Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz NovelR50532 Muntazirat Hastam (Episode 22)
Rate this Novel
Muntazirat Hastam (Episode 22)
Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz
“یار بندہ اب اتنا بھی نکھرا نہ دکھائے۔۔۔”
افہام نے قرت کا راستہ روکا تو وہ اسے گھورنے لگی۔
“بندہ نہیں دکھاتا مگر بندی تو دکھاتی ہے نہ۔۔”
وہ تنک کر کہتی گزرنے لگی جب افہام نے بازو پکڑتے اسکی کوشش ناکام کی۔
“کچھ زیادہ نہیں اترانے لگ گئی تم۔۔؟”
افہام نے اسے آنکھیں دکھائی
“ہاں بلکل ایسا ہی ہے اور چھوڑیں یار کوئی دیکھ لے گا۔۔۔”
قرت نے گھبرا کر بازو آزاد کروانے کی کوشش کی اور ایک نظر یہاں وہاں دوڑائی
“دیکھتا ہے تو دیکھ لے۔۔۔ کام آسان ہو جائے گا”
وہ بے نیازی سے بولا تو اس نے گھورا جس کے زیادہ ہی پر نکل آئے تھے
“تو یہ بےشرمی ایٹلیسٹ یہاں تو مت کریں۔۔لوگ کیا سوچیں گے”
قرت نے دانت پیستے بازو سے اسکی انگلیاں ہاٹنی چاہی۔
“یہی سوچیں گے کہ ہماری بھی شادی ہونے والی ہے۔۔۔”
افہام دوسرے ہاتھ سے اسکا ہاتھ نیچے کرتے ہلکا سا اسکی طرف جھک کر آواز کو دھیما رکھتے ہوئے بولا تو اسکی بات پر قرت کے گال سرخ پڑے۔
“ایک تو تم پہلے ہی بجلیاں گرا رہی ہو اوپر سے تمہارا شرمانہ۔۔۔سوچ لو کہیں اس ولیمے پر ہم دونوں کا نکاح نہ ہو جائے”
اسکے شریر لہجے اور بات پر وہ چاہ کر بھی ہونٹوں پر بکھرنے والا تبسم چھپا نہ سکی۔
“اس سے پہلے آپ کے کھلم کھلا بےحیائی کرنے پر بڑے واقعی نکاح کروا دیں۔۔شرافت کا دائرہ اپنائیں یہ شادی ہال ہے گھر نہیں جہاں جو مرضی کرتے پھرو۔۔”
عزہ نے دانت پیستے ہوئے ان دونوں کا رومینٹک مومینٹ بری طرح برباد کیا۔ جہاں قرت نے افہام کی باتوں پر آنے والی مسکراہٹ چھپائی وہیں افہام نے بدمزہ ہوتے اسکا بازو گرفت سے آزاد کیا۔
“ان گنت لوگ موجود ہیں یہاں۔۔۔ اماں ابا کی نظر ہم دونوں پر ہی پڑنی ہے؟”
افہام نے دانت پیسے تو عزہ نے کمر پر ہاتھ رکھا
“کسی نہ کسی کی تو پڑ ہی سکتی ہے۔۔۔ اپنی شامت کو دعوت مت دیں”
عِزہ نے اسے وارننگ دینا چاہی۔
“ارے بھئی تم جاکر دوسروں کی جاسوسی کرو۔۔۔”
افہام نے دونوں کندھوں سے پکڑتے اسکا رخ دوسری جانب کیا اور آگے کو دھکا دیا تو وہ ان کی طرف آتے ہادی سے بری طرح ٹکرا گئی۔ اس سے پہلے وہ اپنی پیروں کو چھوتی میکسی میں الجھ کر زمین بوس ہوتی ہادی نے پھرتی سے اسے پکڑا۔
“ارے ارے لڑکی۔۔۔سنبھل کر۔۔”
ہادی نے دونوں کندھوں سے پکڑا تو وہ اپنے بچاؤ کے چکر میں ہادی کے کوٹ کا کالر سختی سے دبوچ گئی۔ سر بےاختیار ہی اسکے کندھے سے ٹکرایا۔ کئی گردنیں ان چاروں کی جانب مڑی تھی۔
“ابھی میں شہید ہوجاتا۔۔دیکھ کر چلو”
وہ بروقت اس سے دور ہوئی۔ ہادی نے اپنا کوٹ ٹھیک کرتے عزہ سے کہا تو وہ شرمندہ ہوتی افہام کی جانب مڑی اور اسے پھاڑ کھانے والی نظروں سے گھورنے لگی پھر خفیف ہوتی ہوئی بولی
“افہام بھائی۔۔۔ ابھی میں گر جاتی”
“میرے اوپر۔۔۔اوفف ایک دو ہڈی تو ٹوٹنی ہی ٹوٹنی تھی”
ہادی نے اسکا جملہ مکمل کیا اور تاسف سے کہا۔
“اتنے ہی نازک ہو تو تم بھی دلہن بن کر سٹیج پر بیٹھ جاؤ۔۔۔”
عزہ نے جل کر کہا تو قرت اور ہادی کا قہقہہ بےساختا تھا۔
“دلہن تو نہیں خیر دلہا بن سکتا ہوں اگر خوبصورت سی دلہن ساتھ بیٹھ جائے تو۔۔”
ہادی نے معنی خیزی سے عزہ کو دیکھا تو وہ کڑھ کر رہ گئی۔
“شکل بھی ایسی ہونی چاہیے کہ دلہن ملے۔۔”
اسنے چڑ کر کہا تو ہادی کی جوابی کاروائی سے پہلے قرت بولی
“یہ تم سب کو شادی کا شوق کیوں چڑھا ہے آج۔۔؟”
اسنے خود کو افہام کی جانب دیکھنے سے باز رکھنا۔ اسکی جسم کے آر پار ہوتی نظروں کو وہ اچھے سے محسوس کر سکتی تھی۔
“نہ بابا نہ۔۔مجھے تو نہیں البتہ افہام کی عمر نکلی جارہی۔۔۔”
ہادی نے افہام کی طرف اشارہ کیا جو قرت کو دیکھنے میں مصروف تھا۔ وہ لگ ہی اتنی خوبصورت رہی تھی۔
آئیس بلیو رنگ کا نفیس سا پیروں کو چھوتا گھیرے دار فراک جس پر وائٹ اور گولڈن رنگ کا خوبصورت کام ہورکھا تھا۔ بالوں کی بیچ سے مانگ نکالے نیچرل پارٹی میک اپ میں وہ گلاب کی کلی لگ رہی تھی۔
ہادی کے بولنے پر بھی افہام اسکی طرف متوجہ نہ ہوا ناجانے اسے دیکھتے وہ کون سی سوچوں میں گم ہوا تھا اور ہادی نے اسکی نظروں کا نوٹس اچھے سے لیا تھا۔
“افہام بھائی۔۔۔”
عزہ نے دانت پیستے اسکی بازو پر اپنا بازو مارا تو وہ قرت سے نظر ہٹاتا اسے دیکھنے لگا۔
“کیا ہوا۔۔۔؟”
ایک طرف بھائی اور دوسری طرف محبت۔۔۔ وہ ہادی کے سامنے افہام کی محبت پاش نظروں سے دیکھنے پر بری طرح گڑبڑائی تھی۔
“کشمیر آزاد ہوگیا میرے بھائی۔۔۔”
ہادی نے آگے آتے اسکا کندھا تھپکا اور چلا گیا تو عِزہ بھی افہام کو گھورتی ہادی کی پیروی کرنے لگی،،، قرت نے بھی خفا نظروں سے اس کو دیکھا جو ہادی کی بات پر غور کر رہا تھا۔
“کشمیر آزاد ہوا کہ نہیں۔۔۔؟”
صوفے میں دھنستے اسنے ٹی وی دیکھتے افہام سے سوال کیا تھا
“کشمیر۔۔۔؟”
افہام نے ناسمجھی سے اسے دیکھا
“دل تیرا۔۔۔یونیورسٹی والی محبوبہ نکلی کہ نہیں؟”
“لعنت ہے۔۔۔”
افہام نے باقاعدہ ہاتھ کا پنجہ کھول کر اسکے سامنے کیا تو ہادی نے قہقہہ لگایا۔
پھر جب بھی وہ افہام اس بارے میں پوچھتا تو یہی سوال کیا کرتا تھا۔ مگر اس بار اسنے سوال نہیں کیا تھا بلکہ اسے بتایا تھا کہ اس کا کشمیر آخر کار آزاد ہو ہی گیا۔
“اوفف افہام۔۔اسے شک ہوگیا ہوگا” قرت خفا لہجے میں بولی
“یقین۔۔۔” افہام نے اس کی تصحیح کی
“بہت برے ہیں آپ۔۔۔ ایسے کون آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتا ہے؟”
وہ نروٹھے سے بولتی جانے لگی تو افہام نے بھی اسکے پیچھے قدم اٹھائے
“ارے یار بعد میں بھی تو سب کو پتا لگنا ہے نہ۔۔۔”
“ہاں تو ابھی جائیں ذرا بتائیں امی کو میں بھی دیکھوں۔۔”
اسنے چیلنج دینے والے انداز میں کہا
“سوچ لو۔۔واقعی ایسا کردوں گا”
افہام نے جلدی سے سامنے آتے راستہ روکا اور آئی برو اچکائی
“اللّٰہ اللّٰہ۔۔۔۔خبردار کوئی الٹا سیدھا کام کیا ہے تو۔ پڑھائی تو پوری ہونے دیں میری۔۔”
وہ افہام کو گھور کر بولی اور چلی گئی۔
“تچ تچ تچ۔۔۔جلدی ہے بھی اور نہیں بھی ہے۔۔یہ لڑکی میری سمجھ سے بالاتر ہے”
وہ سر انکار میں ہلا کر رہ گیا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“تم لوگوں کا منہ بند ہوگا کہ نہیں؟”
وہ چاروں ایک بار پھر دنیا سے لاتعلق ہوتے قہقہے لگانے میں مصروف تھے جب نشہ نے دانت پیستے ٹوک دیا۔
“ظالم دنیا۔۔ہماری ہنسی بھی برداشت نہیں جل کر رہ جاؤ تم بس”
افہام کے کہنے پر وہ چڑ گئی۔۔
“چپ کرو۔۔یہاں تم لوگوں کو دیکھ کر کوئی کہہ سکتا ہے یہ دلہن کی طرف سے ہیں ہم؟ مہمانوں کی طرح بیٹھے ہوئے ہو۔۔”
“ہاں تو ولیمہ لڑکے والے کرتے ہیں۔۔۔لڑکی والے مہمان ہی ہوتے ہیں۔۔”
عِزہ کی چلتی زبان پر وہ محض اسے آنکھیں دکھا کر رہ گئی۔
“زیادہ بک بک مت کرو۔۔۔اٹھو فوٹو شوٹ کروانا ہے بلا رہی ہیں ماما”
“ہمیں نہیں کروانا۔۔۔شادی تو بڑے ہی خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے نہ”
“تمہارا دماغ کچھ زیادہ نہیں خراب ہوگیا؟”
ہادی نے کڑھ کر کہا تو نشہ نے اسکے سر پر پیچھے سے تھپڑ دے مارا۔
“ویسے شادی ہوئی تو خوشگوار ماحول میں ہی ہے۔۔۔”
عزہ نے ہاتھ میں پکڑا سافٹ ڈرنک کا گلاس منہ سے لگاتے آرام سے کہا۔
“ہاں بھئی تم تو یہی بولو گی تمہارا بس چلے تو جہاں لوگ سوگ مناتے ہیں تم وہاں بھی بھنگڑے ڈالو۔۔”
ہادی نے اسکے ہاتھ سے گلاس لیا اور آخری گھونٹ حلق میں انڈیلتے ہوئے زبان چلائی۔
“سوگ اگر تمہاری موت کا منایا جائے گا تو ضرور بھنگڑے ڈالوں گی۔۔”
عِزہ نے ٹھنڈے پن کا مظاہرہ کرتے آرام سے کہا تو دبی دبی ہنسی پر ہادی جل بھن گیا۔
“استغفرُللّٰہ استغفرُللّٰہ۔۔۔ بولنے سے پہلے ذرا سوچ لیا کرو”
نِشہ بھی ان مسخروں کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔ شوٹ کروانے کا دل تو اسکا بھی نہ تھا۔
“اب بولنے سے پہلے سوچنے لگ گئے تو گھنٹا ایسے ہی گزر جانا۔۔۔ کیونکہ ہماری تو ہر بات تمہیں غلط ہی لگتی ہے۔۔۔”
خاموش بیٹھی قرت نے گفتگو میں حصہ لیا تو افہام نے نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔
“بلکل درست فرمایا۔۔۔ اتنا تو آبی بھی نہیں ٹوکتی جتنا تم مجھ سے چھوٹی ہوکر میرے اوپر چڑھ دوڑتی ہو۔۔”
“صرف آپ پر؟ ہم سب پر۔۔۔”
عزہ نے تاسف سے سر ہلایا
“اللّٰہ اللّٰہ۔۔کتنے تنگ ہو تم لوگ مجھ سے۔۔۔ تم لوگوں کو ہر وقت جب انٹرٹینمنٹ سوجھی رہے گی تو مجھے سنجیدہ ہی ہونا پڑے گا ناں۔۔”
اسنے مسکراتے ہوئے کہا
“ہاں تو ہونٹوں پر مسکراہٹیں بکھیرنا ثواب کا کام ہے۔۔۔”
ہادی کی بات پر سب نے سمجھداری سے سر اثبات میں ہلایا۔
“ہر وقت کے ہنسی ٹھٹھول سے ثواب نہیں ملتا۔۔۔”
“گناہ بھی نہیں ملتا۔۔۔”
وہ مزید کچھ بولتی جب ہادی نے بات کاٹتے ہوئے کہا
“تو اسکا مطلب یہ ہے گلا پھاڑ پھاڑ کر ہنسنے لگ جاؤ؟ تھوڑا آرام دو انہیں بھئی”
“یہ تو وہی بات ہوگئی جب ہماری امائیں صبح سے چلنے والا پنکھا بند کرکہ کہتی ہیں اس بیچارے کو بھی توڑا ریسٹ دے دو۔۔”
قرت نے تاسف سے سر ہلایا تو ان سب کا قہقہہ بےساختا تھا۔
“تم لوگوں سے بحث کرنا فضول ہے۔۔۔”
“ارے۔۔۔ہم معصوم لوگ کہاں کسی سے بحث کرتے۔۔۔”
“ایٹلیسٹ خود کو معصوم بول کر معصومیت کی توہین مت کرو”
عِزہ کے بولنے پر ہادی نے زبان چلائی
“ہاں اب تم لوگ اس پر کرو بحث ہم چلے۔۔۔”
افہام اپنی جگہ سے اٹھا اور ساتھ ہی قرت کو بھی اٹھایا۔ وہ اسکے ساتھ تصویریں لینا چاہتا تھا۔ ان دونوں کے اٹھنے پر نشہ بھی سٹیج پر دل گرفتگی سے بیٹھی یَشل کی طرف چل دی۔
“کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ آخر۔۔۔”
ان کے جاتے ہی وہ اس پر چڑھ دوڑی
“میں نے کیا کِیا۔۔۔؟”
وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتا سکون سے بیٹھا
“بتاؤں پھر۔۔۔؟”
“ہاں بتاؤ؟ میں نے تو کچھ کیا ہی نہیں البتہ تم نے مجھے ٹکر مار کر دھڑکنیں اتھل پتھل کردی۔۔۔”
اسکی بات پر پہلے تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی
“اوفف ہادی۔۔۔لڑکی نہیں ہو تم مگر جتنے نازک تم ہو نہ تمہیں مرد بھی نہیں کہا جاسکتا۔۔”
اسکی بات کا مطلب سمجھے بغیر اسنے تاسفاً ہادی کو دیکھا۔
“استغفرُللّٰہ عزہ۔۔۔۔۔!!”
اُسنے آنکھیں پھاڑے صدمے سے عزہ کو دیکھا۔
“ہاں ہاں کرو۔۔۔ضرورت بھی ہے تمہیں اسکی۔۔”
“اور اپنے بارے میں کیا خیال۔۔؟جہنمی”
ہادی نے آئی برو اچکائی تھی۔
“خیر سے اب میں کسی معصوم لڑکے کو ہتھیا کر ویسے لارے نہیں لگا رہی جیسے تم آمنہ کو لگا رہے۔۔۔”
“کیا۔۔۔۔۔؟؟”
عزہ کی بات پر تو ہادی اچھل پڑا۔
“تمہیں کس نے بتایا؟”
وہ کچھ سنبھل کر بولا
“جس سے بات کرتے ہو اس نے بتایا۔۔اور کون بتائے گا؟ تم نے منع کِیا تھا کیا اسے؟”
“منع تو نہیں کیا تھا۔۔۔لیکن مجھے لگا تھا نہیں بتائے گی”
وہ بلاوجہ ہی نظریں چرا گیا جیسے اسکی چوری پکڑی گئی ہو
“لیکن میں نے کون سے لارے لگائے؟”
اسکے الفاظ یاد آنے پر وہ تلملا کر بولا
“بس بس ڈرامے نہ کسی اور کے سامنے کرنا تم۔۔۔”
“حد کرتی ہو تم بھلا میں نے ایسا بھی کیا کردیا؟ بات ہی تو ہوتی ہے ایز آ فرینڈ اب یہ کوئی نئی بات تھوڑی ہے۔۔۔”
ہادی نے سر جھٹکا
“مانا کہ تمہارا کسی لڑکی سے بات کرنا نئی خبر نہیں مگر تم اسے پرانی خبر بھی مت بناؤ! حلقہ احباب میں لڑکیوں پر لمٹ رکھو۔۔ اتنے بھی آزاد خیال مت بنو”
عزہ سنجیدہ ہوئی تو ہادی نے مسکراتی نظروں سے اسے دیکھا۔
“صاف بولو تم جیلس ہورہی۔۔۔”
“ہادی۔۔۔بات کو غلط رنگ مت دو۔۔۔!” وہ بھڑک گئی
“تم بتاؤ پھر صحیح رنگ کیا ہوتا ہے۔۔۔؟”
وہ ابھی بھی سنجیدہ نہ ہوا تھا۔
“جہنم میں جاؤ۔۔۔!”
وہ کلس کر اٹھ گئی ہادی نے مسکراتے ہوئے چمکتی آنکھوں سے دور تک اسے دیکھا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
خیر خیریت سے ولیمے کا فنکشن اپنے اختتام پر پہنچا۔ گھر آتے ہی عزہ تو گڈ نائٹ کہتی کمرے میں گھس گئی۔ صبیحہ نے افسوس سے اپنی بیٹی کو دیکھا جو ان میں
سے تو لگتی ہی نہ تھی اسنے وہاں موجود سکینہ اور عادل کے رشتہ داروں کا بھی خیال نہ کیا۔ ۔۔باقی سب یَشل اور رائد کو بڑے صوفے پر بٹھائے آس پاس ہی بیٹھے تھے مگر یشل بری طرح تھک چکی تھی۔ رات کا ایک بجنے کو تھا اور ابھی تک وہ ادھر ہی بیٹھی تھی یہ بھاری جوڑا اب اسکے جسم پر بری طرح چبھنے لگا تھا،، اتنے گھنٹے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی رہی تھی اور گھر آکر بھی وہی حال تھا،،،پیروں میں پہنی ہیلز پر اسکے پاؤں بری طرح دکھنے لگے تھے اور اسکی اس تھکن سے رائد اچھی طرح واقف تھا کیونکہ ہال سے نکل کر گاڑی میں بیٹھتے ہی اسنے خدا کا شکر ادا کیا تھا ساتھ ہی اپنی تھکن پر خود سے باتیں کی تھی جو گاڑی چلاتے رائد نے بخوبی سنی تھی اور اسے کہا تھا کہ بس گھر جاتے ہی وہ ریلیکس ہوجائے گی مگر اب ادھر صوفے پر بیٹھنا دشوار ہورہا تھا۔ عادل، بابر، ضعیمہ اور دوسرے چند رشتے داروں کے خیال سے وہ خاموش تھی ورنہ وہ ابھی تک بار بار کہہ کر کمرے میں پہنچ جاتی۔
“رائد میں تھک گئی ہوں۔۔۔”
آخر کر اسے رائد کو ہی آہستہ آواز میں مخاطب کرنا پڑا کیونکہ قریب تو وہی بیٹھا تھا جو آہستہ آواز میں کہی گئی اسکی بات کو سن سکتا تھا۔
“ہمیں ابھی تک کیوں بٹھا رکھا ہے۔۔؟”
یَشل کے کہنے کی دیر تھی رائد نے اسکی بات سنتے ہی دو سیکنڈ کی دیری کئیے بغیر سکینہ سے سوال کیا جس کا جواب سکینہ سے پہلے ہاتھ میں ایک ٹرے اٹھائے اس طرف آتی ضعیمہ نے دیا۔
“کیا مطلب ہے کیوں بیٹھے ہیں؟ مانا کہ فنگشن بارات کا نہ تھا مگر تھی تو ایک طرح سے بارات ہی۔ رسمیں بھی تو کرنی ہیں!”
ضعیمہ وہ ٹرے ان دونوں کے سامنے پڑی میز پر رکھتے ہوئے خفگی سے بولی۔۔ یشل نے ٹرے میں پڑے دلہن کی طرح سجے ہوئے گلاس میں دودھ دیکھا تو گہری سانس لے کر رہ گئی۔ اسنے دل ہی دل میں دعا کی کہ جن “رسموں” کی بات کی بات ضعیمہ کر رہی تھی وہ یہ ایک ہی رسم ہو،،ساتھ ہی غیر ارادی طور پر رائد کی طرف سے بھی ہلکا سا آسرا تھا کہ اسکی تھکن کے خیال سے وہ اسے ان رسموں سے بچا لے گا اور ہوا بھی ایسا ہی تھا۔
“آپ کو پتا ہے نہ مجھے رسمیں کچھ خاص نہیں پسند۔۔۔”
رائد نے بھی خفگی سے ضعیمہ کو دیکھتے آواز کو دھیما رکھتے ہوئے کہا۔
“مگر دلہن تو پسند ہے نہ؟ پھر رسمیں بھی پسند کرلو آج کے لیے۔ یہ دن دوبارہ تھوڑی نہ آئے گا۔۔۔”
ضعیمہ کے پہلے جملے ہر جہاں ہال میں دبی دبی ہنسی گونجی وہیں آب ہوتی یشل کا سر جھک گیا۔
“ہرگز نہیں۔۔۔یہ دودھ آپ نے یقیناً محنت سے بنایا ہوگا اور لے بھی آئی ہیں تو صرف یہی ایک رسم ہوگی۔۔میں اور میری بیگم دونوں تھک گئے ہیں مزید سکت نہیں یہاں بیٹھ کر یہ فضولیات برداشت کرنے کی۔۔۔”
رائد نے صاف گوئی اور سنجیدگی سے کہتے ان سب کی امیدوں اور رسموں کے ساتھ ہلا گلا کرنے والے ارادے پر بھر بھر کر پانی پھینکا۔
“ارے بھئی یہ کیا بات ہوئی۔۔۔”
“لو بھلا ایسے تھوڑی نہ ہوتا ہے۔۔۔”
“رسمیں تو ہوکر رہیں گی۔۔”
ایسی چند سدائیں ان دونوں نے سنی تھی جس پر یَشل کو لگا اب تو مزید ایک گھنٹا اسے یہیں بیٹھے رہنا پڑے گا جبکہ رائد نے ساری باتیں ایک کان سے سنتے دوسرے سے نکالی۔
“شادی کو چند گھنٹے نہیں گزرے اور تم ابھی سے ہواؤں میں اڑ رہے۔۔۔”
ضعیمہ نے سب کے سامنے اسکا کان کھینچ ڈالا
“ارے بھئی کیوں ظلم کر رہی ہو میری اکلوتی اولاد پر۔۔۔”
خاموش بیٹھی سکینہ نے آخر کار گفتگو میں حصہ لیا۔ اکلوتی اولاد پر تو یشل کا دل دھک کر رہ گیا
“آپ کی اکلوتی اولاد کے نکھرے زیادہ ہو گئے ہیں ابھی سے ہی۔۔ آگے تو اللّٰہ خیر ہی کرے۔۔۔”
پاس کھڑی کسی رشتے دار کی بات پر سکینہ نے مسکراتے ہوئے پیار سے صوفے پر بیٹھے اس جوڑے کو دیکھا۔
“آج تو نکھرے تو برداشت کرنے پڑیں گے بعد میں خود ہی یَشل سیدھا کرے گی اسے۔۔”
یشل نے سکینہ کے منہ سے اپنا نام سنتے بھاری ہوتی آنکھیں اٹھا کر اسکی طرف دیکھا تھا جو ہونٹوں پر زندگی سے بھرپور مسکراہٹ لئیے ہوئے تھی مرجھائے ہوئے چہرے پر بلا کا سکون اور چمک تھی۔ اسکی آنکھیں جھلملانے لگی۔ نجانے وہ اسکے کئیے گئے ستم پر آنے والے آنسو تھے یا اس کو اتنے عرصے بعد پرُسکون اور مسکراتا دیکھ کر اپنا فیصلہ غلط نہ لگنے پر آئے تھے لیکن آج اسنے اپنی ماں کو پرسکون دیکھا تھا، وہ خوش تھی اسکے ہونٹوں سے مسکراہٹ جدا نہ ہورہی تھی۔ یَشل کا دل مطمعین کرنے کو یہی کافی تھا۔ اسنے سکینہ سے نظر ہٹاتے اپنے پہلو میں بیٹھے اس ہمسفر کو دیکھا تھا جو ابھی بھی ضعیمہ سے رسموں کا پلان کینسل کرنے کے لیے بحث کر رہا تھا۔ نکاح کے بعد سے آج تک اس شخص کے متعلق دل میں چاہ کر بھی وہ کوئی جذبہ پیدا نہ کر سکی تھی،،، کوئی احساس اسنے اب تک محسوس نہ کیا تھا۔دل ڈوبنے لگتا گھبرانے لگتا یا ضد پر اتر آتا تو خود کو آبی کی باتیں یاد دلاتی۔
“وہ ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ تمہارے لیے آسانی لائے گا”
“وہ تمہارا دل بدل دے گا۔۔۔”
مگر وہ جانتی تھی یہ ممکن نہ تھا
“نکاح کے دو بولوں میں بہت طاقت ہوتی ہے”
اور سب سے بڑھ کر۔۔
“رشتے مضبوط کرنے کو محبت نہیں عزت درکار ہوتی ہے۔۔”
عزت ہی تو تھی جو وہ اسے دے رہا تھا مگر اسنے نہیں دی تھی۔ دل میں نفرت سر اٹھانے لگتی تو خوفِ خدا لانے کی کوشش کرتی ۔ سارے وقت میں اسنے اگر کچھ کیا تھا تو وہ بےوفائی تھی جو وہ رائد سے، خود اور اس پاک رشتے سے کرتی آرہی تھی۔ اسنے ایک بار بھی رائد کی طرف متوجہ ہونے کی کوشش نہ کی تھی،،،،اسنے دعائیں نہیں کی تھی کہ خدا اسے ارمغان کا عکس دکھانا چھوڑ دے،،، اسے رائد کی جانب دھکیل دے۔ مگر آج سے اسے یہ سب کرنا تھا۔ وہ جو زمین اور آسمان کے درمیان لٹکی رہی تھی آج زمین پر گرا دی گئی تھی۔ اب اسے خود اٹھنا تھا،،،لگنے والی چوٹ اور زخموں پر مرحم رکھنا تھا۔
“یشل دودھ پیو۔۔۔”
نِشہ کی آواز پر وہ بری طرح چونک گئی تھی۔ اپنی سوچوں میں گم اسے اندازہ بھی نہ ہوا وہ کب اسکے پاس اکر بیٹھی اور کب رسم شروع ہوئی۔ اسنے رائد کو دیکھا جو سجا ہوا دودھ کا گلاس اسکی طرف بڑھائے ہوئے تھا۔ یعنی یہ دودھ اسے اسی کے ہاتھ سے پینا تھا۔ اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر گلاس مزید آگے کرکہ اسکے ہونٹوں سے لگایا تو چھوٹے چھوٹے سپ لیتے اسنے گلاس دور کرنا چاہا۔
“لو بھی۔۔تھوڑا سا پیو تو سہی۔۔”
عطیہ نے اسے ٹوک دیا مگر رائد نے گلاس دور کیا اور جہاں یَشل کی لپسٹک کا نشان تھا وہیں سے گلاس اپنے ہونٹوں سے لگاتے وہ آدھا گلاس خالی کرگیا۔ ہال میں سیٹیوں اور ہوٹنگ کے شور پر وہ شرمساری سے ایک بار پھر سر جھکا گئی۔
اب یہ دودھ پہلے کون پئیے گا۔۔۔؟”
قرت نے رائد کے ہاتھ سے گلاس لیتے اونچی آواز میں کہتے ہوئے سب کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
“بھئی اب تو سب سے پہلے افہام کو ہی گھوڑی چڑھنا چاہیے۔۔کیوں افہام؟”
سکینہ نے ایک جانب ہادی کے ساتھ خاموش سے کھڑے افہام کو شرارتًا دیکھا۔
“بلکل بلکل۔۔۔ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ،،،شکر ہے کسی کو تو میری بھی فکر ہوئی”
افہام مشکور کن نظروں سے سکینہ کو دیکھتا آگے آیا تو رائد سے گلاس لینے پر قرت کو پچھتاوا ہوا۔۔ افہام نے اسکے پاس آتے مسکراہٹ روکی مگر آنکھوں کی شرارت وہ اچھے سے دیکھ سکتی تھی۔۔ قرت نے افہام کر گھورتے ہوئے گلاس اسکی طرف بڑھایا جسے شادی کا لڈو کھانے کا کچھ زیادہ شوق ہورہا تھا۔۔ دودھ حلق میں انڈیلتے اسکی گہری نظریں قرت پر ہی تھی جنہیں محسوس کرتی وہ اسکی نظروں سے اوجھل ہوئی۔
“اب ہمیں اجازت ہے۔۔۔؟”
رائد نے فوراً راستہ صاف کرنا چاہا
“ہرگز نہیں۔۔۔”
ضعیمہ نے اسے کڑی نظروں سے گھورا
“ارے چھوڑو نہ ضعیمہ۔۔یَشل بھی تھک گئی ہے دیکھو تو میری بچی کو”
اتنے دن بعد پہلی بار اسکی سائڈ لینے پر یَشل نے شکر گزار نظر سکینہ پر ڈالی۔
“سکینہ بھابھی اب آپ تو بچوں کی سائڈ مت لیں۔۔”
ضعیمہ نے خفگی سے سکینہ کو دیکھا
“کرلیں آپ لوگ رسمیں مگر ہمارے جانے کے بعد۔۔۔”
رائد بولتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور یَشل کی جانب بھی ہاتھ بڑھایا تو وہ اسے دیکھنے لگی
“یہ کیا بات ہوئی تم دونوں کے جانے کے بعد کون سی رسمیں ہونگی۔۔”
ضعیمہ مزید بولی تو رائد نے یَشل کے ہاتھ نہ تھامنے پر خود جھک کر اسکا ہاتھ پکڑا،،، ناچار وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
“ارے بھئی جانے دو اب ضعیمہ۔۔۔”
بابر نے بیوی کو مخاطب کیا تو آخرکار وہ بھی ہار مان گئی۔
رائد کا کمرا اوپر تھا سو اسے ہیل اتار کر سیڑھیاں چڑھنی پڑی مگر ہیلز اتارنے کے باوجود اسے اوپر جانے میں کافی مشکل ہوئی تھی۔
“آپ کدھر جارہے؟ نیگ کون دے گا؟”
اس سے پہلے یَشل کے ساتھ وہ بھی کمرے میں قدم رکھتا بروقت عزہ کمرے سے نکلتی اسکا راستہ روک گئی۔ یَشل نے ایک نظر ان دونوں کے چہروں پر ڈالی اور آہستگی سے اپنا ہاتھ رائد کی گرفت سے چھڑواتی انوشہ کو اشارہ کرکہ اندر چلی گئی۔ رائد ایک قدم پیچھے ہوا اور انوشہ یشل کے پیچھے ہی کمرے میں چلی گئی۔
کمرے میں آتے ہی ہر طرف بکھری گلاب کی خوشبو اس کے اعصاب پر بھی حاوی ہوئی۔ نِشہ نے ایک سائیڈ پر اسکی ہیلز رکھی اور بیڈ پر بیٹھنے میں اسکی مدد کی۔
“میں تمہارے کپڑے نکال دوں۔۔؟”
“ہاں ماما بتا رہی تھی الماری میں سیٹ کروا دئیے ہیں دیکھ لو۔۔۔”
یَشل نے تھکے تھکے انداز میں بولتے ہوئے الماری کی جانب اشارہ کیا۔ نِشہ الماری کی جانب بڑھی تو یَشل بھی پیچھے کو سرک کر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتی نیم دراز ہوئی۔ نیند سے بوجھل آنکھیں بند ہونے لگی تھی۔ دروازے کے باہر نیگ پر ہونے والی بحث سنتی ہو غنودگی میں جانے لگی ۔
“ان دونوں میں سے دیکھ لو کون سا ٹھ۔۔۔”
نشہ تو سادہ جوڑے نکالتی اسکی جانب مڑی تو وہ اسے سوتا دیکھ کر بولتے بولتے رک گئی۔ آگے آتے اسنے دونوں جوڑے بیڈ پر ہی رکھ دئیے اور خاموشی سے اسے دیکھنے لگی۔ اس وقت بھی وہ اسکے چہرے پر بےسکونی اور تھکن دیکھ سکتی تھی۔ نِشہ کی جھلملاتی آنکھوں سے اشک بہنے لگا جس پر اسنے گہرا سانس لیتے ضبط کیا۔
“خدا تمہاری اس نئی زندگی میں آسانیاں لائے۔۔”
وہ کمرے سے نکلی تو رائد نوٹ عزہ اور قرت کی جانب بڑھا رہا تھا۔ پیسے لیتے ہی وہ دونوں غائب ہوئی۔ افہام اور ہادی بھی اپنے راستے چل دئیے تو نشہ نے رائد کو مخاطب کیا۔
“وہ سوگئی ہے۔۔۔اسے سونے دینا”
نِشہ ایسے بولی جیسے وہ اسکی بات سر جھکا کر مان لے گا۔ ایک نظر اس پر ڈالتا وہ کمرے میں داخل ہوا۔
بیڈ کی بائیں جانب وہ نیم دراز تھی اور دائیں جانب پڑے لیمپ سے کمرے میں ہلکی روشنی تھی۔ وہ شیروانی کے اوپر والے دو بٹن کھولتا اسکی جانب بڑھا،،،لیمپ کی مدھم روشنی میں آنکھیں بند کئیے نیند کی وادیوں میں گم وہ بہت دلکش لگی تھی۔ رائد کے ہونٹوں پر تبسم بکھرا۔ وہ اسکے پاس ہی بیٹھا اور اسکا ہاتھ تھاما۔ ارادہ اسکو نیند سے بیدار کرنے کا ہی تھا جس میں وہ کامیاب بھی ہوا۔ نیم باز آنکھوں سے اسنے رائد کو دیکھا جو اسی کے چہرے پر نظریں ٹکائے ہوئے تھا۔ یشل کی پوری آنکھیں کھل گئی وہ فوراً سیدھی ہوکر بیٹھی۔
“تم۔۔۔تم کب آئے۔۔؟”
بلاوجہ ہی زبان لڑکھڑا گئی
“کافی دیر ہوگئی ہے۔۔۔”
رائد کہنی بیڈ پر ٹکاتا نیم دراز ہوا۔ یشل اسکے جھوٹ کا اندازہ نہ لگا سکی کیونکہ وہ اس کمرے میں کب آئی تھی اسے اس بات کا بھی اندازہ نہ تھا مگر اس وقت دو بجنے میں پندرہ منٹ ہی باقی تھے۔۔گھڑی سے نظر ہٹاتے رائد کو دیکھا تو اس کی گہری نظروں پر وہ گھبرائی تھی۔ موقع کی نزاکت پر اسکا گھبرانا فطری تھا۔ مشکل سے ہی سہی وہ خود کو اس رشتے کے لیے تیار کر چکی تھی مگر اب اچانک ہی اسے گھبراہٹ کے ساتھ وحشت بھی ہوئی تھی۔
“میں چینج کرنا چاہتی ہوں۔۔۔”
“ہاں ہاں۔۔۔ آؤ میں تمہاری ہیلپ کردوں”
رائد سیدھا ہوا تو اسکی بات پر یشل کی آنکھیں پھیلی
“میرا مطلب۔۔۔جیولری اتارنے میں۔۔ہیلپ کر دیتا میں”
اسنے ہاتھ سے اسکے زیورات کی طرف اشارہ کیا تو ایک نظر اس پر ڈالتی وہ بیڈ سے اترنے لگی۔
ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے پڑے سٹول پر وہ ابھی بیٹھی ہی تھی جب رائد ٹیبل سے ٹیک لگاتا اسکے سامنے آکر کھڑا ہوا اور جھمکے اتارنے کے غرض سے کان کی طرف جاتا ہاتھ پکڑ کر اسکی انگوٹھیاں اور کڑے اتارنے لگا۔ اسنے جو انگوٹھی اسے پہنائی تھی وہ وہیں رہنے دی۔ دوسرا ہاتھ اوپر کرتے اسنے کانوں کو بھاری جھمکوں سے آزاد کیا تو سکون آگیا۔ وہ اب اسکا دوسرا ہاتھ پکڑ کر اسے بھی آزادی بخش رہا تھا۔ ہاتھ خالی کئیے اور دونوں کو پکڑتے لبوں سے لگایا تو یشل کی گھبراہٹ میں اضافہ ہوا۔
رائد نے اسکے پیچھے آتے دوپٹہ ان پِن کرنا شروع کیا،،،ڈھیر ساری پنز نکالتے دوپٹہ سر سے جدا کیا اور زیورات اتارنے لگا۔ وہ کبھی نظر اٹھا کر شیشے میں اسے دیکھتی پھر دوبارہ جھکا لیتی۔ یہ شرم سے زیادہ ضبط تھا۔ وہ مسلسل دل میں خود سے کچھ نہ کچھ کہتی رہی تھی۔ وہ تمام ہدایات جو اسے سب نے دی تھی دل ہی دل میں دوہراتی وہ اپنا رویہ نارمل رکھنے کی سر توڑ کوشش کر رہی تھی۔
“میں چینج کرلیتی ہوں۔۔۔”
سر پڑ لٹکتا بھاری جھومر اتار کر رائد نے آگے کو جھکتے ٹیبل پر رکھا تو خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ رائد نے خاموشی سے سر اثبات میں ہلایا تو وہ بیڈ پر پڑے دونوں ڈریسز میں سے ایک سوٹ اٹھاتی چینجنگ روم میں بند ہوگئی۔ دروازہ بند کرتے ہی دروازے سے ٹیک لگاتے اسنے گہرے سانس لیتے آنسوؤں کو روکا تھا اور خدا کا شکر تھا اسکے انسو باہر آنے سے پہلے ہی سوکھ گئے۔
“یا اللّٰہ آسانی پیدا کر ۔۔”
آنکھیں بند کرتی وہ دل ہی دل میں بولی تھی۔
بند دروازے کو دیکھتے رائد نے ٹھنڈھی سانس ہوا کے حوالے کی۔بیڈ پر پڑا ڈریس اٹھا کر الماری میں واپس رکھا۔۔ وہ اسکی کیفیت سے بےخبر تو نہ تھا۔ پچھلے سارے عرصے میں وہ اسکا ہر انداز دیکھ چکا تھا۔ وہ اسکے حوالے سے کیسا محسوس کرتی تھی وہ جانتا تھا پھر بھی وہ ہر بار اس سے نرمی سے ہی پیش آتا کہ شاید اسکی نرمی پر وہ اس سے محبت نہ بھی کرتی مگر اپنا رویہ درست کرتی اور اسے بےرخی نہ دکھاتی اسے قبول کرلیتی۔۔۔ اور شاید وہ اسے قبول کر گئی تھی۔
وہ جیسے ہی چینجنگ روم سے نکلی تو ائیر فریشنر کی تیز خوشبو ناک کے ساتھ حلق میں بھی گھس گئی۔ یَشل نے منہ پر ہاتھ رکھتے رائد کو دیکھا جو کمرے کے درمیان میں کھڑا شاید مزید ائیر فریشنر سپرے کرنے کا سوچ رہا تھا۔
“اتنی خوشبو لگانے کی ضرورت نہیں تھی۔۔پھولوں کی خوشبو زیادہ اچھی تھی۔۔۔”
اسکے لہجے میں شکوے کی رمق تھی۔ رائد نے اسکی طرف دیکھا تو میک اپ سے پاک چہرا لیے کھلے بالوں میں وہ پہلے سے مختلف مگر پہلے جتنی ہی خوبصورت لگی تھی۔
“مگر تمہاری خوشبو زیادہ اچھی ہے۔۔۔”
صوفے کی جانب بڑھتے اسکے قدم رکے تھے۔ اس قدر غیر متوقع بات پر جھنپ گئی تھی۔
“تم انتہائی فلرٹ انسان ہو۔۔”
جھنپ مٹاتی وہ اسے لتاڑنے کی کرنے لگی مگر رائد کا جواب سنتے ناکام ہوئی
“بیوی کو خوش کرنے کے لیے فلرٹ بننا پڑتا ہے ویسے مجھے فلرٹ کے علاؤہ اور بھی بہت کچھ کرنا آتا ہے۔۔”
وہ ذومعنی انداز میں بولا تو یَشل اسے ہمیشہ کی طرح گھور بھی نہ سکی۔
“ہاں دوسروں کا جینا حرام کرنا بہت اچھے سے آتا ہے تمہیں۔۔۔”
وہ اپنے پرانے روپ میں واپس آئی تھی۔ وہی روپ جو رائد کو بھاتا تھا۔ وہ خاموشی سے مسکراہٹ دبا کر چند لمحے اسے دیکھے گیا
“اب وہیں کھڑی رہو گی یا مجھے خود وہاں آنا پڑے گا۔۔۔”
رائد نے اس کو ایک ہی جگہ کھڑے دیکھ کر کہا
“پاؤں سلامت ہیں میرے۔۔۔”
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کھڑی ہوئی اور وہ بال جو چینجنگ روم سے ہی سلجھا کر نکلی تھی بلاوجہ ہی انہیں کنگی کرنے لگی۔ اسکی حرکت کو نوٹ کرتے رائد اس کے پیچھے آیا اور اسے اپنی بانہوں میں بھرا تو یشل کا ہاتھ تھم گیا۔
“رائد چھوڑو مجھے۔۔۔”
وہ کسمسائی تھی
“اگر چھوڑنا ہوتا تو پکڑتا ہی کیوں؟”
اسںے شیشے میں اسکے گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھا تھا۔
“پکڑا ہی کیوں ہے۔۔۔؟”
اسنے جھجک پسِ پشت ڈال کر دانت پیسے۔
“اہم اہم۔۔۔اب ایسے سوال تو مت کرو جن کا جواب سن کر تم شرم سے پانی پانی ہو جاؤ۔۔۔”
رائد نے اسکے ہاتھ سے کنگی پکڑتے ڈریسنگ پر رکھی اور اسکا رخ اپنی جانب کیا۔
” غلط فہمی ہے تمہاری کہ میں شرما جاؤں گی۔۔۔”
اسنے رائد کو گھورتے ہوئے جیسے باور کروایا کہ وہ اسکی محبوبہ نہیں تھی جو اسکی قربت پر شرما کر اسکے سینے میں چہرا چھپا لیتی۔۔رائد کی اسکی بات سنتے آئی برو اچکائی اور اسے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو اچھا واقعی؟ پھر بےاختیار ہی اسکے ہونٹوں پر جھکتے وہ اپنی سانسیں اسکی سانسوں میں منتقل کرنے لگا۔ اس افادے پر تو یَشل کی جان ہوا ہوئی تھی۔ پہلے تو اسکی آنکھیں پھیلی پھر پھیلی ہوئی آنکھیں بند کرتی وہ اسکا بازو سختی سے دبوچ گئی۔
رائد کے دور ہونے پر وہ گہرے سانس لینے لگی۔ وہ جو اسکی غلط فہمی دور کر رہی تھی اتنی سی قربت پر ہی اسکا چہرا لال انار ہوا تھا۔ اسکے سینے میں نہ سہی مگر چہرا جھکا کر اسنے چھپانے کی کوشش ضرور کی تھی۔
“ابھی بھی یہیں کھڑے رہنا ہے؟”
اسکی شریر آواز پر وہ چہرا اوپر کئیے بغیر اسکا حصار توڑتی بیڈ کی طرف بڑھی تو رائد نے مسکرا کر اسکی پشت کو دیکھا پھر خود بھی بیڈ تک آیا. رائد نے اسکو گہری نظروں سے دیکھا جس کی گردن ابھی تک جھکی ہوئی تھی۔ اسنے نرمی سے یَشل کا ہاتھ تھاما تو اسنے نظریں ان ہاتھوں پر ٹکا دی۔
“میں جانتا ہوں مجھے قبول کرنا تمہارے لیے بہت مشکل تھا مگر اب تک آسانی ہوگئی ہوگی ناں”
نجانے وہ سوال کر رہا تھا یا بتا رہا تھا
“شروع دن سے آج تک۔۔۔ میری ذات نے اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچائی تو میں تم سے معافی مانگتا ہوں۔ آج تک ماما اور تمہارے، میری وجہ سے جو بھی مسائل رہے، یقین جانو میرا اس میں کوئی قصور نہیں تھا۔ میں مانتا ہوں تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ بھی یہی سب کرتا مگر مجھے امید ہے کہ اب تم خود میں بدلاؤ لاؤ گی۔ تمہارا گھر، ہمارا رشتہ، دلوں میں ایک دوسرے کا مقام اور تمہاری پہچان۔۔۔سب بدل گیا ہے۔۔۔میں نہیں چاہتا تم اپنے دل میں میرے لیے وہی بدگمانی اور تلخی رکھو۔۔۔”
لہجہ اس قدر نرم اور ٹہرا ہوا تھا کہ یشل چونک کر اسے دیکھنے پر مجبور سی ہوئی۔ وہ اسے نہیں دیکھ رہا تھا مگر اپنے ہاتھ میں موجود، اسکے ہاتھ کی چوتھی انگلی میں موجود انگوٹھی کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔ اسنے جو کچھ کہا تھا وہ اسنے بغور سنا تھا اور اسے آج پہلی بار احساس ہوا تھا کہ جس شخص پر وہ نفرت بھری نگاہ ڈالتی آرہی تھی درحقیقت وہ قصور وار واقعی نہ تھا مگر وہ اس سے معذرت کرنے کی رودار نہ تھی۔
“میں آج تم سے کچھ نہیں مانگوں گا یَشل۔ تم جیسی ہو مجھے ویسی ہی پسند ہو جس کا غصہ اس ناک پر رہتا ہے۔۔”
رائد نے اسکی ناک کو چھوُا۔
“تم بیشک ہمیشہ ایسی رہو میں کبھی شکایت نہیں کروں گا مگر بس۔۔۔تم مجھ سے دور جانے کی کوشش تو کیا سوچنا بھی مت۔ تم نہیں جانتی نکاح کے بعد سے کس طرح تم نے میرے دل میں اپنی محبت پیدا کی ہے۔ تم میری وہ پہلی اور آخری محبت ہو جسے میں نے اپنا بنا لیا ہے اور تم اگر دور جانے کی کوشش کروگی تو میں برداشت نہیں کروں گا۔۔”
نجانے اسکا “دور” جانے سے کیا مراد تھا۔ مگر محبت والے انکشاف پر یَشل کا دل کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا تھا۔ وہ اسے دیکھتی چلی گئی تھی جسے محبت ہونے سے پہلے ہی محبت محرم بن کر ملی تھی،،، اسے رائد سے حسد ہوئی تھی۔ کس قدر خوش نصیب تھا وہ شخص جسے بغیر کچھ کئیے سب ملا تھا اور ایک وہ تھی۔۔قسمت کی ماری جو اُس شخص کو مانگنے کی غرض سے سردیوں میں بھی آدھی رات کو اپنا نرم بستر چھوڑ کر اٹھتی، ٹھنڈے پانی سے وضو کرتی اسے مانگتی تھی۔
ایک بار پھر۔۔۔ایک بار پھر وہ اسے دیکھتی وہی سب سوچ رہی تھی۔۔ یشل کا دل ڈوبنے لگا تھا۔
“سن رہی ہو نہ۔۔۔”
جواب نہ دینے پر رائد نے سوال کیا تو اسکی آواز پر وہ دنیا میں واپس آتی سر اثبات میں ہلا گئی۔۔۔
“کچھ کہو گی نہیں۔۔۔؟”
“سمجھ نہیں آرہا کیا کہوں۔۔تم۔۔تم رائد نہیں لگ رہے”
وہ اسکی بات پر بےاختیار ہنس دیا
“ہوں تو میں رائد ہی مگر پہلے والا نہیں۔۔۔ اب جو تمہارے سامنے بیٹھا ہے وہ تمہارا شوہر ہے”
“شوہر تو پہلے سے ہے۔۔۔”
“ہاں بلکل لیکن اب تو آفیشلی ہوں۔۔۔”
وہ بولتا ہوا اسکے کچھ قریب ہوا تو یَشل نے گھبرا کر پیچھے ہونا چاہا۔
“اب تو تم واقعی کہیں نہیں جاسکتی۔۔اگر تمہیں لگتا ہے تم فرار حاصل کر سکتی ہو تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے جانِ من۔۔۔”
رائد مکمل طور پر اس ہر قابض ہوا تو یَشل نے دونوں ہاتھ اسکے سینے پر رکھتے اسے دور کرنا چاہا مگر اس میں بھی وہ ناکام ہوئی۔ رائد اپنا چہرا اسکی گردن میں چھپاتے اس پر شدتیں لٹانے لگا یہ جانے بغیر کہ صبح کیا قیامت اس گھر پر ٹوٹنے والی تھی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
آدھی رات آنے والی اس کال نے اسکی نیند ہی اُڑا دی تھی۔ وہ اس وقت بیڈ پر لیٹی چھت پر نظریں جمائے ہوئے تھی
“کس کی کال تھی جو تمہاری نیند ہی اڑ گئی۔۔۔؟”
قرت نے کروٹ لی تو اسے جاگتا دیکھ کر سوال کیا
“کچھ نہیں۔۔دوست تھی پرانی”
اسکا نم لہجہ قرت کو سر اٹھا کر اسے دیکھنے پر مجبور کر گیا۔
“کیا ہوا۔۔۔؟” اسے تشویش ہوئی۔
“یَشل کے لیے بس۔۔۔دل اداس ہورہا تھا”
جھوٹ گھڑتے اسنے مسکرانے کی کوشش کی
“دعا کرو اس کے حق میں اور سو جاؤ۔۔”
وہ تکیے پر سر رکھتی آنکھیں بند کرگئی
“قرت۔۔۔۔”
چند لمحوں بعد نشہ کے پکارنے پر اسنے ویسے ہی آنکھیں بند کئیے”ہممم؟” کہا تو نشہ نے چہرا موڑ کر اسے دیکھا پھر اٹھ بیٹھی
“مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔”
جانتی تھی اسکی بات قرت کی نیند اڑا دے گی مگر اسے یہ کرنا تھا۔
“کیا ہوگیا ہے نشہ۔۔۔”
اسنے نیند کے خمار سے بوجھل ہوتی آنکھیں کھول کر زیرو بلب کی روشنی میں نظر آتی نشہ کو دیکھا۔ نشہ نے اسکی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہ اسکے ہاتھ کو سخت گرفت میں لیتی اٹھی بیٹھی اور اسکا ہاتھ چھوڑ کر ایک نظر گہری نیند کے مزے لیتی عزہ پر ڈالی۔
“کیا ہوا ہے بھئی؟ پریشان تو مت کرو۔۔”
نشہ نے ذہن میں لفظوں کو ترتیب دیتے گہرا سانس لیا۔
“ہاجرہ آنٹی تمہارا رشتہ لائی تھی عبداللہ کے لیے۔۔۔”
قرت کا دل دھک کر رہ گیا۔۔۔اس کا ڈر سامنے آیا تھا۔
“اوف اللّٰہ۔۔۔اندازہ تو تھا مگر میں نے تو سوچا ایویں آئی ہونگی بلاوجہ وہم کر رہی میں۔۔”
اس کے لہجے میں پریشانی آئی تھی ہلانکہ اصل پریشانی والی بات تو نشہ نے اسے بتائی نہ تھی
“پہلے تم انکار کر سکتی تھی۔۔۔”
“تھی کا مطلب۔۔۔اب بھی تو کر سکتی ہوں نہ؟”
اسنے بیچ میں ہی نشہ کی بات کاٹی
“کر سکتی ہو لیکن شاید۔۔۔شاید گھر والے تمہیں فورس کریں۔۔”
نجانے کس خیال کے تحت اسنے یہ خدشہ ظاہر۔۔۔
“پاگل ہو؟ ایسا ممکن ہی نہیں۔۔۔”
قرت کو یقین سا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ اسکے ماں باپ اتنی چھوٹی ذہنیت اور زور زبردستی کے قائل تو نہ تھے۔ شروع سے آج تک کسی معاملے میں بھی اپنی پسند ان پر تھوپی نہ گئی تھی۔
“لین دین والا معاملہ ہے۔۔”
نِشہ نے جیسے بات کا خلاسہ کرنا چاہا
“لین دین؟ وٹہ سٹہ ؟ ہادی کو دیں گے اپنی بیٹی؟”
اسکی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی۔ اسکی اونچی آواز پر نِشہ نے عزہ پر نظر ڈالتے اسے گھورا
“ہادی نہیں یار۔۔۔عقل ہے؟اور آرام سے بولو”
نِشہ نے اسکے گھٹنے پر تھپڑ مارا
“تو کیا ارمغان بھائی؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔”
اپنے دل میں رہنے والے شخص کی طرف تو خیال ہی نہ گیا
“اوفف قرت۔۔۔ایک عدد افہام بھی ہے ہمارے گھر میں۔۔۔”
عزہ کی نیند کے خیال سے اسنے آواز کچھ مدھم رکھنے کی کوشش کی۔ اسکی بات سن کر قرت کا چہرا فق ہؤا اور دک دھک کر رہ گیا
“کیا۔۔؟”
اسنے نشہ کے سامنے خود کو نارمل رکھنے کی کوشش کی۔
“کیا۔۔۔کیا افہام کو پتا ہے اس بارے میں؟”
اسے اپنی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی ۔
“اندازہ نہیں مجھے اس بات کا مگر سکینہ خالہ کو ہوش آنے پر ماموں نے ہاجرہ آنٹی کے شوہر۔۔۔نام پتا نہیں کیا تھا ان کا۔۔۔ان کو یہ خبر سنانے کو کال کی تو انہوں نے بڑی ہی خوبصورتی سے یہ خواہش سامنے رکھ دی کہ بیٹی دیں اور بیٹی لیں لیکن یہ وٹہ سٹہ تو نہیں ہوگا ظاہر ہے ہم کزنز ہیں لیکن ان کا مقصد تھا یہی کہ رشتے دو ہوں۔۔۔گھر میں یَشل کے ولیمے والی بات ہوئی تو ماموں نے امی اور ممانی کو بتایا یہ سب۔۔۔”
قرت نے دم سادھے اسے سنا تھا۔۔سانس حلق میں کی کہیں اٹک کر رہ گیا
“ثناء ایم بی بی اے کررہی ہے۔ بلاشبہ خوبصورت ہے تمیز دار اور بہترین لڑکی ہے۔ ہماری والدہ ماجدہ تو بھائی کی شادی کرنے کو پہلے سے تیار بیٹھی ہیں اور اب تو جیسے ہتھیلی پر سرسوں جمانے والا کام ہے انہوں نے تو کہہ دیا ہے کہ واپس جاتے ہی رشتہ تہ کردیں گی۔۔”
اسکی آخری بات پر قرت کا دل ڈوب ہی گیا۔ چند لمحے وہ کسی ٹرانس کی طرح اسے دیکھتی چلی گئی۔ آنکھوں میں اچانک ہی جلن کا شدید احساس ہوا
“تو ٹھیک ہے مجھے کیوں بتا رہی۔۔۔”
کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے اسنے دل گرفتہ ہوکر واپس لیٹنا چاہا جب نِشہ نے اسکا بازو پکڑا
“قرت۔۔۔میں اندھی تو نہیں۔۔گھر میں کیا ہورہا ہے ، شروع سے آج تک اسکی خبر سب سے پہلے مجھے ملتی ہے وہ بات الگ ہے کہ تمہیں اور افہام کو میں نے ذرا دیر سے ہی سہی مگر دیکھ لیا تھا اور تم دونوں کے درمیان کیا ہے کیا نہیں اس کا اندازہ بھی مجھے اچھے سے ہے۔۔۔”
وہ اپنے لفظوں سے اسے اچھے سے باور کروا گئی تھی کہ یہ پردہ داری نشہ سے زیادہ دیر تک نہیں کر سکتی وہ۔۔۔ اسکے اتنے صاف لفظوں میں بغیر گھمائے پھرائے، بغیر کوئی سوال یا تشویش کئیے کہی گئی بات پر قرت کا سر جھاک تھا
“قرت۔۔۔ عبداللہ ایک ویل ایجوکیٹڈ شخص ہے جو اچھی فرم میں بہتری عہدے پر فائز ہے۔ سب ہے اسکے پاس، اعلیٰ شخصیت، اچھی نوکری، گاڑی، گھر۔۔۔وہ ہر طرح سے انڈیپینڈنٹ اور گھر والوں کی نظر میں تمہارے لیے بہترین انتخاب ہے لیکن۔۔۔تم سب لوگ مجھے خود سے زیادہ عزیز ہو اور میں ہرگز نہیں چاہوں گی کہ تم دونوں کو بھی وہی اذیت برداشت کرنی پڑے جو ارمغان اور یَشل کر رہے ہیں۔۔۔”
اسنے آخر میں قرت کا ہاتھ تھاما تو اسکی آنکھ سے آنسو نکلتا نِشہ کے ہاتھ پر گرا۔
“رونے سے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔میں جانتی ہوں تم ابھی پڑھائی پر فوکس رکھنا چاہتی ہو مگر تم دونوں کو کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا۔۔ زندگی بھر کی بات ہے۔۔ایک غلطی یا دیری تم دونوں کی زندگی میں مشکلات کا انبار لگا سکتی ہے۔۔۔”
نشہ نے اسے سمجھانا چاہا،ش چند لمحے وہ ویسے ہی بیٹھی رہی پھر آنسو صاف کئیے اور آگے ہوتی بےاختیار ہی اسکے سینے سے جا لگی۔
“تھینک یو سو مچ۔۔ہم سب کی زندگی کا ایک انتہائی اہم حصہ ہو تم”
نِشہ کے ہونٹوں پر اداس مسکراہٹ بکھری تھی۔ قرت اس سے دور ہوتی اپنی جگہ پر لیٹ گئی تو نشہ بھی سونے کی کوشش کرنے لگی مگر ذہن میں چلتی باتیں اسکی نیند چھین گئی تھی۔ اس فون کال نے جیسے سکون برباد کیا تھا۔
