Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Paband Slasal (Episode 12)

Paband Slasal By Yumna Writes

واپسی پر پلوشہ بیگم بہت خوش تھی ” بہت پیاری بچی ہے ہدیل” میرا تو دل خوش ہو گیا اس سے مل کر ۔۔

گھر والے بھی بہت اچھے ہیں ” تبریز میرے شہزادے جو ہوا وہ بھول جاؤ ” ________.

ان کی بات کو دل پر مت لو ” میرا بیٹا شہزادہ ہے ” اُس میں کوئی کمی نہیں ۔۔ وہ اُس کو خاموش پا کر اُداسی سے گویا ہوئ ۔۔

ماں میں ٹھیک ہوں ” اور خوش بھی ” آپ پریشان نہ ہو۔

انہیں یقین دلاتے گھر آتے وہ اپنے کمرے میں چلا گیا ۔

کمرے میں چکر کاٹتے اُس کے دل و دماغ میں بس ان کا حقارت سے بھرا لہجہ گردش کر رہا تھا ۔۔

اے سی کی فل سپیڈ میں بھی اُس کے ماتھے پر پسینہ چمک رہا تھا ” اور چہرہ سرخ پر رھا تھا ۔

اپنے گریبان میں ہاتھ ڈالتے اُس نے شرٹ کھینچ کر بدن سے الگ کی ” سارے بٹن ٹوٹ کر نیچے گرے ” ۔۔

اس کا کشادہ مضبوط سینا اور کسرتی بازوں نمایاں ہونے لگے ۔

پاؤ کو جوتوں سے آزاد کرتا وہ ایک ہاتھ سے اپنے بال پیچھے کرتا باتھروم میں شاور کے نیچے جا کھڑا ہوا ۔

خوبصورت سفید رنگت میں غصے اور ٹھنڈک کے مارے سرخیاں گلنے لگی ۔

سرخ آنکھیں پانی پرنے کے باعث مزید لہو چھلکانے لگی ۔

لیکن اُس پر تو اس وقت جنون سوار تھا ” جب جسم ٹھنڈے پانی اور اے سی کی کولنگ سے جمنے لگا تو وہ باہر آیا اور جھٹکے سے وارڈروب کھولتے نائٹ ڈریس نکالتے چینج کرنے چلا گیا ۔

کچھ دیر کے بعد دل و دماغ میں تھوڑا سکون اترا ٫،، اپنے نم بالوں کو پیچھے کرتے اُس نے فون نکالا ” تو وہاں ڈھیروں ہدیل کے میسیج موجود تھے ۔۔

جس میں زیادہ تر اُس نے معافی مانگی تھی اور کل ملنے کا بولا تھا ۔

ایک بار پھر سے غصّہ عود آیا ” سب سوچتے ۔۔

اُس نے اپنی پوری طاقت لگا کر ہاتھ ہلانے کی کوشش کی ٫ لیکن تھوڑی سی حرکت کے بعد وہ واپس گر گیا ۔۔

اس نے شعلہ اگلتی نگاہوں سے اپنے ہاتھ کو دیکھا اور پھر غضبناک تیوروں سے کھڑے ہوتے اُس ہاتھ سے ڈریسنگ پر پڑا سارا سامان نیچے گرا دیا ۔۔

ہاتھ میں شیشہ لگنے سے کافی گہرا کٹ آیا ” اور خون بہنے لگا ۔۔

لیکن اسے خوش کہا تھی ٫ وہ تو آتش فشاں بنا سب کچھ تباہ کر دینے کے در پر تھا .

ایک جنگ تھی جو دل و دماغ میں چل رہی تھی

معراج جو آج تھوڑا لیٹ ہو گیا تھا ” پلوشہ بیگم سے ملنے گیا تو انہوں نے اُسے ساری بات بتا دی ۔۔

وہ تیزی سے زینے پھیلانگتا اُس کے کمرے کی جانب گیا ۔

وہ جانتا تھا تبریز کو ،،وہ بہت جزباتی تھا ۔۔

کچھ غلط ہونے کے احساس سے وہ بھاری قدم اٹھاتا تیزی سے اُس کے کمرے کے قریب گیا اور ایک جست میں دروازہ کھولا ۔

سامنے کا منظر دیکھ کر اُسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ،، کسی نے رُخ کو جھنجھوڑا ہو جیسے

وہ سامنے فرش پر بیٹھا تھا ” اردگرد سارا سامانا بکھرا پرا تھا ۔۔

ہاتھ سے خون بہتا فرش کو بھی سرخ کر گیا تھا ۔۔ وہ ٹوٹی بکھری خالت میں بیٹھا سامنے یک ٹک دیکھے جا رہا تھا

معراج تیزی سے اُس کے قریب گیا اور بیٹھتے اُس کے زخمی ہاتھ کو تھاما ” جس پر اچھا خاصا گہرا کٹ لگا تھا ۔

تبریز ہوش میں ہو تم ” یہ کیا کیا ہے تم نے ؟…

وہ سخت نگاہوں سے اُسے دیکھتا اشتعال سے دھاڑا تھا ۔

اس نے ایک نظر معراج کے چہرے پر ڈالی ” بھائی ۔۔

میں جان لے لوں گا تمہاری” ہمت بھی کیسے ہوئ خود کو نقصان پہنچنے کی ” ماتھے پر بل ڈالے وہ سرخ رنگ آنکھوں سے گرایا ۔۔

بھائی ٫ ،، کیا میں نامکمل ہوں ” ؟؟….

اُس کے لہجے میں کیا نہ تھا ” ۔۔۔ درد ،،۔۔ دکھ ،،

معراج کا دل پھٹتے والا ہو گیا اُسکی تکلیف پر ۔

بھائی کی جان ” میرا بچہ ۔۔۔ تم بلکل مکمل ہو ” پیارے دل اور شخصیت رکھنے والے ۔

اُس کے ہاتھ پر قریب گری اُسکی شرٹ کو پھارتے باندھا اور اُسے سینے میں بینچ لیا ۔

آنکھ سے ایک آنسو سید معراج کے کندھے پر گرا تھا ۔

کچھ نہیں ہوا ” ایسے کیوں خود کو تکلیف دے رہے ہو ۔

اُسکی وحشت زدہ سی آنکھیں میں دیکھتے اُسے خود سے علیحدہ کرتے اُس کا چہرہ ہاتھوں میں لیتے گویا ہوا ۔

لیکن تبریز کی آنکھوں میں موجود گہرا دکھ دیکھ کے اُسکا اپنا دل کٹنے لگا ۔۔

دل کیا آگ لگا دے اُس عورت کو جس نے اُس کے بھائی کے زخموں کو اُدھیڑا تھا ،، جان لے لی اُسکی اس سفاکیت پر ۔۔

اب ہی تو وہ خوش رہنے لگا تھا ” اپنا آپ اُسے مکمل لگنے لگا تھا ۔

چند ثانیے بعد وہ اُسے زبردستی قریب کلینک لے کر گیا اور بینڈج کروا کر اُس کے کمرے میں لا کر بستر پر لٹایا ۔

جا کر دودھ کا گلاس ٹرے میں رکھتے لایا اور ساتھ دوا دی ۔

آج تمہاری اس حرکت نے ثابت کر دیا ہے کے تمہاری نظر میں ہماری کوئی ویلیو نہیں ۔۔

ایک گوار عورت کے لیے تم نے خود کو نقصان پہنچایا ۔۔

وہ تبریز کو غورتا گرایا ۔۔

میرے ،،ماں یاں ہدیل کے سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔۔

کیا چاہتے ہو تم ” انکار کر دیتا ہوں صبح ہی اس نکاح سے۔۔

نہیں جوڑنا ہمیں ایسا کوئی تعلق ،،جس سے تمہیں تکلیف پہنچے ۔

بھائی اُسکی کوئی غلطی نہیں ” وہ اپنے دکھتے سر کو تھامے ہلکا سا احتجاج کرتا بولا۔۔

یہی تو میں کہہ رہا ہوں ” تم جانتے ہو وہ تم سے محبت کرتی ہے ،،اس نے کبھی تمہیں احساس دلایا کے تم میں کوئ کمی ہے ۔۔۔تو پھر کس بنا پر تم خود کو زخم دے رہے ہو ،، تکلیف پہنچا رہے ہو ۔

وہ درشتگی سے کہتا منھ موڑ گیا “

بھائی اُس نے مجھے معذور بولا ” مجھے کم تر کہا ۔۔

میرا اور ہدیل کا کوئی جوڑ نہیں اُس نے مجھے یہ بات باور کروائی___________.

وہ نگاہ چراتا دھیمے لہجے میں بولا ۔

شٹ اپ تبریز “… ایک تھپڑ کھاؤ گے اب مجھ سے کچھ فضول گوئی کی تو ۔۔

میرا سر دکھ رہا ہے ” اس کی گود میں اپنا سر رکھتا وہ لاڈ سے بولا ،،تو میراج گہرا سانس خارج کرتا اُس کا سر دبانے لگا ۔۔

وہ ساری رات جاگتا رہا ” بیڈ کراون سے ٹیک لگائے اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اُسے بہت کچھ سمجھآتا رہا ۔۔

اور وہ آنکھیں موندے سب کچھ بھلاتا اپنے بھائی کی محبت دیکھتا سرشار سا ہوتا گہری نیند میں چلا گیا

معراج کو جب پلوشہ بیگم نے ساری بات بتائی تو اُسے بھی یہ بات بہت گراں گزری ” لیکن ہدیل کی تبریز کے لیے محبت اور اُس کے آنسو کا سن کر وہ خاموش ہو گیا ۔

ورنہ وہ خود اس سے بات کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔

فجر کی اذان سنتے اُس نے نرمی سے اُسکا سر تکیے پر رکھا اور دھیمے قدم اٹھاتا باہر نکل گیا ۔

وہ خود بھی کافی تھک چکا تھا ” گردن اکڑ چکی تھی ” ڈریس لیتا فریش ہونے چلا گیا ” نماز ادا کرتے وہ بستر پر ڈھ گیا ۔۔

___________Yumna Writes 💝💝

وہ اس وقت سب کے بیچ بیٹھا نشے میں دھت اپنی گود میں ایک جوان حسینہ بٹھاے ہوے تھا ۔۔

ایک ہاتھ میں شراب اور دوسرے میں نوٹوں کی دتھی پکڑے وہ اس پر اُڑا رہا تھا ۔۔

یہ منظر ایک بار کا تھا جہاں ” تمام سیاسی پارٹیوں کے بڑے بڑے میبمران اپنے کالے دھندوں کی کامیابی کی خوشی میں اکٹھے ہوتے شراب اور شباب کے مزے سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔۔

رات کے دو بجے جیسے ہی اُسے سگنل ملا وہ دونو بلیک ماسک لگائے ” بلیک سوٹ بوٹ پہنے ” ایک رکشے میں بیٹھے تھے “

دلشیر حسن نے اپنے خاص آدمی کو اس پارٹی میں ویٹر کے طور پر بیجھا تھا جو اسے پل پل کی خبر دے رہا تھا ۔

انور بیگ کے اٹھتے ہی اُس نے انہیں سگنل بیجھا تھا اور وہ دونو اپنے آدمی کے ہمراہ ایک رکشے میں بیٹھے وہاں پہنچے تھے ۔

تاکہ کانوں کان کسی کو خبر نہ ہو سکے ” ۔۔

انور بیگ کے ڈرائیور کو وہ بے ہوش کرتے جھاریوں میں بھینک چکے تھے اور اُسکی جگہ معراج نے سمبھال کی تھی

جنگل میں رکشہ کھڑا کرتے دلشیر خود بھی درخت کی آر میں چھپ گیا تھا ۔۔

اور اب وہ اپنی سرد آنکھوں سے مسلسل دروازے کی جانب دیکھ رہا تھا۔

معراج بھی سر جھکائے گاڑی میں اپنی جگہ سمبھال چکا تھا

جب اُس کی نظر سامنے سے آتی لڑکی پر پڑی ” جو عریاں لباس میں اُسے سہارا دیتی باہر اسکی گاڑی تک لائی تھی ۔۔

گاڑی میں پیچھلی سیٹ پر گرنے کے انداز میں بیٹھتے وہ اُس کے گال پر لب رکھتا مکروہ نگاہیں اس کے جسم پر چپکائے آنکھوں میں چمک لیے بولا ۔۔

پھر ملیں گے جان من ” کبھی آؤ نا میرے غریب خانے میں بھی ۔۔

سر سیٹ پر گراتا مدہوشی کے عالم میں کہتا وہ آنکھیں موند گیا ۔

لڑکی کے جاتے ہی معراج نے ایک نظر پیچھے اس کے بے سدھ وجود پر ڈالی اور دلشیر کو اشارہ کیا ۔

اس کے بیٹھتے ہی وہ گاڑی بھگا لے گیا ۔۔

انور بیگ کی کوٹھی اس وقت بلکل سنسان پری تھی “

انہوں نے اس کو کمرے میں لاتے کرسی پر بٹھاتے اُس کے ہاتھ پیر باندھے اور اُس کے چہرے پر پانی سے بھرا جگ گرایا ۔۔

وہ ہربڑا کر ہوش میں آیا ” اور اپنے بندھے ہاتھ دیکھ کر سارا نشہ جاتا رہا ۔۔

کون ہو تم ” ۔۔۔

مجھے کیوں باندھا ہے ” کھولو مجھے ” تم جانتے نہیں اب میری طاقت ٫….

میں کہتا ہوں کھولو مجھے ورنہ تم نہیں بچو کے ۔۔

وہ اپنی سرخ نشے سے بھری آنکھیں نکالتا دھارا “..

تو وہ دونو استہزایہ مسکرا دیے ” ۔۔اتنی جلدی بھول گئے مجھے ” چلو میں یاد کروا دیتا ہوں ” جس سید احمد کو تم نے قتل کروایا تھا نہ میں اُسکا بڑا بیٹا ہوں ۔۔

معراج نے گراتے اُس کے چہرے پر پوری شدت سے ضرب لگائی اور اپنا ماسک اُتارا ۔

اُس کے ہونٹ پھٹ گئے اور خون بہنے لگا ،،بے غیرت آدمی ” تیری بھلای اسی میں ہے کے میرے باپ کے قاتلوں کا نام بتا دے ” ورنہ آج تجھے ایسے ترپا ترپا کے ماروں گا کے تیری روح تک کانپ اٹھے گی ” ۔۔

اُس کی جانب دیکھتے سرد برفیلے انداز میں وہ دھاڑا” تو انور بیگ بھی گھبرا گیا ۔۔

میں کچھ نہیں جانتا اس بارے میں ” باقی کے الفاظ اُس کے منھ میں تھے کے دلشیر نے جھکتے اُس کی ایک انگلی کو ہے دردی سے موڑتے توڑ دیا ” ۔۔

رات کے سناٹے میں اُسکی دلخراش چیخیں گونج اٹھی ۔

ابھی اُس نے دوسری انگلی تھامی ہی تھی کے وہ تکلیف سے بلبلاتا چیخ اٹھا ۔۔

بتاتا ہوں ،،بتاتا ہوں ۔۔۔

دلشیر اُسکی جانب دیکھا ” اور معنی خیزی سے مسکرایا ” جلدی بتا ۔۔

اور اگر اس میں ذرا سا بھی جھوٹ ہوا تو تیری جان لینا ہمارے لیے مشکل نہیں ” معراج نے گرجتے گویا حکم سنایا ۔۔

اپنے ساتھ موجود باقی تینوں کے وہ نام بتا چکا تھا ” ۔۔

اور انہیں ثبوت کے طور پر اپنا فون بھی دے چکا تھا ۔۔

معراج نے اپنی پاکٹ سے ایک منی نائف نکالی جس کی دھار بہت تیز تھی ” اُس کے چہرے پر پھیرتے وہ طیش میں گویا ہوا ” اگر اس میں ذرا سا بھی جھوٹ ہے تو پہلے ہی بتا دے ” ورنہ _______چاقو کی نوک اُس کی شہ رگ پر رکھتے چند ثانیے کے لیے رکا ” ۔۔

میں قسم کھاتا ہوں میں نے جھوٹ نہیں بولا ” مجھے چھوڑ دو ” ۔۔خوف کے مارے اُسکی آنکھیں باہر آنے کو تھی

کیا سوچا تھا تم نے کے میرے باپ کو مار کر تم چین سے رہ پاؤ گے ۔۔

تم جانتے نہیں ابھی ہم سید زادو کو “__________ ۔

جو ہماری نگاہوں سے گزر جائے اس کو قبر تک پہنچا کر ہی دم لیتے ہیں ۔۔

اور تم ” تم نے تو ہمارے گھر کی بنیاد مٹا ڈالی “

اور وہ بھی اتنی بے دردی سے “…

تم لوگ ہمارے ملک اور قوم کے لیے ناسور ہو ” جو ہمیں اندر ہی اندر ختم کر رہے ہیں ۔۔

تمہارا وقت ختم ” کہتے اُس نے شدت سے اُسکی شہ رگ پر چاقو پھیرا تھا ۔۔

خون کے چھینٹے اڑھتے اُسکے چہرے پر پڑے تھے اور اُسے اپنے اندر سکون کی لہر اُترتی محسوس ہوئی تھی ۔

معراج نے مسکراتے دلشیر کی جانب دیکھا ۔

خون فوارے کی صورت بہنے لگا اور وہ مچھلی کی طرح ترپنے لگا ” ۔۔

دلشیر نے آگے بڑھتے اُس کے کمرے میں پڑی شراب کی بوتل اٹھائی ،،

اُس کے ہاتھ کھولتے اس پر وہ مخلول انڈیلتے اپنی پاکٹ سے لائٹر نکال کے جلاتے اس پر اچھالا ۔

ایک سیکنڈ میں اُس کا کمرہ آگ کی لپیٹ میں آ گیا ۔

دونو جیسے آئے تھے ویسے ہی خاموشی سے وہاں سے نکل گئے ” ۔۔

باقیوں کا کیا کرنا ہے ” دلشیر نے اُسکی جانب دیکھتے استفسار کیا ۔۔

انکا بھی یہی خال ہو گا ” جب تک ان کا لہو بہتا نہیں دیکھوں گا تب تک چین نہیں پرے گا مجھے ۔

ٹھیک ہے پھر میں کل تک تمہیں نیکسٹ ٹارگیٹ کی خبر کرتا ہوں ” معراج سر ہلاتے رکشے میں بیٹھا ٫،، اور دونو اپنی منزل کی جانب چل دیے ۔۔

تبریز کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ” اور کچھ وہ اُسے سٹریس نہیں دینا چاہتا تھا ” لیکن وہ اُس کے نکاح سے پہلے ان سب کو ختم کرنا چاہتا تھا ۔۔

دبے پاؤ مینشن میں داخل ہوتے وہ اپنے کمرے کی جانب چلا گیا ۔۔

اور فریش ہوتا لیٹ گیا ۔