Paband Slasal By Yumna Writes Readelle 50368 Paband Slasal (Episode 24)
No Download Link
Rate this Novel
Paband Slasal (Episode 24)
Paband Slasal By Yumna Writes
تبریز جو اس وقت پلوشہ بیگم کے سامنے سرخ چہرہ لیے بیٹھا تھا ،،
انہوں نے اُسے اپنے پورشن کی جانب جاتا دیکھ پہلی فرصت میں اپنے کمرے میں بلایا تھا ۔
جی ماں ،،آپ نے بلایا ” تبریز ان کے قریب بیٹھتا ان کی جانب دیکھتا محبت بھرے لہجے میں گویا ہوا ۔
جی بیٹا جی ،،وہ میں آپ سے پوچھنا چاہتی تھی کے تکلیف کیا ہے آپ کو ،، کیوں بچی کے ساتھ اتنا برا انداز لیے پھر رہے ہیں آپ !!!
کیا آپ اس شادی سے خوش نہیں ہیں ،، انہوں نے کھوجتی نگاہیں اس کے چہرے پر ٹکائی ،، اور الفاظ کا چناؤ سخت کیا ذرا ،،
نہیں ماں ایسی بات نہیں ،،بس تھوڑی طبیعت خراب تھی ،، وہ نگاہ چراتا دھیمے لہجے میں کہتا جواز پیش کر گیا ۔
لیکن مجھے معاملہ کچھ اور لگتا ہے ،، میں جانتی ہوں تم خفا تھے اُس سے ،،لیکن اس سب میں اس کا کوئی قصور نہیں اور رہی بات ناراضگی کی تو اُسکا اب کوئی مطلب نہیں بنتا ،،، ہدیل بیوی ہے آپ کی ،،رشتہ بدل چکا ہے آپکا ،،بہتر یہی ہے کے اس کی شروعات خوش اسلوبی سے کی جائے ،، گزرا سب کچھ بھلا کے ۔۔
سمجھ رہے ہو نا ” اُس کے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتی وہ قدرے نرمی سے اسے سمجھآتی ” کمرے میں جانے کا کہتی خود بھی آرام کی غرض سے بیڈ پر بیٹھ گئی،،وقت کافی ہو گیا تھا ۔
وہ اپنے کمرے میں جانے کے لیے سیڑھیوں کی جانب بڑھا ،، جب فون رنگ ہوا “سکرین پر موجود نمبر کو دیکھ یس کرتے کان سے لگایا ۔
دوسری جانب سے جو خبر اُسے ملی” سنتا وہ طیش میں آتا باہر کی جانب بڑھا ،،________ گل کی گھبرائ ہوئ آواز سنتے اُسکا دماغ سن ہونے لگا ،، آنکھوں میں انگارے جلنے لگے
آپ لوک لگا لو ” _______ اور ساری لائٹس آف کردو جب تک میں نہ آو آواز نہ نکالنا ،،،اُسے ہدایت دیتا اپنے ساتھ دو گارڈز لیتا سنسان سرک پر گاڑی بھگاتا بے چین سا تھا ۔
گل شروع سے اکیلی رہی تھی ،،وہ کوئی دبو سی ڈرپوک لڑکی نہ تھی ،، لیکن آج وہ خوف زدہ ہو گئ تھی ۔
گل دبے قدموں سے اٹھتی تمام بتیاں بجاتی گھبرائی سی ایک جانب بیٹھ گئ ،، وہ جو اپنی جوب سے واپسی پر کسی کو اپنا تعاقب کرتا محسوس کر رہی تھی ،،انہیں راستہ بھٹکا کر بہت مشکل سے اپنے فلیٹ میں داخل ہوئ تھی ۔۔
لیکن اُسے اپنے فلیٹ کے باہر کچھ غیر معمولی پن سا محسوس ہوا ،،قدموں کی چاپ اور سرگوشیوں سے وہ چوکنا ہوتی کھڑکیوں کے قریب آتے کان لگآئے ان کی آوازوں پر غور کرنے لگی ۔۔
ان کی آوازیں سنتی وہ پوری جان سے لرز اٹھی تھی اور کانپتے ہاتھوں سے تبریز کا نمبر ملایا تھا ۔
وہ اشتعال پر قابو پاتے آندھی طوفان بنا اُس کے فلیٹ کے باہر گاڑی روکتا اندر کی جانب بھاگا تھا ۔۔
دل گھبرا رہا تھا کے کچھ ہوا نا ہو ،، اضطراب میں گھرے فون نکالا اور اس کا نمبر ملایا ۔۔
اور بیل پر ہاتھ رکھا ” گل میں ہوں تبریز ٫،، آپ ٹھیک ہو
اُسکی آواز سنتے اُس نے فورن لپک کر دروزہ کھولا ۔
اُسے سامنے دیکھتی وہ اپنا ضبط کھوتی رونے لگی ٫،، تبریز اُسے سہی سلامت دیکھتا کچھ پرسکون ہوا اور اپنے گارڈز کو باہر کھڑے رہنے کا اشارہ کیا ،،
کچھ نہیں ہوا گڑیا ” رونا بند کریں _______
اسے ساتھ لیے وہ اندر کی جانب داخل ہوا ،، اور سامنے موجود کرسی پر براجمان ہوتے میز سے پانی کا گلاس اٹھاتے اُسکی جانب بڑھایا ۔۔۔
گلاس لیتے وہ تھوڑا سا پانی پیتے بھیگیں آنکھیں صاف کرتی اُسکی جانب دیکھتے بولی
وہ لوگ مجھے تلاش کر رہے ہیں ٫،، آپ سب کے فون ہیک کیے گئے ہیں ” _________
وہ مجھے ڈھونڈتے آج یہاں تک پہنچ چکے ہیں ٫،، میں نے ان کی باتیں سنی ہیں ۔۔
ان کا بوس جان گیا ہے کے میرے پاس اُس کے خلاف ثبوت ہیں ،اور وہ اب مجھے مارنا چاہتے ہیں ” خوف سے وہ لٹھے کی مانند سپید پڑتے چہرے سے اُسے دیکھتے کانپتے لہجے میں بتاتی اس کی جانب دیکھنے لگی۔
تبریز کے اعصاب چٹخے “_____ لیکن وہ اپنے اندر اٹھتے ابال پر قابو پاتے بولا
کچھ نہیں ہوگا میرے گارڈز آپکی خفاظت کے لیے موجود ہیں باہر ،میں کل ہی دوسرے فلیٹ کا انتظام کرتا ہوں آپ کے لیے ،، وہ کبھی آپ تک نہیں پہنچ سکے گا ،، البتہ بہت جلد ہم اس تک پہنچنے والے ہیں
اچھی بات ہے وہ خود ہم سے رابطہ کرے ،،
بھسم کر دینے والے انداز میں وہ اپنی لال آنکھوں سے اُسے دیکھتا تسلی دیتا بولا ۔
وہ اٹھی اور اس چھوٹے سے ایک کمرے کے فلیٹ کی جانب گئی ،،کچھ دیر بعد وہ واپس آئی تو اُس کے ہاتھ میں ایک یو ایس بی تھی ،، _____
اس کے قریب آتے اس نے وہ اُس کی جانب بڑھائ
اس میں تمام سبوت موجود ہیں ،، تصاویر بھی اور فوٹیج بھی ،، آج بچ گئی ہوں لازمی نہیں کے آگے بھی قسمت ساتھ دے شاید وہ ڈر گئی تھی اسی لیے اس طرح بول رہی تھی ۔
کچھ نہیں ہوگا ” جب تک میں ہوں آپ پر آنچ نہیں آنے دوں گا ،،اُس کے سر پر ہاتھ رکھتے نرمی سے کہتے اُس سے یو ایس بی لی
تو وہ ہولے سے سر ہلا گئی ۔
کسی کو اپنے لیے پریشان ہوتا دیکھ فکر کرتا دیکھ کے وہ سسک اٹھی ،، آپ کے اور بڑے ابا کے بہت احسان ہیں مجھ پر ،،ان کے لیے اگر جان بھی قربان کرنی پڑے تو با خوشی کر دونگی ۔
وہ نم آنکھوں سے اُسے دیکھتے ہونٹوں پر درد بھری مسکراہٹ لیے رندھے لہجے میں بولی ۔
تبریز نے دھیما سا مسکراتے اُس کے سر پر شفقت بڑھا ہاتھ رکھتے اٹھا اور باہر کی جانب متوجہ ہوا ۔
تم لوگ یہاں سے ہلو گے نہیں ٫،، اور مجھے پل پل کی خبر دو گے یہاں کون آتا جاتا ہے ہر بندے پر نظر رکھو گے ،، اگر اس فلیٹ کے نزدیک کوئ بھٹکا بھی تو تم لوگوں کی جان میں اپنے ہاتھوں سے نکالوں گا ” خطرناک تیور سے انہیں دیکھتا گرایا ۔
وہ صبح کے چار بجے سید مینشن داخل ہوا تھا ،، وہ جلدی میں باہر نکلا تھا ،، وہ تو شکر تھا کے پلوشہ بیگم اپنے کمرے میں موجود تھی ورنہ وہ اُسے کبھی اس وقت نہ جانے دیتی ،،اس سب میں وہ ہدیل کو مکمل۔طور پر بھول چکا تھا ۔
اب جب طویل ترین خاموش لاونج میں داخل ہوا تو خیال آیا کے وہ تو کمرے میں بیٹھی اُسکا انتظار کر رہی تھی،پلوشہ بیگم نے اُسے سختی سے کمرے میں جانے کا حکم دیا تھا ،،
آج وہ اُس دشمن جان کے روبرو ہونے والا تھا جس کو انجانے میں وہ بہت دکھ دے چکا تھا ۔
وہ جانتا تھا وہ معصوم جان اُس کی بے رخی کا سوچتے پریشان تھی ،، لیکن آج وہ تمام گلے شکوے ختم کرکے اُس سے اپنے سابقہ روئیے کی معزرت کرنا چاہتا تھا
بھاری قدم اٹھاتا وہ اپنے پورشن کی جانب گیا ۔۔
تھکن سے برا خال تھا ،، آج صبح سے ہی اُسے بازو میں درد سے ٹیسیں اٹھ رہی تھی ،، لیکن اُس نے کسی سے اس بات کا ذکر نہ کیا ،، گزشتہ دو تین دن سے وہ کام کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا اور پھر نکاح کے انتظامات نے اُسے تھکا کے رکھ دیا ،، رہی سہی کسر گل کی پریشانی نے نکال دی ۔
بکھرے بال ،، مغرور کھڑی ناک ،، گھنی مونچھوں تلے بينچے گئے شنگرفی لب،، سفید و سرخ رنگت ،،سیاہ گہری آنکھیں ،، بے شک وہ مردانہ وجاہت کا شاہکار تھا ..
وہ ناب گھماتے کمرے میں داخل ہوا تو وہ سامنے جہازی سائز گلاب کے پھولوں اور موتیوں سے سجائے گئے بیڈ پر وہ نازک سا وجود گھٹری بنا ہوا تھا ،، گہری سانس خارج کرتے قدم اٹھاتے اُس کے قریب گیا تو وہ ٹھنڈک کی وجہ سے اکٹھی ہوئ گہری نیند میں تھی ،،
تبریز کی نگاہیں اُس کے چہرے کا طواف کرنے لگی ،،
اُس کو یوں استحقاق سے اپنے کمرے میں موجود دیکھ کر رگ و پے میں سکون سا اترنے لگا ،، دل کی دھڑکن کو تقویت ملنے لگی ،، اُسکا نازک ہوش ربا سراپا اُس کے اندر تلاطم برپا کر گیا ۔۔
بمشکل اُس سے نگاہ چراتا وہ تھکن سے چور فریش ہونے کی غرض سے دوسری جانب جاتا اپنے پاؤں جوتوں سے آزاد کرتا ڈریسنگ کی جانب گیا ،، بیس منٹ بعد
وہ فریش ہوتا نایٹ ڈریس میں باہر آیا اور ایک ہاتھ سے ٹاول سے بال رگڑتے دراز قد آور آئینے کے سامنے کھڑے ہوتے شیشے میں سے اُس کے سوئے ہوئے وجود کو دیکھنے لگا ۔
اُسے اپنے قریب دیکھتے نگاہ بٹھکتی اُس کے سراپے میں اُلجھتی جا رہی تھی ،، ٹاول ایک طرف رکھتے وہ اُس کے قریب آیا ،،، اور لہجے میں نرمی سموئے اُسکا نام پکارا ۔
هدیل __________ ہدیل ۔۔۔۔ اٹھ جائیں ،، ڈریس چینج کریں ،، کتنا ان کمفرٹیبل سوئی ہوئی ہیں ،، اُس کی گردن میں موجود جیولری کے نشان پر نگاہ پڑتے وہ بے چین ہوتا بولا ۔
اپنے نام کی پکار سنتے ہدیل نے کسمسا کے آنکھوں کھولیں ،، نیند کا غلبہ اتنا حاوی تھا کے آنکھیں کھولنا محال ہو رہا تھا ،، بمشکل اپنی آنکھیں کھولتے اُس نے اجنبی نگاہوں سے اپنے عین اوپر جھکے تبریز کو دیکھا ،، جو اُسکا نام پکارتا متفکر سا اُسے دیکھ رہا تھا۔
لیکن نگاہوں کے سامنے جوں ہی کچھ دیر پہلے کا منظر لہرایا ،، اس نے اپنی سرخ ڈوروں والی نگاہؤں سے اُسے دیکھا ،،
اور پھر نظر انداز کرتی اٹھتی اپنا ڈریس لیتی چینج کرنے چلی گئی ،، پیچھے تبریز کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہوئی ،، اس کے نظر انداز کرنے پر ،،
وہ سادہ سا جوڑا زیب تن کیے ،،اپنے چہرے سے میک آپ کا بوجھ اُتارتے آئینے کے سامنے کھڑی اب رونے میں مصروف تھی ،، تھکن اور دل میں اٹھتے درد کی وجہ سے آنکھوں سے چھن چھن کرتے آنسو ٹوٹ کر گرے
اسکو نگاہوں میں اُسکی کوئی اہمیت نہیں تھی ،، اُسکی ذات کی نفی کی تھی اُس نے ،، یہ سوچ اُسے بدگماں کرنے کے لئے کافی تھی ،
وہ کافی دیر بعد اپنا دل ہلکا کرتے باہر نکلی تو کمرے میں ملگچا سا اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔
وہ دوسری جانب کروٹ لیے سو چکا تھا شاید _________یاں اُسے دیکھ کر ایسا کے رہا تھا ،، دماغ میں سوچ آئی ،،اُس کی بے حسی پر دل بھر آیا ،، وہ آنسو ضبط کرتے اُس سے فاصلہ بنائے قدرے دور ہوتی ،، دوسری جانب رخ کیے کروٹ کے بل لیٹ گئ ۔۔۔
نیند آنکھیں سے کوسوں دور تھی اب تو ،، اُس کے اتنے قریب موجودگی پر اُسکے دل کی دھڑکن الگ شور بڑھا کیے ہوے تھی ،، کافی وقت لیٹے رہنے کے بعد وہ بے زار سی کروٹ بدلتی اُس کی جانب دیکھنے لگی ،، لیکن ساتھ لیتے وجود کو کوئی حرکت کرتا نہ دیکھ وہ کہنی کے بل ہوتی نگاہ قریب بے سدھ سوئے وجود پر ڈالی ،، اور اُس کے خوبصورت نقوش میں وہ کھو سی گئی ۔
اُس کے خوبصورت چہرے پر بچھی گھنی مری پلکیں ،، وہ کتنا حسین تھا ،، وہ اُسے جان نثار نگاہوں سے دیکھتی رہ گئی ،،
کوئی اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے
سارے کا سارا کیسے ہو سکتا ہے ۔
تبریز تھکن کی وجہ سے لیٹتے ہی گہری نیند میں ڈوب گیا ،، اس کا انتظار کرتے وہ سیدھا لیٹا تھا لیکن اُسے نہ آتا دیکھ اُسکی آنکھیں بند ہو گئی ،،
تبریز نے تھوڑا سا ہلتے ٹھنڈک کے باعث ہاتھ قریب کرتے ہدیل کو کھینچ کر سینے سے لگایا ۔۔
اُسے گہری نیند میں اندازہ نہ ہو سکا کو اس کے قریب ایک اور وجود بھی اُس کے ساتھ موجود ہے ۔
اُس کے اس عمل سے ہدیل ششدر سی اپنی امڈتی چیخ کا گلا گھونٹتی اُسے دیکھنے لگی ،،جو اُسے کسی ٹکیے کی طرح خود میں بینچے اُسکے کندھے پر سر رکھ گیا ،، اُس کی ذرا سی قربت پر اُس کے خواص سلب ہونے لگے ۔۔ دل کی دھڑکن کانوں میں سنائی دینے لگی
اُس نے تھوڑا فاصلہ بنانا چاہا لیکن نیند میں ہونے کے باعث اُسکا سارا وزن ہدیل پر آ گیا اور وہ ہلنے سی بھی قاصر ہو گئی ۔
اپنی گردن پر اُسکی پر تپشِ سانسوں کو محسوس کرتے اُسکا دل لرز اٹھا ،، اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے زور لگاتے ہٹانا چاہا لیکن خود پر اُسکی گرفت مضبوط ہوتے دیکھ وہ مزاحمت ترک کرتے اُس نے پاؤ سے کمفرٹر قریب کرتے سانس بہال کرنے لگی ،، جو اُس کے قریب آنے پر رک سا گیا تھا ۔۔
کھینچ کے دونوں کے وجود پر دیا ،، اور اپنی سرخ نگاہوں سے اُسے دیکھا جو اُسکے قریب ہوتے بھی بہت دور ہو گیا تھا ،،
اُس کے چہرے پر نگاہیں ٹکائے جانے وہ کب نیند میں چلی گئی ۔
