگانے لگی ۔۔
جا بجا زخم اور اس کے نشان تھے ” چند زخم تو بھر گئے تھے لیکن کچھ ابھی بھی گہرے تھے ” زخموں کی باقاعدہ کیئر نہ کرنے کی وجہ سے ان میں ابھی بھی تکلیف تھی لیکن اسے پرواہ نہ تھی۔
چند لمحے شیشے میں ابھرتے اپنے لمس کو دیکھتے وہ وحشت زدہ سی ہوتی چیخی ،،اپنے بال نوچتے زمین پر گھٹنوں کے بل گر گئی ۔
اس شخص کی درندگی یاد کرتے وہ ہسٹریائی ہونے لگی ، وہ تو زخموں سے چور تھی ” کیسے ممکن تھا کے وہ شخص اسکو اس حال میں قبول کرتا ۔
وہ کبھی اسکو اپنا آپ نہیں سونپا چاہتی تھی “
اُسکی وحشت ناک شیخیں ماحول میں پھیلنے لگی ،،جسے سنتا دلشیر اُس کے کمرے کی جانب دوڑا ۔
روم میں داخل ہوتے وہ واشروم کی جانب بھاگا،،
وہ ساکت جامد ہوتا سامنے اُسے شاور کے نیچے بیٹھے دیکھ رہا تھا ۔
وہ اسے اذیت کی دہکتی ہوئی آگ میں دھکیل گئی تھی۔
دلشیر نے آگے بڑھتے اُسے شاور کے نیچے سے ہٹایا ۔
شاور بند کرتے ٹاول نکالتے اُس کے گرد لپیٹا ” میرا بچہ میری جان _______ ۔
ترپتے اسے خود میں بینچتے وہ نم آنکھوں سے اُسے باہر لایا جو اب اپنے خواص کھو بیٹھی تھی ۔ چیختے
ملازمہ کو آواز دی اور اُسکا لباس تبدیل کرنے کا کہتا باہر نکل آیا ۔
پریشانی کے عالم میں گھڑے اُس نے میراج کا نمبر ملایا ” اور اُسے ساری بات بتائی ۔۔
میں مر جاؤ گا یار _________ میں اُسے اس تکلیف میں یوں ترپتا نہیں دیکھ سکتا ۔
معراج نے ضبط سے مٹھیان بینچتے اپنی شعلہ برساتی نگاہوں کو بند کرتے کھولا ______
میں کل ملتا ہوں ” تم پریشان نہ ہوں” سب ٹھیک ہو جائے گا ۔
اُسکی حرکت کا سنتے وہ پاگل ہونے کو تھا ” اضطراری کیفیت میں گھڑا وہ بس صبح کے انتظار میں تھا ۔
_______________
اگلے دن وہ دس منٹ میں تیار ہوتا ان کے مینشن میں موجود تھا ” ______
دلشیر کے ہمراہ بیٹھے وہ سنجیدہ سا تھا ” میں نے ان دو ہفتوں میں بہت کوشش کی اُسے ڈپریشن سے باہر نکالنے کی،،اور کافی حد تک کامیاب بھی ٹھرا ،،لیکن کل رات جیسے ہی میں نے نکاح کی بات کی تو ” اُسکا اتنا شدید ردعمل سامنے آیا کے میں گھبرا گیا ہوں ۔
میں اسے کھونا نہیں چاہتا ” ______ میں بہت پریشان ہوں اسے لے کر ۔۔
تم نے انہیں بہت زیادہ ڈھیل دے دی ہے ” وہ بہت حساس ہو گئ ہیں ” انہیں جتنا محبت سے ٹریٹ کروں گے وہ اتنا ہی خود ترسی کا شکار ہوتی جائیں گی ۔
بہتری اسی میں ہے کے ان پر تھوڑی سختی کی جائے ” اور ویسے بھی اب انہیں میں خود اپنے طریقے سے ڈیل کرنا چاہتا ہوں ۔
تین گھنٹے تک وہ دونو بیٹھے باتیں کرتے رہے ۔ اس سے ملنے کے لیے اٹھتے اس نے دلشیر سے اُس کے کمرے کا پوچھتے اطراف میں قدم بڑھائے ،،
کمرے کے سامنے کھڑے ہوتے ناب گھماتے وہ
بھاری قدم اٹھاتا وہ کمرے میں داخل ہوا ” کمرے کی خالت بگڑی پڑی تھی ،، ________ ڈریسنگ سے سارا سامان زمین بوس ہو چکا تھا ۔۔۔
بیڈ شیٹ آدھی فرش پر سلامی دے رہی تھی ” ہر چیز بکھری پری تھی ” اور وہ ایک جانب بیٹھی گھٹنوں پر سر رکھے ہچکیاں بھر رہی تھی” جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا ۔۔
ایک لمحہ ضایع کیے بغیر وہ اس تک پہنچا تھا ،، خون آشام نگاہوں سے اُسے دیکھتے وہ دھاڑا ۔۔
کس بات کا سوگ منا رہی ہیں آپ ؟؟؟…..
اُسکی دھار پر اس نے جھٹکے سے سر اٹھاتے پھٹی پھٹی نگاہوں سے اُسے دیکھا ” ۔۔
بکھرے بال ” سرخ سوجی آنکھیں ” زرد رنگت ،، اُسے وہ صدیوں کی بیمار لگی ۔۔
کیوں آئے ہیں آپ یہاں ” وہ روتی چیخی “
رونا بند کریں خنفه ___________. اس کے لہجے کی سختی سے وہ خاموش ہوئی ۔
میں شادی نہیں کرنا چاہتی ” ____ خود میں ہمت پیدا کرتی وہ زبان تر کرتی بمشکل اپنے لہجے کو کپکپانے سے روکتے بول پائی ۔
اُسکے الفاظ مقابل کے تن بدن میں آگ لگا گئے ۔
وجہ جان سکتا ہوں ” ______ اُس نے سنجیدگی سے اُسکی جانب دیکھتے آبرو اچکاتے استفسار کیا ۔
یہ وجہ کافی نہیں کے میری مرضی نہیں اُس نکاح میں
وہ آنکھوں میں آنسو لیے بے بس سی بولی ۔
معراج اُسکی پانیوں سے بھری آنکھوں کو دیکھ طیش میں آتا گرایا ۔۔
خود کو اذیت دے کے آپ مجھے پہلے ہی للکار چکی ہیں اب مزید کوئی غلطی مت کریے گا ۔۔ورنہ اس کا خامیازه سود سمیت ادا کریں گے آپ ۔
آپ کو ایک بات سمجھ کیوں نہیں آتی ” نہیں کرنا مجھے کوئی نکاح ” نہ آپ سے نے کسی اور سے “…
جان چھوڑ دیں میری ” _________ بیک وقت غصے اور بے بسی کی کیفیت میں مبتلا ٫
وہ وحشت زدہ سے ہوتی سرخ پڑتی چیخی “
بکواس بند کریں اپنی ” _____ اس کے بازو سے دبوچ کر اپنے مقابل کھڑا کرتے جھنجھوڑتے وہ سلگتے لہجے میں دھاڑا ۔۔
جان لے لوں گا میں آپکی اب دوبارہ یہ الفاظ دھراے تو ۔
اس کے اس قدر سخت رویے سے خنفه نے اسے مغموم نگاہوں سے دیکھا ” آواز خلق میں دب گئی” دل بری طرح دھڑکنے لگا ” ۔۔۔
وہ بے یقینی کی کیفیت میں یک ٹک بنا پلکیں جھپکاے اُسے دیکھے جا رہی تھی
یک دم فضا بوجھل محسوس ہونے لگی “
وہ ویران نگاہوں سے اُسکی جانب دیکھتی سرسرارتے ہوے لہجے میں پھنکاری ” ۔
دہراؤں گی بار بار بولوں گی” مجھے نہیں کرنا یہ نکاح
اور اگر آپ نے میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوششں کی تو میں خود کو ختم کر لونگی ۔۔،، لیکن نکاح نہیں کروں گی ۔
اُسکا زبردستی حق جتانا ” اور یہ انداز اُسے تپا گیا ” وہ اس کو ناگواری سے دیکھتے دبا دبا سا چیخی ۔۔
اُسکے سرکش لہجہ پر اُس کے ضبط کی طنابیں ٹوٹنے لگی
اُسکی گردن پر اپنی آہنی گرفت کرتے اُس کے چہرے کے قریب جھکتا وہ قہر برساتی نگاہوں سے اُسکی جانب دیکھ کر پھنکارا ۔۔
جب میں آپ کو باور کروا چکا تھا کے خود کو تکلیف مت پہنچائیے گا پھر کیوں آپ نے خود کو اذیت دی ۔۔
سید معراج خود سے وابستہ رشتوں میں بہت شدت پسند ہے ” اور آپ تو میری محبت ،،پہلی ترجیح ہیں ۔۔
مجھ سے دور جانے کا سوچا بھی تو آپکو میرا وہ روپ دیکھنا پڑے گا جسے میں خود بھی چھپاے بیٹھا
ہوں ۔۔۔
اُسکی نگاہوں میں شعلے بھڑکتے دیکھ وہ دم سادھ گئی ۔
کل ہمارا نکاح ہے تیار رہیے گا ” ورنہ انکار کی صورت میں آپ کو اٹھا کے لے جاؤ گا ” ۔۔اور مجھے نہیں لگتا کے آپ کو میرا طریقہ پسند آئے گا ” دھمکی آمیز لہجہ ماتھے پر بل ڈالے ،،
امید ہے میری بات کا خاصہ اثر ہوا ہوگا آپ پر ۔۔
اُسکی دھار پر وہ اچھل کے دیوار کے ساتھ لگی تھی
اُس کے اتنے سخت لہجے پر وہ باقاعدہ لرزنے لگی ” اس کی رہی سہی ہمت بھی جواب دینے لگی ۔
اُس کے لہجے کے تاثر سے اُس کے چہرے کا رنگ سرعت سے بدلہ ۔
جّجی ______
اُس کے خلق سے پھنسی پھنسی آواز نکلی تھی ۔
اُسکی سانسیں رکنے لگی تھی ۔۔
میں اپنی بات بار بار دھرانے کا عادی نہیں ھوں ،،بہتر یہی ہے کے آپ میری بات ایک ہی بار مان لیا کریں
اُس کی نم آنکھوں میں اپنی سرخ لہو آنکھیں گھارتا وہ ایک الگ ہی جنون میں بولا ۔۔
اور فتح مندی سے چلتا جہاں سے آیا تھا واپس چلا گیا
اس کے رونے ترپنے کے باوجود وہ اپنا فیصلہ سناتا جا چکا تھا ۔ وہ روتی فرش پر گرتی چلی گئی
اس نے جلتی آنکھوں سے اُسے دیکھا جو کب کا چلا گیا تھا ۔
_______
اس کے انکار نے اسے جلتے انگاروں پر پھینک دیا تھا ۔
وہ مضبوط قدم اٹھاتا باہر لاؤنج میں اُس کے قریب آ کر براجمان ہوا ۔
ہمارا نکاح کل ہی ہوگا دلشیر ” ۔۔۔۔۔متفکر لہجے میں وہ اُسکی جانب دیکھتے استفسار کرنے لگا
کیا مطلب ______
رضامند ہیں آپ کی گڑیا ” ۔۔۔۔۔۔بس تھوڑی ڈوز کی ضرورت تھی ” ۔۔۔۔۔۔۔ بے تاثر لہجے میں جواب دیا گیا
تم نے سختی تو نہیں کی اس پر ” ۔۔۔ شکی نگاہوں سے اُسکی جانب دیکھا ۔۔
تمہاری بہن میرا بہت ضبط آزما چکی ہے ٫،، مزید اسکو ڈھیل دی تو ،،ہمارے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی تھی ،، ،، انہیں قابو کرنا بہت ضروری ہو چکا ہے اس لیے سختی کرنی پری مجھے ۔۔
وہ غصے کے عالم میں ترخ کر بولا ۔
اسے خود بھی خالات کی سنگینی کا اندازہ ہو چکا تھا
وہ اس وقت ہم سب سے جائے فرار خاصل کرنا چاہتی ہیں” ۔۔۔۔
مزید اگر ہم نے انہیں اکیلا چھوڑا تو وہ ہم سے دور ہوتی جائیں گی ،،اور ان بھیانک پلوں سے کبھی باہر نہیں نکل سکیں گی ۔
میں چاہتا ہوں وہ میرے قریب رہیں ” میرے ساتھ تاکے جلد ان کے زخم اور بیتے ہولناک مناظر ان کی یادوں سے غائب ہو سکیں ۔
بھینچے بھینچے لہجے میں کہتے اُسکی نگاہوں میں بیتے لمحوں کو سوچ کر ملال جھلک رہا تھا ۔
اُسکی آنکھیں اُس کے اندر کے جذبات کی عکاسی کر رہے تھے اسی لئے بغیر کسی توقف کے دلشیر نے سر اثبات میں ہلایا ۔
اُسے یقین تھا معراج اور وہ اُسکی بہن کو سمبھال لے گا ۔
