Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz NovelR50532 Muntazirat Hastam (Episode 28)
Rate this Novel
Muntazirat Hastam (Episode 28)
Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz
“میں کیسے آجاؤں بابا یَشل کے بغیر وہ کِس کے ساتھ واپس آئے گی۔۔؟”
وہ کال پر بات کرتا اندر داخل ہوا تو بیڈ سیٹ کرتی یَشل اسکی طرف متوجہ ہوئی۔
“میں یَشل سے بات کرلوں پھر آپ کو بتاتا ہوں۔۔۔”
کچھ دیر بعد اسنے کال منقطع کی۔
“کھانا کھاؤ گے۔۔۔؟”
یَشل نے الماری سے آرام دہ لباس نکال کر اسکی طرف بڑھایا جو اس وقت پینٹ کوٹ میں تھا۔ آج اسے کسی سے ملنا تھا اسی سلسلے میں وہ شام کا گیا ابھی دس بجے لوٹا تھا۔
“نہیں کھانا میں کھا کر آیا ہوں۔۔۔تم نے کھا لیا؟”
اسنے کپڑے اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے کہا۔
“ہاں میں نے تو کھا لیا ہے۔۔۔اچھا تم چینج کرلو میں کافی بنا لاتی ہوں۔۔”
وہ کمرے سے باہر نکل گئی تو رائد بھی واشروم میں بند ہوگیا۔
یَشل کچن میں آئی تو وہاں پہلے سے ارمغان کھڑا کھانا نکال رہا تھا۔ اسے دیکھتے یشل کے قدم دروازے پر ہی رک گئے۔۔۔
ارمغان اسکی طرف پلٹا تو یَشل نے سانس روکے اسے دیکھا۔
“کچھ چاہیے تھا۔۔۔؟”
دل کی کیفیت نظر انداز کرتے ارمغان نے بامشکل سوال کیا تو یَشل نے اٹکا ہوا سانس آہستگی سے ہوا میں تحلیل کیا۔
“نہیں۔۔ہاں۔۔کافی۔۔۔”
اٹکتے ہوئے اسنے محض تین الفاظ منہ سے نکالے تو ارمغان اسے دیکھنے لگا تاکہ وہ اپنا جملہ مکمل کرے مگر اس کے دیکھنے پر یَشل کی زبان مزید لڑکھڑاتی۔
“کافی بنا دو۔۔۔”
ارمغان ویسے ہی اسے دیکھتا رہا جس کے چہرے سے اسکی حالت کا اندازہ ہو رہا تھا۔
“میرا مطلب۔۔۔میں۔۔۔کافی پینے آئی ہوں۔۔”
اسنے فوراً اپنے جملے کی تصحیح کی مگر اس بار بھی غلط ہی کہا۔
“مجھے کافی بنانی ہے۔۔۔”
یَشل کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔
“اہم۔۔۔بنا لو۔۔”
وہ پلٹ کر اپنا کام کرنے لگا مگر یَشل دل کھول کر شرمندہ ہوئی۔ اسکا دل کیا وہ کسی طرح وہاں سے غائب ہو جائے۔
“کک۔۔کافی کہاں ہے۔۔”
اسنے دھک دھک ہوتے دل کے ساتھ یہاں وہاں نظریں دوڑانے کے بعد مختلف دراز کھول کر چیک کئیے مگر کافی نظر نہ آئی۔ کھانا اون میں رکھتے ارمغان نے پلٹ کر اسے دیکھا جسے بوکھلاہٹ میں کچھ سمجھ نہیں آرہا۔
“وہ رہی۔۔۔”
اسنے شیلف کے ایک کارنر کی طرف اشارہ کیا جہاں کافی کے ساتھ مرچ مصالحے بھی پڑے تھے اور ان میں کافی کی جار خاصی نمایاں تھی۔ یَشل کا چہرا شرمندگی کے مارے سرخ ہوگیا۔ یہاں سے چلے جانا ہی بہتر تھا۔ وہ پلٹ گئی مگر اسکی آواز کانوں میں پڑی تو قدم زمین سے چپک گئے۔
“یَشل۔۔۔”
“اسنے آنکھیں بند کرتے گہرا سانس لیا اور پیچھے مڑی۔
“جی۔۔۔” آواز میں کچھ لرزش تھی۔
” کہاں جارہی ہو۔۔۔؟ میں نے کافی بنانے سے منع تو نہیں کیا۔۔”
“نہیں وہ بس میں۔۔۔”
کوئی بہانہ نہ سوجھا تو بات ادھورا چھوڑ دی۔
“ہاں میں دودھ نکالنے لگی تھی فریج سے۔۔”
“فریج اس طرف نہیں ہے۔۔۔”
یَشل نے جی بھر کر اس لمحے پر لعنت بھیجی جب اسنے کافی بنانے کا سوچا تھا۔
“جج۔۔جی۔۔۔”
وہ مرے قدموں سے فریج کی طرف گئی اور دودھ نکال کر پتیلی میں ڈالا۔
ارمغان وہیں بیٹھ کر کھانا کھانے لگا تو یَشل کی رہی سہی ہمت بھی جواب دینے لگی۔
“پڑھائی کیوں نہیں کر رہی تم آگے؟”
لمبی خاموشی کے بعد اسے ارمغان کی آواز سنائی دی۔
“وہ۔۔۔دل نہیں کر رہا۔۔”
ارمغان نے حیرت سے اسکی پشت کو دیکھا۔ اسنے یَشل کے منہ سے یہ بات کئی بار سنی تھی جب وہ یونیورسٹی میں اسکے ساتھ ہوتی تھی مگر آج وہ اس بات کی توقع نہیں کر رہا تھا۔
اسکے کچھ نہ بولنے پر یَشل نے چہرا موڑ کر اسے دیکھا جو پہلے سے اس پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔
“میرا مطلب تھا کہ۔۔۔ہمت نہیں تھی پڑھائی کنٹینو کرنے کی مگر اب واپس جاکر کرلوں گی۔۔”
وہ چہرے کا رخ موڑ گئی تو ارمغان بھی کھانا کھانے لگا۔
“ایڈمیشنز تو ابھی اوپن ہیں نہ۔۔مزید کس بات کا انتظار ہے؟ تمہارا سیمسٹر فریزڈ ہے۔ یونیورسٹی جاکر کام کرواؤ کراچی کی برانچ میں خود ہی ایڈمیشن ہو جائے گا۔۔”
یشل پوری طرح سے رخ اسکی طرف کرکہ کھڑی ہوگئی۔ اسے ارمغان پر حیرت ہورہی تھی۔۔۔ وہ سنجیدگی سے بات کر رہا تھا مگر کیسے کر رہا تھا؟ یشل کے لیے یہاں کھڑے رہنا بھی محال تھا اور وہ شخص اس سے باتیں کئیے جارہا تھا۔ پہلے کی طرح نہیں، اسکا لہجہ مختلف تھا انداز ویسا نہیں تھا مگر یہ چیز بھی یَشل کے توقعات کے بلکل برعکس تھی۔ اسے لگا تھا ارمغان اس سے بات کرنے سے جتنا ہوسکا اتنا اجتناب برتے گا۔
“ابھی تو یونیورسٹی بند ہوگی نہ۔۔۔؟”
وہ ویسے ہی اسکی طرف رخ کرکہ کھڑی سوال کر رہی تھی۔ ارمغان نے نظر اٹھا کر اسکی طرف نہیں دیکھا۔ چاہ کر بھی وہ ایسا نہ کر سکا۔
“نہیں۔۔تم جا سکتی ہو۔۔۔ مختلف کورسز کی کلاسز چل رہی ہیں۔۔”
یَشل سر ہلانے لگی تبھی رائد کچن میں داخل ہوا۔
“کہاں رہ گئی ہو میری جان۔۔۔”
رائد نے یَشل کو دیکھتے ہوئے کہا پھر اسکی نظر ایک طرف بیٹھے ارمغان پر گئی۔ یَشل رائد کو دیکھتے کچھ گھبراہٹ کا شکار ہوئی جبکہ ارمغان نے ایک نظر اسے دیکھا پھر کھانا کھانے لگا۔
“کافی نہیں مل رہی تھی اسی لئیے تھوڑی دیر ہوگئی۔۔بس یہ بن گئی ہے۔۔۔”
یَشل چولہے کی طرف پلٹ گئی اور کافی کپس میں انڈیلنے لگی۔ اسنے ایک ہاتھ سے کپ پکڑا اور دوسرے ہاتھ میں پین پکڑے وہ کافی دوسرے کپ میں ڈال رہی تھی جب کافی اسکے ہاتھ پر چھلک پڑی۔
“آہہ۔۔۔شِٹ۔۔”
اسنے جلدی سے پین سائیڈ پر رکھا جو اسکے ہاتھ سے گرتے گرتے بچا۔ تکلیف شدید تھی مگر اسنے خود کو مزید چیخنے سے باز رکھا۔ سر جھکا کر کھانا کھاتے ارمغان نے فوراً اسے دیکھا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھنے ہی لگا تھا جب رائد بجلی کی تیزی سے یشل تک پہنچا۔
“کیا ہوا ادھر دکھاؤ۔۔۔کیسے کام کرتی ہو یَشل کتنا زیادہ ہاتھ جلا دیا ہے۔۔”
وہ پریشانی سے اسکا سرخ ہوتا ہاتھ دیکھتا ہوا بولا جبکہ یَشل بھری ہوئی آنکھوں سے سی سی کرتی رہ گئی۔
“ادھر آؤ۔۔” رائد اس کو سنک تک لایا اور ٹیپ کھول کر اسکا ہاتھ اسکے نیچے کردیا۔ ارمغان اپنی جگہ پر کھڑا وہ منظر دیکھتا رہا۔
“یہ تو بہت زیادہ جل گیا ہے۔۔۔”
رائد نے اسکے ہاتھ کو دیکھا۔ یشل کی آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی صورت جاری ہوئے۔
“ارے۔۔۔ یَشل رو تو نہیں یار۔۔”
رائد نے اسکا چہرا اوپر کرتے آنسو صاف کئیے۔
“مجھے درد ہورہی ہے۔۔۔”
وہ روتے ہوئے بولی تو ارمغان خود کو روک نہ سکا۔ وہ فریج کی طرف بڑھا اور آئنٹمینٹ نکال کر ان دونوں کے پاس آیا۔ خاموشی سے اسنے وہ ٹیوب رائد کی طرف بڑھایا جو رائد نے تھام لیا مگر شکریہ کہنے کی توفیق نہ کی۔
“میں یہ لگا دوں۔۔۔؟”
رائد نے یَشل کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“اجازت کیا لینی۔۔۔ظاہر ہے یہ تو لگانی ہے نہ۔۔۔”
ارمغان نے یَشل کا ہاتھ دیکھا جہاں چھالے پڑنے لگے تھے۔
“اسے تکلیف ہوگی۔۔۔”
رائد نے ارمغان کی طرف دیکھا جو اسکی بات پر چند لمحے کچھ کہہ ہی نہ سکا۔ کوئی اس سے زیادہ بھی یشل کے لیے فکر مند ہوسکتا تھا؟
ہاں۔۔۔اسنے رائد کی آنکھوں میں اسکے لیے ڈھیر ساری فکر دیکھی تھی۔ اتنی کہ وہ نہیں چاہتا تھا دوائی لگانے پر بھی اسے مزید تکلیف نہ ہو۔۔
“مگر یہ لگانی تو پڑے گی نہ۔۔۔۔”
ارمغان پلٹ گیا تھا۔ وہ واپس چئیر بیٹھا مگر اپنے سامنے پڑے کھانے کو دیکھ کر اسکا دل خراب ہوا۔
“لگا دو۔۔۔”
وہ سوں سوں کرتی رائد کو دیکھ کر بولی تو وہ اسکے جلے پر بہت احتیاط سے دوائی لگانے لگا۔
“بس ہو جائے گا ٹھیک انشاءاللّٰہ۔ رونا نہیں ہے اب۔۔”
رائد نے بہت نرمی اور پیار سے کہتے ہوئے اسکے آنسو صاف کئیے اور اسے ہلکا سا خود سے لگایا۔
“روم میں چلتے ہیں۔۔۔”
وہ اسکو اپنے ساتھ لگائے کچن سے نکل گیا۔
ارمغان کو لگا اسکا دل پھٹ جائے گا۔ جب سے یشل نے کچن میں قدم رکھا تھا تب سے اسکی دھڑکن بےترتیب تھی۔ ایک پل کو بھی چین نہیں آیا تھا۔ اسنے خود کو کتنی مشکل سے روک رکھا تھا یہ بات صرف وہی جانتا تھا۔
یَشل سے بات کرتے اسے دل میں تکلیف کی ٹیسیں اٹھتی محسوس ہوئی تھی جنہیں وہ نظر انداز کرتا اس سے بات کرتا رہا اور رائد کی آمد کے بعد اسے اپنا آپ عشق کی بھٹی میں سلگتا محسوس ہوا تھا۔
ارمغان کی نظر شیلف پر پڑے کافی کے کپ پر جا رکی۔ وہ چلتا ہوا شیلف تک آیا اور کافی کا کپ اٹھا کر اسے سنک میں انڈیل دیا۔
“ڈاکٹر کے پاس چلیں زیادہ درد ہے تو۔۔۔؟”
رائد نے اسکی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو دیکھ کر سوال کیا تو وہ سر انکار میں ہلانے لگی۔۔
“اچھا رونا نہیں پھر اب۔۔۔”
یَشل خاموش رہی ہھر چند لمحوں بعد سوال کیا۔
“عادل انکل کیا کہہ رہے تھے۔۔۔؟”
“انہیں کام کے سلسلے میں دوبارہ جرمنی جانا ہے۔۔۔ کہہ رہے تھے یہاں آکر آفس سنبھال لو پرسو فلائیٹ ہے انکی۔۔۔”
یَشل چند لمحے خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔
“مجھے بھی چلنا ہوگا؟”
“نہیں تم چاہو تو یہاں رہ سکتی ہو اِن فیکٹ مجھے خود اچھا نہیں لگ رہا کہ میں تمہیں ساتھ لے کر چلا جاؤں۔ یہاں آئے دس دن بھی پورے نہیں ہوئے۔۔۔بابا کہہ رہے ہیں تمہیں یہاں چھوڑ آؤں جب تک تم یہاں رہنا چاہو رہ لو مگر میں تمہارے بغیر کیسے رہوں گا۔۔۔؟”
سنجیدگی سے تفصیل بتاتے آخر میں لہجے کے ساتھ چہرے پر بھی معصومیت سجائی تو یَشل چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر مسکرا دی۔
“کھانا کون بنا کر دے گا مجھے۔۔۔؟”
وہ مزید بولا۔
“کھانا تو اب میں ویسے بھی نہیں بنا سکتی۔۔۔”
اسنے جلا ہوا ہاتھ اسے دکھایا۔
“میں بنا لوں گا۔۔تم کھِلا دینا۔۔۔”
اسکی بات پر یَشل بےاختیار ہنسی۔
“مگر میں اتنی جلدی نہیں جانا چاہتی رائد۔۔۔میں کچھ وقت یہاں گزارنا چاہتی ہوں۔۔۔”
وہ اسکے چہرے کو دیکھتی ہوئی بولی۔
“جانتا ہوں۔۔۔اچھا میں چلا جاؤں؟ میرے بغیر گزارہ ہو جائے گا نہ تمہارا۔۔۔”
اسکی آنکھوں میں اب شرارت ناچ رہی تھی۔
“آکسیجن تھوڑی نہ ہو تم کہ تمہارے بغیر میں مر جاؤں گی۔۔۔”
“آکسیجن ہی تو بننا چاہتا ہوں میں تمہاری۔۔۔”
رائد چہرے کے آگے آئے ہوئے بالوں کو اسکے کان کے پیچھے اڑاسا۔
“یہ تو ناممکن ہے۔۔۔ بہرحال کیا سوچا پھر؟”
“سوچنا کیا۔۔۔ مجھے جانا ہوگا کچھ ٹائم رہ لو پھر میں تمہیں لینے آجاؤں گا۔۔۔”
یہ فیصلہ رائد کے لیے مشکل تھا کیونکہ وہ واقعی اسکے بغیر اب نہیں رہ سکتا تھا اور نہ ہی وہ اس کو یہاں چھوڑ کر جانا چاہتا تھا۔
“ہممم۔۔۔ بابا کب واپس آئیں گے جرمنی سے؟”
وہ سوال کر رہی تھی۔
“کچھ کہہ نہیں سکتے۔۔۔”
رائد نے کندھے اچکا دئیے۔۔
“ایڈمیشنز اوپن ہیں۔۔میں بھی مزید بس ایک ہفتہ ہی یہاں رہوں گی۔ یونیورسٹی جانا ہے کچھ کام کے سلسلے میں۔۔ پھر کلاسز سٹارٹ ہونگی تو وہ اٹینڈ کرنی ہیں۔۔”
اسکی بات پر رائد کچھ سوچنے لگا۔
“میں اکیلے واپس آجاؤں گی فکر نہیں کرو۔۔۔”
وہ بول کر اٹھ گئی۔
“اکیلے کیسے واپس آؤ گی۔۔؟ اب اتنا بھی برا نہیں ہوں کہ اپنی اکلوتی بیوی کو اکیلے سفر کرنے دوں۔۔”
وہ وہیں بیٹھا اسکی پشت دیکھتا رہا جو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی۔ اسکو بالوں میں ہاتھ ڈالتا دیکھ کر رائد اپنی جگہ سے اٹھا۔
“میں نے کب کہا تم برے ہو۔۔؟”
وہ شیشے میں اپنے پیچھے اسکا عکس دیکھ کر بولی۔
” یہ بھی تو نہیں کہا کہ میں اچھا ہوں۔۔۔”
رائد نے اسکا ہاتھ نیچے کرکہ بالوں کو اکھٹا کرتے ان میں کلپ لگایا تو یَشل ہونٹوں پر مسکراہٹ لئیے اسکی طرف مڑی۔
“بہت اچھے ہو تم۔۔بتانے کی ضرورت ہے کیا؟”
“ہاں بلکل۔۔۔ تم بتاؤ گی نہیں تو مجھے کیسے پتا لگے گا تم میرے بارے میں کیا سوچتی ہو؟”
رائد ہلکا سا جھک کر بولا۔
“بہت برے خیالات ہیں میرے تمہارے بارے میں۔۔۔”
“اچھا؟ کتنے برے۔۔۔”
اسکے ذومعنی سوال پر یَشل نے اسے گھور کر دیکھا پھر سائڈ سے نکل کر جانے لگی۔
“ایسے کیسے۔۔۔”
رائد نے اسکا راستہ روکا۔
“کیا ایسے کیسے؟ سردی لگ رہی مجھے۔۔۔”
“پہلے مجھے کس کرو۔۔۔”
رائد نے چہرا اسکے سامنے کیا تو یشل نے آئی برو اچکاتے اسے دیکھا۔
“زیادہ فری نہیں ہورہے تم؟”
یشل نے آنکھیں چھوٹی کی تو رائد نے سر انکار میں ہلایا۔
“بلکل بھی نہیں ہورہا۔۔۔”
” تمہاری خام خیالی ہے کہ میں ایسا کروں گی۔۔۔”
یشل نے اسکی خوش فہمیاں دور کرنا چاہی۔
“پھر میں بھی تمہیں جانے نہیں دوں گا۔۔”
رائد نے اسکے دائیں بائیں ہاتھ رکھتے راہِ فرار بند کیا۔
” تم پھر تنگ کرنے لگ گئے ہو مجھے؟ پیچھے ہٹ جاؤ۔۔۔”
یَشل نے اسکی بازو ہٹا کر نکلنا چاہا مگر ناکام ٹہری۔
“پہلے جو کہا ہے وہ کرو۔۔۔”
یَشل نے معصوم بنتے اسے دیکھا مگر رائد پر کوئی اثر نہ ہوا۔ ناچار اسنے دونوں ہاتھ رائد کے چہرہ پر رکھے اور پنجوں کے بل اوپر ہوتے اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھ دئیے۔ یہ پہلی مہر تھی جو اسنے رائد کے چہرے پر ثبت کی تھی۔ یَشل کا چہرا گلال ہوا۔ اسنے پیچھے ہٹ کر چمکتی آنکھوں سے رائد کو دیکھا جس کے ہونٹوں پر زندگی سے بھر پور مسکراہٹ آئی تھی۔
“اور کتنا اپنا بناؤ گی۔۔؟”
یَشل کے ہونٹوں پر بےاختیار مسکراہٹ رینگ گئی۔
رائد کے ایک قدم پیچھے ہٹنے پر وہ بیڈ کی طرف بڑھی۔
“یہ ایسے ہی رہے گا۔۔۔؟”
اسنے بیڈ پر بیٹھے جلے ہوئے ہاتھ کو دیکھا۔
“شاید ہاں لیکن ایسے تمہیں مشکل ہوگی سونے میں۔۔۔اسکو ہلکی سی بینڈج کردیتے ہیں جس سے یہ ہاتھ کوور رہے تھوڑا سا۔۔۔”
وہ اب فرسٹ ایڈ باکس کی تلاش میں یہاں وہاں دیکھنے لگا۔
” جلے ہوئے کو بینڈج کرتے ہیں کیا؟ تم پھر اپنا سستا میدیٹکل جھاڑو گے اب؟”
یَشل کی بات پر رائد نے نگل لینے والی نظر یشل پر ڈالی
“جب یقین نہیں تو مجھ سے بول ہی کیوں رہی؟ ایسے ہی سوجاؤ۔۔۔”
وہ بولتا ہوا اپنے سائڈ پر آکر لیٹنے لگا۔
“ارے نہیں نہیں۔۔۔میں کب کہہ رہی کچھ؟”
وہ فوراً سے بھیگی بلی بنی تو رائد عش عش کر اٹھا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
وہ صوفے پر بیٹھا فون یوز کر رہا تھا جب عزہ اس کے پیچھےسے گزری لیکن اس کے فون میں کھلی آمنہ کی چیٹ دیکھ کر رک گئی۔
“تم کیوں اس کو میسجز کرتے رہتے ہو۔۔۔؟”
عزہ گھوم کر اس کے ساتھ آکر بیٹھی اور سنجیدگی سے سوال کیا۔
“کس کو میسج کرتا ہوں میں۔۔۔؟”
اس نے ایک نظر عزہ پر ڈالی اور دوبارہ فون استعمال کرنے لگا۔
“انجان مت بنو ہادی۔۔تمہیں پتا ہے میں آمنہ کی بات کر رہی۔۔۔”
لہجہ اُتنا ہی سنجیدہ تھا۔
“پہلے تو تمہیں کبھی اعتراض نہیں ہوا۔۔۔ بات ہی کرتا ہوں اللّٰہ معاف کرے کچھ غلط تو نہیں کرتا۔۔۔”
وہ غیر سنجیدہ تھا۔
” پہلے کبھی مجھے اعتراض نہیں ہوا کیونکہ مجھے نہیں پتا تھا تم دونوں اتنے کلوز ہوگئے ہو یا کس طرح کی دوستی ہے تم دونوں کی۔۔۔۔”
“کیا مطلب اتنے کلوز ہوگئے ہیں اور کس طرح کی دوستی ہے؟ ڈونٹ وری عزہ۔۔۔ایسا ویسا کچھ نہیں ہے میں اسے کچھ غلط نہیں کہتا اور وہ اتنے عرصے میں مجھ سے تنگ بھی نہیں ہوئی۔۔۔”
وہ ہنوز فون یوز کرتا بے فکری سے بولا۔
“یہی تو مسئلہ ہے کہ وہ تنگ نہیں ہوتی۔۔۔”
عزہ جھنجھلائی تو ہادی نے فون سے نظریں ہٹاتے حیرت سے اسے دیکھا۔۔
“یہ تو اچھی بات ہے نہ کہ وہ تنگ نہیں ہوتی۔۔اس میں مسئلے والی کیا بات ہے بھئی؟”
ہادی نے فون بند کرتے اچھنبے سے سوال کیا تو عزہ نے گہرا سانس لیا۔
“ہادی وہ لڑکوں سے باتیں نہیں کرتی۔۔”
“تو میں لڑکی ہوں کیا۔۔؟”
وہ استہزائیہ بولا۔
“اوففف ہادی اوففف۔۔۔تم سمجھ نہیں رہے میری بات کو۔۔”
وہ پہلے سے زیادہ جھنجھلائی
“تو سمجھاو نہ میری جان۔۔۔”
ہادی نے آنکھوں میں نرم تاثر لئیے اسے دیکھا۔
“زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں میرے ساتھ۔۔۔”
عزہ نے اسے گھورا تو ہادی نے کان پکڑتے معذرت کی۔
“دیکھو ہادی۔۔وہ لڑکوں سے باتیں نہیں کرتی، اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے کسی کا بلاوجہ میسج کرنا بھی برا لگتا ہے۔ جب سے میں اسے جانتی ہوں تب سے تم پہلے لڑکے ہو جس سے وہ یوں باتیں کرتی ہے اور اتنی گہری دوستی بھی ہوگئی ہے۔۔۔۔وہ دوسری طرح کی بندی ہے۔۔اسکی نیچر اتنی ریزروڈ ہے کہ میل کزنز سے بھی محض سلام دعا رکھتی ہے۔ لیکن تم۔۔۔تم سے وہ اتنی باتیں کرتی ہے یہاں تک کہ تم سے مل بھی چکی ہے، وہ تمہاری کسی بات کو مائینڈ نہیں کرتی یہ چیز اُس کے لحاظ سے نارمل نہیں ہے۔۔۔۔”
عزہ اسے جو کہنا چاہتی تھی وہ بہت آسان لفظوں میں بھی کہہ سکتی تھی مگر وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی کیونکہ یہ کام اگر اتنا آسان ہوتا تو آمنہ کرچکی ہوتی۔
“ان ساری باتوں کا مطلب تو یہ ہوا کہ میں اس کو دوسروں سے ڈفرنٹ لگا اور اچھا لگا اسی لئیے وہ میرے ساتھ کمفرٹیبل ہوتی ہے۔۔۔”
ہادی نے کندھے اچکا دئیے۔
“یہی بات ہے لیکن تم واقعی دوسروں سے مختلف ہو کیا۔۔۔؟”
عزہ کے سوال پر ہادی چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔
“کیا مطلب۔۔۔”
“دوسروں سے مختلف تم کیسے ہو؟ تم میں ہیرے موتی لگے ہیں کیا؟”
ہادی نے سر انکار میں ہلا دیا۔
“پھر تم نے سوچا ہے کہ تم اسے دوسروں سے الگ کیوں لگتے ہو۔۔۔؟”
اسکے سوال پر وہ خاموش رہا
“اچھا چھوڑو اس بات کو۔۔۔تم صرف آمنہ سے بات کرتے ہو کیا ۔۔۔؟”
اسنے اسکی خاموشی پر سوال بدلا
“نہیں تو۔۔۔”
“تو یعنی تم آمنہ کے معملے میں سنجیدہ بھی نہیں ہوا۔۔۔”
عزہ کی بات پر ہادی نے آنکھیں چھوٹی کرکہ ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
“میں نے آمنہ کو لے کر سنجیدہ کیوں ہونا عزہ۔۔؟”
وہ کندھے اوپر کرتا اسکی بات پر ہنسا۔
“بلکل۔۔۔تم کیوں سنجیدہ ہو گے۔۔۔لیکن مجھے لگتا ہے وہ تمہیں لے کر سیرئیس ہے۔۔۔”
اسے لگتا نہیں تھا۔ اسے یقین تھا اور یہی حقیقت بھی تھی۔
“تمہیں غلط لگ رہا ہے عزہ۔۔۔”
اس بار وہ آرام سے بولا۔
“مجھے غلط نہیں لگ سکتا۔۔۔میں اسے سالوں سے جانتی ہوں اور تمہیں محض چند ماہ ہی تو ہوئے ہیں۔۔میں اس کی رگ رگ اور اسکے ہر انداز سے واقف ہوں ہادی۔۔!”
اب کی بار ہادی خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
“ہادی وہ بہت اچھی لڑکی ہے اور دوستی کے معاملے میں ضرورت سے زیادہ سیرئیس ہوتی ہے۔۔ہر چیز، ہر ضروری اور غیر ضروری رشتے میں اپنا بیسٹ دیتی ہے۔۔۔کیا تمہیں یقین ہے کہ وہ بھی تمہیں دوست ہی مانتی ہے؟”
وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
“میں نہیں چاہتی کہ کسی بھی پوائنٹ پر وہ تمہاری وجہ سے ہرٹ ہو۔۔اور مجھے یقین ہے تم اگر ایسے ہی رہے تو وہ ہرٹ ہوگی اور ضرور ہوگی۔۔۔مجھے نہیں پتا میں مزید تمہیں کس طرح سے سمجھاوں لیکن تم بچے نہیں ہو۔۔میری بات تمہیں اچھے سے سمجھ آگئی ہوگی۔۔بہتر ہے تم سوچ سمجھ کر اس سے بات کرو اور سب کچھ کلئیر کرو تاکہ تم دونوں کو کوئی پاربلم فیس نہ کرنی پڑے۔۔”
اپنی بات مکمل کرتی عزہ اپنی جگہ سے اٹھ گئی تھی اور ہادی کو کافی کچھ سوچنے پر مجبور بھی کرگئی تھی۔ ہادی چند لمحے کسی ٹرانس کی طرح بیٹھا رہا پھر فون اٹھا کر نوٹیفیکیشن پینل کھولا۔
“تم نہیں سمجھو گے۔۔مجھے تمہاری عادت سی ہوگئی ہے۔۔”
وہ کتنی ہی دیر فون پکڑ کر بیٹھا اس میسج کو دیکھتا رہا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
رائد کو گئے آج دو دن ہوگئے تھے اور ان دو دنوں میں اسے اس بات کا احساس شدت سے ہوا تھا کہ پانچ ماہ میں بھی اسے رائد کی عادت نہ ہوئی تھی۔ اسکے جانے کے بعد اپنا آپ اسے عجیب انداز میں آزاد محسوس ہوا تھا۔ ایسے جیسے سب ٹھیک ہوگیا ہے لیکن درحقیقت سب ویسا ہی تھا۔
صبح اٹھتے ہی وہ شاور لینے چلی گئی کیونکہ آج اسے یونیورسٹی جانا تھا۔ شاور لینے کے بعد بالوں کو ڈرایر سے ڈرائے کیا اور تیار ہونے لگی۔ چہرے پر ہلکا پھلکا میک اپ کرکہ وہ نشہ کے ساتھ یونیورسٹی چلی آئی۔ یونیورسٹی میں قدم رکھتے وہ لوگوں کی نظروں کا مرکز بنی تھی اور اسکی وجہ بھی وہ اچھے طریقے سے جانتی تھی۔
“ماسک ہے تمہارے پاس۔۔۔؟”
اسنے ساتھ چلتی نِشہ کو مخاطب کیا تو وہ سر انکار میں ہلا گئی۔ تیز تیز قدم لیتی وہ اپنے مطلوبہ آفس میں پہنچی۔
کام کے دوران ایچ او ڈی اور مختلف ٹیچرز سے اسکی شادی کے متعلق کچھ گفتگو ہوئی تھی تو اسکا دل کیا وہ وہاں سے غائب ہو جائے۔
کام لمبا تھا۔ وہ ایک آفس سے نکلتے دوسری جانب جانے لگی جب راستے میں اسے اپنی کلاس فیلوز ملی۔
“ارے یَشل۔۔۔کیسی ہو یار۔۔”
وہ گرمجوشی سے بغلگیر ہوئی تو یَشل بوکھلا سی گئی کیونکہ وہ اب تک نظر آنے والے جان پہنچان کے تمام لوگوں کو نظر انداز کرتی آئی تھی اور ابھی بھی یہی ارادہ تھا مگر وہ دونوں کسی دیوار کی طرح راستے میں حائل ہوئی تھیں۔
“میں ٹھیک تم دونوں بتاؤ۔۔۔”
اسنے اپنے سامنے کھڑی رمشہ اور مرحا کو بدقت مسکرا کر دیکھا۔
“ہم بھی ٹھیک۔۔۔تم نے شادی کرلی؟ وہ بھی رائد سے؟”
توقع کے عین مطابق حیرت سے سوال کیا گیا تو نشہ نے گہرا سانس لیتے امڈ کر آنے والے غصے کو دبایا جبکہ یَشل کو سمجھ ہی نہ آیا وہ کیا کہے۔
“ہاں۔۔۔کرلی۔۔”
“مگر تمہارا اور ارمغان کا سین تھا نہ؟ یقین کرو تمہاری شادی پر ابھی تک کلاس کا بندہ بندہ باتیں بناتا ہے۔۔۔خیر سے تم نے رائد سے شادی کرلی وہ بھی اتنی اچانک؟”
رمشہ کی بات پر یَشل کا دل کیا وہ جواب دئیے بغیر پلٹ جائے۔۔۔
” ویسے اتنی بڑی اداکارہ کے بیٹے کا رشتہ تمہارے لیے کیسے آگیا؟چلو یہ بھی اچھا ہوا کہ تم نے ارمغان پر رائد کو ترجیح دی۔ ویسے ارمغان کا بھی مقابلہ کوئی کر نہیں سکتا لیکن رائد کا بھی کوئی مقابلہ نہیں اور اب تو سکینہ کی بھی ڈیتھ ہوگئی ہے۔۔۔گھر پر راج کر رہی ہوگی تم تو۔۔۔”
وہ مزید بولی تو یَشل وہ اپنے رگوں میں خون منجمد ہوتا محسوس ہوا۔ زبان جیسے تالوں سے چپک گئی۔
“ہوگئی تم دونوں کی چپڑ چپڑ ختم؟ ہاں بھئی کرلی ہے شادی اور پورے گھر پر راج بھی کر رہی۔۔۔اب اپنا رستہ ناپو۔۔۔”
نشہ نے تیز نظروں سے ان دونوں کو گھورتے بدلحاظی سے کہا اور یشل کا ہاتھ تھامتی ان کے پاس سے گزر گئی۔ پیچھے ان دونوں کا چہرا سرخ ہوا مگر یہ سلسلہ یہاں نہیں رکا تھا۔ وہ جتنی دیر یونیورسٹی میں تھی اییسی کئی باتیں سٹوڈنٹس سمیت ٹیچرز سے بھی سننی پڑتی تھی اور آہستہ آہستہ یَشل کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا۔ یونیورسٹی سے نکل کر گاڑی میں بیٹھتے ہی اسکا ضبط بری طرح ٹوٹ گیا اور وہ سسکیوں سے رونے لگی۔ انوشہ نے اسے چپ کروانے کی کوشش کی مگر ناکام ٹہری اور وہ گھر تک ویسے ہی روتی رہی تھی پھر گھر جاتے ہی اسنے خود کو کمرے میں بند کردیا۔ عطیہ، قرت اور صبیحہ اسکے پاس آئی تھی مگر وہ خود سارا دن کمرے سے نہ نکلی اور رات کے نو بجے ہی اسکی آنکھ لگ گئی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“میری گڑیا۔۔۔کتنی کمزور ہوگئی ہو بالوں میں بھی جان نہیں رہی بلکل بھی خیال نہیں رکھا تُم نے اپنا۔۔۔”
ہلکی ہلکی روشنی ہر جگہ پھیل رہی تھی وہ آبی کی گود میں سر رکھ کر لیٹی ہوئی تھی۔ آبی تو فجر کی نماز پڑھنے کے لیے اُٹھی تھی اور یَشل بھی رات جلدی سونے کے باعث اذان ہونے سے پہلے ہی اٹھ گئی تھی پھر آبی کو جاگتا دیکھ کر وہ انکے پاس آگئی۔
“خیال رکھ کر کیا کرنا آبی۔۔۔”
وہ کھڑکی سے باہر کسی غیر مرئی نکتے کو گھور رہی تھی
“کیا مطلب ہے کیا کرنا خیال رکھ کہ؟ ایسی تو نہیں تھی میری شہزادی اپنا بہت خیال رکھتی تھی۔۔۔”
آبی نے پیار سے اُسکے چہرے پر اپنا ہاتھ رکھا
“آبی۔۔۔ آپ ہمیشہ کہتی ہیں وقت ایک سا نہیں رہتا۔ بس آپ کی شہزادی کا وقت بدل گیا ہے اور زندگی کی حقیقت کھل کر میرے سامنے آگئی ہے۔۔”
وہ بولی تو لہجے میں صدیوں کی تھکن تھی آبی نے ہلکی سی روشنی میں اُسکا مرجھایا ہوا چہرا دیکھا۔
“ہر بات دِل میں رکھو گی تو تھک جاؤ گی۔ درد بانٹنے سے کم ہوجاتا ہے۔۔۔”
یَشل نے آبی کہ طرف دیکھا۔۔ بس چند لمحے پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی وہ اتنی شدت سے روئی کہ آبی کی بھی آنکھیں بھیگ گئی۔ کتنی ہی دیر وہ دل ہلکا کرتی رہی اور آبی اُسکے سر میں ہاتھ پھیرتی رہی۔
“خوش نہیں ہو نہ؟”
اس کے خاموش ہونے پر انہوں نے سوال کیا جس کا جواب شاید وہ پہلے سے جانتی تھیں مگر وہ چاہتی تھی کہ یَشل اپنا درد بانٹ لے۔
“خوش؟ میں تو ٹھیک بھی نہیں ہوں۔۔۔” وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی
“ہو جاؤ گی ٹھیک۔۔۔” آبی نے اسکے آنسو صاف کئیے ۔
“کیا محبت گناہ ہے؟”
اسنے چند لمحوں بعد متور آنکھوں سے آبی کو دیکھتے ہوئے سوال کیا جو اسکا سر دبا رہی تھی۔
“نہیں۔۔۔”
“پھر میں کس چیز کی سزا بھگت رہی؟”
وہ پھر سے رو دینے کو تھی۔ آبی کا ہاتھ رک گیا تھا۔ وہ اسے دیکھتی چلی گئیں۔
“ہر رات اُس شخص کے پہلو میں لیٹ کر مجھے ایسا لگتا ہے کہ میرا دِل پھٹ جائے گا۔۔۔ کچھ ٹھیک نہیں ہو رہا۔۔۔ مجھے لگا تھا میں آگے بڑھ رہی ہوں میں ٹھیک ہو رہی ہوں مگر ایسا نہیں تھا۔۔۔ آج یونیورسٹی جاتے مجھے شدت سے احساس ہوا کہ میرے سامنے کوئی ارمغان کا نام بھی لے لے تو میں ٹوٹ جاتی ہوں۔۔۔ “
وہ پھر سے رونے لگی تھی۔ آواز میں اتنا اور دکھ تھا کہ آبی کو اس پر ڈھیروں ترس آیا۔۔۔
“میں اسے نہیں بھول پا رہی آبی۔۔۔میں نے ایک قدم آگے بڑھانے کی کوشش کی مگر میں دس قدم پیچھے ہوگئی۔۔۔مجھے لگتا ہے زندگی رک گئی ہے۔۔۔”
دل تو پہلے ہی تکلیف میں تھا اب اسے حلق میں درد ہونے لگا تھا۔
“تم دوبارہ یہاں مت آنا۔۔۔ وہاں رہو گی اس کے ساتھ وہ آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جاؤ گی اللّٰہ پر یقین رکھو۔۔۔”
“کیسے ٹھیک ہو جاؤں گی؟ اس شخص نے زندگی میں صرف نقصانات اور زخم دئیے ہیں اور اب وہ اپنی محبت سے ان زخموں کو بھرنے کی کوشش کر رہا ہے۔۔۔
شاید میرے لیے یہ سب اتنا مشکل نہ ہوتا مگر وہ رائد ہے۔۔۔ کوئی بھی ہوتا مگر رائد نہ ہوتا۔۔اُس شخص کو اپنے شوہر کے روپ میں قبول کرنا موت کو گلے لگانے جیسا تھا۔۔۔کاش میرے بس میں ہوتا تو میں واقعی موت قبول کرلیتی۔۔۔!”
وہ سسکنے لگی تھی۔
“کیسی باتیں کر رہی ہو میرا دل ڈوبا جارہا ہے۔۔”
یَشل کی حالت دیکھ کر اُنہیں اپنا دِل واقعی دوبتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
“اور مجھے ایسا لگ رہا ہے میں واقعی سمندر میں ڈوب گئی ہوں۔۔اور اب مجھے کوئی اس گہرے سمندر سے نہیں نکال سکتا۔۔۔میں گنہگار ہوتی جارہی ہوں خود کو بچا نہیں پا رہی۔۔۔”
اسکی آنکھوں میں عجیب سا خوف تھا۔ آبی نے آنکھ سے آنسو نکلتے رخساروں پر پھسلنے لگے۔
” تین ماہ میں نے رائد کے گھر میں ارمغان کے عکس کے ساتھ گزارے تھے۔ ہر طرف وہی نظر آتا تھا میں نے رائد کو بھی ارمغان سمجھا۔ یہاں تک کہ مجھے لگا تھا، مجھے سائیکیٹڑسٹ کی ضرورت ہے وہ اتنا زیادہ نظر آتا تھا مجھے۔۔۔”
وہ ان کی طرف دیکھتے ہر بات انہیں بتا رہی تھی اور وہ خاموشی سے سن رہی تھیں۔۔
“آپ کو پتا ہے آبی سب سے زیادہ مشکل کیا تھا؟ ارمغان کا سامنا کرنا۔۔۔ وہ رو رہا تھا میرے سامنے اور مجھے لگ رہا تھا جیسے میرے ہاتھ کٹ گئے ہوں۔ مجھے اپنا آپ اُسکا مجرم لگ رہا تھا۔ میں نے اُسکا دِل توڑ دیا اور دلوں میں تو اللّٰہ رہتا ہے نہ؟ اب میں سکون میں کیسے رہوں گی؟”
خشک آنکھیں دوبارا بھیگنے لگی۔ آبی کو لگا جیسے اسکی زندگی ختم ہورہی تھی۔
“ہاں رائد میرا محرم ہے میں نے اس حقیقت کو اب قبول کرلیا ہے مگر۔۔۔ارمغان میری پہلی اور آخری محبت ہے۔ یہ حقیقت سایہ بن کر تا عمر میرے ساتھ رہے گی۔۔۔”
وہ سوجی کوئی آنکھوں سے آبی کو دیکھتے ہوئے بولی جن کی آنکھوں سے بھی آنسو رواں تھے۔ انہوں نے اسکے آنسو صاف کرتے اسے خود میں بھینچ لیا۔
آبی کو اسکا ایک ایک لفظ دل پر لگتا محسوس ہوا تھا۔ وہ اس لڑکی کی تکلیف کبھی کم نہیں کر سکتی تھی جو انہیں اپنی سگی اولاد سے بھی زیادہ عزیز تھی۔ وہ اس لڑکی کی اذیتیں ختم نہیں کر سکتی تھی۔
“کاش آنکھ سے نکلنے والا ہر آنسو درد کو بھی اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا۔۔۔”
اگلی صبح اسے اپنا آپ حد سے زیادہ ہلکا محسوس ہوا تھا۔ دل پر جتنا بھی بوجھ تھا وہ آدھے سے زیادہ سرک گیا تھا۔ اسنے اپنا دل آبی کے سامنے کھول کر رکھا تھا اور یہ بہترین فیصلوں میں سے ایک فیصلہ تھا۔ دکھ واقعی بانٹ لینا چاہیے کیونکہ دکھ بانٹنے سے ہی کم ہوتا ہے۔ اب بس مزید دو دن اسنے اس گھر میں رکنا تھا اور ان دو دنوں میں اسے حد سے زیادہ مشکل کام سر انجام دینا تھا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“تم مجھے لے کر کیا فیل کرتی ہو۔۔۔؟”
وہ اسکے سوال پر چند لمحے خاموش ہوگئی۔
“کیا مطلب۔۔۔؟”
“مطلب۔۔۔کیا تم مجھے صرف دوست سمجھتی ہو۔۔۔؟”
لائین پر پھر سے خاموشی چھا گئی۔
“یہ کیسا سوال ہے۔۔۔؟”
“سوال پر سوال مت کرو۔۔۔”
آمنہ نے دونوں ہونٹ دانتوں تلے دبائے۔۔۔
“بتاؤ نہ۔۔۔تم مجھے صرف دوست سمجھتی ہو کیا؟”
ہادی نے اپنا سوال دوہرایا
“نہیں۔۔۔۔”
یک لفظی جواب دیتے وہ زور سے اپنی آنکھیں بند کرگئی۔
چند لمحے ہادی ویسے ہی فون کان سے لگائے مجسمے کی طرح بیٹھا رہا پھر بغیر کچھ کہے کال منقطع کردی۔ اسنے اپنا سر ہاتھوں میں گرا لیا۔ اسے ہرگز یہ توقع نہیں تھی کہ عِزہ کی باتیں سچ ہونگی۔ کافی دیر وہ ایک ہی پوزیشن میں بیٹھا رہا پھر اٹھ کر کمرے سے نکلنے لگا۔ کمرے کا دروازہ کھولتے ہی اندر آتی عزہ اس سے ٹکرا گئی۔
“کیا آندھی طوفان کی طرح گھسی آرہی ہو۔۔۔”
ماتھا سہلاتی غزہ نے حیرت سے سامنے کھڑے ہادی کو دیکھا جس کے لہجے نے اسے چونکا دیا تھا۔
“اب کیا آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی ہو؟ ہٹو یار۔۔۔”
وہ اسکو کندھے سے پکڑ کر سائڈ کرتا نیچے چلا گیا اور پیچھے عزہ ہونک بنی کھڑی رہی پھر چھلاوے کی طرح چھلانگیں مارتی اسکے پہچھے لپکی۔ تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتی وہ نیچے آئی تو ہادی کہیں نہ تھا۔ وہ بیرونی دروازہ کھول کر باہر نکلی تو ہادی مین گیٹ کی سمت جاتا نظر آیا۔
“ہادی۔۔۔۔ہادی رُکو۔۔۔”
وہ اسکے بیچھے بھاگتی اسکے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
“کیا ہوگیا ہے۔۔۔؟”
ہادی نے اکتا کر اسے دیکھا جو گٹھنوں پر ہاتھ رکھے ایسے ہانپ رہی تھی جیسے کسی پہاڑ سے دوڑ لگاتی یہاں پہنچی ہو۔۔
“تمہاری۔۔۔۔تمہاری آمنہ سے کچھ بات ہوئی ہے۔۔۔؟”
گہرے گہرے سانس لیتے اسنے بےترتیب سانسوں کو نارمل کرنے کی کوشش کی۔
“نہیں۔۔۔۔!”
یک لفظی جواب دینے پر اکتفا کیا گیا۔
“مگر مجھے اسکی کال آئی تھی۔۔۔”
“کیا کہہ رہی تھی۔۔؟” اسے تجسس ہوا۔
“پوچھ رہی تھی تمہیں کیا ہوا ہے اور تم نے اس سے وہ کیوں پوچھا۔۔۔”
ہادی نے گہرا سانس لیا۔
“پھر اب کیا ہے عزہ؟ جانے دو مجھے۔۔۔”
“نہیں جانے دوں گی۔۔۔”
وہ اٹل لہجے میں بولتی تن کر اسکے سامنے کھڑی ہوگئی۔ ہادی کو بےاختیار ہی ہنسی آنے لگی جسے وہ دبا گیا۔
“کیوں بھئی اب کیا چاہتی ہو تممم۔۔۔۔!!”
ہادی کی بیزاریت پر عزہ اسے بازو سے پکڑ کر لان میں پڑی چئیرز کی طرف بڑھی۔
“بیٹھو ادھر۔۔۔”
اسنے کرسی کھینچ کر اسکی طرف اشارہ کیا تو ہادی پھاڑ کھانے والی نظروں سے اسے دیکھتا ہوا بیٹھ گیا۔
“تم بھی اسے صرف دوست سمجھتے ہو کیا؟”
عزہ کے پہلے سوال پر ہی وہ زچ ہوگیا۔
“عزہ یار۔۔۔ میں نے اسکے بارے میں دوست سے بڑھ کر کبھی کچھ سوچا ہی نہیں تم کیوں نہیں سمجھ رہی۔۔۔”
ہادی کے لہجے میں بیزاری کے ساتھ بےبسی بھی تھی۔
“مگر وہ تو سمجھتی ہے نہ۔۔۔۔”
“تو یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔۔۔”
وہ بےنیازی سے بولا تو عزہ اسے دیکھے گئی۔
“تمہارا یہ مسئلہ ہے یہ۔۔مت بھولو کہ تم نے ان سب کی شروعات کی تھی۔۔!! میسجز سے لے کر ملنے تک سب میں پہل تم نے کی تھی۔۔!”
اب کی بار ہادی نے غیر محسوس انداز میں نظریں چرائی کیونکہ اسکی بات غلط نہیں تھی۔
“وہ ہر طرح سے پرفیکٹ بندی ہے یار۔۔۔ اور کیا چاہیے تمہیں؟ اور مجھے یقین ہے کہ تم بھی کچھ نہ کچھ ضرور فیل کرتے ہو اسکے لیے۔۔۔”
“اب تم مجھے فورس کروگی؟ حد ہوتی ہے عزہ۔۔!!”
وہ حیرت اور غصے کے ملے جلے تاثرات سے بولا تو عزہ کچھ کہہ ہی نہ سکی۔ ہادی چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر اٹھ کر گھر سے نکل گیا۔
“اوفففف لعنت ہے تم پر ہادی۔۔۔”
وہ پیچھے سے چیخی تھی۔۔
تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا۔۔۔؟؟”
وہ جیسے ہی واپس گھر میں داخل ہوئی تو سیڑھیاں اترتے افہام نے برہمی سے اسے مخاطب کیا۔
“میں نے کیا کِیا ہے۔۔۔؟”
وہ حیران سی بولی۔۔
“تم اتنی فری کیوں ہورہی ہو اس کے ساتھ؟ چھوٹا نہیں ہے وہ تم سے۔۔تمیز نہیں رہی تمہارے اندر بات کرنے کی؟”
وہ ہادی کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ عزہ نے زبان دانتوں تلے دبائی۔ وہ ضرور ٹیرس سے سارا منظر دیکھ چکا ہوگا یا اسکی آواز سن لی ہوگی۔
“بھائی وہ بدتمیزی کر رہا تھا۔۔۔”
“کون سی بدتمیزی کرلی اس نے۔۔۔؟”
افہام نے غصے سے سوال کیا تو وہ سر جھکاتی ہونٹ چبانے لگی۔
“کیا ہوگیا ہے افہام۔۔۔”
قرت کچن سے نکل کر ان دونوں کے پاس آتی افہام سے سوال کرنے لگی۔
” کچھ زیادہ ہی سب کے سروں پر چڑھ گئی ہے یہ اور کچھ نہیں ہوا۔۔۔”
قرت نے خفگی سے افہام کو دیکھا۔
“اوفف۔۔۔چپ کریں آپ۔۔۔”
قرت ان دونوں کے درمیان میں کھڑی ہوگئی تو افہام اسے گھورنے لگا۔
“دیکھیں۔۔حسین لگ رہی ہوں نہ۔۔”
اسنے اپنا چہرا آگے کرتے افہام کو دیکھایا تو اسکی آنکھوں میں نرم سا تاثر ابھرا۔
“باز آجاؤ تم۔۔۔ اور تم بھی۔۔”
اسنے پہلے قرت اور پھر عزہ کو دیکھا اور باہر کی طرف بڑھ گیا۔
“ارے۔۔۔ چائے نہیں پیئیں گے کیا؟ بہت پیار سے بنا رہی ہوں۔۔۔”
قرت نے پیچھے سے ہانک لگائی
“خود ہی پیو۔۔۔”
وہ جل کر بولا تو قرت نے قہقہہ لگایا پھر عزہ کی طرف مڑی جو سر جھکائے کھڑی تھی۔
“ارے چھوڑو تم انہیں۔۔۔میں ان سے بات نہیں کر رہی تھی اسی لیے غصے میں ہیں۔۔”
وہ اسکا کندھا تھپک کر بولتی واپس کچن میں چلی گئی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
کالج آتے ہی وہ بےصبری سے آمنہ کا انتظار کرنے لگی۔ کلاس سٹارٹ ہونے سے دو منٹ پہلے وہ آئی تو عِزہ نے جی بھر کر اسے گالیاں دی۔
سیکنڈ کلاس بنک کرکہ وہ دونوں گراؤنڈ میں آگئی۔
“ہادی سے بات ہوئی تمہاری اسکے بعد۔۔۔؟”
اسکے ساتھ ساتھ چلتی وہ آمنہ سے سوال کرنے لگی۔
“نہیں۔۔۔میں نے میسج کیا تھا اسنے کہا سر درد ہے کل بات کریں گے۔۔۔”
وہ اداسی سے گویا ہوئی تو عزہ نے رک کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے بھی روکا۔ آمنہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
“تم اس سے بات مت کرو۔۔۔”
“کیسے نہ کروں۔۔۔دماغ تو نہیں چل گیا تمہارا؟”
وہ بدک اٹھی۔
“پوری بات تو سن لو۔۔۔”
عزہ نے اسکے سر پر تھپڑ رسید کیا تو وہ کچھ خائف ہوئی۔
“بولو۔۔”
وہ دونوں اب دھوپ میں گھاس پر بیٹھ گئی تھی۔
“تم آج کے دن اسے جتنے میسجز کر سکتی ہو کرو اور اگر وہ ٹھیک سے بات نہیں کرتا تو تم بھی چھوڑ دینا۔۔۔اتنی آسانی سے میسر رہو گی تو اسے احساس نہیں ہوگا۔۔۔تم بھی تھوڑا اگنور کرو تاکہ وہ زمین پر آجائے۔۔دیکھنا وہ انتظار کرے گا اور تم میسجز نہیں کرو گی تو خود مجبور ہوکر تمہیں میسج کرے گا۔۔۔”
عزہ تیز عورتوں کی طرح اسے چلاکیاں سکھا رہی تھی اور وہ بڑے انہماک سے اسے سنتی ہوئی ایسے سر ہلا رہی تھی جیسے کسی استاد نے اسے آسان لفظوں میں مشکل سا ٹاکپ سمجھایا ہے اور وہ اسے سمجھ بھی آگیا ہے۔
“لیکن۔۔۔ آئی کانٹ رِزسٹ نہ۔۔۔ کل ہی اتنی مشکل سے دل مار کر میں نے اسے میسج نہیں کئیے مزید نہیں ہوگا مجھ سے۔۔۔”
وہ بےبس سے لہجے میں بولی تو عزہ کا ہاتھ ماتھے پر گیا۔
” آمنہ تم آمنہ ہی رہو لیلیٰ بننے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ پلیز تھوڑا سا کنٹرول کرو۔۔۔”
“اور اگر پھر بھی سب ٹھیک نہ ہوا تو۔۔؟”
اسنے خدشہ ظاہر کیا۔
“تو تم سمجھ جانا کہ ہی از ناٹ دی ون۔۔۔”
(He is not the one)
عزہ نے کندھے اچکاتے آرام سے کہا۔
“اوففف ایسے تو مت بولو لڑکی۔۔۔”
آمنہ نے بےساختگی سے کہتے ہوئے اسے تھپڑ مارا۔
“آمنہ حقیقت ہے یار۔۔۔اگر وہ تم میں انٹرسٹڈ ہوا تو کرے گا میسج ورنہ بات سیدھی ہے کہ وہ ویسا نہ تو سوچتا ہے نہ ہی محسوس کرتا ہے جیسا تم کرتی ہو۔۔۔ تمہارے میسجز کرنے سے کیا ہی ہو گا بتاؤ؟ الٹا وہ اکتا جائے گا کیونکہ ہم کسی کو فورس تو نہیں کر سکتے۔۔۔”
آمنہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہی کیونکہ بات اسکی بھی بلکل ٹھیک تھی۔
“ویسے یہ ساری باتیں تم خود کیوں نہیں سمجھتی۔۔؟”
آمنہ کی بات پر وہ کچھ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔
“کیا مطلب۔۔۔؟”
“تم بھی تو بلاوجہ ارمغان کے پیچھے لگی ہو۔۔اور تمہیں تو کنفرم کرنے کی بھی ضرورت نہیں بات بلکل صاف ہے کہ وہ تم میں دلچسپی نہیں رکھتا۔۔۔”
آمنہ کی بات پر عِزہ کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔۔
” آمنہ کتنی بار کہا ہے مجھ سے اس بارے میں بات مت کیا کرو۔ تم الگ ہو اور میں الگ ہوں۔۔۔ میں ارمغان سے محبت نہیں عشق کرتی ہوں۔۔۔جنون کی حد تک۔۔”
آمنہ کے ہونٹوں پر عجیب سی مسکراہٹ آکر غائب ہوگئی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“اندر آجاؤں۔۔۔؟”
اسنے دروازہ ناک کرکہ سر اندر کرتے ہوئے سوال کیا تو عطیہ اور عدنان صاحب نے دروازے کی دیکھا۔
“ارے بچے آؤ آؤ۔۔اس میں اجازت لینے والی کیا بات ہے۔۔؟”
عدنان صاحب کے کہنے پر وہ اندر داخل ہوئی اور بیڈ کے سائیڈ پر پڑے صوفے پر بیٹھ گئی۔
عدنان صاحب ںے سائڈ ٹیبل پر پڑا دودھ کا گلاس اٹھا کر ہونٹوں سے لگایا۔
“ٹکٹس کنفرم ہوگئی تمہاری۔۔۔”
انہوں نے گلاس خالی کرکہ واپس رکھا اور یَشل سے سوال کرنے لگے۔
“جی ماموں کنفرم ہوگئی ہے۔۔۔ کل رات کی فلائیٹ ہے۔۔”
اسے آج صبح ہی رائد نے بتایا تھا کہ اسنے ٹکٹس کنفرم کروا دی ہیں اور وہ سامان بھی تقریباً پیک کر چکی تھی۔
“اتنی جلدی کیوں جارہی ہو؟ یونیورسٹی کا کیا ہے کچھ دن کلاسز نہ لیتی تو ایسا بھی کون سا نقصان ہوجانا تھا تمہارا۔۔۔”
عطیہ نے خفا ہوتے ہوئے کہا۔
“میں دو ماہ بھی یہاں رہ لوں تو آپ کو وہ بھی تھوڑے دن ہی لگیں گے۔۔۔”
وہ مسکرا کر بولی مگر عطیہ کی خفگی میں کمی نہ آئی اسکے چہرے پر وہی ناراضگی بھرے تاثرات رہے۔
“ماموں دراصل میں کچھ کہنے آئی تھی۔۔۔”
ہمت جمع کرتے اسنے شروع کی۔
“حکم کرو۔۔۔کیا ہوا؟”
یشل نے کچھ کہنے کے لیے لب وا کئیے مگر آواز ہی جیسے غائب ہوگئی۔ ساری جمع کی گئی ہمت جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔
“بولو بھئی۔۔۔” اسکی خاموشی پر عدنان صاحب نے اسے مخاطب کیا۔
“جی۔۔وہ میں۔۔۔”
جملہ ادھورا چھوڑتے اسنے ایک گہرا سانس لیا۔
“میں چاہتی ہوں کل ائیر پورٹ پر مجھے ارمغان ڈراپ کرنے جائے۔۔۔”
تیزی سے بولتے ہوئے اسنے اپنی گردن کو جھکا لیا۔۔
“کیا۔۔۔؟”
عدنان صاحب اور عطیہ نے حیرانگی سے اسکے جھکے سر کو دیکھا۔
“ماموں میں کل ائیر پورٹ پر ارمغان کے ساتھ جانا چاہتی ہوں۔۔۔۔”
اسنے اپنی بات دوہرائی تو عدنان صاحب اور عطیہ کی حیرت میں اضافہ ہوا۔
“صرف ارمغان کے ساتھ۔۔؟”
عدنان صاحب نے اپنی سوچ کی تصدیق چاہی تو یَشل نظریں چراتی سر اثبات میں ہلا گئی۔ کمرے میں خاموشی کا وقفہ آیا۔ یقیناً وہ اس بات کی توقع نہیں کر رہے تھے۔
“خیریت ہے نہ۔۔۔؟ کچھ ہوا ہے کیا؟”
عطیہ نے اسے دیکھتے ہوئے سوال کیا تو وہ سر انکار میں ہلانے لگی۔
“کچھ ہوا نہیں ہے مگر میں اس سے بات کرنا چاہتی ہوں کچھ۔۔جو شاید گھر میں نہیں کر سکتی اور نہ ہی میں فھر میں میں کرنا چاہتی ہوں۔۔۔”
اسنے اب جھکی گردن اٹھا لی تھی۔ عدنان صاحب چند لمحے کچھ سوچتے رہے پھر گویا ہوئے۔
“تم واقعی اسکے ساتھ جانا چاہتی ہو تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن ارمغان کو پتا ہے اس بارے میں ؟”
“نہیں اسے نہیں پتا۔۔۔ اس کو تو آپ بدلیں گے نہ۔۔”
وہ منمنائی تو عدنان صاحب ہنس دئیے۔۔۔
“ہمم۔۔۔ میں کرتا ہوں کچھ۔۔۔اتنا تو مجھے یقین ہے کہ تم نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی یہ کہا ہے اور ضرورت اسکے پیچھے بھی کوئی مقصد ہوگا۔۔۔”
عدنان صاحب کی بات سنتے یشل کی بانچھیں کھلی ار آنکھیں چمک گئی۔
“تھینک یو سو مچ اتنا ٹرسٹ کرنے کے لیے۔۔”
وہ صوفے سے اٹھتی ان کے پاس گئی اور ان کا ہاتھ پکڑتے ہونٹوں سے لگایا تو عدنان صاحب نے اسکے سر پر محبت سے ہاتھ رکھا۔ عطیہ ہونٹوں پر مسکراہٹ لئیے ان دونوں کو دیکھتی رہی۔
