Paband Slasal By Yumna Writes Readelle 50368 Paband Slasal (Episode 3)
No Download Link
Rate this Novel
Paband Slasal (Episode 3)
Paband Slasal By Yumna Writes
بیس دن بعد۔۔۔۔
ہدیل کو جوب مل چکی تھی اور وہ بہت خوش تھی ۔
اُس کی ایک روٹین بن چکی تھی “
سکول سے فری ہو کر وہ اکثر بچوں کو ساتھ بیٹھا کرتی تھی اور ان کی چھوٹی چھوٹی شرارتوں سے مسکراتی تھی ۔۔
اس کے اندر کا کو شوخ پن جو کہی کھو گیا تھا پھر سے بحال ہونے لگا اور وہ ان کے ساتھ ان کی شرارتوں میں بچی بن جاتی ۔
لیللک بیگم ابھی بھی اُس کے رشتے کے لیے پریشان رہتی تھی اور آئے دن رشتے دیکھتی رہتی تھی ۔۔لیکن یہ فرق آیا تھا کہ وہ اُسکی جوب سے تھوڑی پرسکون ہو گئی تھی
شان صاحب نے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا تھا ۔
_________
گزرے بیس دنوں میں سید معراج نے ہر طرح سے تبریز کا خیال رکھا تھا ” ۔۔۔
اس کے قریب بیٹھ کر زبردستی اُسے دوا دیتا اور خود اُسکی مرحم پٹی کرتا ۔۔
ڈاکٹر نے انہیں مکمل تسلی دی تھی ” لیکن تبریز کا دل بے چین تھا بہت ۔۔
اور وہ جو اتنے دنوں سے صبر کیے ہوے تھا آج ہاسپٹل سے آتے ہی پھٹ پڑا “
آپ کچھ کر کیوں نہیں رہے بھائی اور مجھے بھی گھر میں قید کیا ہوا ہے ۔۔
وہ لوگ سوچیں گے کے سید زادوں کا خون سفید ہو چکا ہے جو اتنے آرام سے ہاتھ پر ہاتھ دھرے گھر بیٹھے ہیں
وہ اپنے اندر اٹھتے اشتعال کو قابو نہیں کر پا رہا تھا ۔
اس نے اپنے قریب پڑے شیشے کے ٹیبل پر اپنا پہلے سے زخمی ہاتھ مارا ،،چھناکے کی آواز سے ٹیبل ٹوٹا اور اُسکے ہاتھ پر گہرا کٹ لگا ،،جہاں سے فوارے کی طرح خون بہنے لگا ۔۔
تبریز ” ۔۔۔۔
معراج کی دھاڑ سنتے سب ملازم دہشت اور خوف سے کانپ اٹھے ۔
پاگل مت بنو تبریز ” وہ دبا دبا سا گرایا ” ۔۔ اور آگے بڑھتے اُس کو ہاتھ کو پکڑا ” ملازم بھاگ کر فرسٹ ایڈ باکس لایا ۔۔
اُس کے ہاتھ پر بینڈج کرتے وہ اسپاٹ لہجے میں گویا ہوا
عقل سے کام لو ” بابا کی آخری خواہش تھی کہ ہم سیاست میں نہیں جائیں گے اور اپنا بزنس سنبھالیں گے ۔
جو کام بابا ہمیں سونپ کر گئے ہیں وہ ہم بخوبی انجام دیں گے ،
جو ادارے لوگو کی مدد کے لیے چل رہے ہیں ہم ان پر کام کریں گے اور دشمن کو ظاہر کریں گے کے ہم پیچھے ھٹ چکے ہیں ۔
ہم سب سوچ سمجھ کر کریں گے ،،ایک ایک قدم پھونک پھونک کر لینا ہو گا ۔۔
ہمارے بابا کی موت کا بدلہ ہم ضرور لیں گے اور دشمن کو ترپا ترپا کر ماریں گے لیکن خاموشی سے ۔
جلد بازی میں ہمیں اپنا نقصان نہیں کرنا ” سمجھے ۔
اُسکی بات سنتے تبریز تھوڑا ٹھنڈا ہوا اور سر اثبات میں ہلایا ۔۔
اور دوبارہ خود کو کبھی تکلیف پہنچائی تو میں بہت برا پیش آؤ گا
اٹھو ماں کے پاس چلتے ہیں ۔۔نرمی سے کہتے وہ اُسے ساتھ لیتا گارڈن میں گیا جہاں پلوشہ بیگم خاموشی سے بیٹھی تسبیح کر رہی تھی
دونو بھائی ان کے قریب جا کر بیٹھ گئے ” انہوں نے تسبیح رکھتے دونو کے ماتھے پر پیار کیا ۔
اور پھر تینوں کافی دیر وہی بیٹھے باتیں کرتے رہے۔
سید معراج اچھے سے جانتا تھا اپنے رشتوں کو سمبھالنا ۔
اُس نے تبریز کو مکمل طور پر اعتماد میں لے لیا تھا جس وجہ سے اب وہ دونو مطمئن تھے اور اپنا پلان سر انجام دے رہے تھے ۔
معراج کے کہے کے مطابق سید تبریز نے ایک میٹنگ رکھی جس میں پریس،، میڈیا کو بلایا گیا اور وہ سب کے سامنے اعلان کر چکا تھا کے اُسکا اب سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ” ۔۔۔بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا لیکن اُس کا ایک ہی جواب تھا کے وہ سیاست میں مزید اپنے قدم نہیں جما سکتا ۔
گزرتے دنوں کے ساتھ “
سید تبریز نے این جی او ” اور سکولز کے کاموں کو سنبھالا ہوا تھا جبکہ دوسری جانب معراج بزنس کو سمنبھال رہا تھا۔
انہوں نے دشمن کو یقین دلایا دیا تھا کے ان کا اب پرانے کسی بندے اور سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں
دشمن بھی سکون میں تھے کہ اب وہ کھلے عام اپنا کام کر سکتے ہیں کیوں کہ راستے کا کانٹا تو ہمیشہ کے لیے ہٹ چکا تھا ۔
اندرو اندر ان کے کام شروع ہو چکے تھے” وہ لوگ بہت عقل اور ہوشیاری سے قدم بڑھا رہے تھے اور جلد دشمنوں کا خاتمہ کرنے والے تھے ۔
_______
آج اسے کافی دیر ہو گئی تھی اور عائشہ بھی نہیں ساتھ تھی ” اسے اکیلے جانا تھا ۔۔
اور جانے کیوں اسے لوگوں سے بھی خوف آنے لگتا تھا ” اکیلے اسے ایک خوف رہتا تھا ۔۔دل پریشان ہو جاتا ۔
ماں کی پریشانی کا سوچتی وہ گھبرائی ہوئی سی تیزی سے باہر نکلی اور سامنے سے آتے وجود سے ٹکرائ۔
اهّھ ۔۔۔۔ تصادم اتنا زور دار تھا کے وہ لڑکھڑا کے نیچے گری
اُسکا ناک اور ماتھا بری طرح سے سامنے والی کے کشادہ سینے سے ٹکرایا تھا ۔۔
تبریز جو فون کان سے لگائے بات کر رہا تھا سامنے سے آتے نرم سے وجود کے ٹکراؤ سے اسے کوئی خاص فرق نہیں پرا ۔۔ لیکن اپنے سامنے موجود وجود کی چیخ سنتے اس نے فون کان سے ہٹایا
بدیل کو نیچے بیٹھا دیکھ وہ متفکر سا گھٹنے کے بل جھکتا اُس کے قریب ہوا ۔۔
آئی ایم ریلی سوری ۔۔۔مجھے بلکل بھی پتہ نہیں چلا وہ پشیمان سا ہوتا اسے دیکھنے لگا جو اپنے دونو ہاتھ منہ پر رکھے بیٹھی تھی ۔۔
آفف اتنے زور سے مارا ہے آپ نے وہ سوں سوں کرتی نم آواز میں بولی۔۔
آپ پلیز ہاتھ تو ہٹائیں مجھے دیکھنے تو دیں زیادہ تو نہیں لگی ۔۔
اس کو منہ پر دونو ہاتھ رکھے دیکھ وہ پریشانی سے بولا ۔
ہدیل نے اپنے چہرے سے ہاتھ ہٹائے ” ۔۔ مجھے پکا پتہ ہے میری ناک ٹوٹ گئی ہو گی وہ روتی ہوئی بولی تو اتنے سیریس ماحول میں سید تبریز کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نے اپنی جھپ دکھلای ۔
سرخ و سفید رنگت پر پھولے پھولے سرخ گال ” جن پر اس وقت تکلیف کے باعث آنسو موجود تھے ۔۔ باریک کھڑی سرخ ناک ،،کپکپاتے سرخ لب جنہیں وہ سختی سے بینچے ہوے تھی ۔۔
نرم و نازک خوبصورت ہاتھ جن سے وہ اپنی ناک اور ماتھے کو بار بار رب کر رہی تھی ۔۔
سفید شال اپنے گرد اچھے سے اوڑھے وہ اُسکی توجہ بری طرح اپنی جانب مبذول کروا رہی تھی ۔
اس کے معصوم نقوش اور حرکت پر سید تبریز ایک پل کے لیے سب کچھ بھولتا کھونے لگا ۔۔
ٹرسٹ می لیڈی ” آپ کی ناک بلکل سلامت ہے ” ہونٹ دانتوں تلے دباتے وہ اپنے مزاج کے برعکس شوخ انداز میں بولا تو ہدیل نے اُسے گھورا ۔۔
تو کیا آپ توڑنا چاہتے تھے ” پہلے ہی مجھے اتنی دیر ہو گئی ہے اور اب آپ کی وجہ سے مجھے چوٹ بھی لگ گئی ۔۔ میں نے آج جانا بھی اکیلے ہے اور پتہ ہے مجھے اتنا خوف آتا ہے اکیلے جاتے ۔۔
مما بھی پریشان ہو رہی ہوں گی ،،وہ مسلسل بولتی کھڑی ہوئی ۔۔
تبریز نے اُسکا بیگ اٹھاتے اُس کے آگے کیا ” میں بہت معزرت خواہ ہوں غلطی سے ہو گیا سب ۔
آپ کہتی ہیں تو میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں ۔۔
اٹس اوک ۔۔۔ لیکن میں آپ کے ساتھ کیسے جا سکتی ہوں میں تو آپ کو جانتی بھی نہیں ۔۔اور نہ پہلے کبھی یہاں دیکھا ۔۔
وہ اُسے تیکھے چتونوں سے دیکھتے استفسار کرنے لگی
کون سے ڈیپارٹمنٹ میں ہیں “
پھر کبھی سہی آج میں بہت لیٹ ہو گئی ہوں
اسے لب کھولتا دیکھ وہ ٹوکتی وہاں سے جلدی سے نکلی
میں چلتی ہوں ۔
پیچھے وہ اسے جاتا دیکھتا زیر لب مسکرا دیا ۔
