Paband Slasal By Yumna Writes Readelle 50368 Paband Slasal (Episode 29) 2nd Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Paband Slasal (Episode 29) 2nd Last Episode
Paband Slasal By Yumna Writes
مینشن کے گیراج میں گاڑی روکتے وہ لوگ باہر نکلے ،، گل تھوڑی سی خوف زدہ تھی ،، پریشان نہ ہو سب اپنے ہی ہیں ،،ماں آپ کو دیکھ کر بہت خوش ہونگی ۔
اُسے اپنے ساتھ لیے داخلی دروازہ عبور کرتے طویل ترین لاؤنج میں داخل ہوئے ،، جہاں اس وقت خاموشی کا راج تھا ۔
ملازمہ سے پلوشہ بیگم کا پوچھتے وہ اسے ساتھ لیے ان کے کمرے کی جانب بڑھا ،، دروازہ ناک کرتے تبریز گل کے ساتھ اندر داخل ہوا اور اسلام کرتے ان کی جانب قدم بڑھائے جو اسے نظر انداز کرتی اپنی کبرڈ میں چہرہ دیے کچھ تلاش کر رہی تھی ،،
ماں ______ تبریز نے ان کی جانب بڑھاتے نرمی سے پکارا لیکن دوسری جانب سے جواب ندارد ۔۔
وہ آگے بڑھنے لگا جب ان کی کرہت آواز پر اس کے قدم وہی رک گئے ،، چلے جائیں یہاں سے تبریز ،، مجھے اس وقت آپ کا چہرہ بھی نہیں دیکھنا ،، شرمندہ کرکے رکھ دیا ہے مجھے سب کی نظروں میں ،، ماں کی کوئی اہمیت ہی نہیں آپ کی نظر میں جان گئی ہوں میں ،، وہ سنجیدگی سے کہتی پلٹی کے نگاہ سامنے پڑی اور خیرت کی زیادتی سے ایک نظر سامنے موجود چھوٹی سی پیاری لڑکی اور دوسری تبریز پر ڈالی ،، ساکت سی وہ اُسے دیکھتی نفی میں گردن ہلانے لگی ۔
آپ کو شرم نہ آئ تبریز ” ______ وہ گل کو سامنے دیکھتے کچھ اور ہی معاملہ سمجھی تھی
اچھا تو یہ تھی آپ کی مصروفیت ،، اور آپکی ہدیل سے دوری کی وجہ ،، میں بھی سوچ رہی تھی کیوں آپکی اس میں اتنی جلدی دلچسبی ختم ہونے لگی ہے ،،حشگمیں لہجے میں کہتی وہ اُس پر ایک گہری نگاہ ڈالتے آگے بڑھنے لگی ،، _______
ماں کیا ہو گیا ہے آپ کو ،، ایسا کچھ نہیں ہے جیسا آپ سوچ رہی ہیں ان کی بات کا مفہوم سمجھتے وہ تیزی سے ان کے قریب ہوتا بولا ،،
گل جو مارے خوف کے انہیں دیکھ رہی تھی ،،اس کی رنگت متغیر ہونے لگی ،، ۔
دکھائی دے رہا مجھے سب ” وہ غصے سے پھٹ پڑی” بہت اچھا کیا بچی چلی گئی ورنہ آپکو اس طرح کسی اور کے ساتھ دیکھ کر اُسکا دل كٹ جاتا “
اگر یہی سب کرنا تھا تو اس سے نکاح کیوں کیا ” انہوں نے اشتعال بھرے لہجے میں اسے دیکھتے استفسار کیا ۔
ماں میری بات تو سنیں ” وہ ان کے ہاتھ تھامے ان کے گرد اپنا حصار بناتے بیڈ کےبقیب لایا اور بٹھاتے انہیں تمام بات سے آگاہ کرنے لگا ۔
پلوشہ بیگم ساری بات سے آگاہ ہوتی نم نگاہوں سے سامنے کھڑی گل کو دیکھنے لگی “
یہاں آو بچے ” گل چھوٹے قدم اٹھاتے ان کے قریب آئ ، بہت شکریہ ہمارا اتنا ساتھ دینے کے لیے ،،اور ہم تہے دل سے معزرت خواہ ہیں ہمارے باعث آپ کو اتنی تکلیف اٹھانی پڑی ” اُس کے معصوم چہرے پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرتے وہ نم بہتی نگاہوں سے گویا ہوئ ۔
نہیں آنٹی پلیز ایسے مت بولیں ” بڑے ابا نے اور بھائی تبریز نے میرے لیے بہت کیا ہے ،، یہ تو اس کے مقابلے میں کچھ نہیں “۔۔۔۔
تبریز میری جان ،،میرا بیٹا” آج میرا دل پرسکون ہو گیا ہے ،، آپ کے باپ کے قاتل کو اُسکا اصلی ٹھکانہ مل گیا ۔
جب تک وہ شخص زندہ رہتا لوگوں کو یوں ہی نقصان پہنچاتا رہتا ،، اس کے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے وہ چمکتی نم آنکھوں سے اُسے دیکھتی بولی ،،
ماں بس کریں پلیز ،، اب مزید کوئی رونا نہیں ” ہم اپنی منزل تک پہنچ چکے ہیں ،،بابا کا یہی خواب تھا کے ہم لوگوں میں سہی غلط کی آگاہی اور ان کی مدد کے لیے ہمیشہ قائم رہیں ،، آج ان کے دونوں خواب تکمیل کو پہنچ گئے ہیں ۔
الحمدللہ ہمارے این جی او دو بڑے شہروں میں موجود ہیں ،،اور لوگوں کی مدد کے لیے ہم ہر وقت موجود ہیں ۔
اس سے بڑھ کر مجھے اور کیا چاہیے کے میرے اور بابا کے تمام خواب پائے تکمیل کو پہنچ چکے ہیں ،،
اور ہاں ایک اور گوڈ نیوز ہے آپ کے لیے ،، فائنلی آپ کے بڑے تیسرے نمبر والے بیٹے نے شادی کرنے کا فیصلہ کیا ہے
گل کو پرپوز کر چکے ہیں وہ ہاسپٹل میں ،،
وہ مسکراتا ان کے روشن چہرے کی جانب دیکھتا بولا ” ماشاء اللہ یہ تو بہت اچھی خبر ہے “
میں اپنی بیٹی کی رخصتی اپنے گھر سے کروں گی خوب دھوم دھام سے ،، اس کی تھوڑی کو پیار سے چھوتی وہ گویا ہوئ ۔
تبریز نے اثبات میں سر ہلایا ” کیوں نہیں ______
بس اب اپنی روٹھی بیوی کو منانا باقی ہے ” جو میری رات میں غیر موجودگی کو کچھ اور ہی سمجھی ہو گی وہ لب دباتا خیال میں اس کے پھولے چہرے اور نازک سراپے کو سوچتا لطف اندوز ہونے لگا ۔
پلوشہ بیگم اُسکی بات سنتی اُسکا مسکراتا چہرہ دیکھ شرمندہ ہونے لگی ” بیٹے ہدیل اپنے والدین کے ساتھ اپنے گھر چلی گئی ہے ،، رسم ہوتی ہے یہ ،،
آپ تو موجود نہیں تھے اور بچی انہیں سامنے دیکھ کر رونے لگی تھی ،، اس وقت مجھے یہی بہتر لگا کے میں اسے ان کے ساتھ ہی بیجھ دوں ،، آپ کل جا کر لے آنا ۔
انکی بات سنتے اُسکا دل بے چین ہونے لگا تھا اسے دیکھنے کے لیے ،، اُسکے رونے کا سن کر اُس کے وجود میں سرد لہریں اٹھنے لگی تھی ،، تو کیا وہ اسکی وجہ سے رو رہی تھی ۔
ماں آپ گل کو اسکا روم دکھائیں مجھے ضروری کام ہے دیر ہو جائے گی کہتا وہ باہر کی جانب قدم بڑھا گیا۔
___________________
رات کی تاریکی میں کوئی وجود کمرے میں داخل ہوا تھا ،،اُس نے ایک نظر نیم اندھیرے میں ڈوبا کمرہ دیکھا اور پھر دھیمے قدم اٹھاتا کمرے میں داخل ہوا اور لوک لگاتے نگاہ سامنے بیڈ پر سوئے وجود پر ڈالی ،، نگاہ ٹھٹھک سی گئی ۔۔۔
کچھ دیر وہی کھڑے گہرا سانس خارج کرتے قدم اُسکی جانب بڑھائے ________
اپنے قریب کسی وجود کی موجودگی محسوس کرتے اُس کا دماغ ٹھنکا ،، دل گھبرانے لگا ____
اس سے پہلے کے وہ اٹھتی چیختی اتنی ہی تیزی سے دوسری جانب وجود نے اس کا ارادہ بھانپتے اس پر سایہ فگن ہوتے اُس کے نازک لبوں پر ہاتھ رکھا ۔
خیرت کے مارے آنکھوں کی پتلیاں پھیل گئی ،، چہرہ بے تخاشا سرخ پڑنے لگا ۔
تنفس بکھرنے لگا ” اپنے اوپر سایہ فگن تبریز کو دیکھتے دل اچھل کر حلق میں آ گیا ،،
نیم اندھیرے میں اُس کے اوپر چھائے جھکتے اُس کے چھوٹے سے ناک پر لب رکھتا بولا ” کیا میں پوچھ سکتا ہوں آپ یہاں میری اجازت کے بغیر کیوں آئ ہیں ۔
اُسکا جسم ٹھنڈا پڑنے لگا ” لبوں سے ہاتھ ہٹاتے اُسکی متخیر زدہ نگاہوں میں دیکھتے جھکتے اُس کی نازک پنکھڑیوں پر اپنا لمس بکھیرا تو وہ ہوش میں آتی اُس کے چوڑے سینے پر ہاتھ رکھتی اُسے پڑے دکھیلنے لگی ۔
اور خود اٹھ کے بیٹھتے گہرے سانس بھرنے لگی ،، اُسکی غیر متوقع حرکت پر دل سینے سے باہر آنے کو تھا ۔
تبریز اُس کی کیفیت پر سرشار سا ہوتا اُسے دیکھ رہا تھا جو آنکھیں پھیلاے اپنی سانسیں ہموار کرنے کی کوشش میں تھی ۔
اُس کے قریب جھکتے تبريز نے گھمبیر لہجے میں سرگوشی کی ” یہ تو صرف ڈیمو تھا ،، میری شدتیں تو ابھی باقی ہیں ۔
اُسکی حمار بھری نگاہوں اور زو معنی بات سے اُسکا چہرہ سرخ ہوتا دھکنے لگا ،، یکدم اُس کی نگاہوں کے سامنے اُس کا پچھلا رویہ گھوما ” تو کیا وہ فرصت کے لمحات میں اس کے قریب آیا ہے ،، وہ اتنی بے مول تو نہیں تھی ،،
معاواً اس نے ہلچل مچاتے دل پر ہاتھ رکھتے ایک فیصلہ لیا ،،اور اُسے اب اس سے پیچھے نہیں ہٹنا تھا ۔
آپ یہاں کیوں آئے ہیں ” یکدم چہرے پر سختی لاتے وہ گویا ہوئ ،،
تبریز نے اُسکی بات پر آنکھیں سکورتے اُسکی جانب دیکھا ،،ظاہر ہے اپنی بیوی کے پاس آیا ہوں اس سے ملنے ،، بہکتی ہوئ نگاہوں سے اُس کے بکھرے سراپے پر گہری نگاہ ڈالتا بولا ۔
اس کے گرد حصار باندھتے اُسے قریب کرنا چاہا لیکن ہدیل اس کا ارادہ بھانپتے اس سے دوری بناتے جلدی سے بستر سے نکلتی اس سے دور کھڑی ہوئ ۔
ہدیل یہ کیا طریقہ ہے ،،واپس آئیں اپنی جگہ پر ،، ماتھے پر بل ڈالے وہ بھاری آواز میں گویا ہوا ۔
نہیں پہلے آپ مجھے یہ بتائیں ،،
آپ نے مجھ سے نکاح کیوں کیا تھا ” اس طرح میری عزت نفس کو مجروح کرنے کے لیے ۔۔۔ وہ جو اٹھتا آگے بڑھتا اُس کے قریب ہونے لگا تھا ” اُس کے سینے پر ہاتھ رکھتی اسکو پیچھے جھٹکتے بے لچک لہجے میں گرائی ۔
ایسا کچھ نہیں میری جان _____ تبریز نے کہتے آگے بڑھنا چاہتا لیکن ہدیل نے ہاتھ کے اشارے سے اُسے وہی روک دیا ۔
کر لی نہ آپ نے اپنی مرضی ” مل گئی نہ آپ کے دل کو تسکین مجھے یوں بے مول کرکے ،، نظر انداز کرکے ،، تو بس آپکا مقصد پورہ ہوا ،، مجھے نہیں جانا اب آپ کے ساتھ ،، آپ رہیں اپنی انا کے زعم میں ،، غلطی ہو گئی مجھ سے بہت بڑی جو آپ کو پہچان نہ سکی ،، آپ بھی دوسرے مردوں جیسے ہی ہیں ،، بے حس ،، اور پتھر دل۔
میں کوئی ضرورت کا سامان نہیں ہوں جو جب چاہا استعمال کیا _______ آپ کی بھول ہے کے میں آپ کو یہ حق دوں گی ،،جس شخص کو میری پرواہ نہیں ،، رات میں ٹھنڈ میں بیٹھی نئی نویلی دلہن کا خیال نہیں ،،میں اس کو قطعاً یہ اجازت نہیں دوں گی کے وہ جب دل چاہے آ کر اپنا حق وصول سکے ۔
اس نے سرخ ہوتی ناک اور لرزتے لبوں سے اُسے تیکھے چتونو سے دیکھتے کہا ،، مجھے نہیں رہنا اس شخص کے ساتھ جسے اپنے علاوہ کوئی نظر نہیں آتا ،، چلے جائیں یہاں سے میں آپ سے مزید کوئ بات نہیں کرنا چاہتی ۔
آنکھوں میں آنسو تھے ،، جبکہ ہونٹ بری طرح کپکپا رہے تھے ،،اس شخص سے محبت نہیں بلکہ عشق کرتی تھی وہ جس سے دستبردار ہونا بہت مشکل تھا وہ ،،لیکن وہ اسکا نازک دل بہت بڑی طرح سے توڑ چکا تھا کے وہ طیش میں آتی اس سے دوری کا بھی بول اٹھی ۔
تبریز جو کب سے اُسے سن رہا تھا ،، فرصت کے لمحات اور علیحدگی کی بات پر دماغ سنسنا اٹھا ،،ایک پل کی تاخیر کیے بغیر اس کو بازوں سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا ،، کے وہ جھٹکے سے اُس کے قریب ہوئ ،، اُس کے بازوں پر اپنی گرفت مضبوط کی کہ وہ درد سے کراہ اٹھی ،، کیا بولا آپ نے ۔۔
میں کچھ نہیں بول رہا جانتا ہوں میری غلطی ہے لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کے آپ کا جو دل آئے بولتی جائیں ،، علیحدگی کا آپ نے سوچا بھی تو جان لے لوں گا آپ کی ۔
آپ صرف میری ہیں ،، آپ کا غصّہ ____ محبت پسند،،نفرت سب کا حقدار صرف میں ہوں ،، مجھ سے لڑیں ،،جگھریں ،، میں مناو گا لیکن دور جانے کی بات نہیں کریں گی آپ ،، اُسکی آنکھوں میں دیکھتے بھاری لہجے میں کہا ،، ۔
اور کون سے کیسے فرصت کے لمحات ،، کیا میں آپ کو اس قدر گھتیاں لگتا ہوں کے اپنی بیوی سے بغیر اجازت اس کے قریب جاو ۔
میں سب کچھ کر سکتا ہوں لیکن یہ نہیں ،،ایک اور فرد جرم عائد نہ کریں مجھ پر ،، میں تو پہلے کے لئے بہت شرمندہ ہوں ،،
اس کی بات پر ہدیل زخمی سا مسکرا اٹھی ،، بہت دیر کر دی آپ نے محترم ،، میں اپنا فیصلہ آپ کو سنا چکی ہوں اور اب میں اس سے پیچھے نہیں ہٹوں گی ،،
میرا ضبط مت آزمآئیں ہدیل ” مجھے سختی پر مجبور مت کریں ،، ورنہ ابھی اسی وقت آپکو ایسی سلاسل میں قید کروں گا کے آپ چاہ کر بھی اس سے باہر نہیں نکل سکتی ،، شاید آپ جانتی نہیں میرے پاس تمام اختیارات ہیں ،، اس کے قریب جاتا اُسے خود میں بینچتے لب اُس کی کان کی لو کے قریب کرتے سرگوشی کی ،، اس کے دھکتے لمس اور کان کی لو پر محسوس ہوتے لب اُسے کپکپانے پر مجبور کر گئے ،،
آپ ایسا نہیں کر سکتے ،، مضاحمت کرتے اُس کا حصار توڑنا چاہا ،، میں سب کچھ کے سکتا ہوں مجھے اختیار حاصل ہے بیوی ،، _______ ۔
اس کے اس قدر نزدیکی پر اسکا چہرہ تپنے لگا ،، ہدیل کو اپنا وجود بے جان ہوتا محسوس ہوا ،، وہ بے بس سی اُس کے حصار میں کھڑی تھی ،، اُسے کچھ نہ سوجا تو چہرہ ہاتھوں میں چھپاتے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
اسے یوں روتا دیکھ اسے ڈھیروں شرمندگی نے آ گھیڑا ،، ہدیل آئے ایم سوری میری جان ،، میں مزاق کر رہا تھا ۔
اُس کا چہرہ اپنے روبرو کرتے اُسکی اٹھتی گرتی مژگاں کو دیکھتے اُسکا دل تیزی سے دھڑکنے لگا ۔
وہ خوبصورت تھی بہت ” لیکن جانے اُسے ہے حد حسین کیوں لگتی تھی کے دل میں ہلچل مچنے لگتی تھی اُسے دیکھ کر ۔
ہدیل نے سرخ نگاہؤں سے اُسے دیکھا اور اُسکا ہاتھ جھٹکا ،، جس عورت کی باتوں میں آ کے آپ مجھ سے اتنا وقت دور رہیں ہیں نہ ،، وہ یہی چاہتی تھی کے ہمارا رشتہ نہ ہو ،، جان بوجھ کر انہوں نے سب کہا تھا کیوں کے وہ چاہتی تھی کے ان کے بیٹے سے میری شادی ہو جائے جو مجھ سے عمر میں پانچ سال چھوٹا ہے ،،
جب انکار کیا تو مجھے واضح دھمکی دی کے کہی میری شادی نہیں ہونے دیں گی ۔
آپ جیسے شخص کا میں کیا بھروسہ کروں جو کسی غیر کی باتوں میں آ کر مجھ سے دور رہا ۔۔
کل کو کسی کی بات سنتے مجھے اپنی زندگی سے باہر کر دے ،، ہدیل پھٹ پڑی ۔۔
یہ میرا آخری فیصلہ ہے تبریز شاہ مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا ،، میں آپ کے ساتھ آگے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتی ،، اگر آپ مجھ سے ذرا سی بھی محبت کرتے ہیں تو مجھے چھوڑ دیں ،، کہتی وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپائے رونے لگی ۔
ہدیل ایک بار میری بات سن لیں جانا ،، میں جانتا ہوں غلط کر چکا ہوں آپ کے ساتھ اور بہت پشیمان بھی ہو ،، لیکن اس طرح مجھے خود سے دور نہیں کریں ۔
آپ تو محبت کرتی ہیں مجھ سے ،، رہ لیں گی میرے بغیر ،، تبريز نے ضبط کرتے کہا ،، اُسکا لال چہرہ اور گردن میں ابھرتی سبز رگیں اس کے ضبط کی گواہ تھی ۔
کرتی تھی مگر اب نہیں ،، مجھے بس آپ نہیں چاہئے ،، مجھے علیحدگی چاہیے آپ سے ،،پلیز جائیں یہاں سے ،، ہدیل نے ناگواری سے کہتے نگاہیں پھیر لی ۔
بلیک شرٹ اور ٹراوزر میں سرخ پڑتی رنگت اور اس پر متضاد آدھے بندھے کیچڑ میں بال جو پشت پر پھیلے ہوئے تھے ،، اس کے سراپے کو اپنی لہو رنگ آنکھوں سے دیکھتا کھینچ کے اُسے دیوار کے ساتھ پن کیا ، تو ہدیل کو سسکی نکلی ،، آنکھیں اٹھاتے خود پر شرر بار نگاہوں سے دیکھتے تبریز پر پری تو سانس سینے میں اٹک گیا ۔
شٹ آپ ،، جسٹ ________ اُس کے کندھوں پر دباؤ بڑھاتے وہ دہشت زدہ سا اسے دیکھتا سرد اسپاٹ لہجے میں گرایا ،، میں کب سے آپ کو دیکھ رہا ہوں ،،اور آپ بار بار ایک ہی بات کیے جا رہی ہیں ،، وہ طیش میں آتا دیوار پر گھوسا مارتا دھارا ،، مجھ سے دوری کا سوچیے گا بھی مت ،، مجھ سے علیحدگی صرف ایک صورت میں ممکن ہے اور وہ ہے میری موت ،، زیادہ علیحدگی کا شوشق چڑھا ہے تو میری موت کی دعا کیجیے ،، لیکن ان لبوں سے میں دوبارہ ایسی گستاخی نہ سنو ورنہ میں وہ سب کچھ کر گزرو گا جس کا آپکو ڈر ہے ،، اُسکا پرسکون انداز میں کہنا اُسے جنجھوڑ کر رکھ گیا ۔
آپ کی سوچ ہے کے میں آپکو کبھی اپنے قریب آنے دوں گی ،، میں بے شک آپ کی دسترس میں آپ کے بہت قریب رہوں گی لیکن قریب ہوتے بھی ہم میلوں کے فاصلے پر رہیں گے ،،اور اتنا تو مجھے یقین ہے کے جو دوسروں کو انصاف دلاتا ہے ،،اپنی بیوی کے ساتھ کیسے زبردستی کوئی بھی رشتہ قائم کر سکتا ہے ،، ہدیل نے سلگتے لہجے میں کہتے حساب بے باک کیا تو وہ دھنگ سا رہ گیا ۔
جو آج بپھری شیرنی بنی ہوئی تھی ،، بیوی غلطی پر تھا میں ،، انجانے میں آپکو نظر انداز کر گیا مجھے معاف کر دیں ،، اگر کہتی ہیں تو آپ کے سامنے ہاتھ جوڑ لیتا ہوں ،، وہ ہار مانتا ملتجی نگاہوں سے دیکھتا گویا ہوا تو ہدیل کا دل پسلیوں سے ٹکرانے لگا ،،
کیا تھا وہ شخص اتنی جلدی ہار مان گیا تھا ،، اس کے سامنے ،اس کی یہی ادا تو اسے اپنا قائل کرتی تھی ،، مجھے کیا ضرورت ہے آپ سے ہاتھ جروانے کی ،، جو آپ کر چکے ہیں وہ کونسا دوبارہ ٹھیک ہو جانا ۔ وہ آنسو ضبط کرتی نم آنکھوں سے اُسے دیکھتی بھراے لہجے میں بولی ” بیوی تمام اختیارات آپکو حاصل ہیں ،، ناراض ہوں ،، روٹھیں میں مناؤں گا ” لیکن مجھ سے دور جانے کی بات مت کریں ،، میری سانسیں رکنے لگتی ہیں۔
ہدیل نے اُسکی گہری سیاہ آنکھیں دیکھیں جن میں اُس کے لیے بے پناہ محبت اور جنون تھا ،،، لیکن وہ اسے اتنی جلدی معاف نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
اُسے بیڈ پر بیٹھآتا وہ خود اُس کے قدموں میں بیٹھ گیا ،، اُس کی گود میں سر رکھتے وہ اپنے اندر کی کیفیت کو چھپائے ہوئے تھا ” وہ بہت خوش تھا آج اپنے والد کے قاتلوں کو ان کے اصل مقام تک پہنچا کر لیکن دوسری جانب انکو یاد کرتے دل بہت اُداس بھی تھا ” اور پھر اُسکا ہدیل کے ساتھ گزرے دنوں میں رویہ ،،
وہ مضبوط مرد شدت غم کو ضبط کرتا چہرہ اُس کی گود میں چھپاتا اپنے آنسو چھپانے لگا جو باہر نکلنے کو تیار تھے ،، اور پھر وہ دھیمے گھمبیر لہجے میں بولنا شروع ہوا ،، اُسکا رویہ ،، اُس کے بابا کے دشمنوں کے وار ،، تمام حالات ،،
وہ صرف اسلئے تھا ” کے وہ خود جان بوجھ کے ہدیل سے دور رہ رہا تھا ،، جب میراج نے اُس سے ہدیل سے علیحدگی کی بات کی تھی تو اس نے تمام بات اس کے گوش گزار کی تھی ۔
گل نے اُسے بتایا تھا کے اس رات اپنے فلیٹ کے باہر اس نے جن لوگوں کو بات کرتے سنا تھا ” وہ اسی کے بارے میں بات کر رہے تھے ۔
انکا اگلا نشانہ تبریز اور ہدیل تھے ،، اسی وجہ سے اُس نے ہدیل سے ملنا اور بات کرنا بند کر دیا تھا کے وہ جانتا تھا کے ان کے فون ہیک ہو چکے ہیں ،، اس رات چوری چھپے آ کر اُس نے ہدیل کو واضح بھی کیا تھا کے فضول سوچیں مت پالے لیکن وہ اُسکی بات کا مطلب نہیں سمجھی تھی۔
مجھے بھائی نے سمجھایا کے میں کیوں خود کو اذیت کی دہکتی آگ میں جھونک رہا ہوں ،، ہمیں مل کے سامنا کرنا چاہیے ،، جب تک میں سب سمجھا آپ مجھ سے بدگماں ہو چکی تھی ،، سیاہ گھنور آنکھیں اس وقت سرخی مائل تھی ،، میں بہت محبت کرتا ہوں آپ سے بیوی اور آپ سے دوری کا تصور میرے جسم سے روح کھینچ لیتا ہے ،، اُس کے گھٹنے پر سر ٹکاتا وہ بھاری نم لہجے میں بولا ،،آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر ہدیل کی گود میں گرا ۔
ہدیل شاکڈ سی اُسے دیکھ اور سن رہی تھی ،،
اس کے آنسو پر وہ ترپ اٹھی تھی ،، کرب زدہ سے جھکتے اُس نے اُسکا چہرہ ہاتھوں میں تھاما تھا ،، تبریز نہیں ،، ایسے مت کہیں پلیز ،،
میں نہیں جانتی تھی یہ سب ،، وہ اُسے روتا دیکھ خود بھی بے آواز روتی اُس کے قریب فرش پر بیٹھ گئی ۔
میں آپکو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی ،، بھول جائیں سب ” میں کہیں نہیں جا رہی اپ کے ساتھ ہوں ہمیشہ ۔
تبریز نے اُسے روتا دیکھ اپنے سینے میں بینچا تو وہ اُس کے حصار میں قید ہوتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔
آپ اتنی تکلیف میں رہے اور آپ نے مجھے بتایا بھی نہیں،، کیا آپ کو مجھ پر اعتبار نہیں تھا ” اُس کی شرٹ کو مٹھیوں میں بینچے وہ روتے ہوئے شکوہ کناہ لہجے میں بولی ،، اس کے بالوں سے ڈھکے سر پر لب رکھتے وہ اپنے غم کو ضبط کرتا نفی میں گردن ہلاتا گویا ہوا ،،میں بس آپکو نقصان سے بچانا چاہتا تھا ،، میری زندگی کا کل سرمایہ ہیں آپ میری جان ۔
آپ اُداس مت ہوں میں آپ کے ساتھ ہوں ،، آج تو خوشی کا دن ہے کے آپ نے اپنی منزل پا لی آج ” اُس کے سینے سے سر نکالتی سوں سوں کرتی بولی ،، تو وہ سر ہلایا مسکرا دیا ۔
ہدیل نے اُس کے ماتھے پر بکھرے بال اپنی ملائم انگلیوں سے پیچھے کیے اور آگے بڑھتے اُس کے ماتھے پر اپنی محبت کی پہلی مہر ثبت کی ،،
شکریہ میری حیات مجھے سمجھنے کے لیے اُس کے رخسار پر لب رکھتا وہ محبت سے گویا ہوا ،، تو ہدیل اس کے خوبصورت چہرے پر نگاہیں ٹکائے اُسے سنتی رہی ۔
________________
معراج کمرے میں داخل ہوا تو وہ آلتی پالتی مارے چپس کا پیکٹ گود میں رکھے ساتھ کوک کا کین رکھے دل جمعی سے آنکھیں پھیلائے ایل ای ڈی پر چلتے کارٹونز دیکھ رہی تھی۔
معراج نے خیرت سے ایک نگاہ اُس پر ڈالی اور پھر سامنے سکرین پر چلتے بیوٹی اینڈ دا بیسٹ پر ۔۔
اور بے ساختہ ہونٹوں پر دلفریب سی مسکراہٹ نے اخاطہ کیا ۔
میڈم کی عمر دیکھو اور کام دیکھو ،،، میراج نے قریب بیٹھتے گلا صاف کرتے اُسکی جانب دیکھا ،، کیا دیکھ رہی ہیں بیڈ کراون سے ٹیک لگاتا بولا ” ہنفه نے ایک نگاہ اُس پر ڈالی ،، کارٹون دیکھ رہی ہوں اب ڈسٹرب مت کریں ۔
اُس کو آنکھیں دکھاتی وہ پھر سے سامنے سکرین پر چلتے کارٹون کی جانب متوجہ ہوئی ،،
معراج ہونک سا اُسکا انداز دیکھتا خاموش ہو گیا ۔
