Paband Slasal By Yumna Writes Readelle 50368 Paband Slasal (Episode 23)
No Download Link
Rate this Novel
Paband Slasal (Episode 23)
Paband Slasal By Yumna Writes
خنفہ گھبرائی سی پھولوں سے سجے خوبصورت جدید طرز کے ڈیزائن بیڈ پر بیٹھی تھی ،، اپنے اردگرد پھولوں کی مہک اور سجائی گئ مسہری دیکھ کر اُسے وحشت سی ہونے لگی تھی ۔
کمرے کی سجاوٹ دیکھ کے اُسے اپنا آپ خالی ہوتا محسوس ہوا
پلوشہ بیگم اُسے کمرے میں بیٹھا کر گئی تھی ” اور اُسے بہت کچھ سمجھا کر گئی تھی ،، اُن کے الفاظ اس کے کانوں میں بازگشت کر رہے تھے ۔
بیٹا سب کچھ بھلا کے آگے بڑھو ” ________ معراج آپ سے بہت محبت کرتا ہے ،، میری بیٹی اُس کے ساتھ اپنے سارے دکھ درد بانٹ لو ، وہ تمہیں سمیٹ لے گا اور میں جانتی ہوں آپ اُس سے محبت کرتی ہیں ،، آپ کی آنکھیں آپکے دل کا خیال بیان کرتی ہیں
جس پل ،، کے وہ خواب دیکھا کرتی تھی ،، جس وقت کا اُسے شدت سے انتظار تھا ” آج جب وہ دن آیا تھا تو اس کے اندر کوئی احساس جنم نہیں لے رھا تھا ۔۔۔
عجیب بے چینی اور اذیت تھی ” جو تمام جذبوں پر خاوی ہو رہی تھی ۔۔
وہ اُسے کیسے قبول کرے گا ” وہ تو _______ ۔ اس سے آگے کی سوچ نے اُس کے دماغ کو جھنجھنا کے رکھ دیا تھا
وہ اپنے خود ساختہ اندیشوں میں گھری سلگتی آنسو بہانے لگی ۔
کمرے میں موجود ہر شہہ اُسے خود پر منھ چڑھاتی دکھائ دی ،، گویا اُسکا تمسخر اڑایا جا رہا ہو جیسے ۔
اٹھتے طیش کے عالم میں اُس نے سب کچھ نوچ کے فرش پر پھینک دیا ۔
دل بے تخاشہ درد اور کرب سے دماغ پھٹ رہا تھا ،،کوفت سے اٹھتے ڈریسنگ کے سامنے جاتے آئینے میں اپنا عکس دیکھتے اشتعال انگیز نگاہوں سے باکس سے ٹشو کھینچتے رگڑ رگڑ کر میک آپ صاف کیا ،، غصے کی شدت سے لب بینچتی الماری سے ایک ہینگ ہوا سادہ سا جوڑا نکالتے ڈریسنگ روم میں جاتے ڈریس چینج کرکے آتی کمفرتر کھینچتی آنکھیں موند گئی ،، دکھتے سر،،اور سوجی آنکھیں اُس کے اندر موجود توڑ پھوڑ کا منھ بولتا ثبوت تھی ۔
اپنے قریبی دوستوں کے جھرمٹ سے نکلتا وہ بمشکل جان خلاصی کروا کر باہر نکلا تھا ” اور انہیں الوداعی کلمات کہتا گارڈن سے نکلتا اندر کی جانب داخل ہوا ،،
زینے طے کرتے اس نے اپنے روم کے سامنے کھڑے ہوتے گہرا سانس خارج کیا اور خود کو وہ آنے والے وقت و لمحات کے لیے تیار کر رہا تھا _______
اندر جانے اُس نے کونسا طوفان مچانا تھا اُسے سامنے دیکھ کے ٫
دروازے کی ناب گھماتے اس نے کمرے میں قدم رکھا تو اُسے سدمہ سا لگا کے گویا یہ اسی کا کمرہ ہے وہ اندر داخل ہوا تو ،، مکمل طور پر اندھیرے میں ڈوبا کمرہ پا کے وہ خیرت زدہ سا ہوتے دروازہ لوک کرتے سوئچ بورڈ کے قریب جاتے لائٹ آن کی ” تو پورا کمرہ روشنی میں نہا گیا
لائٹ آن کرتے جیسے ہی اُسکی نگاہ بیڈ پر پڑی وہ خیران رہ گیا
وہ دشمن جان سامنے بیڈ پر کمفرٹر اوڑھے گہری نیند میں سوئ ہوئ تھی________
وہ تو سوچے بیٹھا تھا کے اُسے سامنے دیکھتے ہی وہ لڑے گی ،،غصّہ کرے گی لیکن اُس کی سوچ کے برعکس وہ بیڈ پر آری ترچھی لیٹی مخو استراحت تھی ۔
ان کے درمیان چاہے جتنی بھی کشیدگی سہی لیکن وہ اُسے اب خود سے دور نہیں کرنا چاہتا تھا ،،
اُس کے قریب جاتے نگاہ اُس کے معصوم من موہنے چہرے پر اٹک گئی _________ اپنے گرد ٹکیوں کی قطار سیٹ کیے ہوے وہ اُس سے دوری بڑھانے کے لیے لگآی گئی تھی لیکن نیند میں وہ خود ہی یہ حد بندھی عبور کر گئی ۔
اتنی حد بندیاں میڈم _____ وہ متبسم سا ہوتا لب دبا گیا
اسکی نگاہ ڈریسنگ پر بکھرے ہوئے سامان کی جانب اٹھی تو لب دبا گیا ،، وہ تو اس کے جلالی روپ کے لیے خود کو تیار کرکے آیا تھا ، وہ تو نگاہوں میں اُسکا اتش فشانی منظر پیش کر رہا تھا ۔
نیند پوری کر لیں میری ہنی ” پھر آپکو آپکے ادا کیے گئے لفظوں کی سزا بھی تو دینی ہے ،، اُسکا ہوش ربا سراپا ،، اور ناک میں چمکتی ل کو دیکھ کے اُسکا دل الگ احساس سے جلترنگ کرنے لگا ” سانس سینے میں تھمنے لگی ۔
اُس سے نگاہ پھیرتے وہ اٹھتا فریش ہونے چلا گیا ،،کچھ دیر بعد وہ بلیک ٹراؤزر پر گرے شرٹ زیب تن کیے اپنے نم بالوں میں ہاتھ پھیرتے ڈریسنگ کے سامنے جاتے خود پر پرفیوم چھڑکتے وہ بھاری قدم اٹھاتا بتی بجاتے نایٹ لیمپ آن کرتے
اُس کے ساتھ نیم دراز ہوتے اُسکی جانب دیکھا جو اُس سے صدیوں کا فاصلہ بنائے ہوے تھی ،، رسانیت سے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے سینے پر گرایا ،، اور اُس کے چہرے کو بغور دیکھنے لگا ،، سانولی رنگت پر مٹا مٹا سا میک اپ ،،لمبی گھنی مژگاں سرخ عارضوں پر گرائے ،، گلابی بھرے بھرے لب ،،اٹھی ہوئی ناک جس میں چمکتا موتی اُس کے دو آتشنہ حسن سے نگاہ چراتے اُس پر اپنا سخت خصار قائم کرتے آنکھیں موند گیا ۔
ہدیل اس خوبصورت طویل ترین کمرے کو دیکھ کر دھنگ رہ گئی جو اپنی مثال آپ تھا ۔
کشادہ خوبصورت سجاوٹ سے سجا کمرہ اپنے مالک کے ذوق کا پتہ دیتا تھا ____
وہ اُس کی آمد کا سوچتی شرم و خیا کے رنگ چہرے پر سجائے اُسکا بے صبری سے انتظار کرنے لگی ۔۔
نکاح کے بعد اس نے ایک نظر اپنے محرم پر ڈالی تھی ٫ اور دل دھڑک اُٹھا تھا ” وہ بے انتہا دلکش لگ رہا تھا
آج وہ اس دشمن جان کو تمام کیل کانٹوں سمیت زیر کرنا چاہتی تھی اور اسے جی بھر کر دیکھنا چاہتی تھی
اپنی طبیعت کے برخلاف وہ بیٹھی اُس کا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی ،، بیٹھ بیٹھ کر کمر اکڑ گئی تھی ،،، جسم الگ برف کی مانند جمنے لگا تھا ،، اضطراب کی کیفیت میں اُس نے اپنی ٹانگیں تھوڑی سی لمبی کی تو جسم میں درد سے ٹیسین اٹھنے لگی ، وہ کاب سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھ بیٹھ کر تھک چکی تھی جسم اکڑ گیا تھا ،، دل جل رہا تھا _______ البتہ وہ ڈیٹھ بنی پھر بھی بیٹھی رہی
نگاہ دیوار گیر گھڑی پر پری تو آنکھیں بھر آئی
دو بجنے والے تھے ،، وہ صبح سے بھوکی تھی ” اب تو بھوک کی شدت سے اُسکا معدہ دکھنے لگا تھا
اُسکی بے رخی کا سوچتے اُسکا روا روا ترپ اٹھا تھا ،، وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپاے پھوٹ پھوٹ کے رو دی ۔
وقت گزرتا جا رہا تھا ،، جانے اُسے اور کتنا صبر آزمانا تھا اور کتنا تو وہ آزما چکا تھا ۔
اُس کے آنے کے آثار دکھائ نہیں دیے تو وہ ویسے ہی بیڈ کراون سے ٹیک لگائے آنکھیں موجد گئی ۔۔
_____________________
باس انکے موبائل ہیک کیے جا چکے ہیں ” اور گزرے تین روز میں انہوں نے ایک لڑکی سے بات کی تھی ،،جس کے پاس تمام ثبوت موجود ہیں ،، اور ویڈیو میں آپکا چہرہ صاف دکھائی دے رہا ہے
سیاہ خاموش رات میں ،، وہ ایک قدرے سنسان جگہ پر موجود تھے ” جہاں ان کے تمام کالے دھندھے سر انجام دیے جاتے تھے ،،جن میں قتلوں گارت سے لے کر چوری ،،جوا ،،ڈرگ معافیاں ملوث تھے ۔
پتہ معلوم کرو اُسکا ” ہم کل ہی اُسکا کام تمام کریں گے ،،بھاری وہشت زدہ سی آواز موٹی موٹی آنکھیں ،، کالی رنگت ،،گلے میں لٹکتی گولڈن چین،، ہاتھوں میں موجود انگوٹھیاں ۔۔۔۔
میں سید معراج کو تباہ کر دینا چاہتا ہوں کسی کو منھ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا سالہ ______ ملغذات بکتا وہ اپنے اند کی بھڑاس نکالنے لگا ۔
جاؤ جا کر سب اُسکا پتہ لگاؤ ” اسکو ٹھکانے لگانے کا بھی بندوبست کرنا ہے ،، دفع ہو جاؤ سب ،، حرام کی روٹیاں کھانے بیٹھے ہیں سب کے سب ______ انہیں وہاں سے دفعہ ہونا کہ عشارہ کرتا وہ اپنے خاص آدمی کی جانب متوجہ ہوا
باس آج دونو بھائیوں کی شادی تھی ” وہ ان میں مصروف ہیں ٫ ______ یہی وقت ہے اس لڑکی کو پکڑنے کا ،،
اُس کے ملازم نے سر جھکاتے اُسے خبر دی ۔۔
کچھ دیر عیش کر لینے دے سالے کو ،،، ابھی تو ایک بازو سے معزور ہوا ہے ،، اب میں دونو بھائیوں کو بھون کر رکھ دوں گا ۔
بہت جلد اسے بھی یہاں کا دیدار نصیب کرواو گا سنا ہے بہت حسین ہے اس کی پھل جھری ۔
زہر ہند لہجہ _______ اور ہونٹوں پر مکروہ مسکراہٹ لیے وہ قہقہ لگاتا وہاں سے اٹھ گیا ۔
