Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muntazirat Hastam (Last Episode)Part 2

Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz

“کیا مسئلہ ہے۔۔۔؟ بات کیوں نہیں کررہی تم مجھ سے؟”

آمنہ کے کال اٹینڈ کرتے ہی وہ بول پڑا

“بات کرنے کے لیے ہی تو کال اٹینڈ کی ہے۔۔”

آمنہ اسکے انداز پر مسکراہٹ روک کر بولی۔

“بڑا احسان کردیا ہے مجھ پر۔۔۔” ہادی جل بھن کر رہ گیا۔

“ہاں تو اور۔۔۔۔خیر کوئی بات کرنی تھی کیا تم نے؟”

وہ بغیر کسی فضول بات کے اصل مدعے پر آئی۔

“تم مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہی بتانا پسند کرو گی؟”

“کر تو رہی ہوں ہادی۔۔۔” اسنے خود کو بیزار ظاہر کیا۔

“ہاں پانچ گھنٹے بعد رپلائی کر کہ۔۔۔اسے بات کرنا کہتے ہیں؟ ضرورت ہی کیا تھی اسکی بھی؟” وہ جزبز ہوگیا۔

“مجھے تو ضرورت نہیں تھی مگر تم پر ترس آرہا تھا تو بس۔۔”

آمنہ نے بےنیازی سے بولتے جملہ ادھورا چھوڑا۔۔ ہادی کا تو منہ ہی کھل گیا پھر اسنے دانت پیسے۔

“فضول نہیں بولو تم۔۔۔مجھے بتاؤ مسئلہ کیا ہے۔۔۔؟ کون سا ایٹم بم بنا رہی ہو تم کہ بات کرنے کا وقت ہی نہیں؟”

وہ عاجز آ چکا تھا اگنور ہو ہو کر۔

“میں نے کب کہا کہ میرے پاس بات کرنے کا وقت نہیں؟ میں تو دیکھ رہی تھی کہ تم سے بات کئیے بغیر گزارہ ہوسکتا ہے کہ نہیں۔۔۔”

آمنہ نے اپنی مسکراہٹ بامشکل روکتے سنجیدگی سے کہا مگر ہادی اتنا بھی بچہ نہ تھا۔

“دیکھ لیا؟ نہیں ہوا نہ گزارہ؟”

وہ ایسے بولا جیسے یقین ہو کہ آمنہ کا وقت بہت مشکل سے کٹا ہوگا۔

“ہو گیا بلکہ بہت اچھا وقت گزرا تم سے بات کئیے بغیر۔۔۔ایسے جیسے زندگی سے نحوست کا خاتما ہوگیا ہو۔۔”

ہادی کا منہ ایک بار پھر کھل گیا۔

“اب تم نے کال کرلی ہے نہ۔۔۔باقی کا دن خراب ہی گزرے گا۔۔۔”

اسے ابھی سے افسوس ہونے لگا کہ اسنے ہادی کی کال کیوں اٹینڈ کرلی۔ ہادی نے مٹھی بھینچتے دانت کچکچائے۔ یہ لڑکی جان بوجھ کر اسکا دماغ خراب کر رہی تھی۔ چند لمحے لائین پر خاموشی رہی۔

“تمہارے گزارہ ہورہا ہوگا مگر میرا نہیں ہورہا سمجھی تم۔۔!”

غصے کو لات مارتے اسنے گھٹنے ٹیک دئیے۔ آمنہ کی دھڑکن بےترتیب ہوئی اور ہونٹوں پر تبسم بکھرا۔

“تو اس میں میری کیا غلطی؟”

وہ ابھی بھی خاصے ٹھنڈے پن کا مظاہرہ کر رہی تھی۔

“اگر تم مجھے اچھی لگنے لگ گئی ہو تو اس میں میری بھی کوئی غلطی نہیں۔۔”

اسکی اتنی صاف گوئی پر تو آمنہ کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ اسے ہرگز یہ توقع نہیں تھی کہ وہ ایسا کچھ کہہ دے گا۔

“اب کیوں چپ ہوگئی ہو؟ بول تو دیا ہے میں نے وہ جو تم سننا چاہ رہی تھی۔۔”

اسکی خاموشی پر ہادی محظوظ ہوا تھا۔

“تت۔۔۔ تمہیں کس نے کہا کہ میں یہ سننا چاہ رہی تھی؟ بہت خوش فہم ہو تم۔۔!”

وہ صاف مکرنے والے انداز میں بولی تو وہ دلکشی سے مسکرایا۔

“اچھا واقعی یہ نہیں سننا چاہ رہی تھی؟ پھر دس دن سے یہ ڈرامہ کس خوشی میں کر رہی تھی تم؟”

اسکی بات پر آمنہ کی آنکھوں میں حیرت اتری۔

“تمہیں کس نے بتایا۔۔۔؟”

وہ تقریباً چلا اٹھی ساتھ ہی پہلا خیال عزہ کی طرف گیا۔

“بتایا تو کسی نے نہیں میں نے تو ویسے ہی کہہ دیا۔۔۔ تم واقعی ڈرامہ کر رہی تھی؟”

ہادی نے شاک کی کیفیت میں کہا۔

“نن۔۔نہیں تو۔۔” وہ فوراً مکر گئی۔

“اوفف آمنہ کتنی بدتمیز عورت ہو تم۔۔۔ تمہیں پتا بھی ہے کہ تم نے میرا چین اور سکون کیسے برباد کیا ہے؟”

وہ ابھی بھی صدمے کی کیفیت میں تھا۔ اسے آمنہ سے کسی ایسی حرکت کی توقع نہیں تھی۔

“یہ بدتمیز عورت کیا ہوتا ہے؟ میں نے تم سے بات کرنا چھوڑی تبھی تمہیں احساس ہوا اور مت بھولو جو تم نے سارا دن مجھے اگنور کیا تھا۔ اس کا بدلہ بھی لینا تھا میں نے۔۔۔”

آمنہ کے اطمینان سے بولنے پر وہ عش عش کر اٹھا۔ یہ لڑکی واقعی اس کے سر پر چڑھ کر ناچ رہی تھی۔

“تم میرے سامنے ہوتی تو میں تمہیں گنجا کردیتا۔۔۔”

ہادی نے دانت پیسے تو آمنہ نے قہقہہ لگایا۔

“خیر۔۔۔مجھے ملنا ہے اب تم سے۔۔”

آمنہ کے کچھ بھی بولنے سے پہلے اسنے اپنی خواہش ظاہر کی۔

“مل لیتے ہیں۔۔تمہیں کچھ بتانا بھی ہے میں نے۔۔۔”

“کیا بتانا ہے۔۔۔؟” ہادی کو تجسس نے گھیرا۔

“مل کر بتاؤں گی۔۔کب ملنا ہے کہاں ملنا ہے ڈسائیڈ کرکہ مجھے بتا دینا ابھی میں جارہی شاید بابا آگئے ہیں۔۔”

مزید چند ایک باتوں کے بعد اسنے کال منقطع کردی۔

کچھ دیر بعد ہی ہادی نے اسے کل چار بجے ایک پارک میں بلا لیا۔

“بابا کا ٹرانسفر ہوگیا ہے۔۔اگلے ہفتے وہ سیالکوٹ جارہے ہیں اور ہوسکتا ہے نیکسٹ منتھ تک ہم بھی چلے جائیں۔۔”

وہ اسکے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی بولی تو اسکی بات سن کر ہادی رک گیا اور چہرا موڑ کر اسے دیکھا۔

“کیا؟ سیالکوٹ جارہی ہو تم۔۔۔؟”

وہ حیرانگی سے بولا تو آمنہ اداس سی ہوتی سر اثبات میں ہلانے لگی۔

“مگر کیوں۔۔۔۔؟” اسے آمنہ کی بات بلکل پسند نہ آئی۔

“کیا کیوں؟ کتنے عجیب سوال کرتے ہو تم لوگ۔۔۔ بابا جارہے اور بابا کے ساتھ ماما بھی تو میں نے یہاں رک کر کیا کرنا؟”

وہ اکتاہٹ سے کہتی ہوئی ایک بینچ کی طرف بڑھ گئی۔

“اور ہارون۔۔۔؟” ہادی نے اسکے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے سوال کیا۔

“ظاہر ہے یار ہارون بھائی بھی جائیں گے۔۔۔انہوں نے تمہیں بتایا نہیں ہے کیا؟”

وہ ٹھنڈے بینچ پر بیٹی تو ہادی بھی اسکے ساتھ بیٹھ گیا۔

“نہیں میری ہارون سے بات نہیں ہوئی مگر۔۔۔تم چلی جاؤ گی تو میرا کیا ہوگا ؟”

وہ مضطرب ہوگیا۔

“وہی جو منظورِ خدا ہوگا۔۔”

“آمنہ یار۔۔۔ بہت جلدی نہیں کردی تم نے مجھے یہ بات بتانے میں؟”

وہ اب اسے گھورنے لگ گیا۔

“یار سب کچھ اتنا اچانک اور جلدی ہوا مجھے خود اندازہ نہیں تھا کہ ہم بھی جائیں گے اور پھر ہماری بات بھی تو نہیں ہورہی تھی نہ۔۔”

وہ آخر میں چہرے پر معصومیت سجا گئی تو ہادی کچھ کہہ ہی نہ سکا اور بس اسے دیکھ کر رہ گیا جیسے کہہ رہا ہو ” تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا۔۔“

آمنہ نے گہری مسکراہٹ اسکی طرف اچھالی اور پھر اپنے یخ بستہ ہاتھوں کو آپس میں رگڑتے منہ سے لگایا۔

“آمنہ۔۔۔ تم چلی جاؤ گی تو میں تمہیں دیکھوں گا کیسے؟”

اسنے آمنہ کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنے ہاتھوں میں چھپاتے انہیں گرماہٹ بخشی۔ آمنہ کی دھڑکن بےترتیب ہوئی۔

“تو تم مجھے کیوں دیکھو گے۔۔۔؟”

وہ مسکراہٹ دبا کر سوال کرنے لگی۔

“کیونکہ میرا دل کرتا ہے تمہیں دیکھنے کا۔۔”

وہ اسکے ہاتھ کی پشت کو انگوٹھے سے سہلا کر بولا۔

“تمہارا دل کیوں کرتا ہے؟”

وہ اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے شرارتًا سوال کرنے لگی۔ ہادی نے اسکے مسکراتے ہوئے چہرے کو گھورا۔

“اور کتنے صاف لفظوں میں بولوں۔۔۔؟ میرے دل پر قبضہ کرلیا ہے تم نے۔۔”

ہادی محبت پاش نظروں سے اسے دیکھ کر بولا تو آمنہ بلش کرتی قہقہہ لگا گئی اور اپنے ہاتھ چھڑوانے کی چھوٹی سی کوشش کی۔

“بتاؤ مجھے اب تم چلی جاؤ گی تو میں کیا کروں گا۔۔”

وہ چہرے پر معصومیت سجائے سوال کر رہا تھا۔

“کچھ نہیں ہوگا۔ تم مجھے کال کرلینا۔۔۔”

آمنہ نے بیکار سا حل پیش کیا۔

“وہ تو میں ابھی بھی کرتا ہوں۔۔۔اوفف اتنا ظلم کیوں کر رہی ہو تم مجھ پر۔۔”

آمنہ پھر سے ہنس دی۔

“میں تو نہیں کر رہی مگر بس۔۔۔ تم۔۔”

وہ کچھ بولتے بولتے رک گئی تو ہادی نے آئی برو اٹھا کر اسے دیکھا جو نچلہ ہونٹ دانتوں تلے دباتے ہچکچاہٹ کا شکار ہو رہی تھی۔

“میں کیا۔۔۔؟”

تم ایک سال بعد گھر والوں کے ساتھ ملنے آجانا۔۔”

وہ جلدی سے بولی تو ہادی کچھ الجھا

“گھر والوں کے ساتھ۔۔؟”

آمنہ نے جلدی جلدی سر اثبات میں ہلایا۔ اسکی بات سمجھتا ہادی بےاختیار مسکرا اٹھا۔

“انشاءاللّٰہ۔۔۔”

آمنہ کے ہونٹوں پر اطمینان بھری مسکراہٹ بکھری۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

“میں چاہتی ہوں جانے سے پہلے تم بھی شادی کرلو۔۔۔ منگنی یا نکاح کچھ بھی۔۔اسکے بعد چلے جانا ایو ایس۔۔”

ارمغان عطیہ کی گود میں سر رکھے لیٹا تھا جب عطیہ نے اسکے بالوں میں نرمی سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تھا۔ بلآخر وہ ارمغان کے یو ایس اے جانے ہر راضی ہوگئی تھیں۔ عطیہ کی بات سنتے ارمغان نے ناراضگی سے ماں کو دیکھا۔

“میری شادی کے خواب دیکھنا چھوڑ دیں ماما۔۔۔”

“تو تمہارا کیا مطلب ہے تم شادی نہیں کرو گے۔۔؟”

انہوں نے حیرت سے ارمغان کو دیکھا تو وہ خاموش رہا۔

“تم پاگل تو نہیں ہوگئے۔۔۔؟”

اونہوں نے اسکے بالوں سے ہاتھ ہٹایا۔

“ماما پلیز۔۔۔مجھے اس ٹاپک پر بات نہیں کرنی۔۔۔”

اسنے ان کا ہاتھ واپس اپنے بالوں پر رکھا۔

” یہ ٹاپک نظر انداز کرنے جیسا ہے کیا؟”

وہ دوبارہ اس کے بالوں میں نرمی سے ہاتھ پھیرنے لگی۔

“ارمغان کب تک ایسے رہو گے؟ آگے بڑھنے کی کوشش تو کرو۔۔۔”

“میں نہیں بڑھنا چاہتا۔۔۔”

وہ سیدھا ہو کر بیٹھا۔

” یہی تو مسئلہ ہے کہ تم نہیں چاہتے۔۔۔اگر تم چاہو تو کیا نہیں ہوسکتا؟ اسے بھول جاؤ ارمغان۔۔۔۔”

“کتنا آسان ہے نہ آپ کے لیے یہ کہنا کہ اسے بھول جاؤ۔۔۔ امی میں مر جاؤں گا۔۔”

اسنے کمزور سی آواز میں کہتے بےبسی سے ماں کو دیکھا۔

“اللّٰہ نہ کرتے ارمغان۔۔۔ کسی کے جانے سے موت نہیں آتی۔۔”

انہوں نے قرب سے کہتے اسکے چہرے پر ہاتھ رکھا۔

“وہ ”کسی“ نہیں ہے امی۔۔۔ وہ میری زندگی ہے۔۔۔اسکے بغیر یہ سانسیں بھی بوجھ لگتی ہیں مجھے۔۔وہ مِل جائے گی تو جی اُٹھوں گا۔۔۔”

اسکی آنکھوں میں نمی آنے لگی تھی۔ عطیہ کے دل میں درد کی ٹیسیں اٹھی۔ وہ چوبیس سال کا مرد نہیں بلکہ چھوٹا سا بچہ لگا تھا جس کا پسندیدہ کھلونا کھو گیا ہو۔۔۔عطیہ کا دل کیا وہ اسکے سارے غموں کو مٹا دے۔ وہ اس وقت میں واپس چلی جائے جب نکاح ہورہا تھا اور وہ اس نکاح کو ہونے سے روک دے مگر وہ ایسا کچھ نہیں کر سکتی تھی۔

“صبر کرو میرے بچے۔۔۔ہاں صبر کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن صبر آ جائے تو کچھ مشکل نہیں رہتا۔۔۔”

عطیہ کی آنکھوں سے موتی ٹوٹ کر گرنے لگے۔

“نہیں ہوتا صبر۔۔۔میں نے زندگی میں بہت کچھ برداشت کرلیا ہے مگر اسکی جدائی برداشت نہیں ہوتی۔۔۔”

عطیہ کا چہرا دھندلانے لگا تھا۔ وہ آنسوؤں کو روک نہیں پا رہا تھا۔

“تم کوشش کرو نہ۔۔۔ کب تک ایسے رہو گے؟ اسکا انتظار تو نہیں کر سکتے نہ۔۔۔”

وہ ماتھے پر بکھرے اسکے بال ٹھیک کرتے ہوئے خود کو رونے سے بدقت روک رہی تھی۔

“کر سکتا ہوں۔۔۔اور میں موت آنے تک اس کا انتظار کروں گا۔۔”

اسکے بال سنوارتا عطیہ کا ہاتھ تھما تھا۔ وہ یہ بات جزبات میں نہیں کہہ رہا تھا، اپنے پورے ہوش و حواس میں تھا مگر یہ بھی حقیقت تھی کہ اسنے موت تک انتظار ہی کرتے رہنا تھا کیونکہ وہ اس کا نصیب نہیں تھی اور وہ خدا سے ضد نہیں باندھ سکتا تھا۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

“یَشل۔۔۔ اٹھ جاؤ یونیورسٹی کے لیے لیٹ ہو جاؤ گی۔۔۔”

شیشے کے سامنے کھڑے رائد نے ٹائی باندھتے ہوئے کہا مگر یَشل ٹس سے مس نہ ہوئی۔

رائد ٹائی باندھ کر کالر ٹھیک کرتا اسکی طرف مُڑا جس کا صرف سر نظر آرہا تھا۔ وہ پوری طرح سے لحاف میں چھپی ہوئی تھی۔ رائد اس کے پاس آیا اور لحاف ہٹایا۔

“رائد سونے دو مجھے۔۔۔”

وہ دوبارہ لحاف اوپر ڈالتی اسے مٹھیوں میں بھینچ گئی۔ اب کی بار اس کا سر بھی چھپ گیا۔

“یَشل۔۔۔میں کہہ رہا ہوں اٹھو ابھی کہ ابھی۔۔!! لیٹ ہو جاؤ گی یونیورسٹی کے لیے یار صرف ایک گھنٹا رہتا ہے تمہاری یونیورسٹی بھی دور ہے تیار ہونے میں بھی تم نے آدھا گھنٹا لگا دینا ہے۔۔”

رائد لحاف کے اوپر سے اسکا کندھا ہلاتا ہوا بولا اور ساری بات بولتے ٹائم اسنے ایک لمحے کے لیے بھی اسکا کندھا نہ چھوڑا جس پر یَشل کا پارا ہائی ہوگیا۔

“تمہیں مسئلہ کیا ہے میری نیند سے، نہیں جانا مجھے یونیورسٹی۔ نیند کے دشمن بنے بیٹھے ہو تم۔۔“

اپنی نیند میں خلل محسوس کرتے وہ چہرا باہر نکال کر پھاڑ کھانے والے انداز میں بولی کہ رائد نے اس کو حیرت سے دیکھا جو دوبارہ چہرا لحاف میں چھپا گئی تھی۔

“میری جان بات کہنے سے پہلے غور کر لو، دشمنی ابھی میں نے نبھائی نہیں۔۔”

رائد اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔

“جب نبھاؤں گا تب یہ جملہ کہنا بھی بنتا ہے تمہارا۔۔ فلحال اٹھ جاؤ اس سے پہلے میں اپنے طریقے سے اٹھاؤں۔۔۔۔”

رائد نے اسے دھمکی دی مگر وہ ویسے ہی پڑی رہی۔ رائد چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر پوری قوت لگا کر اسکے اوپر سے اوپر سے لحاف ہٹایا اور یَشل کو کچھ سمجھانے کا موقع دئیے بغیر اسے کندھے سے پکڑ کر سیدھا کرتے اس کے اوپر جھکا۔ اچانک ہونے والے حملے پر یَشل کے منہ سے بےاختیار ہی چیخ نکل گئی۔

یَشل نے دونوں ہاتھ سینے پر رکھتے اسے پیچھے کرنا چاہا لیکن رائد اسکی دونوں کلائیاں پکڑ کر بیڈ سے لگاتا اسے لاک کر چکا تھا۔

“رائد۔۔۔پیچھے ہٹو۔۔۔”

رائد نے اپنا چہرا اسکی گردن کے قریب کیا تو یَشل کی ساری نیند بھک سے اڑ گئی۔ داڑھی کی چھپن محسوس کرتی وہ اپنا آپ چھڑوانے لگی۔

“نہیں تمہیں نیند آرہی نہ اب تم سوجاؤ اور مجھے میرا کام کرنے دو۔۔”

وہ اسکے کان کے قریب ہوتا ہوا بولا تو اسکے ہونٹ کان کی لو پر محسوس کرتی وہ کانپ کر رہ گئی۔

“نن۔۔۔نہیں مجھے نہیں سونا۔۔”

اسنے کلائیاں چھڑوانے کی بھرپور کوشش کی مگر ناکام رہی۔

“ہممم۔۔۔تو جاگتی رہو اور مجھے محسوس کرو۔۔”

اسکے خمار آلود لہجے پر یَشل کا دل پھڑپھڑا کر رہ گیا۔

“میں یونیورسٹی کے لیے لیٹ ہو جاؤں گی۔۔۔”

یَشل نے معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑ دئیے۔

“وہ تم نے ویسے بھی ہونا ہی تھا اپنی نیند پوری کرنے کے چکر میں۔۔۔”

رائد نے بولتے ساتھ ہی اسکی گردن پر لب رکھے تو یَشل سانس روک گئی۔ وہ اسکی گردن پر جگہ جگہ اپنا سلگتا لمس چھوڑنے لگا جس پر یَشل نے مزاحمت روک دی۔ رائد کے نیچے دبا وجود ہلکا ہلکا کسمسانے لگا۔

چند لمحوں بعد رائد نے اسکی ایک کلائی اپنی گرفت سے آزاد کی مگر اگلے ہی لمحے اسے شرٹ کندھے سے سرکتی محسوس ہوئی جس پر یَشل کی جان ہوا ہوئی۔۔

“رائد پلیز ناں۔۔۔مجھے فریش ہونے جانا ہے۔۔۔”

وہ رونی صورت بناتی ہوئی اسے ایک ہاتھ سے دور کرنے لگی۔ رائد ہونٹوں پر آنے والی مسکراہٹ چھپا کر سنجیدگی کا لبادہ اوڑھتا اسے دیکھنے لگا۔

“پہلے نہیں یاد آرہا تھا فریش ہونا ؟ اب مجھے ڈسٹرب مت کرو۔۔۔”

وہ اسکے گلابی چہرے کو گھور کر بولا۔

“آپ نے آفس جانا ہے۔۔۔”

یشل نے فوراً یاد دہانی کروائی۔

“یو ڈونٹ ہیو ٹو وری ڈارلنگ۔۔۔میرے باپ کا آفس ہے۔۔”

وہ اسکے چہرے پر آئی لٹ کو پیچھے کرتا ہوا بولا۔

“مگر یونیورسٹی میرے باپ کی نہیں ہے۔۔۔”

یَشل کے تیزی سے بولنے پر رائد نے ہنسی روکتے اسے دیکھا جس کا سرخ ہوتا سویا سویا سا چہرا بہت دلکش لگ رہا تھا۔

وہ اسکے چہرے کو تکتا اس میں گم ہونے لگا۔ یَشل کی دوسری کلائی پر اسکی گرفت کچھ ڈھیلی پڑی جس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے یَشل نے ایک ہاتھ اسکے سینے پر رکھا اور پورا زور لگاتے اسے دور کرکہ کلائی آزاد کروائی۔ وہ فوراً بیڈ سے چھلانگ مار کر اتری اور اسی طرح واشروم میں بند ہوگئی۔

رائد چند لمحے حیران سا بیڈ پر لیٹا رہا۔ اتنی اچانک جو بھی ہوا اسے پروسیس کرنے میں رائد کو کچھ وقت لگا تھا پھر وہ ہنستا ہوا بیڈ سے اٹھ کر اپنی شرٹ ٹھیک کرنے لگا۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

وہ آج یو ایسے اے جارہا تھا۔ جب سے اسنے ٹکٹ کنفرم ہوئی تھی تب سے عزہ کا رونا بھی شروع ہوا تھا مگر اس کے رونے کی وجہ ارمغان کے علاؤہ اور کوئی نہیں جانتا تھا۔ اسنے کئی بار ارمغان سے بات کرنے کی کوشش کی مگر وہ تو جیسے میلوں دور ہوگیا تھا۔

ایک گھر میں رہتے ہوئے جیسے وہ ڈو انجام وجود تھے جن کا آپس میں کوئی تعلق نہ تھا۔ واشروم میں ڈھیروں آنسو بہاتے وہ سیدھا اسکے کمرے میں آئی تھی جو بلیک ہڈی اور بلیک ہی پینٹ پہنے شیشے کے سامنے کھڑا خود پر پرفیوم چھڑکتا جانے کے لیے تیار تھا۔

آہٹ پر اسنے چہرا موڑ کر عزہ کو دیکھا۔ اسکی سرخ ہوتی آنکھیں دیکھ کر ارمغان نے گہرا سانس لیا۔

“عزہ تم۔۔۔۔” اسنے کچھ کہنے کی کوشش کی مگر عزہ پہلے ہی بول پڑی۔

“آپ نے کہا تھا کے یہ بچپنا ہے۔۔ آپ کے واپس آنے تک تو میں بڑی ہو جاؤں گی ناں؟ اب جب آپ واپس آئیں گے ناں تو میں آپ کو بتاؤں گی کہ دیکھیں۔۔۔ مجھے آج بھی آپ سے وہی محبت ہے جس کو آپ نے بچپنے کا نام دیا تھا۔۔”

ارمغان چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر مسکرا دیا۔

“اللّٰہ تمہارے نصیب اچھے کرے۔۔۔۔بہنا۔۔۔”

ارمغان ہلکا سا اسکی طرف جھک کر تیکھی مسکراہٹ لئیے بولا۔ عزہ کے تو تن بدن میں آگ ہی لگ گئی جس کا اندازہ ارمغان کو اس کے سرخ ہوتے چہرے سے ہوگیا تھا۔ وہ ایک آخری نگاہ اس پر ڈالتا کمرے سے نکل گیا کیونکہ افہام، عطیہ اور عدنان گاڑی میں اس کا انتظار کر رہے تھے۔۔ عزہ نے مٹھی بھینچ کر اسے جاتے دیکھا تھا۔ وہ نظروں سے اوجھل ہوا تو آنکھیں نمکین پانیوں سے بھر گئی۔

وہ تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا نیچے آیا تو قرت آنکھوں میں ڈھیروں آنسو لئیے اسی کی منتظر کھڑی تھی۔

“میری جان۔۔۔۔” ارمغان نے آگے جاتے اسے اپنے سینے سے لگایا تو بچوں کی طرح رونے لگ گئی۔

“ارے میرا بچہ۔۔۔پاگل ہو کیا۔۔۔؟”

ارمغان نے اسکا چہرا اوپر کرتے آنسو صاف کئیے مگر وہ اور زیادہ رونے لگی۔

“قرت بہنا افہام نہیں جارہا جو اس طرح رو رہی ہو۔۔۔فکر نہیں کرو وہ ارمغان بھائی کو چھوڑ کر واپس آجائے گا۔۔۔”

ہادی نے اسے ہلکا پھلکا کرنا چاہا تو وہ روتے روتے ہنس دی۔

“عزہ کہاں ہے۔۔۔؟” صبیحہ نے یہاں وہاں دیکھتے سوال کیا۔

“میں اس سے مل چکا ہوں۔۔”

ارمغان نے اپنے سینے سے لگی قرت کے بال سہلاتے ہوئے کہا۔ قرت ارمغان سے دور ہوتی بھیگے رخسار صاف کرنے لگی۔

“اب میں جاؤں۔۔۔؟” ارمغان نے نرمی سے سوال کیا تو وہ سر اثبات میں ہلانے لگی۔

ارمغان نے نشہ کی طرف دیکھا تو وہ مسکراتی ہوئی اسکی طرف آئی۔

“خیال رکھنا اپنا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وہاں کے مت ہوکر رہ جانا یہ گھر تمہارے بغیر ادھورا ہے۔۔۔”

دونوں نے اپنے ایک ایک ہاتھ کی مٹھی بنائے ایک دوسرے سے ٹکرائی

“میرے پیٹھ پیچھے دلہن مت بن جانا۔۔۔”

نشہ بلش کرتی قہقہہ لگا گئی۔

“ڈونٹ وری باس۔۔۔ تم بغیر شادی کر ہی نہیں سکتی میں۔۔”

وہ ہلکی مسکراہٹ اسکی طرف اچھلاتا صبیحہ اور ہادی کی طرف بڑھ گیا۔ ان دونوں سے مل کر وہ بیرونی دروازے سے باہر نکلا اور چہرا اٹھا کر ٹیرس کی طرف دیکھا جہاں وہ آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر لئیے اسے دیکھ رہی۔

اس کے حق میں بہتری کی دعا کرتا وہ گاڑی میں بیٹھ گیا اور عزہ ٹیرس سے ہٹتی بلک بلک کر رونے لگی۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

“ارمغان۔۔۔”

اسنے کانپتی ہوئی آواز میں اسکا نام لیا تو ارمغان کے دل کی دھڑکن رکنے لگی۔

“میں آپ سے یہ نہیں کہوں گی کہ مجھے بھول جائیں۔۔۔میں یہ نہیں کہہ سکتی۔۔۔ میں جانتی ہوں آپ کے لیے یہ ممکن نہیں ہے مگر۔۔۔”

وہ اپنی آواز کو بامُشکل نارمل رکھتی ہوئی بولی تو ارمغان کا دل ڈوبنے لگا۔

“آپ آگے بڑھنے کی کوشش تو کر سکتے ہیں۔۔”

اسنے نظریں اٹھا کر ارمغان کا چہرا دیکھا۔

“محبت نہ دیں۔۔۔مگر کسی کی محبت قبول تو کر سکتے ہیں۔۔۔”

ارمغان کا چہرا دھندلانے لگا تو اسنے بار بار آنکھیں چھپکائی۔ وہ بغور اسے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ جانتا تھا وہ ایسا ہی کچھ کہے گی۔

“محبت تو ویسے بھی قربانی دینے کا نام ہے نہ۔۔۔”

ارمغان نے اسکی آنکھوں کے کونے چمکتے ہوئے دیکھے۔

“آگے بڑھ جائیں۔۔پلیز۔۔۔”

اسکی خاموشی پر وہ مشکل ترین جملہ بولی۔

“تمہارے اندر اتنا حوصلہ ہے۔۔۔ میرے اندر نہیں ہے۔۔”

وہ دونوں ہاتھ جیکٹ کی جیبوں میں ڈالتا ہوا بولا۔

“حوصلہ کرنا پڑے گا۔۔۔”

“نہیں کرنا چاہتا۔۔۔”

وہ فوراً بولا تھا۔ یَشل خاموش ہوگئی۔

“مگر کیوں۔۔۔۔؟”اس نے بےبس سے ٹوٹے ہوئے لہجے میں سوال کیا۔

“ممکن نہیں ہے۔۔۔” یَشل پھر سے خاموش ہوگئی۔

“ہر چیز کا نعمل بدل ہوتا ہے۔۔۔” کچھ دیر بعد وہ بولی تھی۔

“تمہارا کوئی نعمل بدل نہیں ہے۔۔۔ میری محبت تمہارے علاہ اور کوئی نہیں ہوسکتا۔۔۔”

یَشل نے ہلکا سا سانس بھرا تھا۔ وہ اسکا دل نہیں بدل سکتی تھی۔

“تم خوش ہو رائد کے ساتھ۔۔۔؟”

اسنے بےاختیار سوال کیا۔

“ہاں۔۔۔میں خوش ہوں۔۔۔”

وہ ٹھیک تھی مگر خوشی کا اندازہ اسے بھی نہ تھا۔

“زندگی میں پہلی بار میرے دل میں کوئی اور ہونے کی خواہش پیدا ہوئی ہے۔۔کاش میں رائد خٹک ہوتا۔۔ تمہیں کسی سے چھین لیتا مگر اپنا بنا لیتا۔۔”

یَشل کا دل کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا۔ وہ سانس روک گئی تھی۔

“نہیں۔۔۔آپ ارمغان ہیں اور ہمیشہ ارمغان ہی رہیں گے۔۔۔ آپ کبھی بھی رائد خٹک نہیں ہوسکتے اور نہ ہی کوئی ارمغان قریشی ہوسکتا ہے۔۔۔ میری زندگی میں آپ جیسا کوئی نہیں اور نہ ہی اس دنیا میں ہے، مجھے کوئی دوسرا ارمغان چاہئے بھی نہیں۔۔۔”

یشل نم لہجے میں بولی کہ محبت سے پھرنا بھی خود کو کاٹنے کے برابر تھا۔

”چاہنے کی بات بھی کر رہی ہو اور نہ چاہے جانے کا عندیہ بھی پیش کر رہی ہو۔ یہ تو زیادتی ہوئی ناں۔۔ اور اب تو میں تمہاری زندگی میں رہا بھی نہیں۔“

ارمغان زخمی سا مسکرایا تھا۔ یہ وہ حقیقت تھی جو یَشل اسے ابھی بتلا چکی تھی، کڑی اور تلخ حقیقت جو گلے کا کانٹا بن گئی تھی۔

یَشل خاموش سی ہوئی۔ ہاں۔۔۔وہ اسکی زندگی میں ہوکر بھی نہ رہا تھا۔۔۔ یَشل نے سرد ہونٹوں پر زبان پھیرتے آنسوؤں کا روکنا چاہا۔

“ارمغان۔۔۔۔”

اسنے بھیگے لہجے میں پکارا تو ارمغان کا دل جیسے کمزور سا ہوا۔

“میں قسمت سے جتنا لڑ سکتی تھی لڑ چکی ہوں۔۔۔ مگر میں حقیقت کو جھٹلا نہیں سکی۔۔۔ مجھے سب کچھ قبول کرنا پڑا آپ کو بھی کرنا ہوگا۔۔”

اسکی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے۔

“اتنا آسان ہے کیا۔۔ ؟” آواز نے نکلنے سے انکار کر دیا تھا۔ دل جیسے ایک دم ذخمی ہوا کہ ٹھیس سی اٹھی تھیں۔

“نہیں مگر آسان ہوسکتا ہے اگر آپ چاہیں تو۔۔۔ میں آپ کا نصیب نہیں ہوں۔۔خدا نے ہمارے راستے جدا کردیے ہیں اور انہی راستوں پر چلنا ہے چاہے پاؤں زخمی ہو جائیں یا کٹ جائیں۔۔۔”

وہ اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔

“تم میری کیوں نہیں ہوسکتی۔۔۔؟”

وہ بڑا بےمعنی سا سوال کرگیا تھا۔

“کیونکہ خدا نے ہماری کہانی ادھوری لکھی ہے۔۔اور اسے ادھورا چھوڑ دینا ہی بہتر ہے۔۔شاید۔۔۔”

اسکی آواز بھرا گئی۔۔

“کاش میں اسے مکمل کر سکتی مگر میں نہیں کر سکتی۔۔”

وہ یہ بھی نہ کہہ سکی تھی۔ کاش وہ کہہ سکتی۔۔

“ہر چیز ہماری پسند کے مطابق نہیں ہوسکتی۔۔۔جو چیزیں ہمارے مقدر میں نہیں ہوتی اُنہیں چھوڑنا پڑتا ہے۔ ہر کسی کے نصیب میں ایک ہونا نہیں لکھا ہوتا۔ میں اب اللّٰہ سے شکوہ نہیں کرونگی۔۔۔ آپ بھی مت کرنا۔۔۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں آپ کی محبت کے قابل بنی۔۔۔میں ارمغان قریشی کی محبت بنی۔۔۔ آپ۔۔۔آپ میری زندگی کی سب سے خوبصورت اور معصوم یاد رہیں گے اور۔۔۔میری دعاؤں میں آپ کا ذکر ہمیشہ رہے گا۔۔۔میں جانے سے پہلے آپ کو اللّٰہ کی آمان میں دیتی ہوں۔۔۔”

وہ بھری ہوئی آنکھوں سے خود کو رونے سے باز رکھے ہوئے تھی۔ ارمغان کو اسکے ضبط پر رشک آیا تھا۔ وہ کبھی بھی اسے اتنا کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ وہ اسے حوصلہ نہیں دے سکتا تھا۔۔۔اسے یَشل کی ہمت پر رشک آیا تھا۔

“میں تا عمر آپ کی محبت میں قید رہوں گی۔۔۔”

وہ کہنا چاہتی تھی مگر نہیں کہہ سکتی تھی۔ وہ اسے ہمت دینے کے لیے، آگے بڑھنے کا کہنے کے لیے اس کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔وہ ایک جملے سے اس شخص کو کمزور نہیں کر سکتی تھی۔

“في أمان اللّٰہ۔۔”

ارمغان نے اپنی جیکٹ اتارتے اڈکے کندھوں پر ڈالی تو یَشل کو لگا وہ سانس نہیں لے سکے گی۔

“اللّٰہ حافظ۔۔۔”

آنکھ سے ایک موتی ٹوٹ کر گرا تھا۔ وہ بھیگی آنکھوں سے اسکے چہرے پر آخری نظر ڈالتی درمیان میں پڑا سفری بیگ تھامے اسکے پہلو سے گزرتی آگے چلی گئی تھی۔

ارمغان نے پلٹ کر اسے دیکھا۔ اسے لگ رہا تھا وہ اسکی روح بھی کھینچے جارہی تھی۔

اسکا دل رک گیا تھا۔

آج وہ حقیقتاً دور، بہت دور جاتی محسوس ہوئی تھی۔ وہ دھندلائی آنکھوں سے اسے دور جاتا دیکھ رہا تھا۔

یہ سب اتنا آسان نہیں تھا۔۔وہ اسے یہ سب کہہ کر جا تو چکی تھی مگر یہ محض ایک خام خیالی تھی کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔

یہ ریاضی کا کلیہ نہیں تھا جس میں دو میں سے ایک نکالو تو ایک بچتا ہے۔۔یہ محبت کا کلیہ تھا۔۔۔ یہاں دو میں سے ایک نکالو تو ایک بھی نہیں بچتا۔۔۔

وہ بھی نہیں بچا تھا۔۔۔ ٹوٹ گیا تھا۔۔۔ مرجھا گیا تھا۔۔۔ بکھر گیا تھا اور اندر ہی اندر مر گیا تھا۔

“Ladies and gentlemen, we have begun our descent into United States of America. Please turn off all portable electronic devices and stow them until we have arrived at the gate…”

“خواتین و حضرات، ہم نے میں یو ایس اے میں اپنا نزول شروع کر دیا ہے۔ براہ کرم تمام پورٹیبل الیکٹرانک آلات کو بند کر دیں اور جب تک ہم گیٹ پر نہ پہنچ جائیں انہیں رکھ دیں۔۔”

ارمغان نے آنکھیں کھول دی۔ چند سیکنڈز کے لیے دماغ چکرا گیا اور درد کی ٹیسیں اٹھتی محسوس ہوئی۔ اسنے ایک ہاتھ سے چکراتا ہوا سر پکڑا۔

“آر یو اوکے۔۔۔؟”

نسوانی آواز پر انسے چہرا موڑ کر دیکھا تو ایک بدیسی لڑکی آنکھوں میں فکر لئیے اسے دیکھ رہی تھی۔

“آئی ایم فائین۔۔۔”

دماغ اب جگہ پر آگیا تھا۔ اسنے پانی کی چھوٹی بوتل اٹھا کر منہ سے لگائی اور ایک ہی سانس میں خالی کردی۔ ارمغان نے خالی بوتل کو دیکھا اور اسکا ڈھکن بند کردیا تبھی ساتھ بیٹھی لڑکی نے اپنی پانی کی بوتل اسکی طرف بڑھا دی۔

ارمغان نے پہلے بوتل کو دیکھا اور پھر اس لڑکی کو۔

گندمی صاف چمکتی رنگت اور گہرے بھورے لمبے بال۔۔چہرے پر نرم تاثر لئیے اسے دیکھتی ہوئی وہ لڑکی بلاشبہ حسین تھی۔

“نو تھینکس۔۔” اسنے بدقت مسکراتے ہوئے انکار کردیا۔

لڑکی نے بوتل واپس رکھ دی اور اسے دیکھنے لگی۔ سویا سویا سا چہرا چمک رہا تھا۔ ماتھے پر بکھرے بال، تیکھے نین نقش اور ہلکی سی داڑھی موچھ ۔۔۔ وہ بےحد پرکشش تھا۔

جب وہ سو رہا تھا تب بھی وہ اسے دیکھتی رہی تھی مگر اسکا جی نہ بھرا۔ شاید وہ بہت عرصے بعد کسی خوبصورت شخص کو اتنے قریب سے دیکھ رہی تھی۔

ارمغان خود پر ٹکی اسکی نظریں محسوس کرتا ان کمفرٹیبل ہوا تو وہ اس پر سے نظر ہٹاتی سیدھی ہوکر بیٹھی۔

ٹرالی میں اپنا سامان اٹھائے وہ ائیرپورٹ سے باہر نکل آیا۔ جسم کو ٹھٹھرا دینے والی سرد ہواؤں نے اسکا استقبال کیا۔ کسی کی تلاش میں وہ نظریں یہاں سے وہاں دوڑا رہا تھا جب کوئی ساتھ آکر کھڑا ہوا۔ اس نے چہرا موڑ کر دیکھا تو وہ وہی لڑکی تھی۔

ہوا چلنے پر اسکے لمبے بال اڑتے ارمغان کے چہرے سے ٹکرانے لگے۔

“اوہ آئی ایم سوری۔۔” اسنے ایک ہاتھ سے بال سنبھالتے اور ہینڈ بیگ سے کلپ نکالتے بالوں کو قید کیا۔

“اٹس اوکے۔۔۔” وہ اس پر سے نظر ہٹاتا اپنا موبائل پاور آن کرنے لگا۔

“آپ کا تعارف۔۔۔؟” وہ اب کی بار اردو میں بولی اور ارمغان اسکے خالص پاکستانی لب و لہجہ پر چونک گیا۔ وہ نین نقش اور حلیے سے بریٹش پاکستانی لگی تھی مگر اسکا لہجہ عام سا تھا۔۔

“مجھے محمل کہتے ہیں۔۔۔”

ارمغان کی خاموشی پر اپنا نام بتاتے اسنے مخملی ہاتھ ارمغان کی طرف بڑھایا۔ وہ حیران سا اس لڑکی کو دیکھے گیا پھر نرم و ملائم ہاتھ تھاما۔

“ارمغان۔۔۔” ارمغان نے اپنا نام بتاتے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔

“اوہ واؤ۔۔۔آپ کا نام بہت اچھا ہے۔۔”

وہ اسکا نام سنتی خود کو تعریف کرنے سے روک نہ سکی۔ ارمغان نے مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ شکریہ کہا اور کسی کو جلدی جلدی میسج کرنے لگا۔

“آپ کو کوئی لینے آئے گا کیا؟ میرا ڈرائیور وہاں کھڑا ہے۔۔ آپ میرے ساتھ آجائیں میں آپ کو وہاں ڈراپ کردیتی جہاں آپ نے جانا ہے۔۔”

محمل نے ڈرائیور کی طرف اشارہ کرتے سہولت سے کہا۔

“ارے نہیں تھینک یو سو مچ لیکن میرا دوست لینے آیا ہے مجھے۔۔”

وہ انکار کرتا یہاں وہاں دیکھتا کسی کو تلاش کرنے لگا تبھی اسکی نظر دور لوگوں کے ہجوم میں کھڑے اشعر پر گئی تو وہ ہاتھ ہلانے لگا۔

“آپ سے مل کر اچھا لگا۔۔میں چلتا ہوں۔۔”

وہ ایک مسکراتی نظر اس پر ڈالتا آگے بڑھ گیا۔

“پھر ملیں گے اگر قسمت میں ہوا تو۔۔”

اسے محمل کی ہلکی سی آواز آئی تھی۔

“کبھی نہیں۔۔” ارمغان نے بڑبڑاہٹ کی۔ وہ اس لڑکی سے دوبارہ ملنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا

وہ سامان سے بھری ٹرالی گھسیٹتا اشعر تک پہنچا اور اس سے بغلگیر ہوا۔

اشعر ارمغان کا سوشل میڈیا فرینڈ تھا جو کافی سالوں سے یو ایس اے ہی رہ رہا تھا۔ ان دونوں میں کافی اچھی دوستی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ یہاں آنے پر کمفرٹیبل تھا اور فکر فاکے سے آزاد بھی۔

اشعر نے اس کا سارا سامان گاڑی میں رکھا تو ارمغان نے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا اور اس لڑکی کی طرف دیکھا جو ابھی بھی اسی جگہ کھڑی ارمغان کو ہی دیکھ رہی تھی۔

وہ سر جھٹکتا گاڑی میں بیٹھ گیا۔

کچھ دیر بعد وہ لڑکی اسکے ذہن سے نکل گئی اور وہ کھڑکیوں سے باہر دوڑتے مناظر کو دیکھنے لگا۔

وہ یہاں آگے بڑھنے کے لیے نہیں آیا تھا مگر نئی زندگی کی شروعات کرنے آیا تھا۔ وہ زندگی جو اسنے یَشل کا منتظر رہ کر گزارنی تھی۔

وہ اسکی یادوں سے بھاگ کر نہیں آیا تھا کیونکہ یہاں بھی اسنے یَشل کی یادوں کے زنداں میں قید رہنا تھا اور وہ باخوشی اس کی یادوں کا قیدی بن کے موت کو بھی قبول کرسکتا تھا اور شاید۔۔۔شاید موت ہی اس کے مقدر میں لکھ دی گئی تھی۔

“تم کافی کمزور نہیں ہوگئے۔۔۔۔؟”

اشعر نے چہرا موڑ کر اسے دیکھا جو تصویروں میں اچھا بھلا لگتا تھا مگر اب وہ کافی کمزور لگتا تھا۔

“ہاں بس ویسے ہی۔ ہو جاؤں گا ٹھیک۔۔”

ارمغان نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

“کافی ٹف روٹین ہونے والی ہے تمہاری۔۔۔ماسٹرز تو ویسے بھی مشکل ہوتا ہے اور پھر تم جاب بھی کرنا چاہتے ہو ساتھ اور تمہاری حالت دیکھ کر مجھے لگ رہا ہے کہ تمہیں جِم جوائن کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔۔”

ارمغان بےاختیار ہی ہنس دیا۔

“جم جانے کی کبھی ضرورت پڑی نہیں مگر وہ بھی دیکھ لیں گے۔۔۔”

“دیکھیں گے نہیں۔۔۔میں ایک دن چھوڑ کر جاتا ہوں تم بھی ساتھ چل لینا۔ سٹریس کم ہوجاتا ہے تھوڑا۔۔”

اشعر نے اسے بتاتے ہوئے جیب سے اپنا فون باہر نکالا جو اتنی دیر سے وائیبریٹ ہورہا تھا۔ روڈ خالی دیکھتے اسنے اپنے باس کی کال اٹینڈ کرلی اور بات کرنے لگا۔

ارمغان نے بھی فون اٹھایا اور گھر والوں کو اطلاع دینے لگا کہ اس کا پلین لینڈ ہوگیا ہے اور وہ خیر خیریت سے تھا۔ اسنے واٹس ایپ کے فیملی گروپ چیٹ میں میسج چھوڑ کر سر اٹھایا تو اشعر نے ایک ٹرن لیا مگر اگلے ہی پل اشعر سامنے سے تیز رفتار میں آتے ٹرک کو دیکھ کر بری طرح بوکھلا گیا وہ ون وے روڈ تھا اور ٹرک ڈرائیور نے یقیناً غلط ٹرن لیا تھا۔

اشعر نے گاڑی کو جلدی سے دائیں جانب کرنا چاہا مگر شاید خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

وہ اس حد تک بوکھلا گیا کہ اسنے سائڈ لینے سے پہلے انڈیکیٹر بھی نہ لگایا اور ٹرک ڈرائیور نے بھی وہی سائڈ لی جہاں سے اشعر نے گزرنا چاہا۔

ایک زور دار دھماکے کی آواز آئی۔۔ایسی آواز جس کی گونج دور دور تک پھیلی۔ جس میں ان دونوں کی چیخیں دب گئی۔

آخری واضح منظر جو ان دونوں کی آنکھوں نے دیکھا تھا وہ اس ٹرک کا گاڑی سے ٹکرانا تھا۔ اور پھر ہر طرف اندھیرا چھانے لگی۔ درد کی شدید لہر ان کے وجود میں دوڑ گئی۔ ارمغانِ نے چہرا موڑتے اشعر کو دیکھنا چاہا جس کا وجود بری طرح سے کچل گیا تھا۔ وہ دھندلے سے منظر کو سمجھ نہ سکا۔

ارمغان کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا تھا۔ وہ آنکھوں کو کھلا رکھنے کی کوشش کرنے لگا مگر وہ اس کوشش میں ناکام ہورہا تھا۔ اب اندھیرا چھٹنے لگا تھا۔ مگر منظر پھر سے دھندلا تھا۔ ٹوٹی ہوئی ونڈ سکرین اسکے چہرے کے بلکل قریب تھی۔ اسے دور دور سے لوگوں کی آوازیں آرہی تھی۔

دھندلایا ہوا منظر اب گھومنے لگا تھا۔ اسے اپنی آنکھوں میں خون اترتا محسوس ہوا۔ سر میں درد کی شدید ٹیسیں اٹھی تو زخمی سن ہوتے ہاتھ سے اسنے سر کو تھامنا چاہا مگر وہ اسے ہلا نہیں سکا۔

“یشل۔۔۔۔” اسکے لب ہلے اور آنکھیں بند ہوگئی۔ ارمغان کی دھڑکن سست ہونے لگی۔

” لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ۔۔۔”

اسکی زبان ہلی تھی اور پھر اسکی سانس رک گئی۔ خون سی لتی ہوئی گردن ایک طرف ڈھلک گئی۔ اسکا دل رک گیا تھا۔۔۔ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔

کہانی ادھوری رہ گئی تھی۔۔۔۔اسنے ادھورا ہی رہنا تھا۔

اگر کوئی ارمغان سے اسکی پہلی اور آخری خواہش پوچھتا تو وہ اس ادھوری کہانی کو مکمل کرنے کی خواہش ظاہر کرتا۔۔۔

وہ موت تک اسکا انتظار کرنے والا تھا اور خدا نے اسکا انتظار مختصر کردیا تھا۔ اسکی سانسیں چھین لی تھی۔۔اسےاذیت سے نجات دے دی تھی۔ ایسی موت جو تکلیف دہ بھی تھی اور پرسکون بھی۔ وہ اسکی یادوں سمیت اس دنیا سے چلا گیا تھا مگر وہ سب کی زندگیوں کا حصہ رہنے والا تھا۔

کچھ کہانیوں کو اختتام لاحاصل پہ ہوتا ہے ان تینوں کی کہانی کو بھی خدانے لاحاصل پہ چھوڑا تھا۔۔ وہ محبت کی بازی ہار گئے تھے۔ مگر ارمغان زندگی سے بھی ہار گیا تھا اور ان تکلیفوں سے نجات موت ہی تھی۔۔۔

اوڑھ کر مٹی کی چادر بےنشان ہو جائیں گے

ایک دن ہم بھی داستان ہو جائیں گے ✨

ختم شد 🍂

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *