Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Paband Slasal (Episode 8)

Paband Slasal By Yumna Writes

یہ منظر لاہور کے ایک پوش علاقے کا تھا ..

جہاں وہ ایک شاندار ہوٹل میں بیٹھا سامنے والے کو سرخ تپے چہرے سے دیکھ رہا تھا جیسے اُسے سالم نگلنے کا ارادہ رکھتا ہو۔

اُسکے خوف اور دہشت کے باوجود سامنے والی شخصیت آرام سے اُس کے سامنے بیٹھی اپنے نیل پینٹ ہوے

ناخنوں پر مزید ایک ٹچ دیتی پھونک مارتے خود کو مصروف ظاہر کیے ہوئے تھی

جیسے اس سے بہتر اور کوئی کام ہی نہ ہو ۔

یہ جانے بغیر کے سامنے بیٹھا شخص اُسے چٹکیوں میں ڈھیر کر سکتا تھا لیکن عورت ذات کی وجہ سے خاموش تھا ۔

اُسکے باپ نے ہمیشہ اُسے عورت کی عزت کرنا سکھایا تھا اور اسے ایک ملکہ کی طرح سلوک کرنے کی تلقین کی تھی ۔۔

جیسے وہ ساری زندگی انکی والدہ کو پلکوں پر بیٹھا کر رکھتے تھے ۔۔۔

اور مرد ہو یاں عورت اپنے والدین سے ہی سیکھ خاصل کرتا ہے پھر چاہے وہ جیسی بھی ہو ۔

مس آپکا دماغ خراب ہے کیا ؟؟….

میں پچھلے دس منٹ سے آپکی یہ بے کار کارکردگی دیکھ رہا ہوں ۔۔

مجھے سختی پر مجبور مت کریں ” اور مجھے صاف صاف بتائیں آپ کیا جانتی ہیں ؟؟…

سید احمد کے قاتلوں کے مطلق ؟؟

وہ جو کب سے بیٹھا اسے گھور رہا تھا غصے سے دبا دبا سا گرایا ۔

ریلیکس مسٹر “…

بتا تو میں آپکو سب دوں لیکن !!…. وہ کچھ توقف کے بعد بولی

اس کے عوض مجھے کیا ملے گا “

وہ اس کی سرخ آنکھوں میں دیکھتی مسکراتی استفسار کرنے لگی ۔

کیا چاہیے آپ کو “… کتنی رقم ؟..

غصے کو ضبط کرتے لال بھبھوکا چہرہ لیے وہ قدرے بلند آواز میں بولا۔

نہیں مجھے رقم نہیں چاہیے ..

تو پھر ” اُسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھتا گویا ہوا

مجھے دلشیر حسن چاہیے ” ۔۔

کیا مطلب میں اُسے کہاں سے لاؤں “آپ کا دماغ خراب ہے کیا “.. کیا وہ کوئی شہہ ہے جسے میں لا کر دے دوں ۔

اُس کے غصے کا گراف بڑھنے لگا۔۔۔

وہ لڑکی اُسے مسلسل زچ کر رہی تھی

میں نہیں جانتی آپ اگر ثبوت چاہتے ہیں تو دلشیر حسن کو مجھ سے نکاح کرنا ہوگا ۔۔

وہ آئ برو اُچکاتے گویا ہوئی ۔

کیا گرنٹی ہے کے تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے بھی کے نہیں ۔۔

معراج بگڑے موڈ سے اُسکی جانب دیکھتا مدعے پے آیا

سامنے بیٹھی گل نے اپنے برقے کی جیب سے موبائیل نکالتے ایک ویڈیو چلاتے اُس کے سامنے کیا ۔

جہاں چار نفوس بیٹھے شراب کے نشے میں دھت سامنے والے کو اپنا پلان بتا رہے تھے ۔

کیسے بھیڑ میں چھپ کر سید صاحب پر حملہ کیا جائے گا ۔

وہ ان لوگو کے چہرے دیکھ چکا تھا ” جو حسن صاحب کی موت پر اسرار سا مسکراتے سب کچھ تیار کر چکے تھے ۔

گل نے ایک جھٹکے سے فون اس کے سامنے سے ہٹایا تھا ۔

اب یقین آ گیا ۔۔

سامنے سکرین کا منظر دیکھ کر اُسکا دل لرزا تھا ” جہاں اُس کے باپ کے قتل کو پلان کیا جا رہا تھا ۔

سامنے بیٹھی لڑکی اُسکا متغیر چہرہ دیکھ کر لب بینچ گئی ۔

خود پر قابو پاتے وہ چہرے پر چٹانوں جیسی سختی لیے اپنی سرخ آنکھیں اور بینچے ہوے جبروں سے اُسکی جانب دیکھے بغیر گویا ہوا ۔

اُس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو دیکھ کر وہ بھی نگاہیں چرا گئی ۔

کیا میں پوچھ سکتا ہوں کے آپ کے پاس یہ فوٹیج کیسے آئ؟؟..

میں ایک صحافی ہوں ” میرا کام ہی یہی ہے ” اور میں سید احمد کی بہت بڑی مداخ ہوں ۔۔

اور سب سے بڑھ کر میری پرورش ان کے یتیم خانے میں ہوئی ہے ۔

میں یہ ویڈیو تبریز بھائی کو کب کی دے چکی ہوتی لیکن مجھے دلشیر حسن تک بس آپ پہنچا سکتے ہیں ۔

وہ غصے کے بہت تیز ہیں “

یہی وجہ تھی کے میں خود آپ سے ملنا چاہتی تھی “

کوئی نہیں جانتا میرے بارے میں سوائے اُس شخص کی جس کو آپ کے آدمی پکڑ چکے ہیں ۔

میں نے بھیڑ میں سے کسی شخص کو فون پر باتیں کرتا سنا تھا اور اسکا پیچھا کیّا ۔

اس رات کھڑکی میں چھپ کر میں نے انکی وڈیو بنائی تھی ” اور وہ جو شراب میں دھت تھے یہ نہ جان پائے کے ان کے علاوہ بھی وہاں کوئی موجود تھا ۔

وہ تفصیلاً گویا ہوئی

کیا آپ نے اُس شخص کو دیکھا تھا جس سے وہ یہ کام کروانا چاہتے تھے ۔

اپنے اندر ابلتے آتش فشاں کو دباتا وہ اُس سے استفسار کر رہا تھا ۔

جی ایک لفظی جواب ” ۔۔

پہچان سکتی ہیں اُسے ” ۔۔۔ گل نے اثبات میں سر ہلایا ۔

وہ کوئی شارپ شوٹر تھا جسے انہوں نے ہائر کیا تھا اس کام کے لیے ۔

کیا میں پوچھ سکتا ہوں کے آپ دلشیر حسن سے نکاح کیوں کرنا چاہتی ہیں ۔۔

چند ثانیہ بعد وہ نگاہ اٹھاتا سامنے بیٹھی اُس چھوٹی لڑکی کی جانب دیکھتا استفسار کرنے لگا ۔

سامنے بیٹھی لڑکی کی آنکھوں میں جانے کیا تھا جسے وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔

وہ درد بھری مسکراہٹ چہرے پر سجائے گویا ہوئی ” محبت کرتی ہوں میں ان سے ” میرا پہلا عشق ہے وہ بندہ ۔۔۔

کیا وہ جانتا ہے آپ کے بارے میں ” وہ متجسس سا اُسکی جانب دیکھ رہا تھا ۔

وہ مجھے اچھے سے جانتے ہیں ” اظہار محبت کر چکی ہوں میں ان سے ” ایک بار نہیں ہزار بار ۔

لیکن اس شخص کی دنیا ہی الگ ہے۔

وہ اپنے گرد ایک خول بنائے گھوم رہا ہے ” جہاں تک رسائی سوائے اُسکی بہن کے کسی کو بھی نہیں

وہ تلخ سا مسکرائی ” ۔۔

اوک ۔۔۔۔ بھائی چلتی ہوں

مجھے امید ہے آپ جلد مجھے اس تک پہنچا دیں گے

جب میرا کام ہو جائے تو مجھے اس نمبر پر کنٹیکٹ کر لیجئے گا ” میں آ جاؤں گی ۔

اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو سارے ثبوت میرے روم میں ہی موجود ہوں گے آپکو وہی ملے گا بس تلاش کر لیجئے گا۔

وہ کہتی جا چکی تھی پیچھے سید معراج سر ہاتھوں میں گراتا وہی بیٹھ گیا ۔

اب یہ کونسا نیا امتحان تھا ” اُسے یہ سب اتنا مشکل نہیں لگا تھا جتنا ہوتا جا رہا تھا ۔

اپنے قریب ایک سریلی آواز سنتا جھٹکے سے سر اٹھاتا وہ سیدھا ہوا ۔

اسلام و علیکم!!! کیسے ہیں آپ ؟…

خنفہ جو اپنی فرینڈز کے ساتھ ہوٹل لنچ پر آئ تھی دور سے اُسے دیکھ چکی تھی ” اور انہیں بیٹھنے کا کہتی تیزی سے اُس کے قریب آئ تھی ۔

وہ جو پریشانی میں مبتلا سر جھکائے بیٹھا تھا اُسکی پر جوش سی آواز سنتا اپنے بلکل قریب کھڑا اُسے دیکھ کر مسرور ہوا ۔

آج قسمت خود اُس پر مہربان ہوئی تھی ” وہ لڑکی خود چل کر اُسکے قریب آئ تھی ۔

الحمدللہ ” ۔۔۔ وہ نرم لہجے میں گویا ہوا ۔۔

آپ یہاں میٹنگ کے لیے آئے تھے؟؟

وہ اُس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھتی استفسار کرنے لگی ۔

جی ۔۔اُسکی جانب دیکھے بغیر اُس نے جواب دیا ۔

میں اپنی فرینڈز کے ساتھ آئی ہوں ” وہ وہاں بیٹھی ہیں ۔۔

اُس نے ہاتھ کے اشارے سے تینوں کو بلایا ۔

تینوں اُس کے قریب آتی سلام کرتی مسکرائ ۔

میں نے بتایا تھا جنہوں نے میری ہیلپ کی تھی ” یہی ہیں وہ ۔۔

وہ مسکراتے ہوئے گویا ہوئ ۔۔

تینوں نے ایک زبان سلام کیا ” جس کا جواب میراج نے نرمی سے دیا

سچ بتائیں سر آپ کی تعریف سن سن کر ہمارے کان پک چکے ہیں ۔

ہنی نے آپکی بہت تعریف کی ہے ہمارے سامنے کے ہم خود آپ سے ملنے کے لیے بے تاب تھے لیکن یہ محترمہ آپ کا نام تک تو جانتی نہیں تھی ۔

سامنے کھڑی تینوں لڑکیاں منہ بصورتِ گویا ہوئی ۔

سید معراج انکی بات سنتے مسکرا دیا ۔

ایسی کوئی بات نہیں یہ تو میرا فرض تھا “

معراج کو وہ شوخ سی لڑکیاں اچھی لگی تھی جو ایلیٹ کلاس ہوتے ہوئے بھی اپنا کلچر نہیں بھولی تھی ۔

گلے میں سکارف لیے مکمل لباس میں وہ اسی معصوم لگیں ۔

آپ برا نہ منائیں تو اپکا نام جاننے کا شرف حاصل کرنا چاہین گی ہم معصوم کّلیان “۔۔

انکی معصومیت سے کہے گئے جملے پر معراج کا بلند قہقہ فضا میں گونجھا تھا .

جو سامنے بیٹھی خنفہ کے دل میں ہلچل مچا گیا ” وہ اُس کے سامنے بیٹھے ٹکٹکی باندھے اُس شخص کے سحر میں کھوئے ہوئے تھی۔

سید معراج احمد ” ۔۔۔

سیاست دان سید شہزاد احمد کے صاحبزادے ؟؟ ۔۔۔

وہ ہونق سی منہ کھولے اُسے دیکھتی بے یقینی سے استفسار کرنے لگی ۔

جی “… اُن کے کھلے منھ دیکھ کر وہ لب دباتا گویا ہوا ۔

آہ مجھے یقین نہیں آ رہا ” مجھے چکر آ رہے ہیں ان میں سے ایک اپنا سر تھامتی بولی ۔۔

اُسکی اوور ایکٹنگ پر باقی سب مسکرا دیے ۔

واہٹ آ پلیزنٹ سرپرایز ” ۔۔۔

سر کیا آپ ہمیں سید تبریز سے ملوا سکتے ہیں ۔۔

ہم ان کی بہت بڑی فین ہیں ” ان کی شاندار پرسنلٹی اور ان کی خوبصورت آواز ۔۔

اُن کے عوام کے لیے اٹھاے گئے ہر قدم ” بے شک وہ ایک عظیم انسان ہیں ۔

وہ تینوں کھوی ہوئ سی گویا ہوئی تو وہ جو خود پر ضبط کیے آج بہت برے موڈ میں تھا فریش ہو گیا ۔

آپ ان کو ان سے ملوانے کی خامی نہیں بھرے ورنہ ان تینوں نے انہیں آنکھوں سے ہی سالم نگل جانا ہے ۔

یہ تو مجھے بھی کئ مرتبہ فورس کر چکی ہیں کے بھائی کو کہہ کر ان کی ملاقات کروا دوں ۔

لیکن بھائی کے خوف سے خاموش ہو جاتی ہیں ۔

ان کے مر مٹنے پر وہ اُس کے قریب ہوتا تھوڑا دھیمے لہجے میں بولی ۔

سید معراج کی نگاہ اُس کے سانولے معصوم چہرے پر اٹک گئی۔

اُسکی گھنی مڑی پلکیں ” ہلکے گلابی لب ” تیکھی ناک

جو اُس کے سانولے رنگ کو اور بھی پرکشش بناتی ۔

سرخ لونگ شرٹ سفید پلازو اور گلے میں سفید سٹولر لپیٹے آنکھیں پٹپٹاتے معصومیت سے اسکو خفیہ راز سے آشنا کر رہی تھی

اُسکا دل دھڑکانے پر مجبور کر گئی تھی

وہ اس سب میں ایک معصوم کو نہیں دکھیلنا چاہتا تھا وہ ان لوگو میں سے نہ تھا جو عورت کو سامنے رکھ کر

وار کرتا ۔۔

سید معراج یک مضبوط اعصاب کا مالک تھا ” اس نے دل میں ارادہ باندھا تھا دلشیر سے بات کرنے کا ۔