Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Paband Slasal (Episode 2)

Paband Slasal By Yumna Writes

ہدیل اپنی دوست سے ملتی فریش ہو گئی ” ساری پریشانی جاتی رہی ” اُس کے ساتھ بیٹھے اپنے دل کا حال سناتے وہ بمشکل اپنے امنڈ آنے والے آنسو کو روکتی دل کا غبار باہر نکالتے ہلکی پھلکی ہو گئی ۔۔

وہ جو کمرے میں شال لینے گئی تھی اپنے بابا کی آواز سنتے اُس کے اندر کا اضطراب کافی کم ہو گیا اور انہیں خدا خافظ کہتے جب وہ باہر نکلی تو جو وسوسے اور خدشات تھے وہ جاتے رہے اور کچھ اپنی سہیلی کے سینے سے لگی وہ اس سے ڈھیر ساری باتیں کرنے لگی ۔۔

تم صبح ہی آؤ میرے ساتھ این جی او میں ” وہاں ساتھ ہی سر کا سکول ہے اور ایک قابل اُستاد کی ضرورت بھی ہے ۔

دونو مل بھی لیا کریں گے ” بائے کتنا مزہ آئے گا ۔۔

اسے مسکراتا دیکھ حدیل بھی دھیمے سے مسکرا دی “۔۔

لیکن پتہ نہیں جوب ملتی بھی ہے کے نہیں ” ۔۔۔وہ پریشان سی منہ بصورتِ بولی ۔۔

ارے کیوں نہیں ملے گی ” ٹاپر ہو تم یونی کی ،،تمہیں کیوں نہیں رکھے گا کوئی ” میں تو تمہیں کب سے بول رہی تھی میرے ساتھ آفس میں آ جاؤ لیکن آپ محترمہ کو آفس ورک بور لگتا ہے وہ آنکھیں گھماتے بولی ۔۔

ہاں تو ایسی ہی بات ہے سارا دن منہ پھلا کر لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھے رہو ” اور باس کے آگے پیچھے گھومو ۔۔

ہدیل مسکراتی شوخ نگاہوں سے اسے دیکھتی بولی ۔۔

سدھر جاو لڑکی ” تم بہت خراب ہوتی جا رہی ہو اسے مصنوی گھوری سے نوازتی وہ اٹھتے پاؤ میں جوتا ارسنے لگی

اُسکی بات سے ہدیل کی خوبصورت کھلکھلاہٹ کمرے میں گونجی ” اُسکی خوبصورت آواز سنتے اس نے بے ساختہ ما شاء اللہ بولا ۔۔

وہ تھی ہی اتنی پیاری ،،اور مسکراتی ہوئ اور بھی حسین لگتی تھی” ۔۔

ایسے ہی تو لیلك بیگم پریشان نہیں ہوتی تھی نا” ۔۔

میری جان چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر مت لیا کرو ۔۔۔

ماں باپ ہمارا بھلا ہی چاہتے ہیں ” بس اسلئے پریشان ہو جاتے ہیں ۔۔

اب تم بیٹھوں میں کچھ کھانے کو لے کر آتی ہوں کب سے مجھے بھی پریشان کیا ہوا تھا ۔

_________

بے ترتیب سا حلیہ ،، بکھرے بال ،،سرخ آنکھیں ” جو اس وقت لہو چھلکا رہی تھی ،،ہاتھوں کی مٹھی بنائے لبوں پر رکھے وہ ڈاکٹر کے سامنے بیٹھا تھا ” ۔

ڈاکٹر نے اسے جو بتایا تھا اُس سے اُسکی رنگت متغیر ہوئی تھی”

اُسکی سرخ ڈوروں والی آنکھیں اور تنے نقوش دیکھ کر ڈاکٹر بھی خوف زدہ ہوتا بہت احتیاط سے بول رہا تھا ۔۔

کتنا وقت لگے گا ٹھیک ہونے میں ” کچھ دیر بعد خاموش فضا میں اُسکی بھاری اواز گونجھی ” ۔۔

ریکوری تو آہستہ آہستہ ہو گی شاہ صاحب ” لیکن اگر احتیاط کی جائے ،،اور اللہ نے چاہا تو جلد ٹھیک ہو جائیں گے ۔

وہ سختی سے لب پیوست کیے ہنکار بھرتا اٹھا تھا اور بھاری قدم اٹھاتا کوریڈور سے گزرتا اُس کے کمرے کے سامنے جا کھڑا ہوا تھا۔

آنکھوں کو سختی سے میچے وہ خود پر ضبط کیے دروازہ دھکیلتا کمرے میں داخل ہوا تھا ” جہاں وہ زخمی بازوں اور کندھے سے چت لیٹا سامنے دیوار کو گھور رہا تھا ۔

وہ سلمان صاحب کو باہر انتظار کرنے کا کہتا خاموشی سے اُسکے قریب گیا تھا ۔۔

اُسکی سرخ و سفید رنگت اس وقت زرد پر چکی تھی تکلیف کی شدت سے لب بینچے وہ خاموش پڑا تھا ۔۔

لال آنکھیں اُس کے ضبط اور اذیت کی گواہ تھی

اپنے قریب بھاری قدموں کی چاپ سن کر اُس نے نگاہیں اٹھائی اور پھر ایک جھٹکے سے اٹھتا اُسکے سینے سے لگ گیا ۔۔

آرام سے ” اسے یوں اٹھتا دیکھ معراج نے تیزی سے جھکتے اُسے سہارا دیا ۔

جس سے تکلیف تو اسے بہت ہوئی لیکن وہ سید تبریز تھا اتنی چھوٹی تکلیفیں اس کا کچھ نہیں بگار سکتی تھی ۔

بھائی بابا ”…. سب ختم ہو گیا ۔۔

میں اپنے بابا کی خفاظّت نہ کر سکا ۔

ماں کو کیا جواب دوں گا ،، سب ختم ہو گیا بابا چلے گئے ۔۔میں کیّوں بچ گیا ۔۔

میں کیوں نہیں مرا ” وہ بے خال سا نم لہجے میں کہتا اُس کے سینے سے لگا زارو قطار رونے لگا ۔۔

دونو بھائی اپنے باپ کو کھونے کے غم میں ایک دوسرے سے لپٹے اپنا دل ہلکا کر رہے تھے

معراج کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرنے لگے ۔۔

سید معراج کو اپنا شانہ بھیگتا محسوس ہوا ۔

اس صدمے سے وہ خود بھی ٹوٹ چکا تھا لیکن اسے سب کو سمبھالنا تھا ۔

اسے خود سے الگ کرتے اُسکا چہرہ ہاتھوں میں لیتے وہ بھیگی نم آنکھوں سے اسے دیکھتا اس کے ماتھے پر اپنے کانپتے لب رکھتا رندھے ہوے لہجے میں گویا ہوا ۔۔

آپ تو ہمارے بہادر شیر ہو ایسے نہیں روتے ” ابھی ماں کو بھی ہمیں سمبھالنا ہے ۔۔

ہمیں ہمت نہیں ہارنی ،،اپنے بابا کا نام لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھنا ہے ۔

آپ جانتے ہیں بابا آپکو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے تھے ۔۔اسلئے ہمت سے کام لو میرا بیٹا ” ۔

میں نست و نابود کر دو گا ہر اُس شخص کو جو اس پلان کا حصّہ تھا ” وہ پوری قوت سے دھارا تھا ۔۔

آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے تبریز ” فلحال آپکی طبیعت ٹھیک نہیں آرام سے لیٹ جائیں ” زخم ابھی کچے ہیں تکلیف زیادہ ہوگی .

سید معراج نے خود پر سنجیدگی کا لبادہ اوڑھے اسے ٹوکا

۔۔لیکن بھائی ۔۔۔۔

چھوٹے ہم کیا کہہ رہے ہیں ” یہ سب باتیں گھر جا کر آپ کے ٹھیک ہونے کے بعد ہوں گی ابھی ان سب کا وقت نہیں ۔

مجھے گھر جانا ہے ابھی اسی وقت”… وہ ضدی لہجہ میں گویا ہوا

اور میراج جانتا تھا وہ اپنی ضد کا کتنا پکا تھا اسلئے ڈاکٹر سے بات کرتے اسے اپنے ساتھ گھر لے آیا ۔

پلوشہ بیگم سامنے ہی درگرو خالت میں اجری بکھری بیٹھی ہوئی تھی ۔۔

ماں “… دونو بھائی ان کے قریب آتے ان کے گلے لگے تو وہ ایک بار پھر سے بکھرتی پھوٹ پھوٹ کے رو دی ۔۔

ان تینوں کی سسکیاں اور آہیں سب کے دل چیر رہی تھی ۔۔ہر ایک ان کے غم میں شریک تھا ،،،

ملازم سے لے کر دوست احباب تک غم سے نڈھال آنسو بہا رہے تھے ۔۔

صبح صادق کے وقت وہ زبردستی انہیں آرام کرنے کی غرض سے ان کے کمروں میں چھوڑ کر آیا تھا ۔۔

اپنے کمرے میں جاتے وہ ماتھا مسلتا پریشانی اور تھکن سے ہوتی سرخ آنکھوں اور دکھتے پپوٹوں کو دباتا ڈاکٹر کی کہی بات سوچنے لگا ۔۔

تبریز کے بازو اور کندھے پر گولیاں لگی تھی

شانے کے درمیان میں لگی گولی تو ڈاکٹرز نکال چکے تھے لیکن زہر پھیلنے کی وجہ سے اس کی ایک نس کافی زیادہ متاثر ہوئی تھی

آپریٹ تو کر دیا گیا تھا لیکن ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ وہ ابھی اپنی اس بازو کو حرکت نہیں دے پائے گا ۔۔۔

سینیئر ڈاکٹرز سے مشورہ کرکے انہوں نے معراج کو ساری سچویشن سے آگاہ کیا

اور اسی فیصد امید ہے کہ یہ جلد ٹھیک ہو جائیں گے”

پروپر دوا اور ایکسرسائز ہی اُسکا بہتر حل ہے ۔

اس چیز نے مزید معراج کو پریشان کر دیا تھا ” احح …اٹھتا وہ واشروم فریش ہونے چلا گیا کیوں کہ مزید سوچیں اُسکا دماغ مفلوج کر رہی تھی ۔