Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Paband Slasal (Episode 22)

Paband Slasal By Yumna Writes

آج سید مینشن میں پہلے کی نسبت چہل پہل تھی ” مینشن کو گلاب کے پھولوں اور پتیوں سے بڑی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ۔۔

تبریز کے انکار کے باوجود پلوشہ بیگم نے بڑھ چڑھ کر ساری تیاریاں کی تھی ” البتہ انہیں اتنی جلدی نکاح کی تقریب پر معراج پر غصّہ آیا تھا کے وہ چاہتی تھی کے ان کے دونوں بیٹوں کا نکاح وہ بہت دھوم دھام سے کریں گی ۔

لیکن خالات اور وقت ایسا تھا کے انہیں اتنا وقت نہ مل سکا

پھر بھی انہوں نے کسی چیز میں کمی نہ رہنے دی ” باہر وسیع پیمانے پر پھیلا خوبصورت گارڈن کو رنگ برنگے پھولوں اور پردوں سے سجایا گیا تھا کے دیکھنے والا اس حسین منظر میں کھو سا جاتا ۔

دونوں اطراف میں دلہا دلہن کے لیے اسٹیج سیٹ کروایا گیا ” درمیان میں موجود ایک باریک سفید رنگ کی جالی کا سٹینڈ رکھا گیا جس میں ان کا نام گوٹے کی خوبصورت گولڈن تار سے لکھا گیا تھا ۔

لیلک بیگم اتنی جلدی رخصتی کے لیے رضامند نہ تھی” لیکن جب معراج نے ساری بات ان کے گوش گزار کی تو وہ خاموش ہو گئی ” ذیشان صاحب نے لیلک بیگم کی جانب دیکھا جن کے چہرے پر سوچ کی پرچھائیاں چھائ ہوئی تھی ۔

مجھے امید ہے آپ میری بات سمجھیں گے ” اُس نے متانت بھرے لہجے میں کہتے ان کی جانب دیکھا ۔

اچانک ہدیل کا خیال آنے پر وہ روہانسی ہوتی گویا ہوئ ” بیٹا ابھی ہم نے ہدیل سے بھی اجازت لینی ہے ” جس نے زندگی گزارنی ہے اس کی رائے جانے بنا تو ہم کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے بیٹا _______.

اس نے گہری سانس خارج کرتے گویا ان کے سروں پر خیرتوں کا پہاڑ توڑا ______

میں اجازت لے چکا ہوں ان سے ” اور انہیں کوئی اعترض نہیں

اور ویسے بھی رخصتی تو پہلے ہی ہونی تھی ” وہ پھر کل ہو یاں دو دن بعد کیا فرق پڑتا ہے ۔

بیٹا وہ نکاح کے لیے رضامند ہوگی ” _____

لیکن بیٹا جانے رخصتی کا سننے کے بعد ہدیل کا کیا ردعمل ہوگا ” آپ جانتے ہیں نہ وہ بہت جلدی پریشان ہو جاتی ہے ۔۔

لیلک بیگم متفکر سی ہدیل کا سوچ کر گویا ہوئ ” آنٹی کچھ نہیں ہوگا ” ۔۔۔۔۔

آپ لوگ پریشان نہ ہوں ” معراج نے انہیں تسلی دیتے ذیشان صاحب کے ہاتھ پر دباؤ ڈالا تو وہ مطمئن ہوتے سر کو جنبش دیتے مبھم سا مسکرا دیے

کل تیار رہیے گا پھر ” _______ شام کو نکاح کی تقریب منعقد کرتا وہ ان سے بات کرتا اٹھ کھڑا ہوا ۔

ہدیل کو سن کر جھٹکا لگا تھا ” البتہ وہ وجہ جانتی تھی اتنی جلدی نکاح کی” معراج اُس سے پہلے ہی بات کرتے اُسے پرسکون کر چکا تھا ۔

وہ جانتی تھی سب کچھ ” اس شخص کو اُسکی محبت کو لیکن جانے کیوں دل بے تخاشہ گھبراہٹ میں مبتلا تھا ۔

معراج کے استفسار کرنے پر اُس نے لب سختی سے آپس میں پیوست کرتے اُسے اپنی رضامندی دے دی تھی ۔وہ اسے اپنے اعتماد میں لے چکا تھا اور اُسے یقین دلایا تھا کے آگے کبھی بھی تبريز نے اس کے ساتھ سخت رویہ رکھا تو اسے شکایت لگا سکتی ہے ،، اس کے لہجے میں مان اور التجا دیکھ کر وہ خاموش ہو گئی ،،

معاواً لب خشک پرے تھے ” نا محسوس انداز میں وہ اُس سے خوف زدہ ہو رہی تھی ،، اس کا بے باک انداز وہ پہلے دیکھ چکی تھی ۔

اضطراب کی کیفیت میں گھڑی ” اپنی نم آنکھیں جھپکتی آنسو روکنے کی تگ و دو میں تھی ،، اُسکی گہری سیاہ بولتی آنکھیں ” اور پر تپشِ لہجہ ” معنی خیز باتیں یاد کرتے اُسکا دل گھبرانے لگا ۔

جانے کیسے وہ اس شخص کے روبرو ہوگی ” یہ سوچ ہی اُسکا دل دہلانے کے لیے کافی تھی ” خیر سب رب پر چھورتی وہ اپنے اندر اٹھتے خوف کو کم کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔

دوسری جانب معراج کے جانے کے بعد وہ کافی وقت جی بھر کے روتی رہی ۔۔

دلشیر نے اس کے کمرے میں قدم رکھا تو وہ سامنے خالی خالی نگاہیں ایک جانب مرکوز کیے ہوئے تھی ۔۔

ہنی _______

لہجے میں نرمی اور محبت سموئے وہ اسے سینے میں سموئے دھیمے لہجے میں گویا ہوا

میں بہت خوش ہوں آپ کے لیے میری جان”..

اُس کے ماتھے پر لب رکھتے لہجے میں محبت سموئے وہ سرشار سا گیا ہوا ٫،،

خنفه نے سرعت سے سر اٹھاتے اُسکی جانب دیکھا ” اور سکتے کی کیفیت میں بولی ” ۔۔۔۔۔

آپ جانتے ہیں نہ وہ میرے ساتھ زبردستی نکاح کے رہے ہیں ،، آپ پھر کیوں خاموش ہیں ،، ناراضگی بھری نگاہ اُس پر ڈالتے وہ اسی کے سینے سے لگتی اپنی نم آنکھوں سے اُسکی شرٹ کو دبوچ گئی ۔

میں جانتا ہوں لیکن اس وقت خالات ایسے ہیں کے مجھے خاموش ہونا پڑا ” میں نہیں چاہتا کے دشمن دوبارہ میری جان کو تھوڑی سی بھی تکلیف پہنچائے ۔۔

لیکن بھائی میں اتنی جلدی رخصتی نہیں چاہتی ۔۔

اُس نے شکوہ کناہ نگاہ سے اُسکی جانب دیکھا

معراج بہت اچھا انسان ہے ” اور سب سے بڑھ کر آپ سے بہت محبت کرتا ہے ۔ آج نہیں تو کل رخصتی ہونی تو ہے ،، اور معراج نکاح کے ساتھ ہی رخصتی چاہتا ہے ،، ہمارے دشمن تاک میں بیٹھے ہیں بچے ” کے کب کوئی چوک ہو ہم سے اور وہ حملہ آور ہوں ۔

دلشیر نے اسے سمجھایا !!!

آنسو کا گولہ خلق میں اٹک گیا ” _______

میں آپکو چھوڑ کر ابھی نہیں جانا چاہتی ٫ اس کے گرد بازوں پھیلاتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔

تو میں کونسا آپکو خود سے دور کر رہا ہوں میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ،، پاس ہوں ۔۔

آپ جب چاہوں مجھ سے ملنے آ جانا ” اس کے ہاتھ تھامتے اُسے تسلی دی ۔ ہنی معراج سے کبھی بدزن نہ ہونا اور نہ اپنی کسی بات سے اُسے تکلیف پہنچانا ٫،، وہ بہت اچھا انسان ہے ،،اور سب سے بڑھ کر وہ آپکی پسند ہے ۔۔میں اُس پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کر سکتا ہوں ۔۔

سنجیدگی اُسکی طبیعت کا خاصہ ہے ،، لیکن وہ اپنے رشتوں کے لیے بہت شدت پسند ہے ۔

اس کی بات پر وہ سختی سے آنکھیں میچ گئی”

مجھے یقین ہے آپ خوش رہو گی _____ اُسکی مثبت باتوں اور سوچ پر وہ گہرا سانس بھرتی خاموش ہو گئی ۔

وہ مزید اپنی وجہ سے اپنے بھائی کو تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی ” اُس کے سینے سے لگے وہ سوچوں کے گرداب میں گھڑی ہوئ تھی ۔۔

بے بسی کا احساس روح میں بری طرح سرایت کرنے لگا تھا ” وہ تو اندر سے خالی تھی “

اُسکا اندر کھوکھلا ہو چکا تھا ٫ وہ کیسے اس کے ساتھ کوئی بھی رشتہ استوار کر سکتی تھی ۔۔

اُسکا روا روا کانپ اٹھا تھا ” گویا وہ اُس شخص کی تھوڑی سی قربت برداشت نہیں کر سکتی تھی ” کہاں وہ اُس کا ساتھ ہمیشہ کے لیے پانے ” اُس کے نام ہونے جا رہی تھی ۔

اُس کے ذہن کے پردوں پر اُسکا سخت انداز اور لہجہ یاد کرتے لہرایا تو اس نے بے ساختہ جھرجھری لی ۔

____________

دیکھتے ہی دیکھتے صبح سے شام ہو گئی” ۔۔

موسم سرما کی آمد تھی _______ ہوا میں ہلکی خنکی چھائ ہوئ تھی ۔

معمول کے خلاف آج مینشن میں گھما گہمی تھی ،، تمام ملازم ” ہدیل اور خنفہ کی سہیلیاں ان کے ساتھ تیاریوں میں مصروف تھی ۔

آج کی شام سید مینشن پر خوشیوں کا پیغام لیے اتری تھی ۔

ہدیل تو خاموش تھی ” البتہ خنفه بے دل سی آ کر کمرے میں بیٹھی تھی ۔

میرا دل گھبرا رہا ہے آپی ” وہ جو خاموش بیٹھی اردگرد کی رونقوں سے بیزار سی تھی معاواً ہدیل کی روہانسی آواز گونجی ۔۔۔۔

وہ جو خود پریشان مرجھائی سی تھی جھٹکے سے اٹھ کے اُس کے قریب گئی ..

پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہنی ” کچھ نہیں ہوتا ۔۔

وہ مان جائیں گے ” تم ان سے بات کرنا ۔۔

وہ گلو گیر لہجے میں کہتی اپنے آنسو پر بند باندھے لگی جو وہ کب سے روکے ہوئے تھی۔

وہ نہیں مان رہے اور نہ مجھے میری غلطی بتا رہے ہیں آخر ایسی کیا خطہ ہو گئی ہے مجھ سے کے وہ يوں رخ موڑے ہوے ہیں آپی _______ ۔

مجھے سمجھ نہیں آ رہا میں کیسے ان کو مناؤں ” کیا کروں گی ” _____

ابھی وہ اسے حوصلھ دے ہی رہی تھی کے

بیوٹیشن اپنا سامان لیتی کمرے میں داخل ہوئ ۔اور اسلام کرتے اپنا سامان سیٹ کرنے لگی ۔۔

دونوں کی نگاہ بیک وقت سامنے لٹکے شراروں اور جیولری پر پری ٫ دل بے ساختہ دھرک اٹھا ۔

میم آ جائیں _______ اس نے نرمی سے کہتے ان کی جانب دیکھا ۔

خنفه نے اُسے آنکھوں سے تسلی دیتے بیٹھنے کا اشارہ کیا

بے شک دکھ اُسکا زیادہ تھا لیکن وہ ہدیل سے عمر میں بڑی اور سمجھدار تھی ،، بعض اوقات وقت اور خالات اتنے سخت ہو جاتے ہیں کے آپ جتنے بھی سمجھ بوجھ والے کیوں نہ ہوں ______ اپنا ضبط کھو دیتے ہیں۔

ہدیل تھوک نگلتے مرے قدموں سے چلتی جا کے کرسی پر بیٹھ گئی ۔

خنفه نے گلاس وال سے آتی ہلکی روشنی پر نگاہ دوڑائی ،جہاں شام ہر سو اپنے پر پھیلا رہی تھی،،ڈوبتے سورج کی سرخی آسمان پر بکھری پڑی تھی ۔

باہر گارڈن میں چمکتی رنگ برنگی روشنیوں اور پھولوں کی خوشبو سے ایک سحر انگیز ماحول چھایا ہوا تھا جو دیکھنے والے کو مبہوت کر دیتا ۔

معراج اور تبریز دونوں ہی مہندی کے لیے تیار نہ تھے ” جس طرح کے حالات میں انکا نکاح منعقد پایا تھا وہ کوئی دوسری تقریب اور زیادہ شوروغل نہیں چاہتے تھے ۔

نکاح کی چھوٹی سی تقریب تھی ” جس میں تینوں خاندان کے قریبی رشتے داروں نے شمولیت کی تھی ۔

نکاح کے فوراً بعد رخصتی تھی ” اسلئے دونو دلہنوں کو انہی کے مینشن میں ہی تیار کیا جا رہا تھا ۔

سارے مہمان آ چکے تھے ” پلوشہ بیگم اور لیلک بیگم ان کی جانب متوجہ تھی ” ۔۔۔

ایک جانب ہدیل تھی جو نکاح کے لیے راضی تو تھی ” لیکن دل و دماغ بری طرح الجھا ہوا تھا اور دوسری جانب خنفه ” جو نکاح کے لیے بلکل تیار نہ تھی لیکن “

معراج کی دی ہوئ دھمکی اور اپنے بھائی کے لیے دل کو مار کے وہاں بیٹھی تیار ہو رہی تھی ۔

معراج اور تبریز نے ایک جیسے لباس زیب تن کیے تھے ” سفید شلوار سوٹ پر مہرون کڑھائی سے مزین شال اپنے شانوں پر پھیلائے وہ خوبصورت شہزادے لگ رہے تھے ۔

پلوشہ بیگم نے سب سے پہلے دونو کی نظر اتاری”..

وہ دونوں اپنی ماحول میں چھا جانے والی سہر انگیز پرسنالٹی کے ساتھ سب سے ملتے اسٹیچ پر براجمان ہوئے تھے ۔

کچھ ہی پل میں ذیشان صاحب اور دلشیر دلہن کو لینے جا چکے تھے ۔۔

ماشاء االلہ __________ ہماری بیٹیاں تو بہت حسین لگ رہی ہیں “

ذیشان صاحب نے کمرے میں داخل ہوتے دونوں کی جانب دیکھتے محبت سے چور لہجے میں دونوں کی جانب دیکھتے مشفقانہ لہجے میں کہتے ان کے سر پر پیار دیا

وہ دونو جو خاموش سر جھکائے بیٹھی تھی ” جھٹکے سے سر اٹھا کے دیکھا ،،، دونوں کی انہیں سامنے دیکھتے آنکھیں بھیگنے لگی ۔

دلشیر ان کی تقلید میں کمرے میں داخل ہوا تو آنکھیں بھیگ گئی ۔

سامنے سفید گولڈن کنٹراسٹ شرارے کرتی میں وہ لائٹ سے میک آپ میں نظر لگ جانے کی حد تک حسین لگ رہی تھی ۔

ناک میں چھوٹی سی نتھ ” بالوں کو کرل کرکے ایک جانب ڈالا ہوا تھا ____ گلے میں چھوٹا سا پینڈت ،، دونوں بہت حسین لگ رہی تھی ” ہدیل نے حجاب باندھا ہوا تھا

وہ بھاگتی دلشیر کے سینے سے لگی ” بھائی _

اُس کے لب کپکپانے لگے ” دل کو دھڑکن بڑھنے لگی

میری گڑیا بہت حسین لگ رہی ہے ” میری جان ” _______ رونا نہیں ۔

میرا بچہ ہمیشہ خوش رہو ” میرا رب ہمیشہ تمہیں اپنی خفاظت میں رکھے ۔۔

وہ جو خنفه کو روتے دیکھ آنسو اپنے اندر اتار رھی تھی زیشان صاحب کی بات سنتے دھیرے سے سر ہلایا ۔

دلشیر نے آگے بڑھتے ہدیل کے سر پر بڑے بھائی ہونے کے ناطے ہاتھ رکھا اور اسے بھی اپنے حصار میں لیا ۔

ہدیل اُس کے ساتھ لگتی شدت سے رو دی ” نہ میرا بچہ ۔آپ دونو تو بہت بہادر بچے ہو میرے “

ایک بات یاد رکھنا آپ کے پیچھے آپکا بھائی کھڑا ہے،آپ دونو اکیلی نہیں _______

کسی نے میری بہنوں کی جانب سخت نگاہ بھی کی تو آنکھیں نکال کے رکھ دوں گا اُسکی ۔۔

ذیشان صاحب اور لیلک بیگم کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرے ” انہیں دیکھ کر جو ” اس کے ساتھ چپکی ہوئی تھی ۔

وہ دونوں دلشیر کے ہمراہ گارڈن میں داخل ہوئی تھی ” جہاں سارا انتظام کیا گیا تھا ،

دونوں کو باہر لایا گیا اور اسٹیج پر بیٹھایا گیا جہاں پر پہلے سے ہی پردے کا انتظام تھا ۔

سب سے پہلے معراج کا نکاح ہوا ______ نکاح کے پیپر پر دستخط کرتے وقت خنفہ کے ہاتھ کانپنے لگے ” دل کی آواز کانوں میں سنائ دینے لگی ۔۔

اس نے بے تخاشہ روتے قبول ہے کے لفظ ادا کیے اور دلشیر کے ساتھ لگتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی,, میراج نے اسکو جالی سے روتا دیکھ ضبط سے مٹھیان بینچی ۔

ہدیل بنت ذیشان کیا آپکو سید تبریز سے نکاح قبول ہے ۔

یہ الفاظ سنتے ہی اُس کے ذہن کے دریچوں پر گزرے سارے لمحات چلنے لگے ۔۔

آنکھیں بھیگنے لگی ” دل کیا اُس ستمگر کو جھنجھوڑ کے پوچھے کے اُسکا کیا قصور تھا” کیوں اس سے وہ اتنی سردمہری اختیار کیے ہوے ہے ” نم ہوتی آنکھوں کو سختی سے میچتے اُس کے لب ہلے ۔

فضا میں قبول ہے کی آواز گونجی تو سب پرسکون ہوتے مسکرا اُٹھے ” اور ایک دوسرے سے ملنے لگے ۔

ساؤنڈ سسٹم میں ہلکا میوزک چلنے لگا “

گانے کے بول ہر سو رقص کرنے لگے

حسن جانا کی تعریف ممکن نہیں ______

ایسا دیکھا نہیں خوبصورت کوئی ______

تو بھی دیکھے اگر تو کہے ہم نشین ________

آفرین _____آفرین______.

معراج نے اُس کے ہاتھ پر گرفت سخت کرتے اُسے اپنے ساتھ کھڑا کیا ۔

چہرہ ایک پھول کی طرح شاداب ہے _______

چہرہ اُسکا ہے یاں کوئی مہتاب ہے ۔

دوسری جانب تبريز نے بغیر اُسکی جانب دیکھے اس کا ہاتھ تھامے کھڑا کیا ۔۔

اُسکی گرفت پر ہدیل کپکپا اٹھی “..

تبریز جو اُس سے غافل کھڑا تھا ،، نگاہ اس کے گھبرائے ہوے چہرے پر پڑی جو سامنے موجود کیمراز دیکھ کر کنفیوز ہونے لگی ۔

اُس کے ہاتھ پر دباؤ ڈالتے تبریز نے اُس کو پرسکون کرنا چاہا۔

نگاہ اُس کے من موہنے خوبصورت چہرے پر پڑی ،، اُسکا روپ دل پر بجلیاں گرانے لگا ۔۔۔

چہرہ جیسے کلی ” چہرہ جیسے کنول ________

چہرہ جیسے تصور” چہرہ جیسے تصویر ______

چہرہ ایک خواب بھی ” چہرہ تعبیر بھی

چہرہ جیسے کے چہرہ کہی بھی نہیں _____

ماہرو ماہرو _______ ماجبیں ماجبیں ۔

آفریں آفریں ________ آفرین ۔

اُسکی نگاہ بھٹکی تھی ٫ لیکن وہ چہرہ موڑ گیا

دونوں دلہنوں کو سٹیچ پر ان کے دلہا کے ساتھ بٹھایا گیا ۔

سب مبہوت سے ان دونوں جوڑیوں کو دیکھ رہے تھے

خنفه تو ابھی بھی سوں سوں کر رہی تھی ” جس سے معراج کا غصے کا گراف مزید بڑھنے لگا ۔

کس بات کا سوگ منا رہی ہیں آپ ______ اُسکی سرد ٹھر ٹھرا دینے والی آواز کانوں میں پری تو اسکا وجود ساکت سا رہ گیا ۔۔

اُسے لگا جسم سے جان نکل رہی ہو جیسے ” ۔۔

کیوں رو کے دوسری کے سامنے میرا تماشا بنا رہی ہیں ” اپنی نہیں تو میری عزت کا ہی خیال کر لیں ٫ اس کے قریب جھکتے سختی سے سرگوشی کی تو وہ جو سر جھکائے بیٹھی تھی ” جھٹکے سے سر اٹھاتے اُسکی جانب دیکھا ۔۔

اسی پل معراج کی نگاہ بھی اُس کے چہرے کی جانب اٹھی تھی ٫،، وہ مبہوت ہوتا اس کے خوبصورت چہرہ کی جانب دیکھا گیا ” اُسکی والہانہ نگاہوں سے خائف ہوتی وہ لرزنے لگی ،، گلابی کپکپاتے لب ” لرزتی پلکوں کی جھالر گراے ” وہ ہلکے سے میک آپ میں ناک میں معمول سے ھٹ کر نتھ پہنے ” اس کے دل میں خشر برپا کر گئی تھی ۔

نگاہ اُسکے مٹھیاں بینچے ہاتھوں پر پڑی تو ماتھے پر ایک دم بے شمار بل نمایاں ہوئے” مہندی کیوں نہیں لگائ اُس کے ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیتے ،،اُس پر سخت نگاہ ڈالتا وہ لوگوں کی پرواہ کیے بغیر وہ جھکتا اُس کے کان کے قریب جھکتا اسپاٹ لہجے میں بولا ” اس کے لب اپنے کان کی لو پر محسوس کرتے اُس کے شنگرفی لب بری طرح لرزنے لگے ” پلیز _______ بمشکل اٹکتے لفظ ادا کیے ۔

آپ کو تو میں روم میں پوچھوں گا ” استخاق بھری نگاہ اُس کے لرزتے وجود پر ڈالتے اُس نے نگاہوں کا زاویہ بدلا کے وہ مزید اُسے دیکھتا تو اپنا ضبط کھو بیٹھتا ،،،اُسے دیکھ کر دل بے ایمان ہو رہا تھا

دوسری جانب تبریز سرد مہری سے ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے اردگرد موجود لوگوں کی جانب متوجہ تھا ” اس نے ایک غلط نگاہ ہدیل پر نہ ڈالی تھی “

وہ اُس سے لا پرواہ ایسے بیٹھا تھا ” جیسے وہ قریب موجود ہی نہ ہو ۔

ہدیل کا چہرہ اُسکی اپنی ذات سے بے نیازی پر دھوا دھوا ہوا تھا

اس نے ضبط سے مٹھیان بینچی تھی ،، اپنی اتنی تذلیل پر اُسکا چہرہ سرخ پر رہا تھا اور دل سست پڑنے لگا ۔

آنکھوں میں مرچے لگنے لگی _____

ان کی تھکن کا سوچتے پلوشہ بیگم نے جلد ہی تقریب کو ختم کروا دیا اور رخصتی کے لیے ان کے والدین سے اجازت لی ۔

ہدیل اپنے والدین سے ملتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی ،،جبکہ خنفہ بھی بھائی سے ملتی جلتی آنکھوں سے اُسے دیکھنے لگی ” جو اسے ساتھ لگاتا خود بھی رو دیا ۔

بھائی _________

اپنی انگلیوں کی پوروں سے اُس کے آنسو صاف کرتے وہ ترپ اٹھی ۔۔

بیبشک یہ ہر ایک لڑکی کے لیے بہت مشکل وقت ہوتا ہے۔

پلوشه بیگم نے ہدیل کے والدین سے ملتے انہیں مطمئن کیا ” _________

معراج نے دلشیر سے ملتے اس کا شکریہ ادا کیا کے وہ اِسے اپنی جان سے پیاری بہن سونپ دی ۔

اور اسے یقین دلایا کے وہ اس تک کبھی کوئی تکلیف نہیں آنے دے گا ،،

اور جلد وہ لوگ دوبارہ اپنے مشن کے لیے اکٹھے ہونگے ۔

دلشیر کبھی یہ قدم نہ اٹھاتا لیکن اُس کی حالت کے پیش نظر اُسے یہ کرنا پرا ۔

میں صرف اپنی بہن کے لیے خاموش تھا ” _______ میں اس حیوان کو جلد تلاش کر لوں گا ٫ اور اُس سے اپنی بہن پر کیے ظلم کا حساب لوں گا ،، اور اسکو قبر تک پہنچا کے رہوں گا ۔

زہر خند لہجے میں کہتا وہ باہر نکلتا چلا گیا

ان دونوں کو ان کے کمروں میں پہنچا دیا گیا تھا ۔

ہدیل ہاتھوں میں اپنا شرارہ بینچے کرب زدہ سی آنکھیں میچ گئی

وہ جانتی تھی کے اُس کی وجہ سے اُسے تکلیف پہنچی ہے،، وہ اس کو دکھ پہنچانے کا باعث بنی تھی اور اس کے لیے وہ شرمندہ بھی تھی ٫ لیکن وہ بات سنے تو تب نا۔

اُس نے کتنی بار اُس سے اس بابت بات کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اسے ہمیشہ نظر انداز کر دیتا ۔۔

آج اس نے تہیہ کیا تھا کے وہ اُس کو راضی کر لے گی ٫،، اُسکی آنکھوں میں یک دم چمک ابھری تھی ٫،، ۔۔۔۔۔

بیک وقت اُسکی بے رخی کا سوچ کر آنکھیں نم ہونے لگی

بہت حسین لگ رہی ہو ” آج تو بھائی تمہارے سامنے گھنٹے ٹیکنے پر مجبور ہو جائیں گے ” ذہن میں جھماکا ہوا تھا اور عائیشہ کی بات کانوں میں گردش کرنے لگی ۔

وہ سرخ کندھاری ہوتی بے چینی سے اُسکا انتظار کرنے لگی۔