Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Paband Slasal (Episode 5)

Paband Slasal By Yumna Writes

شیر ولا کے گیٹ کے سامنے گاڑی ایک جھٹکے سے رکی ” وہ باہر نکلتی اسے بھی اندر آنے کا اصرار کرنے لگی بغیر اُسکے لال دھوا دهوا ہوے چہرے کی جانب دیکھے ” وہ خود پر ضبط کے کرے پہرے بٹھاتا لب بینچتا سنجیدگی سے ضروری کام کا کہتا ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کرتا وہاں سے نکلا ۔

سارے راستے اُسکا طیش واشتعال سے سرخ ہوئے چہرے سے برا حال تھا ۔ اسے اس وقت بس اپنے باپ کے قاتلوں تک پہنچنا تھا ،،اور پھر وہ انہیں ترپا ترپا کر مارنا چاہتا تھا ۔۔

جس طرح دشمن نے انکی نرم اور حساس طبیعت کا فائدہ اٹھایا تھا وہ بھی اسی طرح انہیں تکلیف دینا چاہتا تھا ۔

بس کچھ وقت ” وہ بہت جلد اپنی منزل کی جانب قدم بڑھا رہے تھے ” اور آج اسے خود با خود اپنی منزل مل گئی تھی ۔

وہ اپنی گرے آنکھوں سے شیشے کے پار دیکھتا بہت کچھ سوچ چکا تھا اور پھر اُس خوبرو شخص کے لب پر ایک گہری مسکراہٹ رینگ گئی ۔

_________

اگلے ہی دن تبریز نے سب کو حال میں آنے کا پیغام بھجوایا تھا ” وہ چاہتا تھا کے وہ سب کے سامنے جو بھی بات ہے وہ رکھے تاکہ دوبارہ کوئی ایسی غلطی کرنے کی حماقت نہیں کرے ۔۔

چند ہی منٹوں میں سب اُس کے سامنے سلام کرتے ادب سے سر جھکائے کھڑے تھے ۔

جو میں سوال پوچھوں گا اُسکا بس ہاں یاں نہ میں مجھے جواب چاہیے ” ورنہ ۔۔۔ آپ سب جانتے ہیں مجھے ۔

اُسکی سرد بھاری آواز حال میں گونجھی

جو سب کو کپکپانے پر مجبور کر گئی ” پرنسپل کا ماتھا پسینے سے بھیگ گیا ۔۔

سب کے چہرے متغیر ہو گئے ” کیا اسکول میں بچوں پر ہاتھ اٹھایا جاتا ہے ۔۔؟؟؟

ہاں یاں نا ؟؟؟…

نئے آئے اسٹاف میں چند نے سر کو اثبات میں ہلایا ” ۔۔

تبریز لب سختی سے بینچ گیا ۔۔

جن میں سے ایک نے سامنے آتے اسے سب کا سلوک اور غلط زبان کا استعمال بتایا ۔۔

اس کی بات سن کر وہ بھنا اٹھا ” غصّہ حد سے زیادہ تجاوز کرنے لگا ۔۔

جب میں پہلے ہی دن آپ سب کو بتا چکا تھا ” آپ سے اسپیشل سائن کروایا گیا تھا پیپر پر جہاں یہاں جوب کے سارے رولز ریگولیشن موجود تھے ” تو پھر آپ سب کی ہمت کیسے ہوئی میری بات سے تجاوز کرنے کی “

ناگواری اور شدید غصے سے وہ سرخ پڑتا دھاڑا ۔۔

سب کی آنکھوں میں خوف ہلکورے لینے لگا ” بے ساختہ پرنسپل اور سینئر اُستادزہ نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا ۔

ارتضیٰ ” اپنے مینجر کو آواز دیتا وہ اُسے بھی خوف زدہ کر گیا ۔۔

ان سب کے ٹرمینل لیٹرز ان کے ہاتھ میں تھماو اور اُس پر واضح لکھوایا جائے کے کس وجہ سے انہیں نکالا جا رہا ہے تاکہ نیکسٹ ٹائم یہاں ایسی گستاخی نہ ہو

اور ان کی اس منتھ کی تنخواہوں کو روک دو ” اتنا ظلم ۔۔ شرم نہیں آتی آپ سب کو ۔۔

نہیں سر پلیز غلطی ” پرنسپل اُس کے سامنے آتا منت کرنے لگا ” جب اُس نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا ۔

میں کچھ نہیں سننا چاہتا ” اور آج کے بعد آپ سب میں سے کسی کو کوئی مسئلہ ہو سیدھا ارتضیٰ سے رابطہ کریں گے ۔۔گوٹ اٹ “

اپنی گہری سیاہ آنکھوں سے انہیں دیکھتا وہاں سے بھاری قدم اٹھاتا نکل گیا ۔

پیچھے سب حقا بقا سے کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ رھے تھے کے یہ اچانک ہوا کیا ہے۔۔

________

بھائی وہ خوش ہوتی لاڈ سے جا کر اُسکے سینے سے لگی ” میرا بیٹا آ گیا ۔۔

کہاں تھی آپ ؟… میری گڑیا ” اور گارڈز کو بھی نہیں لے کر گئی تھی

اُس کے ماتھے پر لب رکھتا وہ محبت سے اسے ڈپٹتا استفسار کرنے لگا ۔

سوری اپنے کان پر ہاتھ رکھتی وہ لب دباتے بولی تو اسے جی بھر کر اپنی معصوم گڑیا پر پیار آیا ۔

بھائی ایک بات بتاؤ ناراض تو نہیں ہوں گے ” ۔۔

پہلے کبھی ہوا ہوں میری جان” ۔۔

بھائی وہ آج راستے میں میری گاڑی خراب ہو گئی اور سیل بھی آف تھا ” میں بہت خوف زدہ ہو گئی تھی

اتنا خوفناک راستہ تھا اورد گرد گھنا جنگل ” مجھے خوف آنے لگا ۔

مجھے لگا آج تو میں گئی ” کیوں کہ راستے میں مجھے کوئی واپسی کا راستہ دکھائے نہیں دے رہا تھا

پھر میں باہر نکلی اور ایک گاڑی والے سے لفٹ لی”

بھائی کیا بتاؤں آپ کو وہ اتنے اچھے انسان ہیں انہوں نے مجھے گھر تک چھوڑا اور آئندہ خیال رکھنے کا بھی کہا ۔

بھائی اتنے پیارا اور اچھا بندہ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا اور نہ ملی ہوں ۔۔

وہ مسلسل اُس کے ساتھ لگی معراج کی تعریفیں کیے جا رہی تھی اور وہ بس مسکراتا اپنی بہن کو دیکھ رہا تھا ۔

میری بہن کو پسند آ گیا ہے کوئی ” وہ مسکراتا اُس کے روشن چہرے کو دیکھتا استفسار کرنے لگا ۔

ہمم بھائی لیکن وہ تو بہت پیارے ہیں ” انہیں میں کیسے پسند آؤں گی ” اس کی آنکھوں کی چمک لمحے میں ماند پڑی ۔۔

کسی میں اتنی جرائت نہیں کے وہ انکار کے سکے ۔۔۔

ہنی میری جان” آپ دنیا کی سب سے حسین لڑکی ہو ۔

آپ کو تو کوئی بھی مل سکتا ہے ” آپ جس چیز جس شخص پر ہاتھ رکھو گی ۔۔آپکا بھائی آپ کے قدموں میں لا کر رکھے گا ۔

میری گڑیا کا دل اتنا پیارا ہے ” صورت اتنی پیاری ہے

دلشیر کا دل دکھا تھا اُسکی بات پر “..

بھائی آپ تو اتنے پیارے ہیں ” اتنے گورے ۔۔پھر میں کیوں آپ جیسی نہیں ” وہ اُداس ہوتی بولی ۔

کیونکہ ہم سب کو اللہ نے بنایا ہے اور سب کو مختلف بنایا ہے .

اور آپ خود ہی تو مجھ سے کہتی ہو کے آپ مما جیسی بننا چاہتی ہو ۔

تو مما بھی آپ کے جیسی تھی ” اتنی حسین ” اتنی پیاری آنکھیں میری گڑیا کی ۔۔

اتنا پیارا چھوٹا سا ناک” اتنے حسین بال جن سے عشق ہے مجھے ۔۔

اور کیا چاہیے آپکو ” کیا آپ کے لیے میری محبت کافی نہیں جو آپ اس طرح سوچ رہی ہو ۔

حنفہ نے لاڈ سے اُس کے سینے میں چہرہ چھپایا ” بھائی میں تو بس ویسے ہی کہا ،،چہرہ اوپر اٹھائے معصومیت سے ہونٹ باہر نکالتی بولتی وہ دلشیر کے دل کو پر سکون کر گئ

لیکن میری گڑیا میرا دل دکھتا ہے آپکی ایسی باتوں پر “

وہ اسکے لمبے سیاہ بالوں پر لب رکھتا بولا ۔

سوری آئندہ نہیں کہوں گی نا ” اب پلیز سیریس نہ ہوں مجھے بھوک لگی ہے کچھ آرڈر کرتے ہیں

وہ اُس کا بازو کھینچتی ساتھ لیے بولی تو وہ بھی خاموشی سے ساتھ چل دیا ۔

حنفہ کی والدہ کا انتقال اُس کی پیدائش کے بعد ہی ہو گیا تھا ” دلشیر اُس سے سات سال بڑا تھا ۔

ان کے والد بھی سیاست میں تھی اور ان کی اپنی پارٹی تھی ۔۔ ان کی وفات کے بعد دلشیر نے سیاست میں قدم رکھا اور بڑے دھڑلے سے اپنا نام بنایا ۔

وہ ایک اونچا لمبا ،، سرخ و سفید رنگت کا حامل شخص تھا ” جس کا چورا سینا اور چھ فٹ قد ۔۔پھولے مسلز ” اسے دیکھنے والے اکثر اسے دیو کہتے تھے،، دوسرے کو اُس سے خوف زدہ کر دیتے تھے ۔

اُسکا رعب و دبدبا اور تنے نقوش دیکھ کر ہی کوئی اُس کے سامنے جانے کی ہمت نہیں کرتا تھا

دشمن کے لیے وہ جتنا بے رحم اور سفاک تھا ” اپنی بہن کے لیے اتنا حساس اور نرم دل تھا کے اسکو چھونے والی سخت ہوا کو بھی وہ اُس کے قریب جانے کی اجازت نہیں دیتا تھا ۔

یوں کہا جائے تو بہتر ہے کے اسے عشق تھا اپنی بہن سے اس پر جان وارتا تھا وہ ۔