Paband Slasal By Yumna Writes Readelle 50368 Paband Slasal (Episode 27)
No Download Link
Rate this Novel
Paband Slasal (Episode 27)
Paband Slasal By Yumna Writes
گل نے دو قدم ہی آگے بڑھائے تھے کے اس ظالم سیاد کو سامنے سے آتا دیکھا ،، اور اس کے قدم اپنے قریب بڑھتے دیکھ ،،آنکھیں دھندلانے لگی اور وہ لڑکھڑا کے گرنے لگی ،، اس سے پہلے ہی دلشیر نے اُسے اپنے حصار میں لیتے بانہوں میں بھرا اور بھاری قدم اٹھاتا گاڑی کی پیچھلی سیٹ پر بہت احتیاط سے اُسے ڈالتے اس کی جانب دیکھتے بولا جو نم آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔
میں ابھی آتا ہوں _______ کہتے واپس قدم بڑھاے ،،
اُسکا بس نہیں چل رہا تھا کے اُس شخص کا خشر بگاڑ دے ۔ پیچھے سے آتی پولیس کی گاڑیاں بھی اطراف میں پھیلی ،، اور باہر نکلتے ان کے لوگوں کو اٹھا کر گاڑیوں میں پٹکنے کے انداز میں ڈالنے لگے ۔
اُس کے خاص آدمی کو ہوش دلاتے اس سے ان کے تمام ٹھکانوں کا پتہ نکلوایا ،، اور اسے بھی اندر پھینکا ۔
ابھی وہ ایک وار سے سمبھلا نہ تھا کے تبریز نے چاقو اُس کے ہاتھ میں جس شدت سے گھارا تھا اسی سے واپس نکالتے اس کی ٹانگ پر وار کیا اور پھر جا بجا اُس کے بدن پر وار کرتا گیا ،، دلشیر جو سامنے سے غضبناک تیوروں سے اس کی جانب آ رہا تھا ،، غصے کی شدت سے آگے بڑھتے اُس کے دونو بازو دبوچتَے جھٹکے سے پیچھے کی جانب موڑے کے کڑک کی آواز سے اُس کے دونوں بازوں ڈھلک کر فرش پر لٹک گئے ،، فضا میں شیرا کی دردناک چیخیں گونجھنے لگی اور وہ تکلیف کی شدت سے ترپنے لگا ۔۔
انہی ہاتھوں سے میری بہن کو چھوا تھا نہ تو نے ،، اُس کی تکلیف کی پرواہ کیے بغیر اس کی ٹانگ پر اپنا وزن بڑھاتا دھاڑا ،، شیرا ترپتے ان سے بھیک مانگنے لگا ۔۔
آنکھیں لہو لہان اور جسم زخمی تھا ” گھٹنوں کے بل فرش پر بیٹھا وہ کانپتے وجود کے ساتھ ان کے قدموں میں ڈھ گیا ۔
تبریز اس کی گردن کو دبوچتے اُس سے پہلے کے اُسکا کام تمام کرتا پیچھے سے آدم بٹ کی آواز اُسکی سماعتوں میں پری ،، چھوڑ دے اس کو تبریز ” کیوں اس رزیل کے خون سے اپنے ہاتھ گندے کرنا چاہتا ہے ،، ویسے بھی یہ اب کسی قابل نہیں رہا ۔۔باقی کی زندگی جھیل میں ہی سرے گا سالہ ” ________ تبریز نے خون خوار نگاہوں سے شیرا کو دیکھا اور ایک ضرب رسید کرتا پیچھے ہو گیا ۔
پولیس افسران آگے بڑھتے اُس کو اٹھاتے باہر کی جانب لے جانے لگے ،، چلو تبریز گل کو ہاسپٹل بھی لے کر چلنا ہے تبریز کو چلنے کا اشارہ کرتا وہ اُس کے ساتھ قدم بڑھاتے گاڑی میں سیٹ سنبھالتے ہاسپٹل کے لیے نکل گئے ۔
_________________
وہ تیار ہوتی لیمن کلر کے گھیرے پر سفید جراؤں نگینے والے خوبصورت سوٹ میں گیلے بالوں کو ٹاول میں لپیٹے باہر نکلی ،، معراج جو کاوچ پر بیٹھا اپنا فون استعمال کر رہا تھا اُس کو سامنے سے آتا دیکھ ٹھٹکا ،، وہ ڈریس کے سامنے جاتی اپنے بال ڈراے کرتی ،، اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔
اُس کی سنہری زلفیں اُس کے کندھوں پر پھیلی اُسکی توجہ بری طرح اپنی جانب مبذول کروا رہی تھی ۔
چلیں ______ وہی کھڑے وہ دھیمے لہجے میں بولی ۔
آپ نے تیار نہیں ہونا ” نیچے سب ہوں گے دلشیر بھی آیا ہوگا ” آپ کا اس طرح جانا اچھا نہیں لگتا ” ۔
ہلکا سا میک اپ کر لیں ” نرمی سے گویا ہوا ،، خنفه نے پلکوں کی جھالر اٹھا کر اسکو دیکھا لیکن اُس کی آنکھوں میں موجود جذبے دیکھ کر اُسکا دل بری طرح دھڑکا اور وہ اُسکی لو دیتی نگاہوں کی تاب نہ لاتے مرتی اپنے کانپتے ہاتھوں سے ایک ہلکا گلابی گلوز اٹھاتے لبوں پر لگایا ،، آنکھوں میں کاجل لگائے اُسکی جانب پلٹی جیسے آنکھوں سے پوچھ رہی ہو کے اب ٹھیک ہے ،، وہ جو اُس کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھا مبہم سا مسکراتے اُس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتے ساتھ لیے زینے طے کرتا سب کے قریب آتے سلام کرتا بیٹھ گیا ،، اور وہ دلشیر سے ملتی نم آنکھوں سے واپس اس کے قریب آ کر بیٹھی ،،
________________
دروازے پر کھٹکے کی اوز سن کر وہ اپنی سرخ ڈورو والی آنکھیں کھولتی اٹھ کر بیٹھی ،، سب سے پہلی نگاہ اپنے پہلو میں ڈالی جو خالی تھی ،، دل میں درد سے ٹیسیں اٹھتی محسوس ہوئی تھی ،، اٹھ کر بیٹھنے سے لمبے گھنے بال پیچھے تکیے پر پھیل گئے ،، کئی آنسو ٹوٹ کر گال پر بہہ نکلے ” میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی تبریز ” آپ نے میرا دل دکھایا ہے ،، میں واپس چلے جاؤ گی اپنے گھر ،،مجھے یہاں نہیں رہنا دل میں اُس سے محاطب ہوتی وہ فیصلہ کر چکی تھی ۔
اذیت ہی اذیت تھی ،، ریڈی ہوتی وہ ہلکے پھلکے میک آپ میں اپنا سوگوار حسن لیے وہ طویل لاؤنج میں داخل ہوئی ،، اُس کے والدین آ چکے تھے ” ملازمہ بتا کر جا چکی تھی ،،
لاؤنج میں داخل ہوتے اُس نے دھیمی آواز سے سب کو اسلام کیا ،، جس کا جواب سب نے بڑی محبت سے دیا ،، اپنی ماں باپ کو دیکھ کر آنکھیں بھر آئ ،آگے بڑھتے سب سے پہلے وہ خنفه سے ملی ،،اور اس کے قریب کھڑی لیلک بیگم سے ملتی رو دی ،، میری جان کیا ہو گیا ہے پلوشہ بیگم بھی متفکر ہوتی اُسکی جانب دیکھنے لگی ،، جانے اب تبریز نے کیا کہا ہوگا ،، وہ سوچتی دل میں تبریز کی خبر لینے کا ارادہ باندھ چکی تھی ۔
ذیشان صاحب نے اُس کے سر پر شفقت بڑھا ہاتھ رکھا ،، کچھ نہیں ویسے ہی آپ کو دیکھ کے رونا آ گیا سوں سوں کرتی وہ ذیشان صاحب کے ساتھ لگتی صوفے پر بیٹھ گئ ۔
ڈائنگ حال میں ناشتے کے لیے بیٹھے تو دونو بھائی موجود نہ تھے ،، پلوشہ بیگم نے ضروری کام کا بہانہ بناتے انہیں ناشتا شروع کرنے کا کہا ۔۔
انہیں افسوس ہوا تھا دونو پر ،، یہ ان کی اولاد تھی جو شادی کی پہلی صبح غایب تھے ۔ انہیں سب کے سامنے سبکی کا احساس ہوا ۔
معراج کو تبریز کی غیر موجودگی کا علم ہوا تو جھٹکا سا لگا ،، اور دلشیر بھی ان سے ملتا جلد بازی میں نکل گیا ،، ضروری کام کا کہتا ،، اُسے باہر روکتے ساری بات کا پتہ لگوایا اور غصے سے مٹھیاں بینچی ۔۔
معراج کی اسپاٹ کاٹ دار آواز سے دلشیر کے قدم تھمے ،،کونسا ایسا ضروری کام ہے جس کا مجھے علم نہیں ،،آخر تم اور تبریز ہو کہاں ،،مجھے ساری بات بتاؤں بلکل سچ ،، اُس کی جانب تیکھے چتونوں سے دیکھتا وہ استفسار کرنے لگا ۔
اُسکی بات پر دلشیر نے سختی سے ہونٹ بینچے اور اُسے ساری بات بتائی ” __________ جسے سنتے معراج کا چہرہ لال بھبھوکا ہوا اور وہ بھنا گیا ۔
کیا میں جان سکتا ہوں کے مجھ سے یہ چھپایا کیوں گیا ہے ڈیم اٹ _______ ۔
اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ گرایا ۔۔
مجھے بھی ابھی معلوم ہوا ہے ” اسکو تو میں ابھی بتاتا ہوں آخر کیوں مجھ سے یہ خبر چھپائی گئی ۔
معراج اپنی پاکٹ سے فون نکالنے لگا ۔
نہیں میراج یہ سہی وقت نہیں ” عقل سے کام لو ،، ابھی آنٹی کو تبریز کو غیر موجودگی کا علم نہیں اس لیے بہتر ہے کچھ وقت ان کے پاس بیٹھوں ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد کوئی بہانہ بنا کر نکل آنا ” تب تک میں جا کے حالات دیکھتا ہوں ۔
ہم کوئ سمجھوتا نہیں کر سکتے” پہلے ہی وہ ہمارے گھروں تک رسائی حاصل کر چکا ہے ” اس بار ہمیں چوکنا رہنا ہے ،،اس بار اس نے وار ایک یتیم معصوم لڑکی پر کیا ہے ،،اس بار ہمیں اس کو ختم کرنا ہے تاکہ ہمارے پیارے محفوظ رہ سکیں ۔
معراج نے اُس کی بات سنتے چہرے پر سخت تاثرات سجائے سرعت سے سر ہلایا اور اندر کی جانب بڑھ گیا ۔
________________
دلشیر نے اُسے کال کرتے ہوسپٹل بلایا تھا ،، جہاں آتے ہی اُس نے طیش بھری نگاہوں سے سامنے کھڑے تبریز کو دیکھا لیکن وہ کچھ کہتا اس سے پہلے ہی وہ آگے بڑھتے اس کے سینے سے لگتا بھراے لہجے نم آواز میں بولا ،،
بھائی ہمارا بدلہ پورا ہوا ” آج میں کھل کر سانس لے سکتا ہوں ۔
میں اپنے باپ کے قاتل کو اُسکی اصل جگہ پہنچا چکا ہوں ،، میرے دل سے بوجھ اتر چکا ہے ۔
معراج نے اُس کے گرد ہاتھ لپیٹے اُس کی پشت تھپتھپای ۔
وہ بہت کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن اسے سامنے دیکھ کر ہونٹوں پر قفل لگ چکا تھا ۔
