Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Paband Slasal (Episode 1)

Paband Slasal By Yumna Writes

وہ کچن میں کھڑی برتن دھو رہی تھی جب اُسکے ہاتھ اپنی ماں کی بات سنتے بے ساختہ تھمے ” ۔۔۔

آپ کو کیوں فکر نہیں ہے شان” ہماری اکلوتی بیٹی ہے ۔۔لوگ سو باتیں کرتے ہیں ۔۔۔مجھ سے سوال کرتے ہیں کے جوان بیٹی گھر میں بیٹھی ہے ابھی تک رشتے کیوں نہیں کر رہے ۔۔

آپ کیوں اردگرد کہتے نہیں کسی کو اچھے رشتے کا ،،آپ کے تو دوست احباب بھی بہت اچھے گھرانوں کے ہیں وہ آج سہی معنوں میں تنگ آتی چیخ اُٹھی ۔۔

کچن میں کھڑی ہدیل کے ہاتھ کانپ گئے ” پلیٹ ہاتھ سے پھسلتی پھسلتی بچی” حلق آنسو سے بھر گیا ” ۔۔

دل سہم گیا ” ۔۔

آخر کیا اچھا رشتے ملنا اتنا مشکل تھا ” ۔۔۔ سوچوں کا محور بس ایک بات پر اٹکا تھا “

وہ جانتی تھی اُسکی ماں اُس سے بے حد محبت کرتی ہیں اور اُسکی فکر میں گھلتی ہیں ۔

لیکن کیا شادی زندگی میں سب کچھ ہے ۔۔۔

کیا زندگی بغیر شادی کے کچھ بھی نہیں ۔۔

کیا شادی ہی سب کچھ ہے ۔

کیوں بیٹیوں کے نصیب شادی تک محدود رہتے ہیں ” کیوں ہر ایک لڑکی کو شادی کے لیے ہی قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے ،،

کبھی لڑکی موٹی ،،تو کبھی کالی” ۔۔۔

کیوں لوگ یہ نہیں سمجھ پاتے کے اللہ پاک کی بنائی ہوئی خوبصورت مخلوق میں وہ خامیاں نکالتے ہیں۔

سوچوں کے گرداب میں گھڑی آنے والے وقت کے لیے پریشان تھی ،، اُسکے دل و دماغ میں جنگ چل رہی تھی ۔

یہ تو اب روز کا کام ہو گیا تھا کے اُسکی والدہ رشتے کے لیے پریشان رہنے لگی تھی ،،ان کی اکلوتی بیٹی تھی وہ چاہتی تھی کے اُسے اچھا نیک خاندان ملے جو اسکی قدر کر سکے ۔ لیکن وہ یہ نہیں سمجھ پا رہی تھی یہ سب تو نصیب کے کھیل ہیں ۔

وہ کچھ لمحے وہی کھڑی ہوتی خود کو مضبوط کرتی باہر نکلی ” ماں میں عائشہ کی طرف جاؤں ۔۔۔

وہ بتا رہی تھی اُسکے آفس میں ایک جاب کی وکینسی خالی ہے ۔

وہ اپنے لہجے کو حد درجہ نارمل رکھتی اواز کو بھيگنے سے روکتی اجازت طلب نگاہوں سے ان کی جانب دیکھنے لگی ۔۔

جی میری جان ” گھر میں بیٹھ کر کیا کرو گی” میری بچی اتنی محنت سے پڑھتی رہی ہے ۔۔

لوگو کو بھی تو پتہ چلے کے میری بچی اتنا اچھا پڑھی ہے کوئی عام مضمون نہیں ” وہ اُسکا ماتھا چومتی لہجے میں مٹھاس لیے بولی جبکہ اُن کے اتنے پیار پر نیوز دیکھتے ذیشان صاحب کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ گئی

هدیل بمشکل ہونٹوں پر مسکراہٹ لاتی اپنے کمرے کی جانب چل دی ۔۔

دوسری جانب ھدیل کو شال اوڑھے باہر نکلتا دیکھ ذیشان صاحب نے ہنکار بھرتے لیلک بیگم کی جانب دیکھا جو اسے باہر نکلتا دیکھ کچھ پڑھ کر اُس پر پھونک رہی تھی ۔

ویسے تو بیگم آپ بیٹی کو بیاہنے کی باتیں کرتی ھیں اور اُس کے بغیر ایک لمحہ بھی آپ کا گزارا نہیں انھوں نے ليلک بیگم کو ایک جگہ ساکت کھڑے دیکھ کے حفیف سا طنز کیا ۔۔۔

تو وہ نم آنکھوں سے سر نفی میں ہلاتی مسکرا دی ” ۔۔

آپ بھی نہ ” ۔۔۔۔

بیٹیاں کس کو پیاری نہیں ہوتی ” بس سوچتی ہوں کے آنکھیں بند ہونے سے پہلے اُسکی خوشیاں دیکھ لوں ۔۔

ان شاء اللہ ۔۔۔۔ اللہ پاک نے ہماری بچی کے نصیب بہترین لکھے ہوں گے ۔۔

انشاء اللہ ۔۔۔دل میں دعا دیتی وہ کچن میں ان کے لیے چائے بنانے چلی گئیں

______________

وہ آج خاصا تھک چکا تھا ” جب سے وہ پاکستان آیا تھا اپنے والد کے قتل کیس میں مصروف تھا ۔۔

سید شہزاد احمد جو کے ایک سیاستدان تھے اور انہوں نے بہت سے فلاحی ادارے بھی کھول رکھے تھے ۔۔

لوگو کی مدد کرنا اور ان کے کام آنا ان کی ذات کا خاصہ تھا ” لیکن جوں جوں انکا کام بڑھتا گیا ان کے دشمن بھی بڑھنے لگے ۔۔

کیوں کے غریب عوام ان کے ذریعے اپنے حق میں آواز اٹھانا سیکھ رہی تھی ۔ وہ لوگوں کی آواز عدالت تک پہنچاتے ۔۔جن کا کوئی آسرا نہیں ان کے لیے کام کرتے ۔

سید زبیر ان کا چھوٹا بیٹا جو ہر قدم پر اپنے والد کے ساتھ کھڑا رہتا تھا اور ان کی جانب سے سارے کیس لڑتا تھا وہ بھی اس حملے میں شدید زحمی ہوا تھا اور اس وقت شہر کے بڑے پرائیویٹ ہاسپٹل میں اُسکا علاج چل رہا تھا ۔۔

سید معراج ان کا بڑا بیٹا ” ملک سے باہر بیٹھا ایک میٹنگ اٹینڈ کر رہا تھا ” جب اُس کے پی اے نے ڈرتے ڈرتے آ کر اُسے ارجنٹ کال کا بتایا اور وہ سب سے ایکسکیوز کرتا اُٹھ کر باہر نکلا ۔۔

لیکن دوسری جانب سے ملنے والی خبر سے اُس کے قدم دگھمگا گئے تھے

سر “… اُس کے پی اے نے آگے بڑھتے اُسے سہارا دینا چاہا لیکن اُس نے دور سے ہی ہاتھ کے اشارے سے روک دیا ” کے وہ وقتي سہارؤں کا محتاج نہیں تھا ۔

اس وقت سات سمندر پار کھڑا وہ اپنی آنکھوں میں آنے والی نمی کو کنٹرول کرتا لب سختی سے بینچے رخ موڑے گویا ہوا ۔۔

میرے پاکستان جانے کا انتظام کرو جلدی ۔

جی ،،جی سر ۔۔۔

اور پھر اگلے کچھ گھنٹوں میں وہ پاکستان موجود تھا ۔۔

پھر اسے ہوش نہیں رہا کے کیسے اُس نے سارے مراحل تہہ کیے “

کب اُس نے اپنے والد کو قبر میں اتارا ،، کب اُسکی ماں اُس کے سینے سے لگی سسکتی رہی ” اُسکا بھائی اس وقت کس حال میں تھا ۔۔

وہ اپنے باپ کے قریب بیٹھا تھا ” صبح سے رات ہو گئی لیکن وہ ایک قدم نہ ہلا اپنے باپ کے قریب سے ۔۔

بیٹا جی آ جاؤ اس سے پہلے کے میں چلا جاؤ ۔۔

کیا مطلب بابا آپ کہاں جا رھے ہیں “؟؟؟..

وہ تذبز کا شکار ہوتا ویڈیو کال پر انہیں دیکھتا استفسار کرنے لگا تو وہ دھیرے سے مسکرا دیے ۔۔

کہیں نہیں بیٹے لیکن زندگی موت کا تھوڑی علم ہے کسی کو ۔۔کب جان نکل جائے ۔۔

بابا ان کی بات سنتا وہ ترپ اٹھا “…. وہ ناراض ہوتا انہیں حفگی سے دیکھنے لگا ۔۔

مذاق کر رہا تھا یار “…

ایسا مذاق میں بھی مت کہا کریں ” آپ بہت عزیز ہیں مجھے ” وہ اپنی سرخ ہوتی انکھوں سے انہیں دیکھتا دل کا حال بیان کر گیا ” ۔

سید شہزاد احمد ساکت سے اپنے بیٹے کے اس روپ کو دیکھ رہے تھے جو کبھی بھول کے بھی کسی پر اپنے احساسات عیاں نہ کرتا ۔

اور دھیمے سے مسکرا دیے

اچھا سنو میرے بیٹے ” آپ نے اپنے بھای کا بہت خیال رکھنا ہے ” وہ جذباتی ہے لیکن آپ سمجھدار ہو ” اگر کبھی ، ایسا وقت آ جائے کے چھوٹا ضد کرے کے وہ سیاست میں آنا چاہے تو آپ اسے سختی سے روکیں گے ۔

میرے بعد میں نہیں چاہتا کے آپ دونو اس دلدل میں پھنسیں “… یہاں پر جو سچ کا ساتھ دیتا ہے ان کی زبانوں کو کاٹ دیا جاتا ہے یاں انہیں اذیت کے سوا کچھ نہیں ملتا ۔۔ میں خود بھی پارٹی ختم کر رہا ہوں ۔

بس کچھ وقت اور درکار ہے ۔۔

باقی رہی بات اداروں کی تو وہ تبریز اچھے سے دیکھ رہا ہے اور سلمان صاحب اُس سب میں اُسکی مدد کریں گے آگے بھی ۔۔

پر بابا وہ تو ہر قدم پر آپ کے ساتھ موجود ہوتا ہے ” ۔۔

وہ کیسے پیچھے ہٹ سکتا ہے “.. وہ کشمکش میں گھڑا انہیں سوالیہ نگاہوں سے دیکھتا بولا۔

بیٹے ہمارے معاشرے کا المیہ ہے یہاں انصاف ٹکوں پر بکتا ہے ” سچ کو دبا دیا جاتا ہے ۔ اور یہ بڑے انصاف کے بول بولتے ہیں یہی وقت آنے پر ہمیں گاجر مولی کی

طرح کاٹ دیتے ہیں ۔

بس میں نہیں چاہتا میرے بیٹے اس سب میں پڑیں “

وہ ٹھہرے ہوے لہجہ میں اُسے سمجھآتے خاموش ہو گئے ۔۔

مجھے امید ہے آپ میری باتوں کو ہمیشہ یاد رکھو گے “۔

اور میرا شیر اپنے چھوٹے اور ماں کو اچھے سے سمبھال لے گا ” ۔۔کہتے انہوں نے کال منقطع کر دی ۔۔

اپنے بابا کے آخری الفاظ یاد آتے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔ وہ شاید جانتے تھے اس حملے کے بارے میں “

لیکن اس وقت اُسکا ذہن مفلوج ہو چکا تھا کے کچھ سوچ سمجھ سکتا ۔

اس وقت بس اسے ایک چھوٹے بچے کی طرح اپنے بابا چاہیے تھے

وہ مضبوط مرد ان کی قبر سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رویا کے قریب کھڑا سید صاحب کا خاص آدمی جو ہمیشہ سے ان کے ساتھ تھا وہ پاس کھڑا اس کے غم میں آنسو بہانے لگا ۔۔

کافی وقت بیت گیا تو سلیمان صاحب نے آگے بڑھتے اسے مشکل سے ان کی قبر سے الگ کیا ۔۔

بیٹے ہوش کریں ” آپ کی والدہ اکیلی ہیں انہیں آپکی ضرورت ہے ۔۔

چھوٹے صاحب ہاسپٹل ہیں ” اٹھیں ہمت سے کام لیں “…

یہ وقت خود کو مضبوط بنانے کا ہے ۔حوصلہ کریں ۔۔

سید معراج نے انہیں اپنی سرخ نم نگاہوں سے دیکھا اور کچھ ہوش میں آتا کھڑا ہوا

اور وہاں سے سیدھا ہاسپٹل گیا جہاں انکا چھوٹا زندگی اور موت سے لڑ رہا تھا ۔