Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz NovelR50532 Muntazirat Hastam (Episode 29)
Rate this Novel
Muntazirat Hastam (Episode 29)
Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz
گاڑی اپنی منزل کی طرف گامزن تھی۔ گاڑی میں چھائی خاموشی ان دونوں کو ہی بڑی شدت سے چبھ رہی تھی مگر کہنے کو کچھ نہیں تھا۔ شاید فرنٹ سیٹ پر بیٹھی اس لڑکی کے پاس بہت کچھ تھا مگر وہ خاموش تھی اور وہ دل ہی دل میں منتظر تھا کہ وہ کچھ کہے گی۔
عدنان صاحب کی بات مان کر اسے ائیر پورٹ پر ڈراپ کرنے کے لیے آنا مشکل ترین کاموں میں سے ایک تھا مگر اسے یہ کرنا تھا۔ شاید دوبارہ اسے ایسا کوئی موقع نہ ملتا، شاید وہ پھر کبھی اس سے کچھ نہ کہتی۔
نیند سے اٹھ کر یَشل جس دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی تھی وہ دل ابھی بھی اسی طرح دھڑک رہا تھا۔ وہ پورے راستے اس پر ایک نظر بھی نہ ڈال سکی تھی جو پتھریلے تاثرات کے ساتھ ایسے ڈرائیونگ کرتا رہا تھا جیسے کوئی جن بھوت ہو اور یَشل بھی ونڈ سکرین پر نظریں جمائے کسی غیر مرئی نکتے کو گھورتے شاید ذہن میں لفظوں کو ترتیب دے رہی تھی۔
صرف ارمغان کے لیے یَشل کو ائیر پورٹ پر لانا نہیں بلکہ یَشل کے لیے بھی ارمغان کے ساتھ آنا مشکل تھا۔ اسے لگ رہا تھا جیسے یہ آخری ملاقات تھی جو وہ ارمغان سے کرنے جارہی تھی۔۔۔وہ اسے دوبارہ کبھی نہیں ملے گی یا شاید دوبارہ اسے کوئی ایسا موقع نہیں ملے گا۔
گاڑی رکی تو یَشل کی سوچوں کے گھوڑوں کو لگام لگی۔
اسنے کھڑکیوں سے باہر غور کیا تو احساس ہوا وہ لوگ ائیر پورٹ کی پارکنگ میں تھے۔ یَشل کا سانس اچانک ہی بھاری سا ہوا۔ اسنے ہلکا سا چہرا ارمغان کی طرف موڑا تو وہ ونڈ سکرین پر نظریں ٹکائے تھا۔
ارمغان نے گاڑی سے چابی نکالی اور گاڑی سے اتر کر اسکا سامان اتارنے لگا۔ سامان باہر نکال کر وہ اسکی سیٹ کی طرف آیا اور دروازہ کھولا تو یَشل گہرا سانس لے کر رہ گئی اور گاڑی سے باہر نکلی۔
تھرتھرا دینے والی سرد ہواؤں کا ایک جھونکا اسکے منہ سے ٹکرایا تو اسے احساس ہوا کہ جیکٹ پہن لینی چاہیے تھی۔ وہ اس وقت موٹی سی شال کندھوں پر پھیلائے ہوئے تھی۔
“آجاؤ۔۔۔”
وہ اسکا وہیلر گھسیٹتا پارکنگ سے نکلنے لگا تو یشل بھی اسکے پیچھے چل پڑی۔
ارمغان سپاٹ چہرے کے ساتھ سامنے دیکھتا سیدھا چلا جارہا تھا اور یَشل چہرا جھکائے اسکے ساتھ چلنے کی کوشش کرتی اپنے اور اسکے قدموں کو دیکھ رہی تھی۔
وہ دونوں ہم قدم چلتے ائیر پورٹ کے اندر پہنچ گئے پھر ایک مقام پر آتے ارمغان نے اپنے قدم روک لیے تو یَشل کے قدموں کو بھی بریک لگا۔ اسنے چہرا اٹھا کر دیکھا تو سامنے بورڈنگ پاس تھا۔ دائیں بائیں دیکھا تو ائیر پورٹ کھچا کھچ لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔
اسکے ساتھ چلتی وہ نجانے کہاں کھوئی تھی کہ اسے سارے وقت میں پہلی بار آس پاس کھڑے لوگوں کا احساس ہوا اور ساتھ ہی سردی کی شدت کا بھی۔ اسنے دونوں ہاتھ کراس کرتے اپنے بازوؤں پر رکھ کر بازو سہلائے۔
ارمغان اسکی طرف پلٹا اور سفری بیگ اپنے اور اسکے درمیان رکھ دیا پھر اسنے کلائی سامنے کرتے گھڑی دیکھی تو ساڑھے دس کا وقت ہو رہا تھا اور یَشل کی فلائیٹ بارہ بجے تھی۔ وہ دونوں کچھ زیادہ ہی جلدی آگئے تھے۔
“تھ۔۔۔تھینک یو۔۔۔”
بولتے ہوئے یشل نے درمیان میں پڑے وہیلر کا ہینڈل پکڑا تو ارمغان نے اپنا ہاتھ ہٹا دیا۔
“کِس لئیے۔۔۔”
وہی سپاٹ چہرا اور تاثرات۔۔۔ یشل نے جھرجھری لی۔
“مجھے۔۔۔ ائیر پورٹ ڈراپ کرنے پر مان گئے آپ۔۔۔اسکے لیے۔۔”
وہ براہ راست اسکی طرف دیکھ نہ سکی تو نظریں ہینڈل کو سختی سے پکڑے اپنے ہاتھ پر ٹِکا دی۔
“تم نے کچھ کہنا تھا۔۔”
شاید وہ سوال کر رہا تھا۔۔یا پھر اسے یاد دہانی کروا رہا تھا مگر اسکے جملے پر یَشل کی دھڑکن دھیمی ہوگئی اور ذہن اچانک سے خالی ہوگیا۔
ارمغان کا فون بجنے لگا تو اسنے یَشل کے چہرے سے نظر ہٹا کر پاکٹ سے فون نکلاتے سکرین کو دیکھا جہاں عزہ کا نام جگمگا رہا تھا۔ اسنے ایک سیکنڈ کی بھی دیر کئیے بغیر کال کاٹ دی اور فون واپس پاکٹ میں رکھ دیا۔
“دی نمبر یو ہیو ڈائلڈ اِز بزی ایٹ دی مومینٹ۔۔۔”
یہ جملہ سنتے ہی عزہ نے غصے سے لال ہوتے فون بیڈ پر پٹخا اور سر ہاتھوں میں گِرا دیا۔
“عجیب بکواس ہے۔۔۔ گھر میں ارمغان ہی بچا تھا اسے ائیر پورٹ لےکر جانے کے لیے؟ یہ بھی ضرور اس فتنی نے ہی کچھ کیا ہوگا۔۔۔شوہر ہے اپنا پھر بھی باز نہیں آرہی اور یہ ماموں کو کیا ہوگیا ہے؟ انہوں نے اجازت کیسے دے دی ان دونوں کو اکیلے جانے کی؟ اوفففف کیا مصیبت ہے یار یہ جاتے جاتے بھی میرا سکون برباد کر کہ گئی ہے۔۔۔”
وہ مسلسل ٹہلتی ہوئی بڑبڑاہٹ کر رہی تھی۔ رات آٹھ کے بعد اسکی آنکھ لگ گئی تھی اور ابھی کچھ دیر پہلے وہ نیند سے بیدار ہوئی تو پتا لگا کہ یَشل کو ارمغان لے کر گیا ہے اور یک بات سنتے ہی عزہ کے تو تن بدن میں آگ ہی لگ گئی اوپر سے ارمغان کے کال بزی کردینے پر دل بھی جل کر خاک ہوگیا۔۔
کچھ دیر وہ ویسے ہی ٹہلتی رہی پھر دھیان بھٹکانے کی غرض سے فون اٹھایا اور آمنہ کا نمبر ڈائل کیا۔ اسکے کال اٹینڈ کرتے ہی عزہ نے ساری رواں دواں اسے سنا دی۔
“تو اب کیا ہوسکتا ہے عزہ۔۔۔اور ویسے تمہیں اتنی فکر کی ضرورت نہیں ہے میرے خیال سے وہ اس سے اکیلے میں بات کرنا چاہتی ہوگی اسے سمجھانا چاہتی ہوگی تاکہ وہ موو آن کرے۔۔۔ ایسا ویسا کچھ غلط نہیں ہوگا یار تم بلاوجہ ہی فکر کر رہی ہو۔۔۔”
آمنہ نے ہلکے پھلکے انداز میں بولتے اس کی جھنجھلاہٹ کم کرنا چاہی۔
“بلاوجہ فکر کر رہی ہوں؟ تمہیں نہیں پتا کتنی چلاک ہے یہ یَشل۔۔ مجھے تو یہ سوچ سوچ کر حیرت ہورہی کہ اس نے ماموں کو کب اور کیسے منا لیا ارمغان کے ساتھ جانے پر؟ رائد کو پتا لگ گیا تو ٹانگیں توڑ دے گا اسکی۔۔”
“اوفف اوفف عزہ کتنا فضول بولتی ہو تم۔۔۔ یَشل نہ ہوگئی پلاسٹک کی گڑیا ہوگئی جسکی ٹانگیں توڑ دے گا اور مجھے سمجھ نہیں آرہا اتنا غصہ کر ہی کیوں رہی ہو؟ اب تو وہ دونوں چلے بھی گئے ہیں آدھے گھنٹے میں ارمغان نے گھر ہونا ہے۔۔۔ پھر اب تمہارے غصے سے کیا ہی ہو جائے گا؟”
اس کے غصے سے خائف ہوتی وہ ماتھے پر بل لئیے ڈپٹنے لگی۔
“میں کیا کروں مجھ سے کنٹرول نہیں ہورہا غصہ۔۔۔”
اسکو اپنی آنکھوں میں نمی اترتی محسوس ہوئی۔
“اوفف۔۔۔اچھا چھوڑو یہ سب۔۔۔میں نے تمہیں کچھ بتانا تھا۔۔۔”
آمنہ نے ٹاپک بدلنے کی کوشش کی۔
“کیا بتانا تھا۔۔۔” وہ بیڈ سے ٹانگیں لٹکا کر لیٹ گئی۔
“بابا کا ٹرانسفر ہورہا ہے اور وہ اگلے مہینے سیالکوٹ جارہے ہیں۔۔۔”
آمنہ کے لہجے میں اداسی کی رمق تھی۔
“اچھا پھر۔۔۔؟” اسنے بیزاریت چھپاتے سوال کیا۔
“پھر یہ کہ۔۔۔بابا وہاں جائیں گے گھر دیکھیں گے اور پھر ہم بھی وہاں چلے جائیں گے۔۔۔”
اسکا لہجہ اب کی بار اداسی سے پُر تھا جو عزہ نے بھی محسوس کیا مگر اسکی بات سنتی وہ جھٹکا کھاتی اٹھ بیٹھی۔۔۔
“کیا۔۔۔؟ جھوٹی عورت۔۔۔تم کیوں جاؤ گی ادھر۔۔۔؟”
“کیا مطلب میں وہاں کیوں جاؤنگی؟۔۔اب ظاہر ہے ہم بابا کے بغیر تو نہیں رہیں گے نا۔۔”
عزہ کے سوال پر آمنہ نے اسکی عقل پر ماتم کرتے ہوئے جواب دیا۔۔
“اگر انکے بغیر رہ لوگی تو کیا ہوجائے گا یار۔۔تم یہ بھی تو سوچو کے تمہارے بغیر میں کیا کرونگی؟”
عزہ کے لہجے میں پریشانی ہی پریشانی تھی جسے آمنہ نے خوب محسوس کیا۔۔
“تم بھی میرے ساتھ شفٹ ہوجانا۔۔۔”
آمنہ نے خوشی سے حل پیش کیا جسے سن کر دوسری جانب عزہ نے سر پیٹا۔۔
“ویری گڈ بہت اچھا آئیڈیا ہے۔۔ جیسے میرے گھر والے تو اسی انتظار میں بیٹھیں ہیں نا کے کب عزہ کہے اور ہم اسے آمنہ کے ساتھ رخصت کردیں۔۔”
اس نے جھل بھن کر کہا تو دوسری طرف آمنہ نے قہقہہ لگایا۔۔۔
“ہائے کاش میں لڑکا ہوتی تو پکا تمہیں اپنے ساتھ رخصت کرکے لے جاتی۔۔”
آمنہ نے مزے سے بول کر اسکا موڈ تبدیل کرنا چاہا جو اچھا خاصہ بگڑ چکا تھا۔۔۔
“میرا ٹیسٹ اتنا بھی خراب نہیں ہے جو تمہارے ساتھ رخصت ہوجاتی۔۔”
دوسری جانب عزہ نے منہ بنایا۔۔
“ویل ٹیسٹ تو واقعی تمہارا بہت خراب ہے اب تم مانو یا نا مانو۔۔۔”
آمنہ کی صاف گوئی پر تو عزہ جل بھن کر کر گئی۔
“انتہائی ذلیل عورت ہو تم آمنہ کی بچی۔۔۔!!”
عزہ کا دل کیا اسکے بال نوچ دے لیکن افسوس وہ اس کے سامنے نہیں تھی۔
“تمہارے ساتھ رہ رہ کر ہوگئی ہوں۔۔۔۔”
آمنہ کی بات پر عزہ زچ ہوتی دانت کچکچا کر رہ گئی اور کچھ نہ کہا
“خاموش کیوں ہوگئی؟۔۔ بولتی رہو نا مجھے تمہاری گالیاں سن کر لوری والی فیلنگ آرہی ہے اگر تم خاموش نا ہوتی تو عنقریب میں خواب و خرگوش کے مزے لوٹ رہی ہوتی۔۔”
اسکی خاموشی پر آمنہ نے جلدی سے کہا جس پر عزہ پیچ و تاب کھاتی فون رکھ چکی تھی۔۔۔ پورے کمرے میں آمنہ کے قہقہے گونج اٹھے۔
“خیرت ہے نہ؟ اتنا کیوں ہنسا جارہا مجھے بھی بتاؤ میں بھی ہنس لوں۔۔”
ہارون نے دروازے پر نمودار ہوتے آمنہ سے کہا تو ہنسی کو بریک لگی۔
“عزہ سے بات کر رہی تھی۔۔۔میرے سیالکوٹ جانے پر اعتراض ہے اسے۔۔۔”
ہارون اسکی بات پر بھنویں اچکاتا اسکی طرف آیا۔
“کیا خیال ہے پھر۔۔۔اسے بھی ساتھ لے چلیں۔۔۔”
ہارون نے اسکے ساتھ بیٹھتے سوال کیا۔
“کیسے لے کر جاسکتے ہیں ساتھ۔۔۔؟”
“اب یہ بھی میں بتاؤں۔۔؟”
ہارون خائف ہوا تو آمنہ اسے دیکھتے ہوئے اسکی بات کے پیچھے چھپا مطلب سمجھنے لگی۔
“اوففف بھائی۔۔۔ حد ہوتی ہے۔۔۔”
وہ سمجھ آنے پر اسے گھورنے لگی۔
“ممکن ہی نہیں ہے۔۔۔”
آمنہ نے سر انکار میں ہلاتے ہوئے کہا۔
“کیوں؟ اتنی کچی محبت نہیں میری یہ تو ہوکر رہے گا۔۔”
ہارون پر اعتماد تھا۔
“مجھے نہیں لگتا۔۔۔ جیسے آپ کو اتنا یقین ہے کہ وہ آپ کو مل کر رہے گی ویسے ہی عزہ کو بھی یقین ہے کہ ارمغان اسے مل کر رہے گا۔۔”
” اور تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔؟”
ہارون کے سوال پر آمنہ پُر سوچ انداز میں بولی۔
“مجھے لگتا ہے وہ تھک جائے گی۔۔۔ ارمغان کبھی اسکی قبول نہیں کر سکے گا اگر اسنے کر بھی لی تو وہ بدلے میں اسے محبت نہیں دے سکتا اور عزہ جنونی ہے۔۔۔وہ ابھی تو ایسا کہتی ہے کہ اسے صرف ارمغان چاہیے مگر اسے بعد میں احساس ہوگا کہ اسے ارمغان کے ساتھ ساتھ اسکی محبت بھی چاہیے۔۔۔اور ارمغان ساری محبت یَشل پر لُٹا چکا ہے۔۔۔وہ اسے کچھ نہیں دے سکتا سوائے ڈپریشن کے۔۔۔ اسے لگے گا کہ وہ ارمغان کا دل اپنی محبت سے بدل دے گی مگر اسکے دل میں عزہ سے پہلے ہمیشہ یَشل رہے گی کیونکہ پہلی محبت انسان کبھی نہیں بھولتا وہ بھی یشل اور ارمغان جیسی محبت۔۔۔ممکن ہی نہیں ہے۔۔۔عزہ کو کبھی نہ کبھی اس حقیقت کو قبول کرنا ہی پڑے گا اور مجھے ڈر ہے کہ تب بہت دیر نہ ہو جائے جب اسے سب سمجھ آئے۔ میں نہیں چاہتی وہ ساری محبت اس شخص پر لُٹا دے جو اس کا ہے ہی نہیں۔۔۔”
ہارون چند لمحے اسے دیکھتا چلا گیا جو اب خاموش ہوگئی تھی۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ آمنہ اتنی سمجھدار ہوگئی ہے۔ وہ تو اسے بھی عزہ جیسی امچیور لڑکی سمجھتا تھا مگر اب اسے اندازہ ہوا تھا وہ دونوں ایک دوسرے کا الٹ تھی مگر پھر بھی ان کی دوستی لاجواب تھی۔
“تو تم اسے سمجھایا کرو نہ۔۔۔”
وہ بس اتنا ہی کہہ سکا تھا۔
“آپ کو لگتا ہے میں نہیں سمجھاتی۔۔۔؟ بھائی وہ نہیں سنتی،،،نہیں سمجھتی۔۔”
اسنے تھکے ہوئے انداز میں کہا جیسے اسے سمجھا سمجھا کر وہ خود بھی تھک گئی ہو۔۔۔
“تو چھوڑ دو۔۔۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔۔ زندگی کے کچھ سبق سیکھنے کے لئے حادثہ ضروری ہوتا ہے۔۔۔”
وہ بولتا ہوا اٹھ گیا تو آمنہ خاموش رہی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
برستی آنکھیں، لرزتے ہونٹ اور کپکپاتے ہاتھوں کے ساتھ وہ پرئیر روم پہنچی اور تہجد ادا کرنے لگی۔ اسنے مشکل ترین کام انجام دے دیا تھا مگر آنکھوں کے ساتھ دل بھی رو رہا تھا۔ خود کو جتنا مظبوط بنائے وہ اس کے سامنے کھڑی تھی اسکی نظروں سے اوجھل ہوتی وہ اتنی ہی بری طرح سے ٹوٹ گئی تھی۔
بمشکل اسنے چار رکعت پڑھی اور اس دوران اسکی آنکھیں برستی رہی تھی۔ ہولے ہولے کانپتے ہوئے ہاتھوں کو دعا کے لیے اٹھایا اور ان میں چہرا چھپائے وہ بری طرح سے رو پڑی تھی۔
“یا اللّٰہ تو اسکی زندگی آسان کردے، تو اس کے دل سے مجھے نکال دے میری محبت اسکے دل سے ختم کردے۔۔۔میں نہیں چاہتی میری وجہ سے اسکی زندگی مشکل بنی رہے ورنہ مجھے یہ پچھتاوا جینے نہیں دے گا۔۔۔میں اس کی اذیتوں کی وجہ بنی ہوں میری وجہ سے وہ تکلیف میں ہے اسکی تکلیف ختم کردے۔۔۔ ہماری زندگیوں میں آسانیاں فرما دے میرے مالک اسے اس تکلیف اور مج۔۔مجھے اس پچھتاوے سے بچا لے جو اسے دیکھ کر میرے دل میں پیدا ہوتا ہے۔۔۔۔میں کبھی اسے اذیت میں نہیں دیکھ سکتی اور جب وہ اذیت میری طرف سے ملی ہوئی ہو، یہ بات میری سانسیں روک دیتی ہے۔۔میں تو یہ سب نہیں چاہتی تھی یہ سب تو تیرے فیصلے ہیں نہ۔۔اس کو روح کو سکون پہنچا دے میرے اللّٰہ۔۔۔ہماری زندگیاں آسان کردے میرے مالک ہمیں اس تکلیف سے بچا لے۔۔ ہمیں ایک دوسرے کے دلوں سے نکال دے یا اللّٰہ ہماری محبت ختم کردے۔۔۔”
وہ چہرا ہاتھوں میں چھپائے ہچکیوں سے روتی ہوئی مسلسل اسکے لیے دعائیں کر رہی تھی جو مسجد کے باہر کھڑا کشمکش کا شکار تھا کہ اندر جائے یا نہ جائے۔
تیزی سے دھڑکتے دل اور لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ وہ اندر بڑھا۔
وضو کرکہ وہ جائے نماز پر کھڑا ہوا تو ٹانگیں لرزنے لگی۔ جیسے جیسے وہ نماز پڑھتا جارہا تھا ویسے ویسے اسے دل ڈوبتا محسوس ہو رہا تھا۔ آنسوؤں کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا باہر آنے کو بیتاب ہورہا تھا اور وہ بار بار آنکھیں چھپکتا ان آنسوؤں کو اندر اتار رہا تھا۔
نماز مکمل کرتے اسنے دعا کے لیے ہاتھ نہیں اٹھائے تھے۔ وہ بےبس سا ہوتا سجدے میں ٹوٹ کر گر گیا اور وہ انسو جن کو وہ روکتا آرہا تھا، ان کو جیسے باہر نکلنے کا راستہ مل گیا تھا۔
وہ بچوں کی طرح بلک بلک کر رو پڑا اور کتنی ہی دیر روتا رہا یہاں تک کہ اسکا وجود ہچکولے کھانے لگا۔
“یا اللّٰہ تو اس عورت کو میرا کر دے میں تجھ سے کچھ نہیں مانگتا میں تجھ سے صرف وہ عورت مانگتا ہوں۔۔۔ میں نے خود سے بڑھ کر اس سے محبت کی ہے۔۔میں نے ہر بار تجھ سے اسے مانگا ہے۔۔تو اسے میرا کیوں نہیں کر دیتا؟ تُو تو دِلوں کے حال جانتا ہے نہ پھر تُو اسے میرا نصیب کیوں نہیں بنا دیتا؟ میری روح چھلنی ہوجاتی ہے اسے رائد کے ساتھ دیکھ کر۔۔۔یا تُو اسے میرا کردے یا میری سانسیں چھین لے۔۔۔ میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا میں پل پل مرتا ایک دن واقعی مر جاؤں گا۔۔۔ تُو یَشل ریحان کو میرا کردے، میری ذات مکمل کردے۔۔۔”
عجب فرق تھا محبت کا۔۔۔
وہ سجدے میں گرا شخص آنسو بہاتے خدا سے اس عورت کو مانگ رہا تھا جو تہجد میں اس شخص کو بھول جانے کی دعائیں کر رہی تھی۔۔
سالوں کی محبت اور پھر جدائی نے ان دونوں کی روح کو واقعی چھلنی کردیا تھا۔ ان دونوں کے نصیب میں جدائی لکھ دی گئی تھی مگر اس جدائی نے اس شخص کو دیوانہ بنا دیا تھا۔ یہ تکلیف اور اذیت وہ چاہ کر بھی ختم نہیں کر سکتا تھا مگر شاید۔۔شاید وقت کی ستمگری اسے پتھر بنا دیتی۔ وہ مومی دل رکھنے والا شخص اسکے عشق میں سلگنے لگا تھا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
اسنے وقت دیکھا تو تین بج رہے تھے۔ عزہ کے صبر پیمانہ لبریز ہوا۔ اسنے ارمغان کو کال کرنے کے لیے فون اٹھایا ہی تھا جب باہر سے ہارن کی آواز آئی۔ وہ فوراً باہر ہی طرف بڑھی۔ بیرونی دروازہ کھول کر وہ باہر نکلی تو ارمغان گاڑی کا دروازہ کھولتے باہر نکل رہا تھا۔
“کہاں رہ گئے تھے آپ۔۔۔”
وہ اسکے پاس آتی پریشانی سے سوال کرنے لگی تو ارمغان نے چونک کر اسے دیکھا۔ رات کے تین بج رہے تھے اور وہ ابھی تک جاگ رہی تھی۔
“خیریت۔۔۔تم سوئی نہیں۔۔۔”
وہ گاڑی لاک کرتا اسے دیکھ کر بولا پھر دروازے کی جانب بڑھا تو عزہ نے بھی اسکی پیروی کی۔
“میں انتظار کر رہی تھی آپ کا۔۔۔ آپ جیکٹ پہنے ںغیر گئے تھے؟”
وہ دونوں دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے تو عزہ نے اسکو صرف ٹی شرٹ پہنے دیکھ کر سوال کیا۔
“میرا انتظار۔۔۔؟ کیوں؟”
ارمغان نے اسکے سوال کو نظر انداز کرتے سوال کیا۔
“ویسے ہی۔۔۔ اتنی لیٹ کیوں آئے ہیں آپ۔۔۔؟”
وہ دونوں اب سیڑھیاں چڑھتے اوپر جارہے تھے۔
” کچھ دوستوں کے ساتھ تھا۔۔۔”
وہ بغیر اسکی طرف دیکھے بولا۔
“اتنی دیر تک؟ میں تو پریشان ہوگئی تھی۔۔۔”
آخری زینہ چڑھ کر اسنے ہلکا سا چہرا موڑ کر ساتھ چلتی عزہ کو دیکھا۔
“پریشان ہونے والی کون سی بات ہے؟ میں بچہ تو نہیں۔۔۔”
وہ کمرے کا دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا تو عزہ بھی پیچھے پیچھے چلتی اندر آگئی۔
“نہیں مگر بس۔۔۔” اسنے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
ارمغان صوفے پر بیٹھ کر گھڑی اتارنے کے بعد جوتے اتارنے لگا۔
“ہیٹر آن کردو۔۔۔”
وہ سر ہلاتی ہیٹر آن کرنے لگی۔
“کافی بنا دوں میں آپ کو۔۔۔؟”
اسنے ہیٹر آن کرتے ہوئے سوال کیا۔
“نہیں۔۔۔ خود بنا لوں گا۔۔۔”
عزہ نے اسکی طرف دیکھا جو صوفے سے اٹھ کر بیڈ پر آڑا ترچھا لیٹ گیا تھا۔
“میں بنا دیتی ہوں نہ۔۔۔”
“نہیں تم جاکر سو جاؤ دیر ہوگئی ہے۔۔۔” وہ سپاٹ لہجے میں بولا۔
“مگر میرا دل نہیں کر رہا نیند بھی نہیں آرہی میں دس بجے تو اٹھی ہوں۔۔۔”
وہ بولتی ہوئی اسکے پاس آگئی اور بیڈ پر بیٹھ گئی تو ارمغان نے لیٹے لیٹے اسے دیکھا۔
“تو تمہیں غلط وقت پر نہیں سونا چاہیے تھا۔۔۔صبح کالج جانا ہے تم نے۔۔۔”
اسنے ایک ہاتھ سے اپنا سر ہلکا سا دبایا۔
“آپ کو سر درد ہورہا ہے؟ میں سر دبا دوں۔۔۔؟”
بولتے ساتھ ہی اسنے ہاتھ آگے کرتے اسکے ماتھے پر رکھنا چاہا جو ارمغان نے بڑی نرمی سے پرے کیا۔
“نہیں عزہ میں ٹھیک ہوں۔۔۔تم جاؤ سوجاؤ مجھے بھی نیند آرہی۔۔۔”
ارمغان سیدھا ہوکر بیٹھا وہ حد سے زیادہ سنجیدہ تھا۔ عزہ کا دل اسکے روئیے پر دُکھ گیا۔
“ارمغان۔۔۔”
ارمغان بیڈ سے اٹھا ہی تھا جب عزہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ارمغان نے چہرا موڑ کر پہلے اسے پھر اپنی کلائی پکڑے اس کے ہاتھ کو دیکھا۔
“کیا ہوا۔۔۔۔؟”
اسکا ہاتھ پکڑنا ارمغان کو بہت عجیب لگا تھا۔
“آپ بتائیں۔۔۔کیا ہوا ہے؟”
وہ خود بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
“تمہیں کس نے کہا کچھ ہوا ہے۔۔۔؟”
“آپ کے رویے سے اندازہ ہو رہا ہے۔۔۔”
ارمغان چند لمحے سنجیدگی سے اسے دیکھے گیا۔
“کچھ نہیں ہوا عزہ۔۔۔ تم غلط اندازہ لگا رہی ہو۔۔۔”
ارمغان نے نرمی سے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ سے ہٹایا۔
“نہیں مجھے یقین ہے کہ کچھ ہوا ہے۔۔۔”
وہ اٹل لہجے میں بولی۔
“ارے۔۔۔عجیب باتیں کررہی ہو۔ تم خود سوچو کیا ہوسکتا ہے۔۔۔؟ جاکر سوجاؤ تمہیں نیند آرہی۔۔۔”
وہ اپنی بیزاریت چھپاتے عام سے لہجے میں بولا۔
“اگر آپ بتائیں گے نہیں تو میں سونے بھی نہیں جاؤں گی۔۔۔”
وہ ضدی بچوں کی طرح بولتی واپس بیڈ پر بیٹھ گئی۔
“عزہ۔۔۔۔”
ارمغان کا لہجہ سختی اختیار کر گیا جو عزہ کو بھی محسوس ہوا۔
“تم بچی نہیں ہو کہ ہر بات تمہیں سمجھانی پڑے۔۔۔ تمہارا آدھی رات میرے کمرے میں ہونا ٹھیک نہیں ہے۔۔۔! اگر کوئی تمہیں ابھی یہاں دیکھ لے گا تو کیا سوچے گا۔۔۔؟”
عزہ کا چہرا تاریک ہوا۔ چند لمحے وہ سانس روکے اسے دیکھتی رہی۔
“کوئی کچھ نہیں سوچے گا۔۔۔”
“سوچے یا نہ سوچے مگر مجھے نہیں پسند تمہارا آدھی آدھی رات کو میرے کمرے میں آنا۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ یہ کتنی غیر مناسب بات ہے۔۔؟”
وہ غصے کو دبا رہا تھا مگر لہجے ہی سختی اور اسکی بات پر عزہ کا تاریک چہرا مارے شرمندگی سرخ ہوا۔
“ارمغان یہ۔۔۔اتنی بڑی۔۔بات بھی نہیں ہے۔۔۔”
وہ رُک رُک کر بولی۔
“تمہارے لئیے ہے چھوٹی بات مگر میرے لئیے نہیں اور پلیز عزہ۔۔۔تم مجھے ”بھائی“ ہی بولا کرو۔ تمہارے منہ سے ”ارمغان“ سن کر میں ان-کمفرٹیبل ہوتا ہوں۔۔۔”
عزہ کا چہرا لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا۔۔ اسے لگا جیسے گڑھوں پانی اس کے اوپر آگِرا ہو۔
“میں۔۔۔ آپ کو بھائی نہیں بول سکتی۔۔۔”
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اسکے حلق سے بامشکل ہلکی سے آواز نکلی۔
ارمغان نے اسے ایسے دیکھا جیسے سننے میں غلطی ہوئی ہو۔
“کیا کہا تم نے۔۔۔۔؟”
عزہ کا سانس سوکھنے لگا۔ اسنے تھوک نگلتے تھوڑی سی ہمت جمع کی۔
“میں آپ کو بھائی نہیں بول سکتی۔۔۔”
وہ تیزی سے بولتی چہرا جھکا گئی۔ ارمغان نے بےیقینی سے عزہ کو دیکھا۔
“کیوں۔۔۔؟”
آواز میں بھی حیرت اور نا سمجھی تھی۔ عزہ کی آنکھوں کے سامنے دھند چھانے لگی۔
“میں بتاؤں گی تو آپ غصہ کریں گے۔۔۔”
وہ منمناتے ہوئے بولی۔
“نہیں کروں گا بتاؤ مجھے۔۔۔”
عزہ کی بھرائی ہوئی آواز پر ارمغان نے لہجہ نارمل رکھنے کی کوشش کی مگر عزہ چاہ کر بھی منہ سے ایک لفظ ادا نہ کر سکی۔
“عزہ۔۔۔۔!”
وہ پھر بھی خاموش رہی۔ شاید ہمت جمع کر رہی تھی مگر اس کی خاموشی پر ارمغان کا غصہ عود آیا۔
“کچھ پوچھ رہا ہوں میں تم سے۔۔ بتاؤ مجھے۔۔۔”
وہ شیر کی طرح دھاڑا تو عزہ کی بچی کچی ہمت بھی ہوا ہوگئی۔ اٹکے ہوئے سانس کے ساتھ وہ بےاختیار سر انکار میں ہلانے لگی۔ ارمغان کے غصے سے اس پر خوف تاری ہوا۔
ارمغان نے شعلہ برساتی نگاہوں سے اسکے جھکے سر کو دیکھا۔
“جاؤ یہاں سے۔۔۔”
وہ تراش لہجے میں بولتا واشروم جانے کے لیے مُڑا۔
“ارمغان۔۔۔”
اسکی بھیگی آواز پر ارمغان رکا اور گہرا سانس لیتے خود کو کول ڈاون کرنا چاہا۔
“میں۔۔۔میں آپ کو۔۔۔”
وہ اسکی پشت کو دیکھتی بولنے کی کوشش کر رہی تھی مگر جملہ مکمل نہ کر سکی۔ ارمغان ویسے ہی اسکی طرف پشت کئیے کھڑا رہا۔
“میں آپ کو پسند کرتی ہوں۔۔۔”
ارمغان صدمے کی حالت میں اسکی طرف مُڑا جو دوبارہ چہرا جھکا کر باقاعدہ رو رہی تھی۔
“کیا کہا تم نے۔۔۔؟”
وہ درشتگی سے بولتا اسکی جانب بڑھا تو وہ خوف زدہ ہوتی پیچھے ہونے لگی مگر پیچھے بیڈ تھا۔ وہ لڑکھڑاتی ہوئی بیڈ پر بیٹھ گئی۔
“تمہارا دماغ جگہ پر ہے۔۔۔؟”
آواز دھیمی مگر لہجہ غصیلہ تھا۔ عزہ کے رونے میں شدت آئی۔
بالوں میں ہاتھ پھیرتے ارمغان نے غصہ دبانا چاہا۔
“عِزہ تمہیں پتا ہے تم کیا کہہ رہی ہو۔۔؟”
وہ اسکے جھکے سر کو دیکھنے لگا جس کو ارمغان کے سوال پر وہ اثبات میں ہلانے لگی۔
“نہیں۔۔ اگر تمہیں پتا ہوتا تو تم یہ بکواس کبھی نہ کرتی۔۔۔”
اسکی ڈھٹائی پر ارمغان کا پارا ہائی ہوگیا۔
“اٹھو نِکلو یہاں سے۔۔۔۔”
ارمغان نے اسکو بازو سے پکڑ کر اٹھایا اور دروازے کی طرف جانے لگا۔
“ارمغان۔۔۔”
عزہ نے روتے ہوئے اپنا بازو اسکی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کی۔
“پلیز ایسا نہیں کریں۔۔۔میں واقعی آپ کو پسند کرتی ہوں۔۔”
ارمغان رک کر ساکت سا اسے دیکھے گیا جو بری طرح رو رہی تھی۔
“مجھے نہیں پتا کب کیسے کیوں لیکن بس ہوگیا۔۔میں سچ کہہ رہی ہوں۔۔۔”
وہ بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔ ارمغان نے اسکی بازو کو چھوڑ دیا۔
“ارمغان پلیز۔۔۔میں واقعی آپ سے محبت کرتی ہوں۔ میں نے آپ کا بہت انتظار کیا ہے میں چاہ کر بھی خود کو روک نہیں پاتی۔۔ میں صرف محبت نہیں بلکہ۔۔۔۔”
وہ ابھی بول ہی رہی تھی جب ارمغان کا ہاتھ اٹھا اور اسکے چہرے پر اپنی چھاپ چھوڑ گیا۔ عزہ کے کان سائیں سائیں کر اٹھے۔ وہ رخسار پر ہاتھ رکھے ساکت ہوگئی۔
“محبت۔۔؟”
پرتپش لہجے میں کہتے ارمغان نے اسکو بازو سے اتنی سختی سے پکڑا کے اسے ارمغان کی انگلیاں اپنی بازو میں دھنستی محسوس ہوئی اور وہ کراہ کر گئی۔
“تم میری بہنوں جیسی ہو۔۔۔ آئیندہ کے بعد اگر تم نے یہ واحیات سی بکواس کرنے کی کوشش بھی کی تو میں تمہیں اچھے سے محبت کا مطلب سمجھا دوں گا۔۔۔”
شعلے برساتے لہجے پر عزہ کا وجود کانپ گیا۔
“دفع ہو جاؤ اب یہاں سے۔۔۔”
ارمغان نے ویسے ہی اسکو بازو سے پکڑے کمرے سے باہر دھکیلا اور دھڑام سے دروازہ بند کردیا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
اسکی فلائیٹ لینڈ ہوچکی تھی۔ اپنا سامان اٹھائے اسکی تلاش میں یہاں سے وہاں نظریں دوڑاتی وہ باہر آرہی تھی جب ایک جگہ وہ اسے کھڑا نظر آیا۔ وائٹ ہُڈی کے اوپر جیڈ گرین جیکٹ پہنے بلیک پینٹ نے ملبوس جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ اسی کا منتظر تھا۔ یَشل پر نظر پڑتے ہی اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ ابھری۔ وہ اسکی طرف بڑھا۔ چند قدم چلتے یَشل رک گئی اور رائد کو اپنی طرف آتے دیکھنے لگی۔ اسکے پاس آتا رائد بھی دو قدم کے فاصلے پر رک گیا۔ یَشل نے گہری مسکراہٹ لئیے اسے دیکھا تو رائد نے دونوں بازوؤں کو کھول کر اسے پاس آنے کا اشارہ کیا۔ وہ ایک بغیر دیر کئیے اسکے سینے سے جا لگی اور رائد نے اسے خود میں بھینچ لیا۔ ایسے جیسے وہ مہینوں بعد اس سے ملا ہو۔
“ویلکم بیک جانِ من۔۔۔”
یَشل اسکے سینے سے لگی کھلکھلا اٹھی اور چہرا اوپر کرتے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔
اپنا ماضی اس شہر میں چھوڑ کر وہ واپس آگئی تھی۔ زندگی کی نئی شروعات کرنے۔ اسے اپنانے اور اسکی محبت کو قبول کرنے۔
اب اسے آگے بڑھنا تھا۔ وہ اس شخص کے ساتھ زیادتی نہیں کر سکتی تھی جو اسکی محبت میں ڈوب گیا تھا اور اپنی محبت اُس پر نچھاور کر رہا تھا۔ وہ یوں بھی محبتیں سمیٹتی تھی۔۔۔اسے اس شخص کی محبت کو بھی سمیٹنا تھا اور اسے بھی محبت دینی تھی کیونکہ وہی اس کا محرم تھا، وہی اسکی محبت کا حقدار تھا۔
اسے گناہوں کی اس دلدل سے نکلنا تھا جس میں وہ اتر گئی تھی۔ اسے اس پاک رشتے کو پاک ہی رکھنا تھا۔ وہ ملاوٹ نہیں کر سکتی تھی۔ وہ اپنے دل سے کسی کو نکال نہیں سکتی تھی مگر اپنے محرم کے لیے اس میں جگہ بنا سکتی تھی۔ اسے یہ کرنا تھا۔۔۔ اسے اب ہارنا نہیں تھا۔ رائد کی محبت میں اسے جیت جانا تھا۔
