Paband Slasal By Yumna Writes Readelle 50368 Paband Slasal (Episode 13)
No Download Link
Rate this Novel
Paband Slasal (Episode 13)
Paband Slasal By Yumna Writes
دونوں جانب سے شادی کی تیاریاں زوروں سے شروع ہو چکی تھی “
فنکشن سید مینشن منعقد پایا تھا ٫ تبریز نے زیادہ بڑا فنکشن کرنے سے منع کیا تھا ٫.،، لیکن پلوشہ بگیم نے معراج کو کہہ کر ویڈنگ پلانر کا انتظام کروایا تھا ۔
ان کے گھر پہلی شادی تھی ” وہ کیوں نہ خوشی مناتے۔
وہ اپنے بیٹے کے نکاح کے ہر لمحے کو یادگار اور خوبصورت بنانا چاہتی تھی۔
دوسری جانب جانے کیوں ہدیل کو خدشہ لگا ہوا تھا ۔
دل اُداس ہو رہا تھا ” بات بات پر وہ رو دیتی تو ذیشان صاحب اور لیلک بیگم بھی اُداس ہو جاتے ۔۔
لیلک بیگم اُسے پیار سے کئی بار سمجھا چکی تھی” لیکن شادی کے دن جیسے جیسے قریب آ رہے تھے ” وہ خاموش رہنے لگی تھی ۔
لا شعوری طور پر وہ تبریز کی جانب سے پریشان تھی ” وہ کیوں اُس سے بات نہیں کر رہا ” ۔۔
کیا وہ یہ شادی کرنا بھی چاہتا تھا کے نہیں ” ۔۔۔
اُس کے دل میں ڈھیروں اس طرح کے سوال پنپنے لگے ” اور تبریز کا اُس سے رابطہ میں نہ رہنے کی وجہ سے وہ اُس سے بدگماں ہونے لگی ۔
کبھی لگتا کے بس وقت گزاری تھا کیا سب ” پھر خود ہی اپنے خیالات اور لعنت بھجیتی وہ اُسکی محبت کا سوچتی ۔۔
بلاآخر تھک ہار کر لیلک بیگم نے پلوشہ بیگم کو کال کی ” کیوں کہ اُن کے لاکھ سمجھآنے پر بھی وہ رونا شروع ہو جاتی ” سارا دن بھوکے گزار دیتی ” ۔۔
پچھلے دو دنوں سے اُسکا یہی خال تھا ” ۔۔۔اور نہ ان کے ساتھ شاپنگ پر جاتی ” ہدیل کی جانب سے لیلک بیگم اکیلی تھی” بہن سے تو وہ سخت قسم کی خفا تھی اسلئے اس سے بات بھی نہیں کر رہی تھی
پلوشہ بیگم انہیں بھی مال جاتے وقت ساتھ لے جاتی ” ہدیل کو بھی ساتھ چلنے کا کہتی لیکن کے وہ کوئی بہانہ بنا کر انکار کر دیتی ۔۔
آج لیلک بیگم نے انہیں کال کی ” جو دوسری جانب سے فورن موصول ہوئی ۔۔
تبریز جو پاس بیٹھا تھا ” اس نے پلوشہ بیگم کو فون اسپیکر پر ڈالنے کا کہا ” اور ان کی بات سنتے اُس نے مٹھیاں بینچی “…
میں نہیں جان پا رہی کے میری بیٹی کو ہوا کیا ہے ” کہیں ہم نے شادی میں زیادہ جلدی تو نہیں کر دی ۔
شاید اسی بات کی وجہ سے وہ سٹریس لے رہی ہے اور مسلسل دو دنوں سے سر کا درد ہی نہیں کم ہو رہا ۔
آپ فکر نہ کریں ” میں خود بات کرتی ہوں اپنی بیٹی سے ۔۔
اگر کچھ ایسا ہوا تو ہم رخصتی کے لیے تاخیر کر لیں گے
ان کو پرسکون کرتے انہوں نے کال منقطع کر دی ۔
اور کینہ طور نگاہوں سے تبریز کو دیکھا ” کیا آپ نے کچھ کہا ہے میری بیٹی کو ؟؟….
سخت لہجے میں اُسکی جانب دیکھتے استفسار کیا تو وہ جو گہری سوچ میں ڈوبا تھا ” ۔۔۔ مسکرا دیا ۔
میری اتنی مجال “…
ویسے ہی آپکی بیٹی بہت نازک ہے ” آپ فکر نہ کریں میں خود بات کرتا ہوں ۔۔
تبریز میرا شہزادہ ” لڑکیوں کا دل بہت نازک ہوتا ہے ” بہت جلدی ہرٹ ہو جاتی ہیں وہ ” اور یہ وقت ہر لڑکی کے لیے بہت کڑا ہوتا ہے ۔۔
میں بس یہی کہوں گی ہمیشہ دماغ کی بات سن کر فیصلے نہیں ہوتے ” رشتوں میں کبھی دل کی بھی سنّنی چاہیے ” ۔ وہ نرم لہجے میں گویا ہوئ ۔
وہ جانتا تھا کے اُسے کونسی بات پریشان کر رہی ہے ” سر اثبات میں ہلاتے ٫ کچھ سوچ کے اٹھا ” اور قدم اپنے کمرے کی جانب بڑھائے ۔۔
____________
ہدیل سر درد کی دوا لے کے ابھی لیٹی ہی تھی کے فون بجنے لگا ،جسے بنا دیکھے اُس نے يس کر لیا ۔۔
ہیلو ” بھاری ہوتی آواز میں اُس نے فون کان سے لگاتے بات کی “…
جب دوسری جانب سے جواب نہیں آیا تو اس نے بغیر سکرین دیکھے ایک ہاتھ سے اپنے دکھتا سر کو دباتے بیزاری سے گویا ہوئ ۔۔
کیا تکلیف ہے اب بول بھی دو جو بھی ہو” ۔۔۔
اُسکی بھاری ہوتی آ واز سن کر تبریز کے جبڑے تنے ” جو اُسکی طبیعت خرابی کا پیغام اُسے دے رہی تھی ۔۔
کیا میں پوچھ سکتا ہوں کے کونسا روگ لگا ہے آپکو جو آپ اپنی طبیعت خراب کیے بیٹھی ہیں مس از “… تبریز۔
دانتوں کو پیستے غصے کی آمیزش لہجے میں شامل کیے وہ سرد پن سے پھنکارا ۔۔
کانوں میں اُسکی بھاری گھمبیر سرد آواز گونجھی تو وہ حیران آنکھیں واہ کیے فون کی جانب دیکھنے لگی ۔۔
جب ایک بار پھر اُس کی فون سے باہر آواز گونجھی “..
کھانا کیوں نہیں کھا رہی آپ ” ۔۔۔؟؟
اس نے سختی سے استفسار کیا “..
ہدیل آنکھوں میں آتی نمی کو اندر اُتارتے گویا ہوئی ” ۔
بھوک نہیں لگتی ” ۔۔۔
وجہ جان سکتا ہوں ۔۔ ” کیوں آپکی بھوک پیاس ختم ہو گئی ہے ۔
اور کیوں خود کو تکلیف دے رہی ہیں ۔۔
وہ جانتا تھا اُس کے دل پر کیا گزری ہے ٫ ،، اپنا خیال کریں ” ۔۔ میرے پاس آتے ہی آپکی بھوک پیاس جاگ جائے گی میں شورٹی سے کہتا ہوں ” ۔۔۔ اُسکا معنی خیز لہجہ ہدیل کو کانپنے پر مجبور کر گیا ۔
فضول سوچیں دماغ سے نکال دیں اور ریلیکس رہیں ” آپ سر سے لے کر پاؤ تک اب سید تبریز کی ملکیت ہیں ” اور میں ہرگز برداشت نہیں کروں گا کے آپ خود سے لا تعلق ہو کر بیمار پڑیں ۔
خوش رہیں ٫ شادی انجوائے کریں ” ماں آپ سے پوچھیں گی نکاح کی ڈیٹ آگے بڑھانے کے بارے میں “..
آپ کا جواب نہ ہونا چاہیے ” سمجھ گئی ہیں نا “
جّج ” ۔۔جی ” اُسکی اسپاٹ سرد آواز سنتے اُس نے آنسو کا گولہ حلق میں اُتارتے جواب دیا ۔
فون بند ہوتے ہی اُسکی بے رخی کو محسوس کرتے وہ تکیے پر سر گراتے رو دی ۔
