Paband Slasal By Yumna Writes Readelle 50368 Paband Slasal (Episode 16)
No Download Link
Rate this Novel
Paband Slasal (Episode 16)
Paband Slasal By Yumna Writes
اُسکی نگاہیں خیرت اور خوف سے پھیلی ” اس نے آنکھیں جھپکتے سامنے کی جانب دیکھا ” خوف اور دہشت سے اُسکا جسم کپکپانے لگا ۔
سامنے کھڑے وجود کو دیکھتے اس پر خوف طاری ہونے لگا ۔۔
وہ پہاڑ جیسے وجود کا مالک شخص ” جس کے ایک رخسار پر كٹ کے بے شمار نشان تھے” کے اس کا چہرہ اتنا بدھا لگتا کے دیکھنے میں خوف محسوس ہوتا ۔۔
سیاہ رنگت پر اُس کے نشان اُسے بہت خوف ناک دکھاتے تھے ۔
وہ شخص اُسے دیکھ کے مکرو مسکراہٹ چہرے پر سجائے گھٹنوں کے بل فرش پر اُس کے قریب بیٹھا ۔
سید معراج کی محبوبہ ” آخر ہاتھ لگ ہی گئی ۔۔۔۔۔
کہاں ہے تمہارا بھائی اور عاشق ” انہیں بھلاؤ _____
چلاو” ________ کیوں کے آج تمہیں میرے قہر سے یہاں کوئی نہیں بچا پائے گا ۔۔
ڈرامائی انداز میں تھوڑی پر ہاتھ رکھے وہ بولا “
لیکن وہ تو مجھے تلاش کر رہے ہیں ۔
چلو کوئی نہیں ” تم انہیں میرا پیغام دے دینا ” شیطانی قہقہ لگاتے اُس نے خنفہ کے بالوں سے پکڑ کر اسے کھڑا کیا ۔
دور رہو ذلیل انسان “________
تم جانتے نہیں میرے بھائی کو ٫ ،، اگر مجھے کچھ ہوا تو وہ تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے ” خنفہ خوف کے باوجود چیخی ۔۔
وہ جو مسکرا رہا تھا ” خنفہ کی بات سنتے اشتعال میں آتا خنفه کا چہرہ اپنے سامنے کرتے اس نے ایک زور دار تھپڑ مارا ۔۔
تھپر اتنا سخت اور شدید تھا ،، کے اس کی تاب نہ لاتے وہ فرش پر منھ کے بل گری ” ہونٹ کا کنارہ پھٹ گیا ۔۔
چہرے پر انگلیوں کے نشان پڑ گئے ۔۔
اس کو تو آج تک اس کے بھائی نے سخت ہوا کو بھی چھونے کی اجازت نہ دی تھی ” آج وہ ظالم شخص اسے اپنے عتاب کا نشانہ بنا رہا تھا ۔۔
اسکا روم روم کانپ اٹھا تھا ” ________
اُس کے آدمی گن تھامے کھڑے تھے کے کسی میں ہمت نہ تھی اُسے بچانے کی ۔
وہ ابھی سمبھلی بھی نہ تھی ” کے اُسکی گردن سے دوبوچے پوری طاقت کے ساتھ سامنے شیشے کی دیوار کے ساتھ اُس کا سر مارا کے ایک چھناکے سے شیشہ چکنا چور ہوتا گیا ،،
خنفہ کے ماتھے اور سر سے بل بل خون بہنے لگا ” ۔۔
تکلیف کی شدت سے اُسکی چیخیں فضا میں گونج اٹھی” ۔۔۔۔
کیا کہا تھا تیرا بھائی “…. بلا اپنے اس عاشق اور بھائی کو ۔۔
تجھے ایسی سزا دوں گا کے ان دونوں کو عبرت حاصل ہوگی ۔۔
دوبارہ کبھی میرے کام میں ٹانگ اڑانے کی کوشش نہیں کریں گے سالے “
مجھے مارنا چاہتے ہیں وہ ” جانتے نہیں میں کون ہوں ۔
ملاحظات بکتے اُس نے فرش پر گری خنفہ کے ترپتے وجود پر لاتوں کی برسات شروع کر دی ۔
درد سے ترپتے وہ خود کو بچانے کے لیے گھٹری بنی چہرے پر ہاتھ رکھ گئی ۔
اس نے اپنی پوری طاقت لگا کے
اُس کی کمر پر ضرب لگای جس سے وہ کچھ دور فرش پر گری” اور اُس کے خلق سے ایک دل خراش چیخ نکلی ۔۔
آنسو آنکھوں سے نکلتے ٫،، چہرے پر بہنے لگے ۔
فرش پر بکھرا کانچ اُس کے وجود میں بری طرح پیوست ہوا ۔۔۔اور وہ تکلیف اور وجود میں اٹھتی ٹیسو کی تاب نہ لاتے اپنے خواص کھونے لگی ” ۔۔ آنکھیں بند کرتے جو آخری چہرہ اُس کی نگاہوں کے سامنے لہرایا ” وہ معراج اور دلشیر کا تھا ۔
اُس کی پشت خون آلود اُس کے بدن سے چپک چکی تھی ۔۔
ہاتھوں پر خون لگا ہوا تھا ” چہرے پر تھپڑ کے نشان ” اور پھٹا ہوا ہونٹ ” ۔۔۔
وہ خون میں لت پت ادھڑی پری تھی ۔
اُسکے ساکن وجود کو دیکھتا وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔
اُسکی آواز نے اُسے جھنجھور ڈالا ” ۔۔ اُسکا چہرہ لٹھے کی مانند سفید پرنے لگا ،، جیسے جسم میں خون ختم ہو گیا ہو ۔
اُس کے خشک لب پھرپھرائے تھے ” لیکن وہ اُسے روندھتا ہوا لے گیا تھا
اُسکے وجود کو تار تار کر گیا تھا ____________.
اُسکی آنکھوں میں موجود درد ” آنسو کی صورت بہنے لگا ۔
یااللہ رحم ” _________ اس کے لب سے آخری لفظ نکلا تھا ۔
پلوشہ بیگم کو انکا گارڈ گاڑی میں بیٹھا کر اندر کی جانب بھاگا تھا
لیکن لوگوں کی بھیڑ میں وہ بری طرح پھنسا ہوا تھا ” جب تک وہ وہاں پہنچا ” سب ختم ہو چکا تھا ۔۔وہ لوگ جا چکے تھے ۔۔
انکا دوسرا گارڈ پلوشہ بیگم کو لے کر مینشن گاڑی بھگا لے گیا ” ان کی جان کو بھی خطرہ تھا “…
ڈرائیور خوف سے پہلے ہی غائب ہو چکا تھا “
وہ خنفہ کا پوچھتی رہ گئی لیکن وہ خاموش بیٹھا رہا اپنے سر کے آرڈر پر ۔
گارڈز نے معراج کو کال کی اور ہانپتے ہوئے مال میں حملے کی خبر دی ______
معراج غصے سے پاگل ہوتا سٹیرنگ پر گرفت مضبوط کر گیا ” تم لوگوں کے وہاں ہونے کا کیا فائدہ جب میری فیملی سیو نہیں ____ ڈیم اٹ!!! ۔۔۔۔
اُسکی دھاڑ سے اُسکا گلا خشک ہوا۔
اب کیا کروں سر ” دوسرا گارڈ میم کو لینے گیا ہے ۔۔
ماں کو لے کر مینشن جاؤ ” میں پہنچ رہا ہوں وہاں ” ۔۔اور باقیوں کو خبر کرو ،،، مال پہنچے سارے ۔
خنفه کا سنتے دلشیر کا دل بند ہونے لگا ” ایک ہی تو کمزوی تھی اُسکی ،،اور وہ اُسکی بہن تھی ۔۔
تو کیا دشمن اس کے گھر تک پہنچ گیا تھا ” اُسکا دماغ مفلوج ہونے لگا _______.
______________
وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے گل سلطان سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے ” بیچ راستے میں وہ ابھی پہنچے تھے کے گارڈ کی کال سنتے وہ پاگل ہونے کو تھا
فون اسپیکر پر تھا ” جس کے باعث دلشیر تمام بات سنتا سناٹوں کی ضد میں آ گیا ۔
معراج کی آنکھوں میں خون اتر آیا _______.
یہ مرے گا ” ۔۔۔
میری گڑیا “________ اسے کچھ ہوا تو میں آگ لگا دوں گا سب کو ۔۔
کچھ نہیں ہو گا ” وہ بلکل ٹھیک ہو گی ،،اسے تسلی دیتا وہ گاڑی آندھی طوفان کی طرح سڑک پر بھگانے لگا
لیکن اپنا دل بے چین تھا ۔۔
گارڈ جب تک وہاں پہنچا وہ لوگ جا چکے تھے ،،اُسکی میم سامنے فرش پر بکھری حالت میں پڑی تھی لیکن اُس میں اتنی ہمت نہ تھی کے دوبارہ نگاہ اٹھا کے اُسے دیکھ پاتا ۔
قریب جاتے اس نے لوگو کو باہر نکالا ” اور خاموش نگاہیں جھکائے کھڑا ہو گیا” ۔
وہ جانتا تھا وہ دونو پہنچنے والے ہیں اور جانے اسکا کیا خشر کریں گے ۔
_______________
جھٹکے سے گاڑی روکتے وہ دونو اندر کی جانب بھاگے تھے ۔۔
دوسرے فلور تک پہنچتے دونو کو اپنے دل کی آواز کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔۔
معراج کا دلکش چہرہ اس وقت غصے سے لال تھا جبکہ دلشیر کے چہرے پر اس وقت اذیت اور کرب رقم تھا
وہ دونو بھاگتے ہوئے جیسے ہی ” سٹور میں داخل ہوئے ٫ وہی ان کے پیر جم آگئے ۔۔
جسم ساکت رہ گیا ” معراج کو لگا سامنے موجود وجود کو دیکھ کر اُسکا دل پھٹ جائے گا جبکہ
دلشیر “…
وہ تو اپنی گڑیا کی ادھری خالت دیکھ بے یقینی سے معراج کی جانب دیکھنے لگا ۔۔
یہ میری ہنی نہیں ہے “….. چلو یہاں سے میراج ۔۔
اسکا روم روم کانپ اٹھا تھا ” وہ اُسے اپنی بہن ماننے سے انکاری تھا ۔
معراج نے سرخ رنگ آنکھوں سے جنہیں دیکھتے گمان ہوتا کے ابھی خون بہہ نکلے گا ” ۔۔ اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔۔
یہ میری خنفہ ہے ” دلشیر ______ ۔
تمہاری ہنی ” ۔۔۔۔
دلشیر نے نفی میں سر ہلاتے اُسکی جانب دیکھا ” معراج نے کرب سے آنکھیں میچتے اثبات میں سر ہلایا ۔
ہنی میری جان ” ۔۔۔۔ دلشیر خود کو گھسیٹتے اس تک لایا ” اور دھرام سے فرش پر اُسکے قریب گرا ۔
اُسکے سر سے بہتا خون فرش کو بھی لال کر گیا تھا “
چہرہ خون آلود تھا _______ اُسکا پنک لباس سرخ پر چکا تھا ” دلشیر نے اپنے کانپتے ہاتھ سے اُسکا خون الود چہرہ صاف کیا تو چہرے پر نیل کے نشان ، واضح ہونے لگے”
اُسکی درگرو خالت پر ،،، وہ اُس کی بند آنکھوں پر لب رکھتا بے چینی سے اُسے پکارنے لگا ۔
اٹھو میری گڑیا ” بھائی آ گیا ہے ۔۔لیکن اُسکا وجود ساکن تھا ” _____ اس کے وجود میں کوئی جنبش نہ تھی
وہ اُسے جھنجھوڑتا سینے سے لگاتا ،، مضبوط مرد اپنا ضبط کھوتا دھاڑے مار کر رونے لگا ۔۔
اسے اپنے گرد کسی کی پرواہ نہ تھی ” ______ لوگ دور سے اُس شخص کو چیختا روتا دیکھ افسوس کر رہے تھے
معراج کی نگاہیں ایک بار اُس کے بے خال وجود پر پڑی تھی ” پلٹ کر اُس نے دوبارہ نگاہ نہ اٹھائ کے اس میں اس وقت اتنی ہمت اور حوصلہ نہ تھا ۔
ابھی تو وہ اپنے جذبات سے آشنا ہوا تھا ” ابھی تو اُسے یقین آنے لگا تھا کے وہ لڑکی اس کی زندگی میں کتنی اہمیت رکھتی تھی ۔۔
اسکی یہ خالت میراج کے دل کو گھائل کر گئی تھی ” ضبط کے باوجود اُس کی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر بے مول ہوا ۔۔
