Paband Slasal By Yumna Writes Readelle 50368 Paband Slasal (Episode 25)
No Download Link
Rate this Novel
Paband Slasal (Episode 25)
Paband Slasal By Yumna Writes
مندی مندی آنکھیں کھولتے ،، نیند سے بیدار ہوتے اُسے خود پر بوجھ سا محسوس ہوا ،، آنکھیں پٹ سے کھولتے اُس نے اپنے دائیں جانب دیکھا ” سید معراج بے دھڑک انداز میں اُس پر اپنا بازو پھیلائے گہری نیند میں تھا
تعجب اور بے یقینی سے پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھا جو اُس کے بے خد نزدیک بڑے استحاق سے محو نیند میں تھا ،، یکایک جن آنکھوں میں بے یقینی تھی ،، اب اشتعال پیدا ہونے لگا ،،، پوری طاقت لگاتے ایک جھٹکے سے اُس کی گرفت سے آزاد ہوتے اُسے پرے دھکیلا ۔
وہ جو گہری نیند میں تھا اُس کے اس طرح پرے دھکیلنے پر نیند سے بیدار ہوتے خیرت بھری نگاہوں سے اُسکی جانب دیکھنے لگا ” جو اُس کے سامنے کھڑی اُسے خونخوار نگاہوں سے تک رہی تھی ،،
یہ کونسا طریقہ ہے کسی کو اٹھانے کا ” معراج نے تیکھے چتونوں سے اُسکی جانب دیکھا ” ،،
یہی سوال میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں ” کس حق سے آپ میرے اتنے قریب سو رہے تھے ،، جبکہ میں رات میں درمیان میں تکیہ سیٹ کرکے سوئی تھی ،، اُسے دوبدو جواب دیتے وہ ایک ہاتھ کمر پر رکھے اُسے پہلے سے کافی مختلف اور پیاری لگی ،
یہ حد بندیاں بیکار ہیں ہنی ” مجازی خدا ہوں میں آپکا ،حق رکھتا ہوں آپ پر ” ۔۔۔۔۔ آپ مجھے اس طرح خود سے دور نہیں کر سکتی ،،اُسے تنگ کرنے کی خاطر وہ اٹھتا اُس کے قریب ہوتا اُس کے کان کی لو پر لب رکھتا معنی خیز اور بھاری لہجے میں گویا ہوا ،،
جبکہ خنفہ اپنے کان اور گردن پر اُسکی سانسوں کی تپش اور اُس کے لفظوں میں چھپے مطلب کو سمجھتی خالی خالی نگاہوں سے اُسے دیکھنے لگی ،،
آنکھوں میں یکلحت نمی چمکنے لگی ” جنہیں دیکھتے معراج نے محسوس کرتے آگے بڑھنا چاہا لیکن وہ اسے جھٹکتے چند قدم پیچھے لیتی نفی میں گردن ہلانے لگی ۔۔
نہیں ______ دور ،،دور رہو ” مجھے مت مارو ،، وہ پینک ہونے لگی تھی ” چیختی وہ اپنے بال نوچتی اُس سے پہلے معراج نے اُسے خود میں بینچتے ریلیکس کرنے کی کوشش کی ،، وہ تو بس اُسے تنگ کرنے کی خاطر مزاق کر رہا تھا کے اس کا یہ تپا تپا سا روپ اُسے پسند آیا تھا لیکن اُس کی سوچ کے برعکس وہ پینک ہونے لگی اور خود کو تکلیف دینے لگی ،،
دلشیر اُسے واضح بتلا چکا تھا کے ڈاکٹر کا کہنا تھا کے وہ لا شعوری طور پر اُس واقعہ سے باہر نہیں نکل پا رہی ،، اور جب بھی وہ پریشان ہوتی ہے تو خود کو واپس اسی سچویشن میں موجود پاتی ہے ۔
اُسے اپنی سنگین غلطی کا احساس ہوا تھا ،، خنفہ کو اپنے ساتھ لگائے ہولے ہولے اُس کی پشت سہلاتے اسے وہ اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلا رہا تھا اور انگنت اس کے بالوں پر لب رکھتے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے معزرت کر رہا تھا ،، اُس کے تھوڑا پرسکون ہوتے اُس کے چہرے کو ہاتھوں میں لیتا وہ محبت سے گویا ہوا ۔۔
آپ سب سے پہلے میری دوست ہیں ” اُس کے بعد میری بیوی ،، جب تک آپ اس رشتے کو آگے بڑھانے کے لیے راضی نہیں ہونگی تب ٹک سوچیے گا بھی نہیں کے میں آپ پر کوئی زور زبردستی کروں گا ۔۔
میں رشتے میں زور زبردستی کا قائل نہیں ہوں ،، ہم پہلے بھی دوست تھے ،،اور اب بھی ہیں ،، ہیں نا ” اُس کے سامنے اپنی چوری ہتھیلی پھیلائے وہ آنکھوں میں نرم تاثرات لیے اُسے دیکھ رہا تھا ،،
اُسکی محنت اور نرم انداز نے ہی تو اُسے معراج کا دیوانہ بنایا تھا ،، سر اثبات میں ہلاتے اُس نے نم آنکھوں سے ہلکا سا مسکراتے اُسکی چوری پیشانی پر اپنا نازک مومی ہاتھ رکھا ۔
چلیں فریش ہو جائیں ” پھر نیچے چلتے ہیں سب انتظار کر رہے ہوں گے ہمارا ،، وہ سر ہلاتی اٹھتے فریش ہونے چلی گئی ۔
________________
سگریٹ کے گہرے کش لیتا وہ اپنے سامنے کھڑے آدمی کو دیکھ رہا تھا ” اسکا مطلب وہ لڑکی وہی ہے ،، اور ابھی تک زندہ ہے ،،
تم لوگوں سے ایک کام نہ ہو سکا ” عیش ٹرے میں سگریٹ رکھتا وہ اپنی سرخ آنکھوں سے انہیں دیکھتا طیش میں آتا دھاڑا ،، تم جانتے ہو وہ لڑکی کتنا بڑا خطرہ بن سکتی ہے ہمارے لیے ،، اگر وہ ثبوت کسی کے ہاتھ لگ گئے تو ہم سب مارے جائیں گے ،، ہمارے سارے کالے دھندے بند کر دیے جائیں گے ،، اور چاہ کر بھی میں اس سب سے نکل نہیں پاؤ گا ،، پہلے ہی میں پولیس والوں کو بہت رشوت کھلا چکا ہوں ،
نکالوں گاڑیاں سب کی سب اب میں خود یہ کام سر انجام دوں گا ،_______ بوس وہ تبریز شاہ کے گارڈز وہاں اُسکی حفاظت کے لیے موجود ہے ۔
ایک آدمی نے ڈرتے ڈرتے اطلاع دی ،، تو اس میں تو اب اور بھی مزہ آئے گا ” وہ سال _____* سمجھتا کیا ہے خود کو ،، گالی بکتے وہ نحوت سے بولا ۔
یہ دو ٹکے کے مخافظ تعین کیے ہیں اُس نے میرے سے بچاؤ کے لیے ،، ہاہاہا مکروہ قہقہ لگاتے وہ دھارا ،گاڑی تیار کرواؤ میری جلدی ،، اور سید تبریز کو پیغام بھجواو کے وہ چڑیا ہمارے ہاتھ لگ گئی ہے جسے وہ ہم سے چھپاے پھر رہا تھا ،، جسے میں کچھ دیر میں کچلنے والا ہوں۔
پتہ بھیجو اسکو ہمارا ،، آج میں اُس کو اس لڑکی سمیت زمین میں گھاروں گا کے آئندہ کسی میں جرات نہ ہو میرے سامنے سر اٹھانے کی ،،
اُسکی نسل کو میں نست و نابود نہ کر دیا تو میرا نام بھی شیرا نہیں ، وحشت ناک لب و لہجے میں کہتا وہ اپنے آدمیوں سمیت گل کے فلیٹ کی سمت گاڑی میں بیٹھتا نکلا ۔
صبح کے آٹھ بج چکے تھے ،، اُس کی آنکھ اپنے اوپر پھیلے نرم و نازک وجود کے لمس سے کھلی ،، آنکھ کھلتے ہی پہلا منظر جو اسے نظر آیا وہ یہ تھا کے ہدیل ٹھنڈک کے باعث اُسکی گردن میں چہرہ دیے ،، سینے پر ہاتھ رکھے ایک ٹانگ اُس پر پھیلائے مجھے سے سو رہی تھی ،، اپنے من پسند وجود،، اور سب سے بڑھ کر اُسکی بیوی جو اس وقت اس کی سانسوں سے زیادہ قریب تھی ،، اس پھول جیسے نازک وجود کو اپنے سینے پر پھیلا دیکھ اُس کے ہونٹوں پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ نمودرا ہوئ ۔
اُس کا معصوم چہرہ ،، رخسار پر سایہ فگن مژگان ،، بھرے بھرے گلابی لب ،، سرخ و سفید رنگت ،، وہ بلا کی خوبصورت تھی ،، اُس نے ہاتھ بڑھاتے اُس کی پلکوں کو چھوا ،، یہ عمل اس سے بے اختیاری میں ہوا ۔
اُس کے خوبصورت من موہنے چہرے کو دیکھ کے دل اُسے چھونے کے لیے حمک رہا تھا ۔۔
اُس کے دو آتشنہ حسن سے نگاہ چراتے وہ بمشکل اٹھنے لگا کے ایک پل کے لیے نگاہ ساکت رہ گئی ،، اُس کی بھوری سلکی زلفیں سارے بیڈ پر پھیلی ہوئی تھی کسی آبشار کی طرح ،، آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ،، اُس کو خود سے اختیاط سے دور کرتے تیزی سے اٹھتے بیڈ کی دوسری جانب جاتے اُس نے ان ریشمی گیسوں کو ہاتھ میں لیا ،، ان کی نرماہٹ کو محسوس کرتے اُس کا دل الگ ترنگ میں دھڑکنے لگا ،، ایک خوش کن احساس دل میں جنم لینے لگا ، اُسے بچپن سے ہی لڑکیوں کے لمبے بال بہت پسند تھے “لیکن ان کی بہن نہ تھی ،،تو اسکی پسند دل میں اندر ہی کہی دب کے رہ گئی ۔
اس نے ہدیل کے بال تو کبھی دیکھے ہی نہیں تھے ،، اُس سے جب بھی ملاقات ہوتی وہ ہمیشہ اُسے سختی سے سکارف سر پر جمائے اور بڑی سی چادر سے خود کو مکمل طور پر ڈھانپے ہی ملی تھی ،،
اُس کے لیے دل میں عزت اور احترام اور بھی بھر گیا تھا ،، اُس نے جھکتے اُس کی پیشانی پر اپنا پہلا لمس بکھیرا تھا ،،
اپنی بیوی کے اتنے لمبے گھنے بال دیکھ کر وہ دھنگ رہ گیا تھا ،، اُس کے دل میں ہلچل مچنے لگی تھی ان نرم زلفوں کو اپنی ہتھیلی پر محسوس کرتے ۔
کئی لمحے وہ یونہی مبہوت سا ان میں کھویا رہا،،معاواً فون کی بیل نے اُسے اپنی جانب متوجہ کیا ۔
اور جو خبر اُسے دوسری جانب سے دی گئی ،، اُسکا دماغ بھک سے اڑا گیا ،، اُس نے اٹھتے طیش کے عالم میں اپنا فون ہاتھ میں سختی سے بینچا ،، ایک نظر اُس کے بے
سدھ وجود پے ڈالی ،، اور باہر نکلتا چلا گیا ۔
معراج کو وہ اس وقت اٹھانا نہیں چاہتا تھا اس لیے دلشیر اور اپنے پولیس آفیسر دوست کو کال کرتے جگہ کا بتاتے گاڑی میں بیٹھتے طویل سڑک پر ٹریفک کی پرواہ کیے بغیر بگھانے لگا ،، اُس کے پیچھے ہی گارڈز کی دو گاڑیاں نکلی ،، آج وہ اُس رزیل شحص کا قصہ ختم کر دینا چاہتا تھا ۔
