Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Paband Slasal (Episode 20)

Paband Slasal By Yumna Writes

تین دن گزر گئے تھے انہیں ہاسپٹل میں ٹھہرے”

دلشیر کی طبیعت بھی کچھ سنبھلی تھی ،، ______

اپنی گڑیا کی زندگی کی نوید سنتے اٹھتا وہ روم سے

نکلتا دوسری جانب بھاگا تھا جہاں وہ ہوش میں آتے ہی ہزیانی ہوتی چیخنے چلانے لگی تھی ۔۔

دلشیر روم میں داخل ہوتا تیزی سے اُسکی جانب بڑھا جو اپنے زخمی ہاتھوں سے اپنے بال نوچ رہی تھی ۔

میری جان ” میرا بچہ ” _____ لہجے میں بے تخاشا محبت سموئے ٫،، وہ نم آنکھوں سے اُسے سینے میں بینچے لب اُس کے بالوں سے ڈھکے سر پر رکھتا ” ہے بس سا اُسکی تکلیف کم کرنے کی کوشش میں تھا ۔

بھائی آ گئے میرا بیٹا ” چھوڑو _____

اس کے ہاتھوں سے بال چھرواتے ان پر لب رکھتے وہ اپنی نم ہوتی آنکھوں کو جھپکتے بولا ” ایسے نہیں کرتے میری جان ۔

بھائی “________ وہ اُس کی شرٹ مٹھیوں میں بینچتی شدتوں سے روتی بربرا رہی تھی ۔۔

بھائی وہ آ جائے گا ” ______ مجھے پھر سے مارے گا ۔

اُس کے الفاظ تھے کے پگلتا ہوا سیسہ جو اندر داخل ہوتے معراج کے کانوں میں پڑتے اُسے پتھر کا کر گئے ۔

وہ منجمند رہ گیا تھا

نہیں میری جان ” بھائی پاس ہیں ” اپنے بچے کے قریب “

کوئی نہیں آئے گا ” کسی میں اتنی جراءت نہیں کے بھائی کے ہوتے میری گڑیا کو ہاتھ لگائے ۔

اُس کی تکلیف پر وہ بے بس سا سامنے کھڑے معراج کو دیکھتا ٫،، جبڑے بینچ گیا ۔

آنکھوں سے دو موتی گرے تھے ” ۔۔

بھائی وہ آ گیا تو ” _______ مجھے چھپا لیں بھائی ” وہ مارے گا ۔۔

میں مر جاؤ گی” ______ مجھے مار دیں ” میں زندہ نہیں رہنا چاہتی ” ۔۔۔ وہ چلاتی اپنے ہاتھ میں لگی سوئی کو کھینچ کر پھینکتے ہانپنے لگی ۔

پامالی کا احساس اتنا شدید تھا کے وہ اپنے آپے سے باہر ہونے لگی ،، اور خود کو مزید اذیت پہنچانے لگی

بس معراج کا ضبط یہی تک تھا ،، سرخ آنکھیں میچتے ” ہاتھوں کی مٹھیاں بناتے ” سرخ چہرے اور گردن پر ابھرتی سبز رگیں اس کے ضبط کا ثبوت تھی ،،

اس کی بگڑتی خالت ،، اور خوف سے

وہ جان گیا تھا کے اگر ابھی اُسے پیار سے ٹریٹ کیا تو وہ زیادہ ٹوٹ کے بکھرے گی ،،گویا اس وقت اُس پر تھوڑی سختی کرنی بہتر تھی

لحظہ بھر رک کر گہرا سانس لیتے خود کو مضبوط کرتا اُس کے قریب گیا ۔

خنفه_____” لہجے میں بے قراری لیے پکاڑا ” لیکن وہ ہوش میں کہا تھی ۔۔

آواز بند کریں اپنی ” جان لے لوں گا آپکی دوبار اگر خود کو مارنے کی بات کی ” دوبارہ نہیں دہراؤں گا میں اپنی بات ” اُس کے مسلسل خود کو مارنے کا کہتے ،اور دلشیر کی آنکھوں میں نمی دیکھ کے وہ

خون خوار نگاہوں سے اُسے گھورتا دانت پیستا اُس کے سر پر کھڑا ہوتا گرایا ۔۔

اُسکی آواز اتنی بلند تھی کے خنفہ کے خلق سے بے ساختہ چیخ رو نما ہوئی ” ۔۔

اُسے سامنے استازه دیکھ کر اُس کے خواص کچھ بخال ہوے ۔

وہ آنکھیں پھاڑے اُس کے لال چہرے کو دیکھنے لگی “

جب وہ براہ راست جھکتا اُس کے قریب ہوتا گویا ہوا

خود کو نقصان پہنچانے کا سوچیے گا بھی مت ” ورنہ بغیر کسی تاخیر کے آپ میرے کمرے میں موجود ہوں گی ۔

اُس کی سلگتی نگاہوں اور پر اسرار لہجے پر وہ ششدر سی رہ گئی ۔

اُسکا یہ روپ کہاں دیکھا تھا اُس نے ۔۔

اس نے پلکوں کی بار اٹھا کے اپنی پانی بھری نم آنکھوں سے اُسے دیکھا ” ۔۔۔

چیخنے سے گلے میں خراشیں پیدا ہوئ ” اور حلق سوکھنے لگا

میں _________ قا”۔۔۔۔۔وہ بھیگے لہجے پر قابو پاتے بولنے کے لیے لب کھولنے لگی ” ۔۔

کچھ فضول نہیں سننا چاہتا ہوں میں اس وقت ” اپنے لیے مزید مشکلات پیدا نہ کریں “

پہلے ہی آپ بہت کچھ غلط کر چکی ہیں ۔۔

اسے اندازہ ہو گیا تھا کے اُسکا دماغ کن سوچوں میں اُلجھا پڑا ہے اس وقت ۔۔

وہ اُس سے آنکھیں چرا رہی تھے “

اس کی ایک ایک حرکت پر اُسکی نگاہ تھی “

خود پر اُسکی نگاہوں کی تپش محسوس کرتے وہ دلشیر کے ساتھ لگتی ٫ اس کے سینے میں چھپنے کی کوششں کرنے لگی ،، وہ جو نرس سے اُس کے ڈسچارج کے بابت استفسار کر رہا تھا ” ان کی جانب متوجہ نہ تھا ۔

اُس نے محبت سے اُس کے گرد بازوں کا حلقہ قائم کیا ۔

کتنی دیر یوں ہی بیت گئی ” بھائی مجھے گھر جانا ہے ۔

وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی” ہچکیوں کے درمیان بولی ،،

مجھے گھر جانا ہے بھائی”

چور نگاہ اُس پر ڈالتے سہمی سی اُس کے ساتھ چپکی” بکھری سی خالت میں تھی ۔

اچھا میرا بیٹا میں ڈاکٹر سے مل کے آتا ہون ” تم رکوں گے ،،،

معراج کی جانب اُس نے دیکھتے استفسار کیا ۔۔تو اُس نے سر اثبات میں ہلایا ۔

اُس کے قریب بیٹھتے وہ نرمی اور محبت سے گویا ہوا ۔

محبت کے اس سفر میں آپ اکیلی نہیں ہیں ” بلکہ میں بھی آپ کے ساتھ انہی راستوں کا راہی بن چکا ہوں ۔

بھاری پر تپشِ لہجے میں کہتے اُس نے اُس کے ہاتھ اپنے بھاری ہاتھوں میں لیتے نرمی سے سہلائے ” ۔۔

میں نہیں جانتا میں کون ہوں ____.

کیا ہوں ،،کیوں ہوں ،، آپ کی موجودگی اپنے گرد محسوس کرتے بس یہ دل آپ کے طواف میں گم رہتا ہے ۔

میں جانتا ہوں آپ بہت مشکل وقت سے گزر رہی ہیں لیکن ہم سب ہیں آپ کے ساتھ ” آپ کے قریب ۔

میں وعدہ کرتا ہیں آپ کے گرد اپنی محبت کا ایسا خصار قائم کروں گا کے اُسے توڑ پانا کسی کے بس میں نہ ہو گا ۔

اُس کا طلسم بکھیرتا لہجے ” محبت بھرے جملے ،، متضاد اُس کے ہاتھوں میں اپنے ہاتھ دیکھ کر دھڑکن سست پڑی اور پھر ایک دم سے بڑھی ” اس نے کتنی شدت سے ان لمحات کا انتظار کیا تھا ۔۔

ہر دعا میں اس شخص کو مانگا ” _____ اُس کی سحر انگیز پرسنالٹی میں وہ ہمیشہ کھو جایا کرتی ” جس شخص کو پہروں سوچ کے وہ تھکتی نہ تھی ” اسکو دیکھ کر آنکھیں جھپکتی نہ تھی ۔

جب وہ ملا بھی تو کیسے ” کے اسے اپنے اندر سوائے سناٹوں کے کچھ سنائی نہ دیا ۔

وہ ساکت بیٹھی رہی ایک ہی پوزیشن میں سر جھکائے ۔

اس کے اظہار پر نہ شرم و حیاء سے گال لال ہوے ” نہ ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔

دل جیسے مردہ سا ہو گیا

مجھے گھر جانا ہے ٫،، بے تاثر لہجے میں کہتی وہ لیٹ کر آنکھیں موند گئی ۔

معراج اُسکی خالت سمجھ سکتا تھا اس لیے خاموش رہا ۔

وہ جو تھک چکی تھی خود سے جنگ لڑتے لڑتے ” نڈھال سی بیڈ پر گرتی آنکھوں پر بازو رکھ گئی ۔

وہ اس کے قریب سے اٹھتا باہر نکل گیا ” سامنے دلشیر کندھے جھکائے ہاتھ میں پیپر تھامے بینچ پر بیٹھا تھا ” ۔۔

معراج نے قریب جاتے اُس کے شانے پر ہاتھ رکھا ” حوصلہ کرو یار ، سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔

کیسے ” ________ میری گڑیا کو مار ڈالا اُس نے جیتے جی” تم نے دیکھا نہیں اُسکی آنکھوں میں وہ خوف ،،

میرا دل چاہ رہا تھا ختم کر لوں میں

خود کو اس وقت “

میرے جیتے جی میری بہن مرنے کی خواہش مند ہے۔

کیا منھ دکھاؤں گا میں اپنے ماں باپ کو ” ۔۔۔

ایسے خیال رکھا میں نے ان کی منتوں سے مانگی بیٹی کا ۔۔۔

اُس کے لہجے میں درد ،،تکلیف ” کیا کچھ نہ تھا ۔۔

مرد چاہے جتنا بھی سخت کیوں نہ ہو ” اپنے محبت کے رشتوں کے لیے وہ ایسا ہی نرم اور لچکدار ہوتا ہے ۔

انہیں تکلیف میں دیکھ کر آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ۔

وہ دونو ہی اس صورتحال کے لیے تیار نہ تھے ” اس کے اتنے سخت ری ایکشن کو دیکھ کر دونو خوف زدہ ہو گئے تھے .

____________________

💕💕💕💕💕💕Yumna writes 💕💕💕

ڈسچارج ملتے وہ لوگ واپسی گھر کے لیے روانہ ہوئے تھے ۔۔

معراج تبریز کے ساتھ گاڑی میں بیٹھتا اپنے مینشن کی جانب روانہ ہوا ۔۔

تبريز جو خاموشی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا ” اُس کے سوال سے بدکا اور حلق تر کرتے گویا ہوا

تبریز تمہاری بات ہوئی ہدیل سے ” اس کی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھا ۔۔۔

نہیں بھائی ” _______ وہ دراصل میں مصروف تھا تو ۔۔

بس یہ بھوندے بہانے میرے سامنے مت رکھو ۔۔

تم سے مجھے ایسی بے وقوفی کی توقع نہیں تھی” آخر چل کیا رہا ہے تمہاری دماغ میں ۔۔

معراج آج اس کی اچھی کلاس لینے کے چکر میں تھا ” آخر کب تک وہ اس معصوم کو خاموش اُداس دیکھتا ،،پلوشہ بیگم کے ساتھ وہ ان کے گھر نکاح کا جوڑا اور ضروری سامان دینے گیا تو اُسکی ملاقات اس نازک لڑکی سے ہوئی ” اور اس سے بات کرکے اُسے بہت اچھا لگا تھا ،، واپسی پر اُس کے سر پر ہاتھ رکھتے اُس کے بڑے بھائی ہونے کا مان دیا “

اپنی سیاہ گہری آنکھیں بند کرتا وہ لہجے میں بے چینی لیے گویا ہوا ۔

میں خود نہیں جانتا بھائی ” لیکن جانے کیوں ” دل ہمکتا ہے اسے دیکھنے کے لیے ،،اُس سے بات کرنے کے لیے لیکن انا آرے آ جاتی ہے ۔

بھائی میں بھلا نہیں پا رہا اُس کی آنٹی کے وہ الفاظ ،،جنہوں نے میری روح تک کو چھلنی کر دیا تھا ۔

تبریز دل بڑا کرو میرے بھائی ،،محبت میں انائیں نہیں ہوتی ،،محبت میں تو دل محبوب کے قدموں میں رکھ دیا جاتا ہے ۔۔

محبت میں تو سب سے پہلے آپکو اپنی عزت نفس کا سودا کرنا پڑتا ہے ۔۔تم ایک بار پھر سوچ لو ،،کیا واقع ہی تم اُس سے محبت کرتے ہو۔۔۔

میں اُس سے مل چکا ہوں تبریز ” وہ بہت پیاری اور نازک سی ہے ،، جانے تمہاری بے اعتنائی کیسے برداشت کر رہی ہو گی ۔

گویا ” _______

اُسکی آنکھوں میں جو ترپ اور محبت تمہارے لیے میں دیکھ چکا ہوں ” مجھے خوف آتا ہے کہی تک اس معصوم کا نازک دل توڑ نہ دو ۔

ابھی بھی وقت ہے ،، اگر مخظ پسندیدگی کی بنا پر تم یہ رشتہ قائم کر رہے ہو تو اسے ختم “…

بھائی ” _____ وہ ترپ گیا تھا اس کے جملے پر “

میں مر کر بھی اس سے دستبردار نہیں ہو سکتا

محبت ہے وہ میری ” عزت ______

لہجے میں بے قراری سموئے وہ سرخ چہرے سے گویا ہوا ۔

معراج نے خفگی سے اُس کے سرخ چہرے کی جانب دیکھا ۔

وہ گہری سانس بھرتے گویا ہوا ” غصّہ ہوں ” ناراض ہوں اُس سے ” لیکن ” ۔۔۔۔ایسا میں کبھی مر کر بھی نہیں سوچ سکتا ۔۔

بے تخاشا چاہتا ہوں میں اسے ” _____ اسی کی وجہ سے میں زندگی کی جانب دوبارہ لوٹا ہوں ۔

یہ جو تبریز آپ کے سامنے موجود ہے اس کو اُسے نے دوبار زندہ کیا ہے ” اپنی معصوم حرکتوں اور شرارتوں سے ۔

وہ شدت جنون سے کہتا اُس کی جانب دیکھنے لگا ۔

آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں اُسکی جانب شکوہ کنا نگاہوں سی دیکھا ۔

تو پھر اپنے معملات درست کرو ” ورنہ شادی کے بعد یہ سب چلا تو میں اپنی بہن کے معاملے میں خاموش نہیں بیٹھوں گا ،، اور یاد رکھنا تم ہمیشہ مجھے اس کی طرف داری کرتے ہی پاؤ گے ،، اُسکی آنکھ میں اگر تمہاری وجہ سے آنسو آیا تو بہت سخت پیش آؤں گا ۔۔