Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz NovelR50532 Muntazirat Hastam (Episode 19)
Rate this Novel
Muntazirat Hastam (Episode 19)
Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz
“آپ میری محبت کو بدتمیزی نہیں کہہ سکتی ہیں۔۔۔”
رات بارہ کا وقت تھا وہ سونے کی کوشش کر رہی تھی جب دوپہر میں بولے گئے رائد کے الفاظ کان میں گونجے تو وہ جھٹکا کھا کر اٹھ بیٹھی۔
“محبت۔۔؟”
وہ شاک کی کیفیت میں بیٹھی تھی
“نہیں۔۔۔میں نے غلط سنا ہوگا”
وہ واپس لیٹ کر آنکھیں بند کر گئی مگر وہی الفاظ اسکے دماغ میں گونجتے رہے۔
“آپ میری محبت کو۔۔۔۔”
اسنے بیزاریت سے آنکھیں کھولی۔
“اوفف یہی کہا تھا اسنے۔۔۔!!”
وہ دوبارہ اٹھ بیٹھی۔
“بکواس کر رہا تھا۔۔ہمیشہ سے کرتا آیا ہے اور کرتا رہے گا”
بڑبڑاہٹ کرتی وہ لیٹ گئی مگر پھر تنگ آتے اسنے آخر کار نِشہ کو کال ملا دی۔
“ہیلو۔۔۔۔” کافی دیر بعد اسکے کال اٹینڈ کرتے ہی یَشل بولی۔۔
“ہاں یَشل۔۔۔”
“کیسی ہو۔۔۔۔؟”
“ٹھیک ہوں۔۔۔۔”
دو لفظی جواب۔۔اسنے یَشل کا حال بھی نہ پوچھا۔ یَشل نے اسکا بجھا ہوا لہجہ محسوس کیا مگر وہم سمجھتے خیال جھٹکا
“گھر میں سب کیسے ہیں۔۔۔؟”
اسکے سوال پر نِشہ چند لمحے خاموش رہی۔
“کیا ہوا ۔۔؟” یَشل کو تشویش ہوئی۔۔۔
“کچھ نہیں۔۔۔۔” ویسا ہی مختصر سا جواب۔
“نہیں تم بتاؤ مجھے کیا ہوا ہے؟ گھر میں سب ٹھیک ہے۔۔۔؟”
اسنے بیچینی سے سوال کیا۔ ایک بار پھر لائین پر خاموشی چھا گئی۔
“کچھ۔۔۔کچھ ہوگیا ہے”
“کیا ہوا ہے۔۔؟”
نشہ کی بات پر وہ الجھی مگر پھر اسنے فون کان سے ہٹا کر سکرین پر دیکھا تو ارمغان کا نام جگمگا رہا تھا۔ اسکا دل زور سے دھڑکا۔
“نِشہ۔۔ارمغان کی کال آرہی ہے۔۔۔”
“اٹینڈ مت کرنا بلکل بھی نہیں۔۔۔” اسکی بات سنتے ہی نشہ جلدی سے بولی۔
“مجھے بتاؤ گی کچھ۔۔؟ پریشان کر رہی ہو۔۔”
یَشل کے دوبارہ سوال کرنے پر نِشہ نے اس کو ساری بات بتا دی۔ فون پر مسلسل آنے والی ارمغان کی کالز کو اگنور کرتی وہ اسکی بات سن رہی تھی اور جیسے جیسے سن رہی تھی اسے ویسے ویسے اپنی جان ہوا ہوتی محسوس ہورہی تھی۔
ساری بات سننے کے بعد سائیں سائیں کرتے دماغ کے ساتھ اسنے بغیر کچھ کہے فون بند کردیا۔ سکرین پر ارمغان کی مس کالز دیکھ کر اسکی آنکھیں بھر گئی۔
“یہ تو ہونا تھا ایک نہ ایک دن۔۔اب رونا کیسا؟”
دل کی آواز پر اسنے آنسو رگڑے مگر وہ رکنے کہاں تھے۔
“وہ ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔”
اسنے گہرا سانس لیتے آنکھوں میں اترا سمندر اندر کرنا چاہا مگر اس سمندر میں اسنے ڈوب جانا تھا۔
فون پر دوبارہ آنے والی ارمغان کی کال دیکھ کر اسنے فون پاور آف کردیا اور آنسو رگڑتی اٹھ کر واشروم چلی گئی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
گھر سے نکلا تو افہام کی باتیں سنتا وہ سیدھا مسجد گیا تھا۔ نہ اسنے وہاں نماز ادا کی نہ کوئی نوافل پڑھے۔ اگر کچھ کیا تھا تو وہ شکوہ تھا، ناراضگی کا اظہار تھا اور خود پر ضبط تھا۔ اسنے سجدہ تک نہ کیا کہ وہ مرد سجدے میں گرتا تو ٹوٹ کر بکھر جاتا وہ آنسوؤں کے اس سمندر میں ڈوب جاتا جو ان دونوں کی آنکھوں میں آباد تھا۔ وہ گٹھنوں کے بل بیٹھا بس خدا سے کچھ نہ کچھ کہتا رہا تھا۔ اسنے کوئی دعا نہ کی، ہمیشہ کی طرح اس عورت کو نہیں مانگا جس کے لیے وہ سب سے پہلے دعا کرتا تھا۔ ۔۔اسنے اس بار اپنی محبت نہ مانگی۔ وہ اسے مانگ لیتا بھی تو کیا ہوتا؟ وہ جانتا تھا خدا نے اسکی نہیں سنی اسکی دعاؤں کو رد کردیا۔ اسے وہ عطا نہیں کیا جس کی اسے خواہش تھی۔
افہام جب تک اسکے ساتھ تھا تب تک وہ ہر زبان میں، کبھی جھڑک کر تو کبھی آرام سے۔۔ہر طرح سے وہ اسے سمجھا چکا تھا مگر وہ زبان پر تالا لگائے ایک کان سے اسے سنتا دوسرے کان سے نکال رہا تھا۔ افہام کافی دیر اسکے ساتھ رہا پھر گھر لے جانا چاہا تو ارمغان نے صاف لفظوں میں انکار کردیا۔ وہ ابھی تک باہر ہی تھا نہ اسے اپنی فکر تھی نہ ہی گھر والوں ہی۔۔ اس وقت سے اب تک اسکی سوچوں کا محور صرف یَشل تھی۔ کتنی ہی بار اسنے خود کو اسے کال کرنے سے روکا مگر پھر خود پر کنٹرول کھوتے اسنے یَشل کا نمبر ڈائل کیا۔
“آپ کا ملایا ہوا نمبر دوسری کال پر مصروف ہے۔۔۔”
کئی بار اسنے یہ جملہ سنا مگر وہ باز نہ آیا اور اسے کال کرتا رہا۔
“آپ کا ملایا ہوا نمبر اس وقت بند ہے۔۔۔”
اسنے فون کان سے ہٹا کر سکرین کو دیکھا۔ ٹوٹا ہوا دل مزید ٹوٹ گیا تھا۔ وہ کبھی اسکی کالز اگنور کرنے کے بعد نمبر ہی بند کردے گی اسنے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ آنکھوں میں امڈنے والی نمی نے اسے کمزور کردیا۔ چہرا اٹھاتے سیاہ آسمان کی طرف دیکھا تو آنکھ کے کونے سے آنسو نکلتا کنپٹی تک سرک گیا۔
آج اسکی دنیا الٹ گئی تھی۔ ان تمام سوالوں کے جواب مل گئے تھے اسے جو وہ یشل سے پوچھتا رہا تھا۔ آج وہ ڈر سامنے آگیا تھا جو اسے کبھی نہ رہا تھا۔ اسکی وہ من پسند عورت چھن گئی تھی جسے ہمیشہ سے وہ اپنا سمجھتا آیا تھا۔ جسے اپنی جیت سمجھتا آیا تھا آج اسے ہار گیا تھا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہار گیا تھا۔ جسے دیکھ کر اسکی آنکھیں چمکتی تھی وہ عورت اسکی آنکھوں میں ویرانی کی وجہ بن گئی تھی۔ جس کی روح تک کو وہ اپنا سمجھتا تھا، اسکی مسکراہٹ، اسکی ہنسی، اسکی خوشی۔۔اسکی محبت اس کی نہ رہی تھی۔
اسکا دل تکلیف سے پھٹ جانے کو تھا۔ وہ چیخنا چاہتا تھا، اپنی تکلیف ختم کردینا چاہتا تھا، پھوٹ پھوٹ کر رونا چاہتا تھا۔ اسے لگ رہا تھا سب ختم ہوگیا ہے اور ہاں۔۔۔سب کچھ واقعی ختم ہوگیا تھا۔ اس شخص کو اپنی زندگی ختم ہوتی محسوس ہوئی تھی۔۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
جب سے نکاح ہوا تھا وہ روزانہ رات کو اسکے کمرے میں ضرور آتا تھا اسے زچ کرنے۔ اسے اچھا لگتا تھا یشل کو تنگ کرنا۔ مگر آج وہ دروازہ کھولتے اندر داخل ہوا تو وہ روزانہ کی طرح بیڈ پر نہ تھی۔ تبھی وہ سجدے سے اٹھی تو بیڈ دائیں جانب سے سیاہ دوپٹے میں لپٹا اسکا سر نظر آیا۔ رائد نے حیرت سے اسکی پشت کو دیکھا اور پھر گھورا۔۔۔اسکی ٹانگ میں ابھی بھی تکلیف تھی وہ جانتا تھا۔
“بیٹھ کر پڑھی ہوگی۔۔۔۔”
سوچتا ہوا وہ خاموشی سے جاکر صوفے پر بیٹھ گیا۔
مزید کچھ دیر وہ نفل پڑھتی رہی پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور چہرا ان ہاتھوں میں چھپا لیا۔ پیچھے بیٹھا رائد جانتا تھا وہ رو رہی ہے۔ کیوں رو رہی ہے؟ وہ اس بارے میں سوچنا نہیں چاہتا تھا۔ چند لمحے وہ اسے دیکھتا رہا پھر اٹھ کر اسکی طرف بڑھا اور اسکے ساتھ زمین پر بیٹھا تو یَشل نے آنسوؤں سے تر چہرا اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
“کیوں اپنی نازک آنکھوں کا غلط استعمال کر رہی ہو؟ یہ صرف مجھے دیکھنے کے لیے ہیں”
اسنے سنجیدگی سے کہتے اسکے آنسو صاف کئیے تو یَشل نے کچھ حیرت سے اسے دیکھا۔ وہ مصلے پر بیٹھی تھی اور اس شخص کو بکواس سوجھ رہی تھی۔
“اچھا ایسے مت دیکھو۔۔۔ بتاؤ کیا ہوا؟ کیوں رو رہی ہے میری جان؟”
اسکے الفاظ پر وہ ٹھٹھکی پھر سر نفی میں ہلاتی وہ متور آنکھیں صاف کرنے لگی۔
“اب ایسے تو کوئی بھی نہیں روتا۔۔ادھر دیکھو نہ”
رائد نے اسکا چہرا اپنی طرف کرنا چاہا تو وہ اسے دیکھنے لگی۔
“تم روتے ہوئے بھی پیاری لگتی ہو۔۔۔ مگر اس وقت بری لگ رہی ہو”
وہ اسکے آنسو صاف کر رہا تھا۔ یَشل نے چونک کر اسے دیکھا۔ ایک بار پھر کہیں اور جا پہنچی تھی۔ وہ ان دونوں میں بری طرح سے پھنس چکی تھی۔ رائد جب بھی قریب آتا تو رائد نہ لگتا بلکہ وہ اس شخص کا روپ اختیار کرلیتا تھا جو ہمیشہ اس کے قریب رہا تھا۔
وہ مدھم سانس لیتی اسے دیکھتی چلی گئی جس پر رائد نے مسکراہٹ دبائی۔
“گڈ گرل۔۔اب سمائل کرو”
رائد نے اپنے ہاتھ سے اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ میں ڈھالنے چاہے تو یَشل کا سکوت ٹوٹا اور نجانے اسے کیا ہوا وہ بری طرح چہرا ہاتھوں میں چھپائے رو پڑی۔
“یَشل۔۔۔ارے یار۔۔۔”
وہ ایک دم بوکھلا گیا اور اسکا چہرا اوپر اٹھانا چاہا جس میں ناکام ہوتے وہ اسے اپنے سینے سے لگا گیا۔
اسکے حصار میں بری طرح سسکتی وہ رائد کو سکون اور بیچینی کی ملی جلی کیفیت سے دو چار کرگئی۔
عجیب جنگ تھی جو دعا مانگتے ہوئے اسکے دل و دماغ نے لڑی تھی۔ اپنے لیے مانگنے کو کچھ بچا ہی نہ تھا۔
وہ ہمیشہ کی طرح اس نامحرم کو اپنا محرم بنانے کی دعا نہ کر سکی۔ ہر بار کی طرح اسنے اپنا اچھا نصیب نہیں مانگا تھا۔ سکینہ کی صحت کے علاؤہ اسنے کچھ نہ مانگا بس وہ روتی رہی تھی اور خدا کی حضور رونا۔۔۔اسے اپنا پورا وجود پگھلتا ہوا محسوس ہوا۔
ایک بار پھر رائد میں اسے دیکھتے وہ جسے اپنا دشمن، اپنا حریف مانتی آئی تھی آج اسی کی بانہوں میں ٹوٹ گئی تھی۔۔۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
چار ہفتے گزر گئے تھے سب اپنی حالِ زندگی میں مصروف تھے مگر ان دونوں کے لئیے تو وقت رک گیا تھا یا شاید کچھوے کی رفتار سے چل رہا تھا۔ زندگی کی اس تلخ حقیقت کو ناچار وہ سب ہی قبول کر گئے تھے۔ اگر کسی نے قبول نہ کیا تو وہ ارمغان تھا۔
صبح اٹھتے ہی بغیر ناشتے کے آفس چلے جانا اور رات کے کھانے کے بعد واپس آنا۔ واپس آتے ہی وہ کمرے میں بند ہوجاتا۔ عطیہ سارا دن اسکی راہ دیکھتے گزار دیتی پھر رات کو زبردستی اسکے کمرے میں چلی جاتی اور تب تک نہ نکلتی جب تک وہ کھانے کے چند نوالے نہ حلق میں اتار لیتا۔ یہ عطیہ کی اچھی پرورش ہی تھی کہ اسکے زبردستی کھانا کھلانے پر بدتمیزی سے پیش نہ آتا۔ وہ گھر پر ہوتا تو قرت بھی ناجانے کیا کیا پڑھ کر اس پر پھونکتی رہتی جس پر وہ کوئی ردعمل نہ دیتا۔ یہ دو عورتیں تھی جن سے وہ بات کرلیتا اور عزہ بھی زبردستی بات کرنے کی کوشش میں لگی رہتی جسے وہ ایسے نظرانداز کرتا جیسے بہرا ہو۔۔
گھر کا ماحول ایسا تھا کہ عزہ کے علاؤہ کسی کی آواز نہ آتی۔ ایک وہی تھی جو ہمیشہ کی طرح چہکتی پھر رہی تھی بلکہ پہلے سے بھی زیادہ۔ وہ شخص اسکا نہ ہوا تھا ابھی مگر وہ جس کا تھا اسکا بھی نہ رہا تھا اور بےشمار کوششیں کرکہ وہ اسے اپنا بنا لےگی۔ یہ سوچ ہی کتنی خوبصورت اور اندر تک سرشار کر دینے والی تھی کوئی عزہ خان سے پوچھتا۔ اس انکشاف کے اگلے دن ہی وہ صبیحہ کی منتیں کرتی آمنہ کے گھر جا پہنچی تھی مگر آمنہ کا رییکشن بلکل الٹ تھا۔ پہلے تو ایک گھنٹا وہ حیرت کا اظہار کرتی رہی پھر یقین آنے پر اسنے عزہ کو مبارکباد نہ دی نہ ہی خوشی کا خاص اظہار کیا۔مگر دو گھنٹے ان دونوں کے درمیان یَشل، رائد اور ارمغان کی ہی باتیں ہوتی رہی تھی۔
جبکہ ہادی تو پورا ایک ہفتہ شاک میں رہا اور ہر فرد سے روزانہ تصدیق کرتا رہا کہ یہ سچ ہے یا مذاق۔ مگر پھر رزلٹ اور یونیورسٹی میں ہونے والے ایڈمیشن نے اسکا دھیان بھٹکا دیا۔ عدنان صاحب کی سخت وارننگز پر وہ دل لگا کر پڑھائی کرنے میں مصروف تھا کیونکہ اسکا رزلٹ اتنا اچھا نہ آیا تھا جتنا عدنان صاحب نے سوچ رکھا تھا۔
قرت نے ان سارے جھمیلوں میں اپنی اور افہام کی لڑائی کو پس پشت ڈال دیا تھا اگر اسے یاد بھی آتا تو وہ سر جھٹک دیتی۔ دو تین گھنٹے موڈ شدید خراب رہتا۔ افہام پر ڈھیر سارا نزلہ گرا کر وہ مسکرانے لگ جاتی یہی وجہ تھی کہ افہام نے اسے ‘تیکھی مرچ’ بولنا شروع کردیا تھا۔
رائد اور یَشل کے درمیان سب ٹھیک ہوکر بھی خراب تھا۔ رائد آفس جانے لگا تھا سارا دن وہ گھر پر ملازموں کے ساتھ رہتی اور ان کے ساتھ کام کرواتی رہتی۔ جب تک کام کرتی تو مصروف رہتی مگر اسکا عکس پھر بھی اسے نظر آجاتا اور جب کرنے کے لیے کچھ نہ ہوتا تو ہر طرف صرف وہی ہوتا تھا۔ وہ اپنی کیفیت سے گھبراتی ہر تیسرے دن ہسپتال بھاگ جاتی اور رائد واپسی پر اسے پک کرلیتا مگر حقیقت تو یہ تھی ہسپتال میں چلتے پھرتے کتنی ہی چہرے اسے ارمغان کے لگتے۔ کتنی بار وہ پلٹ پلٹ کر ان کو دیکھتی۔ آج بھی اپنی کیفیت سے گھبراتی وہ ہسپتال آئی تھی۔ نرس سے ماسک لیتے منہ پر چڑھایا اور سنیٹائیزر ہاتھوں پر لگاتی وہ سکینہ کے بےہوش وجود کی طرف بڑھی۔۔
“کب ٹھیک ہونگی آپ۔۔۔”
قریب بیٹھتے ہی اسکی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے۔
“آپ ٹھیک ہو جائیں گی تو اپنے فیصلے پر پچھتانا چھوڑ دوں گی میں پلیز ماما اب ٹھیک ہو جائیں مجھ سے یہ اذیتیں برداشت نہیں ہوتی۔۔۔”
ماسک کے نیچے لب ہل رہے تھے جبکہ آنکھیں باوجود ضبط برسنے لگی تھی۔ کافی دیر خاموشی سے وہ اسے دیکھتی رہی پھر دوبارہ بولی
“آپ کو پتا ہے۔۔۔مجھے ہر طرف وہ نظر آتا ہے میں۔۔۔میں پاگل ہو جاؤں گی مجھے رائد میں بھی وہ نظر آتا ہے۔۔مجھے لگتا ہے کہ۔۔میں پاگل ہو گئی ہوں۔۔اس کا۔۔عک۔۔عکس ہر وقت میرے ساتھ ہوتا ہے وہ۔۔پہلے کی طرح مجھے۔۔چھ۔۔چھیڑتا ہے تنگ کرتا ہے اور۔۔اور میں ہنسنے لگ جاتی ہوں”
وہ کپکپاتے ہونٹوں کے ساتھ بول رہی تھی آنکھوں سے گرم سیال بہتا چلا جارہا تھا جبکہ ہاتھوں میں واضح لرزش تھی۔
“وہ ساتھ نہ ہوتے ہوئے بھی مم۔۔میری زندگی کا۔۔۔حصہ بن گیا ہے میں اسے کہتی ہوں ارمغان۔۔چچ۔۔۔چلے جاؤ وہ نہیں جاتا مجھے چھوڑتا نہیں ہے وہ۔۔۔اسے کہیں کہ وہ چلا جائے مم۔۔میں اسے بھولنا چاہتی ہوں”
وہ بلک بلک کر رونے لگی تھی۔ وہاں کھڑی نرس نے اسے ترس بھری نگاہوں سے دیکھا۔ آئی سی یو میں ڈیوٹی دیتے وہ بہت بار اس لڑکی کو یونہی اس وجود سے باتیں کرتے دیکھ چکی تھی۔
“مجھے۔۔۔آپ یاد رہتی ہیں، وہ یاد رہتا ہے اور رائد۔۔وہ یاد نہیں رہتا۔۔میں روزانہ شام کو رائد کا نہیں ۔۔ارمغان کا انتظار کرتی ہوں اور۔۔اور۔۔۔جیسے دروازے سے رائد نہیں۔۔ارمغان آئے گا۔۔۔میں بےوفائی کر رہی ہوں۔۔ مجھے۔۔مجھے لگتاہے میں۔۔میں دلدل میں دھنستی چلی جاری ہوں۔۔۔”
آنسوؤں سے بھیگے ماسک کو اتار کر آنسو رگڑے اور سٹریچر پر پڑا بےجان ہاتھ اٹھا کر لرزتے ہونٹوں سے لگایا۔
“آپ کی والدہ کی حالت بہت بہتر ہے۔۔امید ہے وہ جلد ٹھیک ہوجائیں گی۔ اللہ پر بھروسہ رکھیں۔۔”
نرس نے قریب آتے نرمی سے اسے بتایا اور ٹشو اسکی طرف بڑھایا جسے تھامتے ہوئے اسکی آنکھوں میں امید کے دئیے جلنے لگے۔
“واقعی۔۔؟ ٹھیک ہو جائیں گی نہ؟”
اسنے بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا تو نرس سر ہلاتی وہاں سے چلی گئی۔ یہ پچھلے چار ہفتوں میں ملنے والی پہلی امید تھی۔ اسنے متور آنکھیں صاف کرتے سکینہ کو دیکھا جس کا چہرا زرد ہوتا چلا گیا تھا۔ وہ دلوں پر راج کرنے والی ادکارہ سٹریچر پر پڑی کوئی اور ہی لگتی تھی۔ وائبریٹ ہوتے فون کو نظر انداز کرتی وہ سکینہ کو دیکھتی چلی گئی۔
پچھلے چار ہفتوں میں وہ جتنا رو چکی تھی اسکے آنسو ختم ہوجانے چاہیے تھے۔ مگر آنسو کہاں ختم ہوتے ہیں،یہ انسان کو ختم کردیتے ہیں ۔ یہ تو آنکھوں کا وہ سمندر ہوتا ہے جس کی تہ نہیں ہوتی، یہ انسان کو ہر نئے زخم پر لے ڈوبتا ہے۔ وہ بھی دن با دن اسکی گہرائی میں اترتی چلی جارہی تھی اور وہ گہرا ہوتا جارہا تھا۔
تیسری بار کال آنے پر اسنے فون بیگ سے نکالا اور کال اٹینڈ کرکہ کان سے لگایا۔
“کبھی تو پہلی دفع میں اٹینڈ کرلیا کرو۔۔۔!”
کال اٹینڈ ہوتے ہی وہ غصے اور خفگی کے ملے جلے تاثرات سے بولا۔
“فون سائلنٹ پر تھا۔۔۔”
آواز نارمل رکھتے ہمیشہ والا جھوٹ گڑھا۔
“اچھا ہاسپٹل ہو کیا۔۔؟”
“تمہیں کس نے بتایا۔۔؟”
وہ اسےخود ہی ہسپتال پہنچ کر میسج کردیا کرتی تھی مگر آج اسکا بلکل دل نہ کیا۔ رات کو وہ خواب دیکھنے کے بعد سے اسکا دل بےحد اداس تھا ۔ اسے خواب یاد نہیں تھا مگر خواب میں قریب کھڑا ارمغان یاد تھا۔ کتنی ہی کوششوں کے باوجود آج وہ اسکے دماغ سے نکلا ہی نہ تھا۔
“کہاں گم ہوگئی۔۔۔؟”
رائد کی آواز پر وہ سوچوں کے چنگل سے نکلی۔
“کہیں نہیں۔۔بتایا نہیں تم نے میرا کیسے پتا لگا۔۔؟”
“ابھی تو کہا کہ تمہاری لوکیشن دیکھی۔۔۔”
رائد کو اسکی غائب دماغی کا شبہ ہوا۔
“ہاں وہ میں نرس سے بات کر رہی تھی۔۔۔”
پچھلے ایک مہینے سے جھوٹ بول بول کر اسکی زبان نے لڑکھڑانا اور اٹکنا چھوڑ دیا تھا۔۔
“بتایا نہیں آنے سے پہلے۔۔کب آئی ہو۔۔؟”
“ذہن سے نکل گیا تھا بتانا۔۔۔ابھی ابھی آئی ہوں مطلب آدھا گھنٹا ہوا ہوگا۔۔تم نے گھر جانا ہے کیا؟”
اسنے دیوار کی طرف دیکھا جہاں گھڑی میں ابھی پانچ بجنے میں وقت تھا۔
“نہیں لیکن میں آفس سے نکلنے لگا تھا آج میں نے بھی ہاسپٹل چکر لگانا تھا۔ تم وہیں رکنا میں آرہا ہوں۔۔۔”
رائد نے روالونگ چئیر سے اٹھ کر کوٹ اور چابی اٹھائی پھر دروازے کی طرف بڑھا۔۔
“ٹھیک ہے۔۔۔۔” الوداعی کلمات ادا کرتے اسنے کال بند کردی۔
“نرس بتا رہی تھی کہ ماما کے ٹھیک ہونے کی امید ہے۔۔۔”
آئی سی یو سے نکلتے اسنے رائد کو دیکھا جو آنکھوں کی نمی صاف کر رہا تھا۔
“ہاں بابا کو بتایا تھا ڈاکٹر نے۔۔۔بابا سے بات ہوئی تھی میری بھی۔۔۔”
وہ دونوں وہاں پڑے بینچ پر بیٹھ گئے۔
“تم ہر دوسرے دن یہاں آکر بور نہیں ہوتی؟”
رائد کو سمجھ نہ آتا تھا وہ ہسپتال آکر کرتی ہی کیا تھی۔ اسکا سوال یشل کے لئیے غیر متوقع تھا۔
“نہیں۔۔گھر میں وحشت ہوتی ہے۔۔”
اسکا جواب رائد کے لیے کچھ غیر متوقع ثابت ہوا۔
“کیوں۔۔۔؟”
اسکے لہجے میں حیرت تھی۔ بھلا اپنے گھر سے کس کو وحشت ہوتی ہے؟ اب اس کو کون بتاتا یشل نے اس گھر کو اپنا سمجھا ہی نہ تھا۔
“کچھ ہوتا ہی نہیں کرنے کو۔۔سارا کام دو گھنٹے میں ہی ختم ہوجاتا ہے۔ پھر نیند نہیں آتی۔۔۔”
کندھے اچکا کر کہتی وہ دونوں ہاتھ دائیں بائیں رکھے بینچ پکڑ کر بیٹھی کھسے میں قید اپنے پاوں دیکھ رہی تھی۔ رائد جانتا تھا وہ گھر کے کام کرتی ہے مگر آج پتا لگا تھا کہ دو گھنٹے لگ جاتے۔۔۔یعنی وہ ملازمہ کے ساتھ سارا کام کرتی تھی۔۔۔
“تمہیں بوریت ہوتی ہے۔۔۔؟”
اسکے سوال پر یشل نے سر دائیں بائیں ہلایا۔
“بوریت بہت چھوٹا لفظ ہے۔۔۔”
قدرِ آہستگی سے کہتی وہ رائد کو اداس اور الجھی ہوئی معصوم بچی لگی تھی۔
“یونیورسٹی میں ایڈمیشن لے لو۔۔۔۔”
وہ اسکے منہ سے یہ مشورہ کئی بار سن چکی تھی اور ہر بار کی طرح اس بار بھی اس نے انکار کردیا۔ اسکو سر انکار میں ہلاتا دیکھ کر رائد ںے گہرا سانس لیا۔
“آفس چلو۔۔۔ میری اسسٹنٹ بن جاؤ”
رائد نے تھوڑا اسکی طرف کھسک کر اپنا کندھا اس کے کندھے سے مارا۔ یَشل نےاسکی حرکت پر پہلے حیرت اور پھر گھور کر دیکھا۔
“جی نہیں۔۔اسسٹنٹ بن جاؤ۔۔۔”
اسنے نقل اتاری
“مووی چل رہی نہ ادھر تو۔۔۔”
ہنکار بھرتی وہ اس پر سے نظر ہٹا گئی۔
“آجاؤ گھر چلیں۔۔۔۔”
وہ اسکا ہاتھ پکڑا اٹھ کھڑا ہوا تو یَشل کو بھی اٹھنا پڑا۔ اسنے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔
“رائد ہاتھ چھوڑو کیا مسئلہ ہے۔۔۔”
“میں نہیں چھوڑ رہا۔۔۔”
یَشل نے ساتھ چلتے رائد کو پھاڑ کھانے والی نظروں سے دیکھا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“ارمغان کھانا کھا لو۔۔۔”
عطیہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہی ارمغان کو مخاطب کیا جو اوندھے منہ بیڈ پر لیٹا تھا۔
“ارمغان۔۔۔۔”
جواب نہ ملا تھا عطیہ نے اسے دوبارہ بلایا۔ سست روئی سے وہ سیدھا ہوا تو عطیہ نے آنکھیں دیکھی جو سرخ رہنے لگی تھی۔
“تم نشہ تو نہیں کرنے لگ گئے؟”
عطیہ اسکے سامنے بیڈ پر بیٹھی تو ارمغان نے سنجیدگی سے ماں کو دیکھا۔
“اتنی بری پرورش بھی نہیں آپ کی۔۔۔”
“شرم کرو۔۔۔”
عطیہ نے اسکے سر پر تھپڑ دے مارا۔
“آج ہاجرہ کی کال آئی تھی مجھے۔۔۔۔”
انکی بات پر ارمغانِ نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا
“کوں ہاجرہ۔۔؟”
اسکے سوال پر عطیہ نے اسے گھورا
“وہی تمہارے دور کے چاچو اور چچی۔۔۔جو عید پر آئے تھے”
ان کے یاد کروانے پر ارمغان نے ہونٹوں کو او کی شکل دی۔
“اچھا کیا ہے ان کو۔۔؟”
“وہ۔۔۔قرت کا رشتہ لانا چاہ رہی ہیں۔۔”
انکی بات پر ارمغانِ کی آنکھوں میں کچھ حیرت اتری
“قرت کا رشتہ۔۔۔؟”
“ہاں ان کا بیٹا ہے نہ عبدللہ۔۔۔اس کے لیے عید کے کچھ ٹائم بعد ہی انہوں نے مجھے کال کرکہ کہہ دیا تھا مگر تب بھی میں نے وقت مانگ لیا تھا اور پھر سکینہ کی طبیعت خرابی کی وجہ سے بات پیچھے ہی رہ گئی”
ارمغان خاموشی سے عطیہ کو دیکھنے لگا
“عبداللہ سے تو ملا تھا عید پر میں اچھا تو تھا لیکن۔۔۔ وہ ابھی چھوٹی ہے اسکی پڑھائی چل رہی”
“اب چھوٹی بھی نہیں ہے بھئی۔۔۔یہی عمر ہوتی ہے رشتے تو آتے ہیں اور کرلے پڑھائی میں کون سا اسے کل بیہا دوں گی۔۔۔ صبیحہ اور عدنان سے بھی ذکر کیا ہے ان کو کوئی برائی نہیں لگی سوچا تم سے پوچھ لوں تم کیا کہتے۔۔۔”
عطیہ نے تفصیل سے کہا تو اسنے سر ہلایا۔
“میرے خیال سے صبیحہ پھپھو، بابا اور مجھ سے مشورہ لینے سے پہلے قرت سے پوچھنا چاہیے۔۔”
“ارے ہاں بھائی ظاہر ہے پوچھوں گی لیکن ایک بار ہاجرہ سے مل لیں پھر۔۔۔”
ارمغان خاموش رہا۔۔۔وہ بہت زیادہ کم گو ہوگیا تھا
“کھانا لاتی ہوں میں تمہارے لیے۔۔۔”
عطیہ بولتی ہوئی اپنی جگہ سے اٹھی۔
“نہیں پلیز امی۔۔ مجھے بہت نیند آرہی سونا چاہتا ہوا کمرا اندر سے لاک کرکہ دروازہ بند کیجئیے گا۔۔۔”
وہ بات مکمل کرکہ بیڈ پر لیٹا اور کمفرٹر سر تک اوڑھ لیا۔ عطیہ کو ناچاہتے ہوئے بھی اسکی بات ماننی پڑی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“قِرت۔۔۔فون کو چھوڑو اور اُٹھو تیار ہوجاؤ شکیل انکل کی وائف حاجرہ آنٹی آرہی ہیں اپنی بیٹی اور بہو کے ساتھ۔۔”
عزہ نے سکون سے بیڈ پر لیٹی فون یوز کرتی قِرت کو مخاطب کیا اور خود بھی الماری سے کپڑے نکالنے لگی۔
“ہیں؟ وہ کیوں آرہی ہیں؟”
اُسنے ایک نظر عِزہ کو دیکھا
“تمہارا ڈانس دیکھنے۔۔۔”
اُسنے قِرت کو گھورا تو وہ ویسے ہی فون یوز کرتی ہوئی مسکرائی۔۔۔
“قِرت مجھ سے فضول سوال نہیں کیا کرو میں نے اُن سے نہیں پوچھا کہ وہ ہمارے گھر کیوں آرہی ہیں۔ جاؤ کپڑے چینج کرکہ کچن میں کام کرواؤ وہ ایک گھنٹے تک آجائیں گی۔۔”
عزہ صوفے پر بیٹھ گئی جبکہ قرت منہ بناتی اپنی جگہ سے اٹھی اور الماری کی طرف بڑھی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
وہ تینوں ایک ساتھ ہال میں داخل ہوئیں جہاں حاجرہ آچکی تھی۔۔
“السلام و علیکم۔۔کیسی ہیں میری شہزادیاں۔۔”
حاجرہ کے محبت سے چور لہجے میں بولتے ہوئے ان تینوں کو سینے سے لگایا تو عزہ، نشہ اور قرت نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔ آرفہ (اُنکی بہو) اور ثناء (اُنکی بیٹی) سے ملنے کے بعد اپنی اپنی جگہ پر بیٹھی تو ثناء نے اپنی جگہ تبدیل کی اور قرت کے پاس آگئی۔ قرت نے گہری مسکراہٹ لیے اُسے دیکھا۔
“پیاری لگ رہی ہو قِرت۔۔۔”
ثناء کے اچانک تعریف کرنے پر وہ جھنپ گئی اور ویسے ہی مسکراتے ہوئے شکریہ کہا۔۔
“اور بتاؤ۔۔تُم لوگوں کی پڑھائیاں کہاں تک پہنچی؟”
حاجرہ نے اُن تینو سے سوال کیا۔ سب سے پہلے عزہ بولی
“میرا فرسٹ ائیر کمپلیٹ ہوگیا ہے بس یہی کچھ چھٹیاں رہ گئی ہیں پھر دوبارہ کالج سٹارٹ۔۔۔”
“میرا بھی لاسٹ سیمسٹر ابھی ہی سٹارٹ ہوا ہے۔۔۔”
یہ انوشہ تھی۔۔اب مسسز شکیل کی نظریں قرت پر تھی
“میرا۔۔چوتھا سیمسٹر چل رہا۔ لاسٹ ٹائم بتایا تھا میں نے آپ کو دو سال کالج میں ہی پڑھائی کی ہے میں نے۔۔۔”
اُسکی بات پر حاجرہ نے سر اثبات میں ہلایا
“وہ ایک اور بچی بھی تھی نہ۔۔ یَشل”
وہ انکو یاد تھی
“جی جی۔۔۔میں نے بتایا تو تھا آپ کو وہ لاہور ہوتی ہے اب۔۔۔”
بتاتے ہوئے صبیحہ کے چہرے پر افسردگی چھا گئی۔
“کیسی ہے اب سکینہ؟”
سوال حاجرہ نے کیا تھا
“امید دلائی ہے ڈاکر نے۔۔ انشاءاللّٰہ ٹھیک ہو جائے گی۔۔”
“انشاءاللّٰہ انشاءاللّٰہ۔۔۔اچھا قِرت بیٹا ادھار آؤ ذرا میرے پاس تو بیٹھو۔۔۔”
حاجرہ کے بلانے پر وہ کچھ عجیب سی کیفیت کا شکار ہوتی ہوئی اُٹھی۔ عزہ اور نِشہ جانچتی نظروں سے حاجرہ کو دیکھ رہی تھیں
“ماشاءاللّٰہ۔۔بہت پیاری بچی ہے”
انہوں نے پیار سے اُسکے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو قرت بامشکل مسکرائی۔ انکے لہجے کی چاشنی کسی انہونی کا اندیشہ دے رہی تھی۔ وہ کچھ بے سکون ہوئی۔
“شکریہ آنٹی۔۔۔”
“تمہارے منہ سے آنٹی سُن کر تو عجیب لگ رہا مجھے۔۔۔بلکل ثناء کی طرح ہو تُم میرے لیے۔۔”
وہ ہنس کر بولی تو قرت بدقت مسکرائی اور عطیہ کی طرف دیکھا جو اسکی سیچویشن سمجھ کر بھی خاموش بیٹھی ہوئی تھی۔
“یہ سب کیا ہے۔۔”
“مجھے نہیں پتا۔۔لیکن دال میں کچھ کالا ہے”
“مجھے تو پوری دال ہی کالی لگ رہی”
انوشہ اور عزہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ باتیں کی تبھی افہام اندر داخل ہوا
“السلام و علیکم۔۔۔”
“وعلیکم السلام۔۔۔کیسے ہو افہام بیٹا۔۔۔”
“میں ٹھیک ہوں آنٹی آپ کیسی ہیں۔۔۔”
وہ ویسے ہی کھڑا تھا۔ قِرت کو حاجرہ کے پاس بیٹھا دیکھ کر سوالیہ نظروں سے اُس نے عزہ کو دیکھا تو وہ کندھے اچکا گئی۔۔
“آؤ افہام یہاں بیٹھ جاؤ۔۔”
صبیحہ نے اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ قرت کے عین سامنے صبیحہ کے ساتھ براجمان ہوا۔ وہ گہری نظروں سے قِرت کو دیکھ رہا تھا۔ افہام کی نظریں اُسے اپنے جسم کے آر پار ہوتی محسوس ہوئی تو وہ ہونٹ دانتوں تلے دباتی چہرا نیچے کرگئی۔
افہام نے کچھ دیر بعد اُس پر سے نظر ہٹا کر سائڈ پر بیٹھی آرفہ کو دیکھا جو نِشہ سے کچھ بات کر کر رہی تھی اور پھر اسکی نظر ثناء پر گئی جو اسکے دیکھنے پر گڑبڑا کر یہاں وہاں دیکھنے لگی
“قرت تمہیں ارمغان بُلا رہا تھا”
اُسنے قِرت کو ہال نکالنا چاہا۔ حاجرہ کا مسلسل اسی کے بارے میں باتیں کرنا اسے اچھا تو بلکل نہیں لگ رہا تھا۔ قرت جلدی سے اُٹھی
“اسے کہو کہ آکر مل لے۔۔۔”
عطیہ نے آہستہ سے کہا تو وہ سر ہلاتی باہر نکل گئی افہام بھی معذرت کرتا اُسکے پیچھے پیچھے باہر نکلا۔
“ادھر آؤ تُم۔۔۔”
وہ ارمغان اور ہادی کے کمرے کی طرف جارہی تھی جب افہام اُسے کھینچ کر اپنے کمرے میں لے گیا
“اوہو کیا ہوگیا ہے۔۔۔”
وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔ افہام نے دروازہ بند کیا اور اُسے گھورا
“مجھ سے پوچھ رہی ہو؟”
“ظاہر ہے۔۔ہم دونوں کے علاؤہ کمرے میں کوئی نظر نہیں آرہا مجھے”
قِرت نے کمرے میں نظر دوڑائی تو افہام نے دانت پیسے
“یہ سب کیا تھا۔۔تُم کیوں انکے پاس بیٹھی ہوئی تھی؟”
اسکی بات پر قِرت خاموشی سے اُسے دیکھنے لگی پھر بولی
“مجھے خود نہیں پتا۔۔ اوففف پیاری بچی بولتے بولتے نہیں تھک رہی تھیں وہ”
وہ جاکر بیڈ پر بیٹھی تو افہام اسکے سامنے جاکر کھڑا ہوا۔ قرت نے چہرا اوپر کر کہ اُسے دیکھا
“ڈونٹ ٹیل می کہ وہ تمہارا رشتہ لینے آئی ہیں”
وہ سخت نظروں سے اُسے گھور رہا تھا
“اللّٰہ نہ کرے افہام۔۔۔”
وہ جھٹ سے بولی تھی
“تو تمہارا کیا خیال ہے؟ اتنا پیار عِزہ اور نِشہ پر کیوں نہیں آرہا تھا انہیں؟”
وہ اسکے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھا
“مجھے کیسے پتا ہوگا۔۔”
وہ آہستہ سے بولی
“تو اور کس کو پتا ہے؟ اور عید پر شکیل انکل نے خود کہا تھا کہ عبداللہ کی شادی کا بھی ارادہ ہے اُنکا”
وہ اسے بتا رہا تھا۔ قرت نے چہرا موڑ کر اُسے دیکھا
“افہام۔۔مجھے اس بارے میں کچھ نہیں پتا مجھے ڈرانے کی بلکل بھی ضرورت نہیں ہے اور اگر ایسا کچھ ہوا بھی تو۔۔میں انکار کردوں گی کوئی مسئلہ نہیں ہے”
وہ بولتی ہوئی اُٹھ کر باہر جانے لگی جب افہام نے اُسکا ہاتھ پکڑ کر اُسے کھینچا
“افہام چھوڑیں مجھے۔۔بھائی کے پاس جانا ہے”
وہ اُس سے ایک قدم کے فاصلے پر کھڑی ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی
“اوہو قرت اتنا بھی نہیں سمجھتی تُم؟ وہ میں نے تمہیں وہاں سے نکالنے کے لیے جھوٹ بولا تھا۔۔”
افہام نے اسکے چھوٹے دماغ پر اپنا ماتھا پیٹا
“ہاں ہاں مجھے پتا ہے۔۔لیکن ماما نے کہا تھا کہ میں بھائی سے کہوں وہ جاکر اُن سے مل لیں۔۔۔”
“رہنے دو۔۔اتنی بھی کوئی اعلیٰ ہستی نہیں ہیں جِن سے ارمغان کا ملنا ضروری ہے۔۔۔”
قرت بس اُسے گھور کر رہ گئی
“پیاری لگ رہی ہو۔۔۔”
اسنے قرت کے چہرے پر جھولتی ہوئی لٹ کو اسکے کان کے پیچھے اڑاسی۔ قِرت کے دل نے ایک بیٹ مِس کی تھی۔
“لگتا ہے واقعی بہت پیاری لگ رہی ہوں تیسری دفعہ سُنا ہے میں نے اپنے لیے یہ جملہ”
وہ اپنی جھنپ مٹاتی ہوئی بولی تو افہام نے ائبرو اچکائی
“کس نے کردی تمہاری تعریف؟”
“ثناء اور حاجرہ آنٹی نے۔۔۔”
وہ نام پر زور دے کر بولی رو افہام منہ بناتا اسکے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھا۔ قرت ہنس دی
“بہت مزہ نہیں آرہا تمہیں۔۔۔” آنکھیں چھوٹی کرکہ گھورا
“آپ کی بیزاری پر۔۔۔ہاں بلکل” وہ ہنس رہی تھی۔۔۔
“اچھا ہاتھ تو چھوڑیں۔۔”
“کبھی نہیں۔۔۔”
“ابھی تو چھوڑیں نہ۔۔یہیں پر ہوں”
“بلکل بھی نہیں۔۔” اٹل لہجہ
“بہت بدتمیز ہو۔۔۔”
وہ مسکراہٹ دبائے بولی
کچھ دیر بعد ہی کھانا لگانے کے لیے وہ اُسکے کمرے سے نکلی لیکن باہر قدم رکھتے ہی اسکی نظر کچن سے برتن اُٹھا کر نکلتی نِشہ پر گئی جو خود بھی اُسے دیکھ کر چند لمحے وہیں رُک گئی تھی۔ وہ تھوک نگلتی اسکے پہلو سے گزر کر کچن میں چلی گئی۔ نِشہ نے خاموشی سے ڈائننگ ہال کا رُخ کیا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“بھئی مجھے تو قِرت پہلے ہی اچھی لگی تھی خاموش خاموش سی اتنی پیاری بچی ہے۔۔”
حاجرہ کی آواز پر عطیہ اور صبیحہ دونوں اُسکی طرف متوجہ ہوئیں۔کھانا کھانے کے بعد ہال میں اس وقت وہ تینوں عورتیں، ثناء، آرفہ اور نِشہ موجود تھیں۔ نِشہ کے کان کھڑے ہوئے۔
“حاجرہ میں تمہاری بات سمجھ رہی ہوں۔۔۔قِرت کی ابھی ہی یونیورسٹی سٹارٹ ہوئی ہے اور سکینہ بھی بیمار ہے۔ جو ماحول گھر میں چل رہا ہے ہم تو قرت سے اِس بارے میں بات بھی نہیں کرسکے۔۔”
صبیحہ نے رسان سے کام لیا
“ارے صبیحہ باجی۔۔یہ کوئی بڑا مسئلہ تھوڑی ہے،،اسی لیے تو میں آج بات کرنے کی غرض سے آئی ہوں۔ ابھی صرف بات پکی کرنے میں کونسی بُرائی ہے۔ جیسے ہی قرت کا سیمسٹر ختم ہوگا، سکینہ ٹھیک ہوگی تو ہم اچھے سے منگنی کی رسم بھی کرلیں گے۔ شادی تو وقت پر ہو ہی جائے گی۔۔۔”
حاجرہ کی بات پر نِشہ کی آنکھیں حیرت سے تقریباً پھٹ گئیں۔ یہ کیا ہورہا تھا؟ دونوں عورتوں نے کانوں کان لڑکیوں کو خبر بھی نہ ہونے دی اور معاملہ یہاں تک پہنچ گیا تھا کہ حاجرہ شادی کا بھی ذکر کر رہی تھی۔ اُسنے بےیقینی سے اپنی ماں اور ممانی کو دیکھا۔
“آپ کی بات سولہ آنے ٹھیک ہے لیکن ہمیں کچھ وقت دیں ہم نے تو قرت سے اس بارے میں بات بھی کرلیں۔ جہاں تک عدنان کی بات ہے تو انہوں نے فیصلہ قِرت پر چھوڑا ہے۔ ظاہر ہے اُسکی مرضی تو سب سے بڑھ کر ضروری ہے تو جب ہم اُس سے بات کریں گے تو اسی کے مطابق آپ کو جواب بھی دے دیں گے۔۔۔”
عطیہ نے مسکراتے ہوئے تفصیل سے کہا تو حاجرہ بھی مسکرا دی جبکہ نِشہ نے اطمینان کا سانس لیا کہ کم از کم عطیہ کی طرف سے تو کوئی جلدی یا اپنا فیصلہ تھوپنے والی بات نہ تھی بس مبہم سی امید دی تھی حاجرہ کو اور وہ جلد بازی کے چکروں میں تھی۔
“عبداللہ تو اچھا خاصہ کماتا ہے ماشاءاللّٰہ اگر قِرت ہمارے ساتھ نہ رہنا چاہے تو الگ فلیٹ میں بھی رہ سکتی ہے عبدللہ کو آفس کی طرف سے ملا ہے اور انشاللّٰہ جلد ہی گاڑی بھی مل جائے گا کافی اچھی نوکری ہے اُسکی۔۔۔”
حاجرہ اپنے بچے کی نوکری کی تعریفیں کرنے لگی تاکہ انکار کی کوئی وجہ ہی نہ بن پائے۔ وہ کافی دیر تک اپنے بیٹے کی تعریفیں گنواتی رہیں جس پر عطیہ اور صبیحہ کافی حد تک کنوینس ہو بھی گئی تھی۔ نِشہ نئے سِرے سے پریشان ہوئی۔
“نِشہ۔۔۔قرت یا عزہ سے کوئی بات مت کرنا۔۔”
حاجرہ کے جانے کے بعد عطیہ نے سیڑھیاں چڑھتی انوشہ کو مخاطب کیا۔ اسنے کچھ بولنے کے لیے لب واکیے لیکن پھر خاموشی سے سر ہلاتی اوپر چلی گئی۔
